حوصلہ افزائي اور انعام

حوصلہ افزائي اور انعام

تربيت كا ايك ذريعہ بچے كے اچھے كاموں پر اس كى تعريف اور حوصلہ افزائي ہے _ بچے كى حوصلہ افزائي اس كى تربيت كا بہترين اور مؤثرترين ذريعہ ہے _ يہ بچے كى روح پر اثر انداز ہوتى ہے _ اور اسے اچھا بننے كى ترغيب دلاتى ہے _ ہر انسان اپنى ذات سے محبت كرتا ہے اور اپنى شخصيت كى تكميل چاہتا ہے اس كى يہ خواہش ہوتى ہے كہ دوسرے لوگ بھى اس كى شخصيت سے آگاہ ہوں ، اس كى قدر و قيمت پہنچانيں _ اور اس كا شكريہ ادا كريں _ اگر اس كى حوصلہ افزائي كى ئي تو پھر اس كارجحان اچھائي كى طرف اور بڑھے گا اور وہ تكامل كے راستے پر گامزن ہوگا _ ليكن اگر اس كے برعكس اس كى حوصلہ شكنى كى گئي تو وہ نيكى اور اچھائي سے دور بھاگے گا _ اس كى حوصلہ افزائي كرنے سے اچھے نتائج كے حصول كے ليے چند باتوں كى ياددھانى ضرورى ہے _

1_ اس كى حوصلہ افزائي كبھى كبھى اور بڑے كاموں پر كى جانى چاہيے _ نہ يہ كہ ہميشہ اور ہر كام پر _ كيوں كہ اگر ايسا كيا گيا تو بچّے كى نظر ميں حوصلہ افزائي اپنى اہميت كھوبيٹھے گى _

2_ اس كى حوصلہ افزائي كسى خاص مقام پر ہونى چاہيے تا كہ وہ يہ سمجھ سكے كہ اس كو واو كس ليے دى جارہى ہے _ لہذا وہ دوسرے مقام پر بھى اسى طرح كے شائستہ طرز عمل كا مظاہرہ كرے گا _ ويسے ہى عمومى طور پر اس كى حوصلہ افزائي فائدہ مند نہيں ہوسكتى مثلاً اگر بچے كو اس ليے شاباش دى جائے كہ وہ ايك اچھا اور پابند بچہ ہے تو يہ حوصلہ افزائي كسى كامل نتيجے كى حامل نہيں ہوگى _ اچھے بچے كو يہ معلوم نہيں ہوسكے گا كہ اس كو كيوں شاباش دى جارہى ہے _

3_ يہ بھى ضرورى ہے كہ بچے كے اچھے كام يا اخلاق كى تعريف كرنا چاہيے نہ كہ خود بچے كى تا كہ وہ يہ بات اچھى طرح سمجھ سكے كہ اہميّت اچھے كام كى ہے نہ كہ كسى شخص كى _ اور ہر آدمى كى اہميّت اس كے اچھے كام كى وجہ سے ہے _

4_ بچے كى حوصلہ افزائي كرتے وقت اس كا دوسرے بچوں كے ساتھ مقايسہ نہ كريں مثلاً باپ كا اپنے بچے سے يہ كہنا اچھا نہيں ہے كہ تجھ پر آفرين كہ تم ايك سچے بچے ہو اور حسن كى طرح جھوٹے نہيں ہو _ حسن برا بچہ ہے كيوں كہ جھوٹ بولتا ہے _ كيونكہ ايسا كرنے سے بچہ دوسرے بچے كو حقير سمجھے گا _ اور يہ بھى بذات خود ايك برى تربيت ہے _

5_ شاباش اور حوصلہ افزائي حد سے تجاوز نہيں كرنى چاہيے كيونكہ ممكن ہے اس سے بچہ معزور اور خودبين ہوجائے _

امير المؤمنين حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

بہت سے لوگ اس تعريف كى وجہ سے معزور ہوجاتے ہيں جو ان كى شان ميں كى جاتى ہے _ (1)

حضرت على عليہ السلام ہى فرماتے ہيں:

كسى كى تعريف و ستائشے ميں زيادہ روى اور مبالغہ نہ كرو _(2)

تعليم و تربيت كا ايك اور وسيلہ انعام دينا ہے _ انعام دينا برى بات نہيں ہے بشرطيكہ غير متوقع ہو كسى پہلے وعدہ كى ايفائيں نہ ديا جائے _ اور اچھا كام كرنے پرديا جائے _ پہلے سے اگر انعام كا وعدہ كرديا جائے تو يہ بچے ميں برے اثرات مترتب كرے گا كيونكہ ممكن ہے ايسا كرنے سے بچہ اس بات كا عادى ہوجائے كہ وہ ہر نيك كام كے مقابلے ميں انعام كا منتظر رہے اور يہ ايك طرح كى رشوت ہوجائے _ وہ اس انعام اور رشوت كے بغير اس كام كى انجام وہى پر راضى نہ ہو _

انسان كو نيك كاموں كا عادى ہونا چاہيے _ اور وہ ان كو خدا كى رضا اور بندگان خدا كى خدمت كے ليے انجام دے _ نہ يہ كر ہر كام پر اس كى آنكھيں لوگوں سے انعام كى منتظر رہيں _ اس طرح كا بچہ جب بڑآ ہوتا ہے تو وہ كوتاہ فكر ہوجاتا ہے ، اور لوگوں كے كاموں كى انجام وہى اپنى ذمہ دارى نہيں سمجھتا _ حتى المقدور دوسروں كے كام آنے سے فرار كرتا ہے _ مگر يہ كہ اسے كسى انعام يا رشوت كا لالچ ديا جائے _ يہ ايك بہت بڑى اجتماعى بڑائي ہے _ لہذا اس ليے كہ انعام اس برائي كا باعث نہ بنے ضرورى ہے كہ انعام اتنى مقدار كا ہونا چاہيے كہ وہ انعام يافتہ شخص كى عادت ثانوى نہ بن جائے _ جب بچہ كاموں كا عادى ہوجائے تو آہستہ آہستہ انعام و اكرام كا سلسلہ ختم كرديں _ اور اسے كاموں كى انجام دہى كر ترغيب دلائي جائے _ ضرورى ہے كہ بچہ آہستہ آہستہ اپنى ذمہ دارى پر عمل پيرا ہونے كا عادى ہوجائے تا كہ وہ اس كى انجام دہى سے لذت و خوشى محسوس كرے _ بہت سے ماں باپ اپنے بچوں كو امتحان ميں سو فيصد نمبر لينے پر انعام ديتے ہيں اور اس ذريعے سے وہ انہيں سبق پڑھنے كى ترغيب دلاتے ہيں _ ممكن ہے يہ كسى حد تك مؤثر بھى ہو _ ليكن اس ميں ايك بہت بڑا نقصان بھى ہے وہ يہ كہ يہ پروگرام بچے كے احساس ذمہ دارى پر كارى ضرب لگاتا ہے _ يہ بچے اس ليے پڑھتے ہيں تا كہ اچھے نمبر حاصل كركے انعام لے سكيں _ حالانكہ يہ ضرورى ہے كہ بچے اپنى ذمہ دارى اور مشغوليت كو سمجھ كر پروان چڑھيں نا يہ كہ ہر كام كے مقابلے ميں كسى مادى انعام كے خواہش مند

ايك صاحب اپنے خط ميں لكھتے ہيں:

چھوتھى كلاس سے مجھے ايك دينى مدرسہ ميں داخل كرواديا گيا _ ميں قرآن كا سبق ياد كرنے ميں بہت پچھيے تھا يہاں تك كہ مجھے قران كا ايك كلمہ بھى يادنہيں تھا ليكن ميرے ہم جماعت بہت اچھى طرح قرآن پڑھتے تھے_ قرآن كے پہلے پيڑيڈميں ہى ہمارے قارے صاحب نے خندہ پيشانى كے ساتھ مجھ سے پوچھا كيا تم قرآن پڑھ ليتے ہو ميں نے پريشان ہوكر كہا نہيں _ تو انہوں نے كہا كوئي حرج نہيں _ ميں تجھے سبق دوں گا اور مجھے معلوم ہے كہ تم كلاس كے لائق ترين بچے بن جاؤگے _ جو كچھ بھى تمہارا دل چاہے مجھے سے پوچھ ليا كرو اور اپنے استاد كى باتوں سے مجھ ميں پڑھنے كا اتنا شوق پيدا ہوا كہ ميں نے مصمم ارادہ كرليا كہ ميں سبق ميں كمزور رہنے كى تلافى كروں گيا ميں نے خوف محنت كى _ اورسال كے آخر ميں قرآن كے سبق ميں بہترين ہوگيا _ يہاں تك كہ كبھى كبھى قارى صاحب كہ جگہ ميں كلاس كو پڑھاتا _ اور صبح كى اسمبلى ميں قرآن كى تلاوت كرتا _

ايك لڑكى اپنى يادداشتوں ميں تحرير كرتى ہے _

ميرے والد ايك روشن خيال شخص تھے _ ايك دن ميرى ماں كى غير موجودگى ميں انہوں نے ميرے چند اساتذہ كى دعوت كردى _ كھانے پينے كا سامان لاكر ميرے سپردكرديا ميں نے بھى خوشى خوشى كھانا پكانا شروع كرديا _ دو پہر كو ميرے ابو مہمانوں كو اپنے ساتھ لے آئے _ جب ميں نے كھانا برتنوں ميں ڈالا تو معلوم ہوا كہ يہ تو اچھى طرح پكاہى نہيں ہے _ مرغ بھى كچھا تھا اور چاول بھى خراب ہوچكے تھے چونكہ مجھے كھانا پكانے كا طريقہ نہيں آتا تھا _ لہذ ميں بہت غمگين تھى _ اور كسى متوقع ڈانٹ ڈپٹ كى منتظر _ ليكن ميرى توقع كے برخلاف ميرے والد نے مہمانوں كے سامنے تعريف كى اور كہا يہ كھانا ميرى بيٹى نے پكايا ہے او ركتنا لذيذ پكايا ہے _ مہمانوں نے بھى ان كى تائيد كى _ او رميرى سليقہ شعارى كى تعريف كى _ بعد ميں باپ نے بھى مجھے شاباش دى _ اپنے باپ كى حوصلہ افزائي سے ميں كھانے پكانے كے امور كى طرف متوجہ ہوئي اور اب ميں مزيدار قسم كے كھانے پكانے اور دستر خوان كے باقى لوازمات ميں پورى طرح ماہر ہو چكى ہوں _

 


1_ بحار، ج 73، ص 295
2_ غرر الحكم ، ص 309