تلاش حقيقت

تلاش حقيقت

جب نومولود دنيا ميں آتا ہے تو جہان خارج كى اسے كوئي خبر نہيں ہوتى _ ہر چيز اس كے ليے برابر ہے _ وہ شكلوں ميں ، رنگوں ميں اور لوگوں ميں فرق نہيں كرسكتا _ وہ شكلوں اور آوازوں سے متا ثر ہو تا ہے ليكن انہيں پہچان نہيں پاتا _ ليكن اسى وقت سے اس ميں تحقيق ، جستجو اور چيزوں كے پہچاننے كى شديد خواہش اور تمنا ہوتى ہے _ وہ مسلسل اس طرف طرف اور طرف ديكھتا ہے اور لوگوں كى صورتيں ديكھ ديكھ كے حيران ہوا ہے بچہ اپنے حواس كے ذريعے اوراپنى تحقيق و جستجو لگن سے اپنى معلومات ميں اضافہ كرتا ہے اور كسب علم كرتا ہے اللہ تعالى قرآن ميں فرماتا :

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئاً وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَرَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ‏(1)

اللہ نے تمہيں تمہارى ماؤں كے پيٹوں سے اس عالم ميں نكالا كہ تم اللہ كى نعمتوں كو پہچا نو اور شكر گزار بن جاؤ _

كچھ مدت كے بعد بچہ جہان خارج كى طرف تو جہ كرنے لگتا ہے _ چيزوں كو ہاتھوں سے پكڑ ليتا ہے _ انہيں حركت ديتا ہے _ پھر زمين پر پھنيك ديتا ہے _ منہ ميں لے جاتا ہے آوازوں كى طرف دھيان ديتا ہے _ آنكھول سے لوگوں كى حركتوں كوديكھتا رہتا ہے _ اس طرح سے تلاش حقيقت كى خواہش اور حس كو وہ پورا كرتا ہے اور دنيا كو پہچاننے كى كوشش كرتا ہے اللہ تعالى نے تحقيق و جستجو كى سرشت نوع انساں كو و ديعت كى ہے تا كہ ہے تا كہ اپنى كوشش اور جستجو سے اسرار جہان كے پر دے ہٹا ئے اور تخليق عالم كار از پالے_ بچہ ميں فطرى طور پر تحقيق اور جستجوكاماوہ ہوتا ہے اور وہ اس سلسلے ميں حتى المقدور كوشش كرتا ہے _ ماں باپ اس ضمن ميں بچے كوتشويق و تحريك بھى كرسكتے ہيں اور اس داخلى احساس كو دبا بھى سكتے ہيں _ اگر ماں باپ تحقيق سے متعلقہ چيزيں اسے ديں اور اسے يہ آزادى بھى ديں كہ وہ اپنى خواہش كے مطابق تجربہ كرے اور اس كى عمر كے تقاضے كے مطابق اسے فكرى و علمى اعتبار سے جاذب كھلونے خريد ديں تو س كى تحقيق و جستجو كى روح پر و ان چڑ ھے گى بچے كى يہى ہے _ ايك كمر ے ميں موجود مختلف چيزيں اس كے اختيار ميں نہ ديں اور اسے تحقيق و تجربے سے منع كريں تو تلاش حقيقت كى روح اس كے اندر دب جائے گى _ اور وہ سائنسى اور تحقيقى امور ميں شكست خوردہ اور مايوس ہو گا_ اس مرحلے سے اہم تر وہ مرحلہ ہے جب بچہ مختلف قسم كے علمى تحقيقى اور معلوماتى سوالات كرنے لگتا ہے دو سال سے اور وہ باتبں كرنا سيكھ ليتا ہے _ اور ماں باپ سے بہت سے سوالات كرنے لگتا ہے مثلا ميں بعد ميں ماں بنوں گا يا باپ ؟ ابو ہر روز گھر سے با ہر كيوں جاتے ہيں ؟ پتھر سخت اور پانى نرم كيوں ہے ؟ مجھے دادى اماں اچھى نہيں لگتى ميں ان كے گھر كيوں جاؤں ؟ بارش ميں كيوں نہ كھيلوں ؟ مچھلياں پانى ميں مر كيوں نہيں جاتيں ؟ آپ ہر روز نماز كيوں پڑ ھتے ہيں ؟ نماز كيا ہے ؟ سورج رات كو كہاں چلا جاتا ہے ؟ بارش اور بر فبارى كہاں سے ہوتى ہے ؟ يہ ستار ے كيا ہيں ؟ كس نے ان كو بنا يا ہے ؟ مكھى اور مچھر كا كيا فائدہ ہے ؟ جب داداجان مرے تھے تو انہين مٹى ميں كيوں ڈال ديا تھا؟ وہ كہاں گئے ہيں ؟ واپس كسب آئيں گے ؟يہ موت كيا ہوتى ہے ؟ كم و بيش بچوں كے اس طرح كے سوالات ہوتے ہيں بچوں كے سوالات ايك جيسے نہيں ہوتے عمر اور افراد كے فرق كے ساتھ سوالات بھى مختلف ہوتے ہيں _ سمجھدار بچے زيادہ گہر ے اور زيادہ سوال كرتے ہيں _ جوں جوں ان كى معلومات بڑھتى جاتى ہيں ان كے سوالات دقيق تر ہوتے جاتے ہيں _ بچہ سوالات اور تحقيق سے خارجى دنيا كى شناخت كے ليے دوسروں كى معلومات اور تجربات سے استفادہ كرناچاہتا ہے _ تلاش حقيقت اور جستجو كى سر شت انسان كى بہت ہى قيمتى سر شتوں ميں سے ہے _ اس سرشت كے وجود كى بركت سے انسان نے كمال حاصل كيا ہے _ جہان خلقت كے بہت سے اسرار اور از كشف كيے ہيں _ اور سائنس اور صنعت ميں حيران كن ترقى كى ہے _ جن ماں باپ كو اپنى اولاد اور انسانى معاشر ے كى ترقى اور كمال عزيز ہے وہ اس خداو ادصلاحيت سے زيادہ سے زيادہ استفادہ كرتے ہيں _ بعض ماں باپ بچگانہ سوالات كو ايسے ہى بے كار اور فضول سمجھتے ہيں اور جواب دينے كى طرف ہر گز تو جہ نہيں ديتے كہتے ہيں بچہ كيا سنجھتا ہے ؟ بڑا ہو گا تو خود ہى سمجھ لے گا آخر ہم بچوں كے سوالوں كا جواب كيسے دے سكتے ہيں _ بچوں كے سوالات سن كركہتے ہيں بيٹا جى اتنى باتيں نہ كرو _ ايسے ہى نہ بو لتے رہو _ مجھے كيا پتہ جب بڑے ہو گے تو خود ہى سنجھ لوگے _ ايسے سوالاں كا وقت نہيں ہے ان كو چھوڑو يہ ميرے بس ميں نہيں ہے _ ايسے ماں باپ اپنے بچے كى قيمتى ترين انسانى صلاحيت كو خاموش كرديتے ہيں _ اس كى عقلى رشد و نمو كو روك ديتے ہيں _ پھر شكايت كرتے ہيں كہ ان كے بچے ميں سائنس انكشافات سے دلچسپى كيوں نہيں ہے _ وہ علمى اور سائنسى سوالات حل كرنے ميں عاجز كيوں ہے _ جب كہ خود ہى وہ اس كام كا سبب بنے ہيں _ اگر اس صلاحيت كى صحيح تسكين نہ كى جائے تو ہو سكتا ہے كہ وہ حقيقى راستے سے بھئك جائے اور بعد ازاں لوگوں كے راز معلوم نے اور لوگوں كے اسرار كے بارے ميں تجسس كى صورت ميں ظاہر ہو _

بعض ماں باپ اپنے بچوںكو خوش كنے كے ليے ان كے سوالوں كا جواب ديتے ہيں

ليكن انہين ہرگز سے دلچسپى نہيں ہوتى كہ جواب صحيح ہو وہ صرف يہ چاہتے ہيں كہ ان كا بچہ چپ كرجائے جواب صحيح ہو يا غلط _ وہ سمجھتے ہيں كہ صحيح جواب بچوں كے ليے سمجھنا بہت مشكل ہے _ لہذا انہيں مطمئن كرنے كے ليے ايسا جواب ديتے ہيں كہ بس وہ چپ كرجائے _ ممكن ہے بچہ اس طرح سے وقتى طور پر خاموش ہو جائے _ ليكن تلاش حقيقت كے بارے ميں اس كى خواہش سير نہيں ہوئي اور كمال كے راستے پر آگے نہيں بڑھى بلكہ گمراہى او رخلاف حقيقت راستے كى طرف بھٹك گئي ہے جب وہ بڑا ہو گا _ اور حقيقت اسے معلوم ہو جائے گى تووہ ان ماں باپ كے بارے ميں بد بين ہو جائے گاجنہوں نے اسے گمراہ كيا تھا بلكہ يہاں تك ممكن ہے وہ ايك شكى قسم كا شخص بن جائے كہ جوہر كسى كے بارے ميں ہر مقام پر بد گمانى كرے _

ليكن سمجھدار اور فرض شناس ماں باپ اس قيمتى خدا داد صلاحيت كو ضائع نہيں كرتے اور راس سے اور قابل فہم جوابديں _ پہلے وہ اپنے آپ كو اس كے ليے تيار كرتے ہيں مطالعہ كرتے ہيں _ سو چتے ہيں _ بچوں سے ان كى زبان ميں بات كرتے ہيں اور ان كے يوالوں كى طرف خوب تو جہ كرتے ہيں اور جواب ديتے ہيں ہر گز خلاف حقيقت بات نہيں كرتے اگر كسى موقع پروہ جواب دينے سے عاجز ہوں تو با قاعدہ اپنى لا علمى كا اظہار كرتے ہيں اور اس طرح بچے كى تلاش حقيقت كى اس صلاحيت كو بھى ابھار تے ہيں او رساتے ہى ساتھ انہيں يہ بھى سكھا تے ہيں كہ جب كسى چيز كا علم نہ ہو تو لا علمى كا اظہار كرنے ميں شرم ومحسوس نہيں كرنے چاہيے _ بعض ماں باپ بچوں كے سوال كا جواب ديتے ہوئے حد سے بڑھ جاتے ہيں يعنى ايك چھوٹے سے سوال كا جواب دينے كے ليے تفصيلات ميں چلے جاتے ہيں اور جو كچھ بھى انہيں معلوم ہوتا ہے سب كچھ كہہ ڈا لتے ہيں يہ كام بھى درست نہيں كيونكہ تجربے سے يہ بات ثابت ہو گئي ہے كہ بچہ زيادہ باتيں سننے كا حوصلہ نہيں ركھتا _ اسے صرف اپنے سوال كے جواب سے غرض ہوتى ہے اور زيادہ باتوں سے وہ تھك جاتا ہے تحقيق و جستجو ميں بچوں اور نو چوانوںكى تشويق كريں _ انہيں بحث و استدلال سے آشنا كريں اور جہاں امكان ہو اور ضرورى ہو و ہاں انہيں تجربے كے ليے بھى ابھلاريں _ بچہ ايك سو چنے والا انسان ہے _ اس كى سوچ كو تقوبت ديں تا كہ اس كے اندر چھپى ہوئي صلاحيتّيںكام آئيں اور وہ اپنے فكر و شعور سے استقادہ كرے اور اپنے لأآنئدہ كى زندگى كے ليے، تيار ہوجا ئے _ حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :

جو بھى بچين ميں سوال كرسكے بڑا ہو كر جواب دے سكے گا(2)

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا:

بچے كادل نرم زمين كے مانند ہے آپ جو بھى اس ميں ڈاليں گے قبول كرے گا(3)

ايك خاتون اپنے خط ميں لكھتى ہے ...

ايك رات ابو گھر آئے اور مجھ سے ايك پہيلى كہى _ اور كہا كہ مير ے ساتھى اس پہيلى كو نہيں بو جھ سكے سب سو گئے ليكن ميں نے ارادہ كيا كہ اس كو بو جھ كے رہوں گى _ اور دير تك سو چتى رہى اور آخر كار ميں نے اسے بو جھ ليا _ خوشى خوشى ميں نے ابو كو جگا يا اور انہيں اس پہيلى كا جواب ديا ابو خوش ہو گئے _ مجھے شا باش كہى الو ہميشہ فكر ى قسم كے كام مجھ سے كہتے اور اس سلسلے ميں مجھے تشويق كرتے اسى ليے ميں فكرى مسائل حل كرنے ميں طاق ہو گئي ہوں _ اور زندگى كى مشكلات كو سوچ بچار سے حل كر ليتى ہو ں

1_ نحل ، 78
2_ غرر الحكام ص 645
3_ غررالحكام ص 302