ماں كا دودھ بہترين غذا ہے

ماں كا دودھ بہترين غذا ہے

ماں كا دودھ بچے كے ليے بہترين ، كامل ترين اور سالم ترين غذا ہے اور كئي پہلوؤں سے ہر غذا پر ترجيح ركھتا ہے _ مثلاً

1_ غذائي مواد كى كميت اور كيفيّت كے لحاظ سے ماں كا دودھ بچے كى مشينرى سے بالكل ہم آہنگ ہوتا ہے كيونكہ بچہ نو ماہ رحم مادر ميں رہا ہوتا ہے اور ماں كى داخلى مشينرى سے تيارہ شدہ غذا سے استفادہ كرنا اس كى عادت ہوچكى ہوتى ہے _ اب وہى مواد دودھ كى صورت ميں بچے كى غذا بن كے آتا ہے _

2_ مال كا دودھ چونكہ طبعى طور پر اور خام حالت ميں استعمال ہوتا ہے اس ليے اپنى غذائيت برقرار ركھتا ہے_ جب كہ اس كے برخلاف گائے و غيرہ كے دودھ كوابالاجاتاہے اور پھر استعمال كيا جاتا ہے _ جس سے اس كے اندرموجود بعض غذائي مواد ضائع ہوچكا ہوتاہے_

3 _بچے كى صحت كے اعتبار سے ماں كا دودھ زيادہ قابل اعتبار ہے اور خارجى جراثيم سے آلودہ نہيں ہوتا كيونكہ ماں كے پستان سے سيدھا بچے كے منہ ميں چلا جاتاہے اس كے برخلاف دوسرے دودھ ممكن ہے مختلف برتنوں اور ہاتھوں كے جراثيم سے آلودہ ہوجائيں _

4_ ماں كا دودھ ہميشہ تازہ بہ تازہ استعمال ہوتا ہے _ جب كہ كوئي دوسرا دودھ ممكن ہے

5_ ماں كے دودھ ميں ملاوٹ كى گنجائشے نہيں ہوتى _ جب كہ دوسرے دودھ ميں اس كا امكان موجود ہے _

6_ ماں كا دودھ بيماريوں كے حامل جراثيم سے آلودہ نہيں ہوتا اور بچے كى صحت و سلامتى كے ليے زيادہ محفوظ ہوتا ہے _ جب كہ كوئي دوسرا دودھ ممكن ہے بعض جراثيم سے آلودہ ہو جو بچے كوبھى مبتلا اور آلودہ كرديں _

اسہال شير ، تپ مالت اورسل گاو جيسى بيماريوں دوسرے دودھ ہى سے پيدا ہوتى ہيں _ ان اور ديگر وجوہات كى بناپر ماں كا دودھ بچے كے ليے يقينى طور پر بہترين اور سالم ترين غذا ہے جو بچے ماں كا دودھ پى كر پلتے ہيں وہ دوسرے بچوں كى نسبت زيادہ تندرست ہوتے ہيں اور بيماريوں كے مقابلے كى زيادہ طاقت ركھتے ہيں او رايسے بچوں ميں شرح اموات بھى كمتر ہے _

ماں اگر بچے كو دودھ دے تو ايك فائدہ بھى ہے كہ عمل حيض ميں زيادہ تر تاخير ہوجاتى ہے اور نتيجے كے طور پر دير سے حاملہ ہوتى ہے _

دين اسلام نے بھى ماں كے دودھ كو بچے كے ليے بہترين غذا قرار ديا ہے اور اسے بچے كا ايك فطرى حق گردانا ہے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :

ما من لبن رضع بہ الصبى اعظم بركتہ عليہ من لبن امّہ

بچے كے ليے كوئي دودھ ماں كے دودھ سے بڑھ كر بہتر نہيں ہے _ (1)

ماں كا دودھ اسلام كى نظر ميں اس قدر اہميت ركھتا ہے كہ ماں كى تشويق كے لئے اس كا بہت زيادہ ثواب مقرر كيا گيا ہے _

پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا:

فاذا ارضعت كان لہا بكل محّتہ كعدل عتق محرّر من ولد اسماعيل فاذا فرغت من رضاعہ ضرب ملك كريم على جنبہا و قال : استفانى العلم فقد غفر لك

يعنى ہر عورت جو اپنے بچے كو دودھ پلائے گى بچہ جتنى مرتبہ بھى اس كے پستان سے دودھ پيے گا اللہ تعالى ہر مرتبہ اسے اولاد اسماعيل ميں سے غلام آزاد كرنے كا ثواب عطا كرے گا جس وقت دودھ پلانے كى مدت ختم ہوگى تو ايك مقرر فرشتہ اس كے پہلو پر ہاتھ ركھ كے كہے گا : زندگى كو نئے سرے سے شروع كر كيوں كہ اللہ نہ تيرے پچھلے گناہ بخش ديئے ہيں _(2)

ميڈيكل كا ايك بين الاقوامى سمپوزيم كہ جو شيراز كى يونيورسٹى ميں منعقد ہوا اس ميں تمام تر ماہرين كى مستتر ارائے يہ تھى كہ كوئي غذا بھى اور وٹامن كا حمل كوئي اور مواد بھى شير مادر كى جگہ نہيں لے سكتا _ ڈاكٹر سيمين واقفى كہتى ہيں:

باعث افسوس ہے كہ بہت سى جوان مائيں مغربى ماؤن كى تقليد ميں كوشش كرتى ہيں كہ اپنے نو نہالوں كو خشك دودھ او رديگر خاص طرح كى مصنوعى غذائيں ديں اور يہ بچپن ميں بچے كى صحيح غذائي ضروريات كے بالكل مخالف ہے جوان مائيں يہ جان ليں كہ كوئي مصنوعى دودھ بھى ماں كے دودھ كے برابر نہيں ہوسكتا _ وہ اپنے بچے كو اس بہترين غذا سے محروم نہ ركھيں كو جو طبيعى طور پر اس كے لئے تيار كى گئي ہے _ (3)

ايك اور ماہر لكھتے ہيں :

شير مادر ايك ايسى بے مثال غذا ہے كہ جو فطرت نے بچے كے لئے بنائي ہے اور كوئي غذا بھى اس كا بدل نہيں ہوسكتى _ لہذا حتى الامكان كوشش كى جانى چاہيے كہ بچے كو ماں كا دودھ پلايا جائے اور اگر ماں كا دودھ نہ آتا ہو تو اسے كوشش كرنا چايہئے كہ اس بہت بڑے نقص كو مختلف اوردودھ لانے والى غذائيں كھا كر دور كرے _ (4)

ذمہ دار اور آگاہ خواتين كہ جو اپنے بچوں كى صحت و سلامتى سے دلچسپى ركھتى ہيں اپنے عزيز بچوں كى اپنے دودھ كے ذريعے سے پرورش كريں اور انہيں اس عظيم نعمت الہى سے محروم نہ ركھيں كہ جس كا نظام اللہ تعالى نے ن كے ليے پہلے سے بناركھا ہے _ سمجھدار خواتين ماں كى عظيم ذمہ دارى سے آشنا ہوتى ہيں اور بچے كے جسم و جان پر دودھ كے اثر كو سمجھتى ہيں _ اسى وجہ سے وہ خوشى سے اپنے آپ كو بچے كى صحت و سلامتى كے ليے نثار كرتى ہيں اور انہيں شير جان سے سيراب كرتى ہيں _ ايسى ہى خواتين كو ماں كا نام ديا جا سكتا ہے نہ ان بيوقوف اور خود غرض ماؤں كو كہ جن كا دودھ اترتاہو ليكن وہ طرح طرح كے بے جا بہانوں سے اپنے پستان كو خشك كرليتى ہيں اور بے گناہ بچے كو خشك دودھ سے پالتے ہيں _ يہ خود غرض عورتيں اتنا بھى جذبہ ايثار نہيں ركھتيں كہ عزيز بچوں كى صحت و سلامتى كى خاطر اپنے آپ كو دودھ پلانے كى زحمت ديں _

علاوہ ازيں جو خواتين بغير كسى عذر كے بچے كو دودھ نہيں پلاتيں ممكن ہے كہ وہ بعض جسمانى اور نفسياتى بيماريوں ميں مبتلا ہوجائيں _ سرطان پستان ان خواتين ميں زيادہ ديكھا گيا ہے كہ جو اپنے بچے كو دودھ نہيں پلاتيں _

اس مقام پر ضرورى ہے كہ جو مائيں بچوں كو دودھ پلاتى ہيں انہيں متوجہ كيا جائے كہ ماں كى غذا كى كيفيّت دودھ كى كيفيت پر اثر انداز ہوتى ہے _ دودھ ماں كى غذا سے تيار ہوتا ہے _ لہذا دودھ پلانے والى ماں كى غذا كو متنوع اور مختلف ہونا چاہيے اور اسے ہر طرح كى غذا سے استفادہ كرنا چاہيے _ مختلف پھلوں ، سبزيوں اور دانوں كا گاہے بگاہے استعمال كرناچاہيے تا كہ وہ خود بھى تندرست رہيں او ان كا دودھ بھى بھر پور اور كامل رہے _

مائع او رآبدار غذائيں مفيد ہيں _ ماں كو يہ خيال نہيں كرنا چاہيے كہ صحيح اور اچھى غذا قيمتى ترين اور خوش مزہ ترين غذائيں ہيں بلكہ كامل غذا كے ليے ايك ايسا پروگرام بناياجاسكتا ہے كہ جس ميں غذا متنوع ہو ، كم خرچ بھى ، بھر پوربھى اور حفظان صحت كے مطابق بھى ہو _ اس سلسلے ميں غذا شناسى كى كتابوں سے استفادہ كيا جا سكتا ہے _ جن ميں سے ايك كتاب ميں لكھا ہے :

ماہرين غذا دودھ پلانے والى عورتوں كو نصيحت كرتے ہيں كہ ہر طرح كى غذا سے كچھ نہ كچھ استفادہ كرے خصوصا لوبيا ، چنے ، دودھ تازہ مكھن ، ناريل ، ذيتون ، اخروٹ ، بادام ، ميٹھے اور رسيلے پھل مثلا خربوزہ ، گرما ، سردا اور نا شپاتى و غير ہ (5)

اسلام نے بھى اس امر كى طرف تو جہ دى ہے كہ ماں كى غذا اس كے دودھ پر اثر انداز ہوتى ہے اسى وجہ سے

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :

اگر تم نے اپنے بچے كو دود ھ پلانے كے ليے كسى يہودى يا عيسائي عورت كا انتخاب كيا ہے تو انہيں شراب پينے اور سور كا گوشت كھا نے سے رو كو ( 6)

اگر ماں بيمار ہو جائے اور اسے دواكى ضرورت پيش آجائے تو اسے چاہيے كہ اس امر كى طر ف تو جہ ركھے كہ اس كى دوائيں اس كے دورھ پر بھى اثر كريں گى اور ممكن ہے بچے كى صحت وسلامتى كواس سے نقصان پہنچے ماں كو نہيں چاہيے كہ اپنے آپ يا غير آگاہ افراد كے كہنے سے كوئي دوا استعمال كرے بلكہ اس كے ليے ضرورى ہے كہ ڈاكٹر كى طرف رجوع كرغ اور اسے يہ بھى بتا ئے كہ ميں بچے كو دودھ پلارہى ہوں _

 

1_ وسائل الشيعہ ج 15 ص 175_
2_وسائل الشيعہ _جلد 15 ص 175
3_ بہداشت جسمى روانى كودك ص 63
4_ اعجاز خوراكيہا ص 258
5_ اعجاز خوراكيہا ص 251 تا ص 256
6_ مستدرك جلد 2 ص 224