دوست اور دوستي

دوست اور دوستي

اچھا دوست اور مہربان رفيق اللہ كى عظم نعمتوں ميں سے ہے _ مصيبت ميں دوست ہى انسان كى پناہ ہوتا ہے اور قلب ور وح كے آرام كا ذريعہ ، مشكلات سے بھر ى اس دنيا ميں ايك حقيقى دوست كى موجودگى ہر انسان كى ضرورت ہے _ جو شخص ايك مہربان دوست كى نعمت ہے محروم ہو وہ وطن سے دور تنہائي كى سى كيفيت ميں ہوتا ہے اور كوئي اس كا غمخوار نہيں ہوتا كہ زندگى كى مشكلات ميں وہ جس كا سہارا لے سكے _

حضرت امام موسى بن جعفر عليہ السلام سے پوچھا گيا كہ دنيا ميں آرام كا بہترين وسيلہ كيا ہے _ فرمايا: كھلا گھر اور زيادہ دوست '' _(1)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

اعجز الناس من عجز عن اكتساب الاخوان _

كمزورترين شخص وہ ہے جو كسى كو دوست اور بھائي نہ بنا سكے _ (2)

حضرت على عليہ السلام ہى فرماتے ہيں:

دوستوں كا نہ ہونا ايك طرح كى غريب الوطنى او رتنہائي ہے _(3)

جيسے بڑوں كو دوستوں كى ضرورت ہوتى ہے ويسے ہى بچوں كو بھى ياردوست كى ضرورت ہوتى ہے جس بچے كا كوئي دوست نہ ہو وہ ہر جگہ تنہا تنہا سا ، مرجھايا مرجھا يا سا اور افسردہ افسردہ سا رہتا ہے _ بچے كو فطرى طور پر دوست كى خواہش ہوتى ہے اور اس فطرى خواہش سے اسے محروم نہيں ركھا جا سكتا _ دوست اور ہم جولى ميں فرق ہے _ ہوسكتا ہے اس كا ہم جولى تو ہو مگر دوست نہ ہو _ كبھى بچہ ہم جوليوں اور كلاس فيلوزيں ميں سے كسى دوست كا انتخاب كرتا ہے _ شايد دوستى كا اصلى محرك اور عامل زيادہ واضح نہ ہو _ ہوسكتا ہے دو افراد كى باہمى روحانى ہم آہنگى انہيں ايك دوسرے كے نزديك كردے _

امير المومنى على عليہ السلام فرماتے ہيں:

لوگوں كے دل بھكتے ہوئے جنگليوں كے مانند ہيں جو بھى ان سے محبت كرے اسى ميں كھوجاتے ہيں _(4)

دوست كسى پر ٹھونسا نہيں جا سكتا كہ ماں باپ اپنى اولاد سے كہيں كہ فلاں بچے كو دوست بناؤ اور فلاں كو نہ بناؤ _ دوست كے انتخاب ميں بچے كو آزادى ملنا چاہيے البتہ ہر طرح كى آزادى نہيں دى جا سكتى كيونكہ دوستوں كا اخلاق و كردار ايك دوسرے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ايك دوست دوسرے كے اخلاق اور طرز عمل كو اپناتا ہے _ اگر بچے نے ايك خوش اخلاق اور اچھا دوست بناليا تو وہ اس سے اچھائياں اپنائے گا اور برا دوست مل گيا تو اس كى برائياں اس پر ا ثر انداز ہوں گى _ بہت سے معصوم بچے اور نوجوان ہيں كہ جو اپنے برے دوستوں كے باعث گناہ كى وادى ميں جا پہنچے ہيں اور ان كى دنيا و آخرت تباہ ہوچكى ہے _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

انسان اپنے دوست كے مذہب ، طريقے اور روش كا خوگر بن جاتا ہے _(5)

حضرت على عليہ السلام فرمايا ہيں :

لوگوں ميں سب سے زيادہ خوش نصيب وہ ہے كہ جس كاميل جول اچھے لوگوں كے ساتھ ہو(6)

اسى وجہ سے اسلام اپنے ماننے والوں كو اس امر كا حكم ديتا ہے كہ وہ برے دوست سے اجتناب كريں

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :

فاسقوں اور گنہ گاروں كے ساتھ دوستى سے بچو كيونكہ برائي كہ تاثير برائي ہى ہے (7)

امام سجاد عليہ السلام نے اپنے فرزند و لبند امام باقر عليہ السلام سے فرمايا :

اے ميرے بيٹے : پانچ طرح كے لوگوں سے رفاقت نہ ركھو :

1_ جھوٹے كے ساتھ رفاقت نہ كرو كہ وہ سرا ب كے مانند ہے _ وہ تجھے فريب دے گا _ دور كو نزديك اور نزديك كو دور بتا ئے گا _

2_ فاسق اور بد كار كو دوست نہ بناؤ كہ وہ تجھے بہت كم قيمت پريہاں تك كہ ايك نوالے كے مول بيچ دے گا_

3_ كنجوس كو دوست نہ بناؤ كيونكہ وہ ضرورت پڑنے پر مدد نہيں كرے گا_

3_ كسى احمق كو دوست نہ بناؤ كيوں كہ وہ اپنى بے وقوفى كے باعث تمہيں نقصان پہنچائے گا _ بلكہ يہ تك ممكن ہے كہ وہ فائدہ پہنچانا چاہے مگر نقصان پہنچائے گا _ بلكہ يہ تك ممكن ہے كہ وہ فائدہ پہنچانا چاہے مگر نقصان پہنچادے _

5_ قطع رحمى كرنے والے كو دوست نہ بناؤ كيونكہ قطع رحمى كرنے والا خدا كى رحمت سے دو ر اور ملعون ہے (8)

لہذا سمجھدا ر اور فرض شناس ماں باپ كى دمہ دارى ہے كہ وہ اپنے بچوں كے دوستوں سے لا تعلق نہ دہيں كيونكہ ايسا كرنا نہ بچوں كے فائدہ ے ميں ہے اور نہ مال باپ كے البتہ ماں باپ كى اس معاملے ميں بلا واسطہ دخالت بھى درست نہيں ہے _

اگر ماں باپ اپنے بچوں كے ليے ايك اچھا اور نيك دوست مہيا كر سكيں توانہوں نے بچے كى بھلائي كا انتظام كيا ہے اور اسے تباہى كے راستے سے بچايا ہے _ ليكن يہ بھى كوئي آسان كا م نہيں _ اس كے ليے بہترين طريقہ يہ ہے كہ جب اچھے برے كى كچھ تميز كرنے لگے تو اسے پيار محبت سے ايك اچھے اور برے د وست كى صفات بتائيں برے بچوں كے ساتھ دوستى كے نتائج بھى اس پر واضح كريں _

پھر بچوں كے دوستوں اور ان كے طرز عمل پر كچھ فاصلے سے نگاہ ركھيں اگر ماں باپ ديكھيں كہ ان كے دوست اچھے ہيں تو ان كى تائيد و تشويق كريں اور انہيں ملنے جلنے كے مواقع فراہم كريں ليكن اگر ديكھيں كہ ان كے بچے دھو كا كھا گئے ہيں اور برے بچوں كو دوست بنار ہے ہيں تو پيار محبت سے ان كى خاميوں كى طرف متوجہ كركے اپنے بچوں كو ان سے ميں ملاقات سے روكيں _ پيار محبت سے يہ كام نہ ہو سكے تو كچھ سختى سے منع كيا جاسكتا ہے _

ايك اور طريقے سے بھى ماں باپ بچے كے ليے اچھے دوست كے انتخاب ميں مدد كرسكتے ہيں _ اس كے ہمجوليوں ، محلے والوں ، ہمسايوں ، و غيرہ ميں سے كسى اچھے دوست كو تلاش كريں اور ان كے در ميان بہتر رابطے كا وسيلہ فراہم كريں _ اس طرح اگر وہ آپس ميں دوست ہو جائيں تو ان كى تشويق كريں _ اس طرح ماں باپ بہت اچھى خدمت سرانجام دے سكتے ہيں اور بچوں كى بہت سى خامياں اچھے دوست كے انتخاب سے دور كرسكتے ہيں _ مثلا وہ ماں باپ جن كا بيٹا بزول ہے وہ اس كے ليے كوئے شجاع بچہ انتخاب كريں كہ جس سے دوستى كے ذريعے اس كى بزولى جاتى رہے _

بہر حال ماں باپ كو نہيں چاہيے كہ وہ اپنے بچوں كے دوستوں بالخصوص نو جوانى كے دور ميں ان كے دوستوں سے غافل رہيں اور انہيں ان كے حال پر چھوڑديں كيونكہ بچہ اور نو جوان كے ليے بدلنے كے زيادہ امكانات ہيں _ حب كہ عمومى اخلاق اور معاشر ہے كى حالت بھى ٹھيك نہ ہو تو ممكن ہے تھوڑى سى غفلت سے آپ كا فرزند دلبند برائي اور بد بختى كے گڑھے ميں جاگرے _ لہذا ياد ركھيں كہ پر ہنر علاج سے كہيں بہتر ہے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :

ہر چيز كے ليے ايك آفت ہے اور نيكى كے ليے آفت برا دوست ہے(9)

ايك صاحب لكھتے ہيں :

ميرے ماں باپ مجھے دوستوں سے ملنے كى اجزات نہ ديتے تھے _ اگر دوست مجھے گھر پر ملنے آتے تو ميںمجبور ہوتا كہ ايك دو باتيں كركے انہيں رخصت كردوں _ ايك دوست ہمارے گھر كے قريب ہى رہتا ہے _ امّى ابو اسے جانتے تھے ليكن وہ ہميں ايك دوسرے كے ہاں آنے جانے كى اجازت نہ ديتے _ مجھے بہت خواہش ہوتى كہ دوستوں سے لموں ، ان كے ساتھ بيٹھوں اور ان سے بات چيت كروں ليكن كيا كرتا امّى ابو حائل تھے _ مجھے اس كا بہت غم تھا _ ايك روز ميں نے ارادہ كرليا كہ جيسے بھ ہو دوستوں سے ملنے ضرور جاؤں گا _ ميں نے امّى سے كہا : ميرا امتحان ہے اس كے ليے مجھے جانا ہے اجازت تو امتحان كے ليے لى ليكن اپنے دوست كے ہاں جا پہنچا _ اس دوست كا گھر كچھ دور تھا _ ايك ديگن پر بيٹھا اور اس كے ہاں چلا گيا _ وہاں اور دوست بھى تھے _ دن ان كے ساتھ خوب خوش گپيوں ميں گزرا _ شام واپس آيا تو امّى نے كہا بہت دير سے آئے ہو پھر _ ايك جھوٹ كو چھپانے كے ليے مجھے اور كئي جھوٹ بولنا پڑے _

آج سو چتا ہوں كہ كيا امّى جان كو معلوم نہ تھا كہ دوست اور رفيق كى كسى بچے كو كتنى ضرورت ہوتى ہے _ انہوں نے مجھے اى قدر پابند كيوں كر ركھّا تھا _

ايك لڑكى لكھتى ہے :

ايك مرتبہ ميں نے اپنى كچھ سہيليوں كو گھر بلا يا _ اور ميرے پاس جو پيسے گلّے ميں جمع تھے _ وہ نكالے بھا گم بھاگ گئي اور ان كے ليے آئس كريم لائي _ امّ كہيں گئي ہوئي تھيں _ سہيلياں آئس كريم كھا رہى تھيں او پر سے امى گھر ميں داخل ہوئيں مجھے بہت خوف ہو ا خدا جائے امى كيا كہيں كيوں كہ وہ تو ہميشہ مجھے سہيليوں سے ملنے سے منع كرتى رہتى تھيں : انہيوں نے با لكل ميرى عزت كا خيال نہ كيا اور ميرى سہيليوں سے كہنے لگيں تم نے صائمہ سے فضول خرچى كروائي ہے _ ميرى استانى سے حاكر شكايت كے لہجے ميں ميرى سہيليوں كے بارے ميں كہا يہ ہمارے گھر آتى ہيں اور ميرى بيٹى كو فضول خرچى پر مجبور كرتى ہيں _ كل ميرى بيٹى سے آئس كريم كھا رہى تھيں _ سہيلياں جو ميرى ہم كلاس بھى تھں وہ كہنے لگيں _ آنٹى كل والى آئس كريم كے پيسے ہم دے ديتى ہيں _ مجھے اتنى شرم آئي دل چاہتا تھا زمين پھٹ جائے اور ميں غرق ہو جاوں _ وہ دن اور آج كادن پھر ميں سكول نہيں جاسكى _ سہيلياں اگلى كلاسوں ميں جاپہنچيں _ اور ميں پشيمان پشيمان سى سہمى سہمى سى _ او اس اواس سى آج ان سے كہيں پيچھے رہ گئي ہوں _

 


1_ بحار ، ج 74، ص 177
2_ نہج البلاغہ ، ج 3، ص 153
3_ بحار، ج 74، ص 178
4_ بحار، ج 74، ص 178
5_ اصول كافى ، ج 2 ، ص 375
6_ غرر الحكم، ص 199:« أسعدُ الناسِ مَنْ خالط كِرامَ الناس»
7_ بحارالأنوار، ج 71، ص 199، باب مَنْ لا ينبغى مجالسته ...، ح 36:« إيّاك ومصاحبة الفُسّاقَ؛ فإنَّ الشرَّ بالشرِّ ملحقٌ»
8_ الكافى، ج 2، ص 376، بابُ مجالسة أهل المعاصي، ح 7
9_ غرر الحكم، ص 542:« لكلّ شي‏ء آفةٌ وآفةُ الخيرِ قرينُ السوء»