بدزباني

بدزباني

بدگوئي ايك برى عادت ہے _ بدزبان اپنى بات كا پابند نہيں ہوتا _ جو كچھ اس كے منہ ميں آتا ہے كہے جاتا ہے ، گالى بكتا ہے ، ناسزا كہتا رہتا ہے ، شور مچاتا ہے ، برا بھلا كہتا رہتا ہے _ طعن زنى كرتا ہے ، زبان كے چركے لگاتا ہے _

بدزبانى حرام ہے اور گناہان كبيرہ ميں سے ہے _

رسول اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

بد زبانى كرنے والے پر اللہ نے بہشت كو حرام قرار ديا ہے اور گالى دينے والے ، بے حيا اور بدتميز پر بھى جنت حرام ہے _ بدگو شخص جو كچھ دوسروں كے بارے ميں كہتا ہے نہ اس كا خيال ركھتا ے اور جو كچھ دوسرے اس كے بارے ميں كہتے ہيں ن اس پر دھيان ديتا ہے _(1)

امام صادق عليہ السلام نے فرمايا:

دشنام طرازى ، بدگوئي اور زبان درازى نفاق اور بے ايمانى كى نشانيوں ميں سے ہے _(2)

اللہ تعالى قرآن ميں فرماتا ہے :

ويلٌ لكلّ ہمزة لمزة_

افسوس ہے ايسے سب افراد پر كہ جو لوگوں كى عيب جوئي اور طعن و تمسخر كرتے ہيں _ (ہمزہ _1)

بدزبانى افراد گھٹيا اور كم ظرف ہوتے ہيں اس برى عادت كى وجہ سے لوگوں كو اپنا دشمن بناليتے ہيں _ لوگ ان سے نفرت كرتے ہيں _ لوگ ان كى زبان سے ڈرتے ہيں اور ان سے ميل ملاقات سے دور بھاگتے ہيں _

نبى كريم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

لوگوں ميں سے بدترين وہ ہے كہ لوگ جس كى زبان سے ڈريں اور اس كے ساتھ ہم نشينى كو پسند نہ كريں _ (3)

حضرت صادق عليہ السلام نے فرمايا:

لوگ جس كى زبان سے بھى دڑيں وہ جہنم ميں جائے گا _ (4)

رسول اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

مومن طعن زنى نہيں كرتا ، برا بھلا نہيں كہتا رہتا ، دشنام طرازى نہيں كرتا اور بدزبانى نہيں كرتا _ (5)

بچہ فطرى طور پر بدزبان نہيںہوتا _ يہ برى صفت وہ اپنے ماں باپ ، بہن بھائي يا ، دوستوں ، ہم جوليوں اور ہم جماعت بچوں سے سيكھتا ہے _ ليكن اس سلسلے ميں ماں باپ كا اثر سب سے زيادہ ہوتا ہے _ ماں باپ اپنے بچے كے ليے مؤثر ترين نمونہ عمل ہوتے ہيں _ لہذا ماں باپ نہ فقط اپنے قول و عمل كے ذمہ دار ہيں بلكہ بچوں كى تربيت كے بھى ذمہ دار ہيں _ يہ ماں باپ ہى ہيں جو بچے كو خوش كلام يا بدزبان بناديتے ہيں ب_ بعض ماں باپ مذاق كے طور پر يا غصّے ميں اپنے بچوں كو بدزبانى كا عملى درس ديتے ہيں _ بعض گھروں ميں اس طرح كے كلمات روز مرّہ كا معمول ہيں:

كتے كا بچہ ، كتے كى ماں ،كيتا كى بيٹي، احمق ، بے وقوف ، بے شعر ، گدھا ، حيوان ، حرام زادہ ، پاگل ، سست ، بے ادب ، بے غيرت ،خدا تمہيں موت دے ، گاڑى كے نيچے آؤوغيرہ _

كبھى ماں باپ ايك دوسرے كى عيب جوئي كرتے ہيں ، ايك دوسرے كامذاق اڑاتے ہيں يا ايك دوسرے كو گالى ديتے ہيں _

ماں باپ جن كا فرض يہ ہے كہ بچوں كى كمزوريوں كو چھپائيں وہ كبھى خود بچوں كى عيب جوئي كرنے لگتے ہيں ، انہيں طعنے ديتے ہيں ، ان پر طنز كرتے ہيں اور انہيں سخت سست كلمات كہتے ہيں _ كيا ايسے ماں باپ كو توقع ہے كہ ايسے خاندان كا بچہ خوش زبان ہوگا _ ايسى توقع عموماً پورى نہيں ہوتى _ ايسے ماں باپ كو توقع ركھنا چاہيے كہ ان كے بچے انہى كى طرح بلكہ ا سے بڑھ كر بدزبان ہوں گے _ انہيں اميد ركھنا چاہيے كہ وہ بعينہ يہى الفاظ بچوں كے منہ سے سنيں گے _ وعظ و نصيحت اور مارپيٹ سے بچے كو اس برى عادت سے نہيں روكا جا سكتا _ بہترين طريقہ يہ ہے كہ ماں باپ اپنى اصلاح كريں اور پھر بچے كى اصلاح كى طرف متوجہ ہوں _

كبھى بچے يہ برى عادت اپنے ہمجوليوں سے سيكھتے ہيں لہذا ماں باپ كو اس امر كى طرف توجہ ركھنا چاہيے كہ ان كے بچوں كے دوست كس طرح كے ہيں _ انہيں اس بات كى اجازت نہ ديں كہ بدزبان بچوں سے ميل جول ركھيں _

اگر آپ كبھى اپنے بچے سے كوئي فحش يا برى بات سنيں تو ہنس كر يا مسكر اكر اس كى تائيد نہ كريں _ گالى اور غصّے كے ذريعے سے بھى بچے كو ايسى بات سے نہ روكيں كيونكہ اس طريقے كا نتيجہ زيادہ تر الٹ ہى نكلتا ہے بلكہ اسے اچھے انداز سے اور پيارسے سمجھائيں _ اس سے كہيں گالى دينا برى عادت ہے اچھے بچے كبھى گالى نہيں ديتے _

 


1_ اصول كافى ، ج 2 ، ص 323
2_ اصول كافى ، ج 2 ، ص 235
3_ اصول كافى ، ج 2 ، ص 325
4_ اصول كافى ، ج 2، ص 327
5_ مہجة البيضائ، ج 3 ، ص 127