نومولود اور دنى تربيت

نومولود اور دنى تربيت

يہ صحيح ہے كہ نو مولود الفاظ او رجملے نہيں سمجھتا _ مناظر اور شكلوں كى خصوصيات كو پہچان نہيں سكتا _ ليكن آوازوں كو سنتا ہے اور اس كے اعصاب اور ذہن اس سے متاثر ہوتے ہيں اسى طرح سے مناظر اورشكلوں كو ديكھتا ہے اور اس كے اعصاب اس سے بھى متاثر ہوتے ہيں _ لہذا اس بناپر يہ نہيں كہا جا سكتا كہ ديكھى جانے والى اور سنى جانے والى چيزيں نو مولود پر اثر نہيں كرتيں اور وہ ان كے بارے ميں بالك لاتعلق ہوتا ہے _ نومولود اگر چہ جملوں كے معانى نہيں سمجھتا ليكن يہ جملے اسكى حساس اور ظريف روح پر نقش پيدا كرتے ہيں _ بچہ رفتہ رفتہ ان جملوں سے آشنا ہوجاتا ہے اور يہى آشنائي ممكن ہے اس كے آئندہ كے ليے مؤثر ہو _ جس لفظ سے ہم زيادہ متاثر ہوتے ہيں اس كے معنى كو بہتر سمجھتے ہيں _ نا آشنا افراد كى نسبت آشنا افراد كو ہم زيادہ پسند كرتے ہيں ايك بچہ ہے كہ جو دينى ماحول ميں پرورش پاتا ہے ، سينكڑوں مرتبہ اس نے تلاوت قرآن كى دلربا آواز سنى ہے ،اللہ كا خوبصورت لفط اس كے كالوں سے ٹكرايا ہے اور اس نے اپنى آنكھوں سے بارہا ماں باپ كو نماز پڑھتے ہوئے ديكھا ہے _ دوسرى طرف ايك نومولود ہے كہ اس نے برے اور بے دين ، ماحول ميں پرورش پائي ہے ، اس كے كانوں نے غليظ اور گندے سنے ہيں اور اس كى آنكھيں فحش مناظر ديكھنے كى عادى ہوگئي ہيں يہ دونوں بچے ايك جيسے نہيں ہيں _

سمجھدار اورذمہ دار ماں با پ اپنے بچوں كو تربيت كے ليے كسى موقع كو ضائع نہيں كرتے يہاں تك كہ اچھى آوازيں اور اچھے مناظر سے انہيں مانوس كرنے سے بھى غفلت نہيں كرتے_

رسول اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے بھى اس حساس تربيتى نقطے كو نظر انداز نہيں كيا اور اپنے پيروكاروں كو حكم ديا ہے كہ

''جو نہى بچہ دنيا ميں آئے اس كے دائيں كان ميں اذان اوربائيں ميں

اقامت كہيں''_

حضرت على عليہ السلام نے رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سے روايت كى ہے كہ آپ(ص) نے فرمايا:

جس كے ہاں بھى بچہ ہوا سے چاہيے كہ اس كے دائيں كان ميں اذان اوربائيں ميں اقامت كہے تا كہ وہ شر شيطان سے محفوظ رہے _ آپ نے امام حسن (ع) اور امام حسين(ع) كے بارے ميں بھى اسى حكم پر عمل كرنے كے ليے كہا _ علاوہ ازيں حكم ديا كہ ان كے كانوں ميں سورہ حمد ، آية الكرسى ، سورہ حشر كى آخرى آيات ، سورہ اخلاق ، سورہ والناس اور سورہ و الفلق پڑھى جائيں_ (1)

بعض احاديث ميں آيا ہے :

خود رسول اللہ نے امام حسن (ع) اورامام حسين (ع) كے كان ميں اذان و اقامت كہى _

ہاں

رسول اسلام جانتے تھے كہ نو مولود اذان، اقامت اور قرآنى الفاظ كے معانى نہيں سمجھتا ليكن يہى الفاظ بچے كے ظريف اور لطيف اعصاب پر جو اثر مرتب كرتے ہيں آپ (ص) نے اسے نظر انداز نہيں كيا _ رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كى اس نكتے كى طرف توجہ تھى كہ يہ جملے بچے كى روح اور نفسيات پر نقش مرتب كرتے ہيں اور اسے ان سے مانوس كرتے ہيں _ اور الفاظ سے يہ مانوسيت بے اثر نہيں رہے گى _ علاوہ ازيں ممكن ہے كہ اس تاكيدى حكم كے ليے رسول (ع) كے پيش نظر كوئي اور بات ہو _ شايد وہ چاہتے ہوں كہ ماں باپ كو متوجہ كريں كہ بچے كى تعليم و تربيت كے بارے ميں سہل انگارى درست نہيں ہے اور اس مقصد كے ليے ہر ذريعے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہيے جب ايك با شعور مربى نومولود كے كان ميں اذان اور اقامت كہتا ہے تو گويا اس كے مستقبل كے لئے واضح طور پر اعلان كرتا ہے اور اپنے پيارے بچے كو خداپرستوں كے گروہ سے ملحق كرديتا ہے _

بچے پرہونے والے اثر كا تعلق صرف سماعت سے متعلق نہيں ہے بلكہ مجموعى طور پر كہا جاسكتا ہے كہ جو چيز بھى بچے كے حواس، ذہن اور اعصاب پر اثر اندازہوتى ہے اس كى آئندہ كى زندگى سے لاتعلق نہيں ہوتى مثلاً جو نو مولود كوئي بے حيائي كا كام ديكھتا ہے اگر چہ اسے سمجھ نہيں پاتا _ ليكن اس كى روح اور نفسيات پر اس برے كام كا اثر ہوتا ہے اور يہى ايك چھوٹا كام ممكن ہے اس كے انحراف كى بنياد بن جائے _ اسى ليے پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرماياہے:

''گہوراہ ميں موجود بچہ اگر ديكھ رہا ہو تو مرد كو نہيں چاہيے كہ اپنى بيوى سے مباشرت كرے '' _ (2)

 

1_ مستدرك ج 2 ص 619
2_ مستدرك ج 2 ص 546