ناقص الخلقت بچّے

ناقص الخلقت بچّے

بعض بچے پيدائشےى طور پر ناقص الخلقت ہوتے ہيں يا بعد ميں كسى حادثے كى وجہ سے ان كے بدن ميں كوئي نقص پيدا ہوجاتا ہے _ اندھے لولے لنگڑے گونگے بہرے اور اسى طرح كے دوسرے نقائص ميں بہت سے افراد مبتلا ہوتے ہى بعض بچے اگر چہ بدن كے كسى عضو كے اعتبار سے تو نقص نہيں ركھتے ليكن مناسب قامت اور مكمل خوبصورتى سے محروم ہوتے ہيں _ كالے ، پيلے ، كمزور ، بہت چھوٹے ، بہت بڑے ، بہت موٹے، چھوٹى ناك والے ، بڑے منہ والے يا چھوٹے منہ والے ، اندر كو دھنسى ہوئي آنكھوں والے ، اور بڑے دانتوں والے ، ان نقائص كے حامل افراد اگر چہ كسى ع ضو كے نقص ميں مبتلا نہيں ہوتے ليكن دوسروں كى نسبت مكمل اور خوبصورت بھى نہيں ہوتے _

اسى ميں ان افراد كا كوئي قصور نہيں ہے خدا نے انہيں اس طرح پيدا كيا ہے نظام خلقت ميں تمام اشياء خوبصورت اور مناسب ہيں يہ تو ہمارى كم فہمى اور كم ذوقى كا قصور ہے كہ كسى كو خوبصورت سمجھتے ہيں اور كسى كو بد صورت _

ناقص اور معذور افراد چونكہ اپنے نقص كى طرف متوجہ ہوتے ہيں لہذا ہميشہ غم و اندوہ ميں مبتلا رہتے ہيں _ وہ احساس كمترى ميں مبتلا رہتے ہيں _ اگر اس احساس كو ختم نہ كيا جائے بكلہ اس كى تائيد كى جائے تو وہ ہميشہ كے ليے احساس كمترى اور كم نگہى كا شكار ہوجائيں گے _ جن لوگوں كے دل ميں احساس كمترى گھر كرلے تو وہ تو اپنى شخصيت گنوابيٹھتے ہيں _ اپنے تئيں بے لياقت ، ناچيز اور نااہل سمجھتے ہيں _ وہ ذمہ داريوں كو قبول كرنے اور كاموں كے ليے لپك

كے آگے بڑھنے سے گريزان رہتے ميں گويا ذلت و بدبختى كے سامنے ہتھيار پھينك ديتے ہيں _ ممكن ہے كبھى وہ اپنے اظہار وجود كے ليے قتل يا كسى دوسرے جرم كا ارتكاب كر بيٹھيں _

اپا ہج قال رحم ہوتے ہيں _ لوگوں كى ذمہ دارى ہے كہ وہ ان كے نقص كو بالك نظر انداز كر ديں _ ان كے ساتھ ايسا سلوك كريں كہ جيسا وہ ديگر افراد كے ساتھ كرتے ہيں اور ان كے نقص كے بارے ميں نہ سوچيں نہ ان پر طنز كريں نہ تمسخر اڑائيں _ اور نہ ان كے نازك دلوں پر زبان كے چركے لگائيں _ دين مقدس اسلام نے عيب جوئي ، تمسخر بازى ، سرزنش اور دوسروں كى ذات ميں كيڑے نكالنے كو گناہوں كبيرہ ميں سے اور حرام قرار ديا ہے _ اور اس بارے ميںاس قدر تاكيد كى ہے كہ اپنے پيروكاروں كو حكم ديا ہے كہ آپ ہرگز كوئي ايسا كام نہ كريں كہ ناقص الخلقت افراد اپنے نقص كى طرف متوجہ ہوجائيں _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں:

مصيبت ميں گھر سے افراط اور كوڑھيوں كى طرف زيادہ نہ ديكھيں كيوں كہ ممكن ہے آپ كى نظر يں ان كے ليے باعث حزن و ملال ہوں _ (1)

علاوہ ازيں مسلمانوں كى ذمہ دارى ہے كہ ايسے افراد كے ساتھ زيادہ محبت اور ہمدردى كريں اور اس طرح سے ان كے احساس كمترى كا ازالہ كريں _ اور ان ميں احساس زندگى كو تقويت بخشيں _ ايسے بچوں كے ماں باپ كى ذمہ دارى بھى سنگين تر ہے _ اس امر پر ان كى توجہ ہونا چاہيے كہ ناقص افراد بھى ترقى اور كمال كى صلاحيت ركھتے ہيں _ اگر ان كى صلاحيتوں كا اندازہ لگاياجائے اور ان ديگر قوتوں كو ابھار كر تقويت پہنچائي جائے تو وہ كسى نہ كسى علمى ، سائنسى يا فنى شعبے ميں مہارت حاصل كرسكتے ہيں اور اس طرح سے اپنے نقص كا ازالہ كرسكتے ہيں اور معاشرے ميں بلند مقام حاصل كرسكتے ہيں اور اس طرح سے اپنے نقص كا ازالہ كرسكتے ہيں اور معاشرے ميں بلند مقام حاصل كرسكتے ہيں _ كتنے ہى ناقص افراد ہيں كہ جو كوشش اور ہمت سے ايسے بلند مقام پر پہنچے ہيں كہ جس سے ان كا نقص بہت ہى پيچھے رہ گيا ہے _ ماں باپ كو چاہيے كہ اپنى اولاد كے نقص سے بالكل چشم پوشى كريں اور اس بارے ميں بالكل بات نہ كريں يہاں تك كہ مذاق ، اظہار ہمدردى يا غصّے كى صورت ميں بھى ذكر نہ كريں _ ايسے بچوں كے ساتھ بھى ان كا سلوك بالكل ايسا ہو جيسا دوسرے بچوں كے ساتھ ہوتا ہے _ اگر خود بچے اس سلسلے ميں پريشانى كا اظہار كريں تو كوشش كريں كہ اس نقص كو غير اہم قرار ديں _ اور اسے اس كى دوسروى صلاحيتں يا ددلائيں ان ان كى تعريف و ستائشے كريں _

ماں باپ كى ذمہ دارى ہے كہ پورى توجہ سے تحقيق كريں كہ بچوں ميں كيا كيا استعداد اور صلاحيت موجود ہے اور اس سلسلے ميں جاننے والے افرا د سے مشورہ كريں _ اور پھر بچے كو اس طرف متوجہ كريں _ اور اس بارے ميں ان كى تائيد كريں اور انہيں ترغيب ديں _ اگر ماں باپ اس سلسلے ميں كچھ توجہ كريں تو وہ اپنے ناقص بچے كى اور معاشرے كى بہت بڑى خدمت سرانجام ديں گے _

اس صورت ميں اس طرح كا شخص گويا اپنى كھوئي ہوئي صورت كو پالے گا اور اپنى خداد اد صلاحيتوں سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھا سكے گا _ اور معاشرت ميں بھى وہ ايك اہم مقام حاصل كرسكے گا _

ايك لڑكى اپنے خط ميں لكھتى ہے_

... مير ى ايك سہيلى نے اپنى زندگى كى داستان مجھے اس طرح سنائي ميں تيرہ سال كى تھى _ ايك دفعہ ميں چھت سے گڑپڑى _ ميرى ريڑھ كى ہڈى پر چوٹ لگى _ جس كى وجہ سے ميں معذور ہوگئي _ كچھ عرصہ ہسپتال ميںميرا علاج ہوتا رہا _ اگرچہ مجھے تكاليف تھى ليكن مجھے بعد ميں سمجھ آئي كہ يہ دن ميرے ليے بہت بہتر تھے _ جب مجھے ہسپتال سے چھٹى ملى اور ميں گھر پہنچى تو ميرے والدين نے مجھے ازلى دشمنوں كى طرح ديكھتا شروع كرديا _ انہوں نے كہا تم ہمارے ليے باعث ننگ و ارہو _ ہم لوگوں كو كيسے بتائيں كہ ہم ايك معذور بيٹى كے والدين ہيں _ تم ہميشہ ہم پر سوار ہوگى _ وہ مجھے دلاسہ دينے كى بجائے دن رات ايسى ہى باتيں كرتے اور ميرى پمردہ روح كو اور چركے (زخم) لگاتے _ وہ يہ نہيں سوچتے تھے كہ ميں بے قصور ہوں _ ميں روزانہ كئي مرتبہ خدا سے اپنى موت كى دعا كرتى تا كہ اس سخت زندگى سے ميرى جان چھوٹ جائے _ ميں اپنے مفلوج پاؤں كے ساتھ سارا دن گھر ميں كام كرتى _ ليكن كوئي ميرى دلجوئي نہ كرتا مجھے اصلاً اپنى بيٹى ہى نہ سمجھتے ميرى جوانى كے بہترين ايام رنج و درد كے عالم ميں گزرے _ پندرہ سال كى عمر ميں ميں ايك پچاس سالہ بوڑھى كى طرح نظر آتى جب ميرے ماں باپ مر گئے _ ميرے بہن بھائي بھى بچپن ہى سے مجھ سے متنفر تھے وہ بھى ميرى احوال پرسى نہ كرتے _ پھر ميرى شادى كردى گئي _ ميرے شوہر بہت مہربان شخص تھے _ مجھ سے بہت محبت كرتے _ اس وقت تك مجھے محبت كى ٹھنڈى چھاؤں نصيب نہيں تھى اب ميرى حالت دن بدن اچھى ہونے لگى اب ميں بالكل تندرست ہوگئي ہوں _ خدا نے مجھے اولاد بھى عطا كى ہے _ اور ميں خوش و خرم اور صحت و سلامتى كے ساتھ زندگى گزار رہى ہوں _

 

1_ بحار ، ج 75، ص 15