كھيل كود

كھيل كود

جيسے سانس لينا بچے كے ليے ضرورى ہے ايسے ہى كھيل كوداس كے ليے ايك فطرى امرہے _ پر ائمرى و مڈل ميں بچے كى سب سے بڑى سرگرمى اور مشغوليت كھيل ہے _ اس كے بعد آہستہ كم ہوجاتى ہے اور پھر ضرورى كام اس كى جگہ لے ليتے ہيں _ كھيل كے ليے بچے كے پاس دليل نہيں ہے _ البتہ وہ ايسا نہيں كرسكتاكہ كھيلے نہ _ بچہ ايك موجود زندہ ہے اور ہر موجود زندہ كو چاہيے وہ فعّال رہے _ كھيل بھى بچے كے ليے ايك قسم كى فعاليت اور كام ہے بچے كانہ كھيلنا اس كى بيمارى اور ناتوانى كى علامت ہے _ اسلام نے بھے بچے كى فطرى ضرورت كى طرف توجہ ديتے ہوئے حكم ديا ہے كہ اسے آزاد چھوڑا جائے تا كہ وہ كھيلے _

حضرت صادق عليہ السلام نے فرمايا:

بچے كہ سات سال تك آزاد چھوڑديں تا كہ وہ كھيلے _ (1)

رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم ايك مرتبہ بچوں كے پاس سے گزرے كہ جومٹى سے كھيل رہے تھے _ آپ(ص) كے بعض اصحاب نے اہيں كھيلنے سے منع كيا _

رسول اللہ نے فرمايا:

انہيں كھيلنے دومٹى بچوں كى چراگاہ ہے _ (2)
 

كھيل بچے كے ليے ايك فطرى ورزش ہے _ اس سے اس كے پٹھے مضبوط ہوتے ہيں _ اس كى فہم اورعقلى قوتوں كو كام ميں لاتى ہے اور اسے مزيد طاقت عطا كرتى ہے _ بچے كے اجتماعى جذبات اور احساسات كو بيدار كرتى ہے _ اسے معاشرتى زندگى گزارنے اور ذمہ داريوں كو قبول كرنے پر آمادہ كرتى ہے _

ماہرين نفسيات كھيل كے اصلى محرك كے بارے ميں اختلاف نظر ركھتے ہيں اور اس سلسلے ميں انہوں نے جو تحقيقات كى ہيں وہ ہمارے كام كى ہرگز نہيں ہيں ہمارے ليے جو اہم ہے وہ يہ ہے كہ اس فطرى امر سے بچے كى تعليم و تربيت كے ليے استفادہ كريں اور اس كى آئندہ كى زندگى كو بہتر بنانے كے ليے اسے كام ميں لائيں _ ايك ذمہ دار مرّى كو نہيں چاہيے كہ وہ كھيل كو بس ايك مشغوليت شماركرے اور اس حساس اورپر اہمّيت عرصے كو بے وقعت سمجھے _ بچے كھيل كے دوران خارجى دنيا سے آشنا ہوتا ہے _ حقائق سمجھنے لگتا ہے _ كام كرنے كا انداز سيكھتاہے _ خطرات سے بچنے اور ايك دوسرے كے ساتھ ہم دست ہونے ، مشق كرنے اور مہارت حاصل كرنے كا انداز سيكھتا ہے _ اجتماعى كھيل ميں دو دوسروں كے حقوق كا خيال ركھنا اوراجتماعى قوانين كى پابندى كرنا سيكھتا ہے _

ديليم اسٹرن لكھتے ہيں :

كھيل صلاحيتوں كے رشد و نمو كا ايك فطرى ذريعہ ہے يا آئندہ كے اعمال كے ليے ابتدائي مشق كے مانند ہے _ (3)

اليكسى ميكيم ديچ گوركى لكھتے ہيں:

كھيل بچوں كے ليے جہاں ادراك كى طرف راستہ ہے _ وہ راستہ كہ جس پہ وہ زندگى گزارتے ہيں ، وہ راستہ كہ جس پہ بدل كے انہيں جانا ہے _ كھيلنے والا بچہ اچھلنے كودنے كى ضرورت پورى كرتا ہے چيزوں كے خواص سے آشنا ہوتا ہے _ كھيل بچے كو آداب معاشرت سيكھنے ميں مدد ديتا ہے _ بچے نے جو كچھ ديكھا ہوتا ہے اور جو كچھ وہ جانتا ہے اسے كھيل ميں ظاہر كرتاہے _ كھيل اس كے احساس كو مزيدگہرا كرديتا ہے اور اس كے تصورات كو واضح تر بناديتا ہے _ بچے گھر بناتے ہيں _ كارخانہ تعمير كرتے ہيں _ قطب شمالى كى طرف جاتے ہيں _ فضا ميں پرواز كرتے ہيں ، سرحدوں كى حفاظت كرتے ہيں اور گاڑى چلاتے ہيں _

آنٹن سميو نويچ ماكارنو جو روس كے معروف ماہر امور پرورش ہيں ، كہتے ہيں : كھيل ميں بچہ جيسا ہوتا ہے، بڑا ہوكر كام ميں بھى ويسا ہى ہوگا _ كيونكہ ہر كھيل ميں ہر چيز سے پہلے فكر و عمل كى كوشش كارفرما ہوتى ہے _ اچھا كھيل اچھے كام كے مانند ہے _ جو كھيل آشكارہوتا ہے اس ميں بچے ے احساسات اور آرزوئيں ظاہر ہوتى ہيں _ كھيلنے والے بچے كو غور سے ديكھيں _ اسے ديكھيں كو جو پروگرام اس نے اپنے ليے بنايا ہے اس پر كيسے حقيقت پسندى سے عمل كرتا ہے _ كھيل ميں بچے كے احساسات حقيقى اور اصلى ہوتے ہيں _ بڑوں كو ان سے كبھى بھى بے اعتناء نہيں رہنا چاہيے _ (4)

وليم ميكڈوگل رقم طراز ہيں:

قبل اس كے كہ فطرت ميدان عمل ميں داخل ہو، كھيل كسى شخص كے فطرى ميلان كا مظہر ہوتا ہے _ (5)

لہذا بچہ اگر چہ كھيل ميں ظاہراً كوئي اہم مرسوم كام انجام نہيں دے رہا ہوتا ليكن اس كے باوجود كھيل كام سے كوئي نمايان فرق بھى نہيں ركھتا _ اسى كھيل كے دوران ميں بچے كے فطرى اور ذاتى ميلانات ظاہر ہوتے ہيں اسى ميں اس كا اجتماعى و انفرادى كردار صحت پذير ہوتا ہے اور اس كے مستقبل كو روشن كرتا ہے _ بچے كے سرپرستوں كو چند قسموں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے_

بعض ايسے ہيں جو كھيل كو بچے كا عيب اور بے ادبى كى علامت سمجھتے ہيں اور كوشش كرتے ہيں كہ حتى المقدور بچے كو كھيل سے بازركھيں تا كہ وہ آرام سے ايك گوشے ميں بيٹھا رہے _

كچھ ايسے بھى ہيں جو بچوں كے كھيل كے مخالف نہيں ہيں اور وہ بچے كو كھيلنے كے ليے آزاد چھوڑديتے ہيں اور اس كے كھيل ميں كوئي دخل بھى نہيں ركھتے كہتے ہيں كہ بچہ خود ہى اچھى طرح جانتا ہے كہ كسے اور كس چيز سے كھيلا جائے _

تيسرى قسم ايسے سرپرستوں كى ہے جو بچوں كے كھيل كے ليے مشغوليت كے علاوہ كوئي ہدف نہيں سمجھتے _ وہ كھيل كے مقصد كى طرف توجہ كيے بغير بچوں كے ليے كھيل كا سامان خريد تے ہيں كھيل كا اچھا برا سامان خريد كر بچوں كے ہاتھوں ميں تھماديتے ہيں اور اپنے گھر كو كھيل كے سامان كى دوكان بناديے ہيں ليكن بچوں كے كھيل ميں كوئي دخل اندازى نہيں كرتے بچہ اپنى مرضى سے كھيلتا ہے ، بگاڑتا ہے اور پھينك ديتا ہے ہنستا ہے اورخوش ہوتا ہے اوراپنے خوبصورت كھلونوں كى بناء پر دوسروں پر فخر كرتا ہے _

چوتھى قسم ايسے سرپرستوں كى ہے جو نہ صرف بچے كو كھيل كى اجازت ديتے ہيں بلكہ ان كے كھيل پر پورى نظر بھى ركھتے ہيں _ اور گوئي مشكل پيش آجائے تو وضاحت كرتے ہيں اور اس مشكل كو حل كرتے ہيں _بچے كوموقع نہيں ديتے كہ مشكلات ميں اپنى فكر و عقل كو استعمال كرے اور اپنى صلاحيت سے مشكلات كو حل كرے، اس طرح سے بچے ميں خود صلاحيت پيدانہيں ہوتى اور اس كى قوت ارادى پروان نہيں چڑھتى بلكہ وہ تمام تر ماں باپ پر انحصار كرتا ہے كہ وہ فوراً اس كى مدد كو لپكيں _

ان چاروں ميں سے كوئي طريقہ بھى پسنديدہ اور سودمند نہيں ہے كہ جسے بچے كى تعليم و تربيت كے ليے مفيد اور بے نقص قرارديا جائے _ ہر ايك ميں ايك يا زياہ نقص موجود ہيں _

بہترين روش كو جو ايك ذمہ دار اور آگاہ مربى اختيار كرسكتا ہے يہ ہے كہ _

اولاً: بچے كو كاملاً آزاد چھوڑ دے تا كہ وہ اپنے ميلان كے مطابق كھيلے _

ثانياً: اس كے كھيلنے كے ليے ضرورى چيزيں فراہم كرے _

ثالثاً: كھيل كے ليے ايسى چيزوں كا انتخاب كرے كہ جن سے بچے كى فكر اور دماغى صلاحيتوں كو تقويت پہنچے اور دوسرى طرف اس ميں كوئي فنى پہلو بھى موجود ہونا چاہيے جوبچے كو مفيد كاموں كے ليے تشويق كرے اور اسے اجتماعى اور معاشرتى امور اور كاموں كى انجام وہى پر آمادہ كرے كھيلوں كى زيادہ تر چيزيں وقت اور پيسے كے ضياع كے علاوہ كچھ ثمر نہيں ركھتيں _

مثلاً اگر آپ اس كے ليے بجلى سے چلنے والى كارياريل گاڑى خريديں يا كوئي اور چيز _

خريديں تو آپ كا بچہ صرف ايك تماشہ بن جائے گا _ سارادن اسى ميں گمن رہے گا _ اسے ديكھے گا _ ہنسے گا _ نہ اس ميں كوئي اس كى فكر استعمال ہوگى _ نہ كوئي ايسى چيز ياد كرسكے گا جو آئندہ زندگى ميں اس كے كام آسكے _

كھيلنے كے ليے بہترين چيزيں كھيل كا وہ سامان ہے جو فنى پہلو ركھتا ہو اور نامكملہوجسے بچے مكمل كريں مثلاً كسى عمارت كے مختلف حصے اور ٹكڑے ہوں _ نامكمل تصويرں _ سلائي اور كڑھائي كا سامان ، بجلى كى لائن بچھانے اور ديگر ميكانياتى كام _ اسى طرح بڑھئي اور ديگر فنون سے متعلقہ چيزں _ زراعت اور درخت لگانے ميں دركار اشياء ٹريكٹر ، اور كھيتى باڑى كى مشنيں _ دھاگا بننے اور كپڑے بننے كى مشينيں ڈرائنگ اور مصور ہى و نقاشى كى اشياء _ الگ الگ الف، ب ، اسى طرح سكھلانے اور بنانے كى چيز يں اور مجموعى طور پر كھيل كا وہ ستاسامان كو جو بچے كے كام آسكے اور وہ اسے بناتا رہے _ بگاڑے پھر بنائے اور اس طرح سے اپنے تجربے اور پہچان كو بڑھاتا رہے _ كھيل كا ايسا سامان بچے كى دماغى صلاحيت كو تقويت پہنچاتا ہے اور اسے مفيد اجتماعى كاموں كى طرف راغب كرتا ہے اور اسے تعميرى اور پيدادارى سرگرميوں كے ليے ابھارتا ہے _ نہ كہ اسے ايك تماشائي اور صارف اور خرچ كرنے والا بناديتا ہے _

اس كے بعد بچہ كو راہنمائي كى ضرورت ہوتى ہے تو ايك اچھا مربى بچوں كے كھيل كو نظر انداز نہيں كرسكتا اور اس پر نظرركھتا ہے _ كھيل كى نگرانى بذات خود ايك طرح كى تعليم و تربيت ہے _

ايك آگاہ اور ذمہ دار مربى كھيل كا مفيد سامان بچے كے سپرد كرنے كے بعد اسے آزاد چھوڑديتا ہے تا كہ وہ كھيلے اور اس ميں اپنى فكر كو استعمال كرے ليكن بالواسطہ وہ كھيل كى نگراني كرتا ہے اور جہاں ضرور ى ہو اس كى مدد كرتا ہے _

مثلاً اگر اس كے ليے كئي گاڑى يا ريل گاڑى خريدتا ہے تو اس سے پوچھ كہ كار اور ريل گاڑى كس كام آتى ہے _ بچہ سوچنے كے بعد جواب ديتا ہے مسافروں اور سامان كولے جانے كے ليے _ پھر وہ مزيد اس ميں دخالت نہيں كرتا _ بچہ خود سوچنے لگتا ہے كہ اس پر سامان اور مسافر سوار كرے اور اگر اس كام ميں كوئي كمى ہو اور كسى اور چيز كى ضرورت ہو تو وہ خود اسے مہيا كرے گا _ اگر گاڑى ميں يا كسى اور كھلونے ميں كوئي فنى خرابى پيدا ہوجائے تو نہ آپ خود اس خرابى كو دوركريں اور نہ اس كے ليے كوئي اور كھلونا خريديں _ بلكہ خودبچے كوتشويق كريں كہ وہ اس كى خرابى كو دور كرے اور مجموعى طور پر اس كمے مسائل حل كرنے ميں بلا واسطہ دخالت نہ كريں _ بلكہ اس سلسلے ميں خود بچے سے كام ليں اور اس كى راہنمائي كريں تا كہ اس ميں اپنے آپ پر اعتماد پيدا ہو اور اس كا ذوق اور ہنر ظاہر ہونے لگے اگر آپ اپنى بيٹى كے ليے گڑيا خريديں تو اسے بالكل كامل صورت ميں نہ خريديں بلكہ اس كى تكميل كرنے كے ليے خود بيٹى سے كہيں _ اگر آپ بيٹى سے پوچھيں كہ اس گڑيا كے ليے كيا چيز ضرورى ہے تو وہ سوچنے كے بعد جواب دے گى كہ اسے لباس كى ضرورت ہے _ پھر آپ اسے كپڑادے سكتے ہيں تا كہ وہ اس كے ليے لباس تياركرے _ آپ كى راہنمائي ميں وہ اپنى گڑيا كے ليے لباس تيار كرے گى _ اس پہنائے گى _ اس كے كپڑے دھوئے گى گڑيا كے ليے كھانا تيار كرے گى _ اس كا منہ دھوئے گى _ اسے نہلائے گى _ اسے سلادے گى _ پھر اسے جگائے گى پھر اسے مہمان كے طور پر لے جائے گى _ پھر اس كو بات كرنا اور ادب آداب سكھائے گى اس طرح سے بيٹى گڑيا سے كھيلے گى _ ليكن ايك سودمند مفيد اور تعميرى كھيل_

اس وقت آپ يہ ديكھيں گے آپ كى بيٹى نے جو كچھ ديكھا يا سنا ہے وہ اپنى گڑيا پر آزمائے گى بچہ ايك مقلّد ہے _ بہت سے كام اپنے ماں باپ، بھائي بہنوں اور دوسرے لوگوں كى تقليد ميں انجام ديتا ہے _ كھلونے اس وقت مفيد ہيں جب بچہ ان سے كھيلے اور كام اور ہنر سيكھے نہ يہ كہ انہيں حفاظت سے ركھے اور ان كى حركات كو كافى سمجھے اور دوسرے بچوں پر فخر كرے _ كھلونوں كے ليے ايك مخصوص جگہ ہونا چاہيے جہاں بچہ كھيل كے بعد انہيں ركھ سكے _ اس جگہ كى صفائي اور تنظيم و ترتيب بچے كے ذمّے ہونى چاہيے _

كھلونے بہت زيادہ نہيں ہونے چاہئيں كہ بچہ ان ميں الجھارہے اور يہ نہ سمجھ سكے كہ اسے كس كے ساتھ كھيلنا ہے بلكہ ضرورى مقدار پر اكتفاء كرنا چاہيے _ ضرورى نہيں كہ كھلونے بہت خوبصورت اور مہنگے ہوں _ خود بچہ كاغذ ، گتے ،ڈبّے ، ٹكٹوں و غيرہ كے ذريعے كھلونے بنا سكتا ہے يا جو كھلونے اس نے خريدے ہيں انہيں كھل كر سكتا ہے _

مجموعى طور پر كھيل كو چند قسموں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے:

1_ انفرادى كھيل كہ جس ميں بچہ خو اكيلا ہى كھيل سكتا ہے _

2_ اجتماعى كھيل كہ جو دوسروں سے مل كر كھيلا جاتا ہے

3_ فكر كھيل كہ جو فہم و امداك كو تقويت پہنچاتا ہے _

4_ ورزشى كھيل كہ جو جسم اور پٹھوں كو مضبوط كرتا ہے _

5_ حملے اور دفاع كا كھيل كہ جس ميں كھلاڑى حملہ اور دفاع كے بارے ميں سيكھتا ہے _

6_ ايك دوسرے سے تعاون كركے كھيلا جانے والا كھيل كہ جس ميں دوسروں سے تعاون كى روح كو تقويت پہنچائي جا سكتى ہے _

ابتداء ميں بچہ انفرادى كھيل كھيلتا ہے _ اس مرحلے ميں بچے كو آزاد چھوڑدينا چاہيے تا كہ وہ كھلونے سے كھيلتا رہے _ ليكن مربّى كى ذمہ دارى ہے كہ اس كے كھيل پر نظر ركھے اس كے ليے كھلونوں كا انتخاب كرے اس كى دماغى قوت كو كام ميں لائے اور اس كى سوجھ بوجھ ميں اضافہ كرے دوسرى طرف ، مربى يہ بھى ديكھے كہ بچے كا كھيل فنّى اور پيدا دارى پہلو بھى ركھتا ہوتا كہ اسے مفيد اجتماعى كاموں كا عادى بنايا جا سكے ، كبھى بچہ يہ چاہ رہا ہوتا ہے كہ اپنا كوئي كھلونا توڑبگاڑدے اور پھر اسے دوبارہ ٹھيك كرے _ اسے اس كام ميں آزادى دينا چاہيے كيوں كہ وہ تجربہ كرنا چاہتا ہے اور اس كے فنّى پہلو كو سيكھنا چاہتا ہے _ ليكن اگر اسے كوئي مشكل دور پيش آجائے تو مربّى كو چاہيے كہ اس كى راہنمائي كرے _

كچھ عرصے بعد بچہ كسى حد تك اجتماعى مزاج كا حامل ہوجاتا ہے _ اس موقع پر اسے اجتماعى اور گروہى كھيل پسند ہوتے ہيں _ جب مربّى ديكھے كہ بچہ معاشرے كى طرف متوجہ ہے اور اجتماعى كھيل كھيلنے كا آرزو مند ہے تو اسے چاہيے كہ وہ اس كى حوصلہ افزائي كرے تا كہ بچے كا يہ اجتماعى جذبہ دن بدن ترقى كرتا جائے _ اس مرحلے پر بھى مربى كے ليے ضرورى ہے كہ وہ بچے كے كھيل پر نظر ركھے اور اسے مفيد اجتماعى كھيلوں كى طرف راہنمائي كرے _ زيادہ مروّج كھليں فٹ بال ، والى بال اور باسكٹ با ل ہيں _(6) اكثر بچے اسكول ميں اور اسكول سے باہر اپنے فارغ اوقات انہى كھيلوں ميں گزارتے ہيں _ يہ كھيليں اگر بچہ پٹھوں كى ورزش اور مضبوطى كے ليے سودمند ہيں ليكن يہ امر باعث افسوس ہے كہ ان كھيلوں ميں ايك بہت بڑا نقص بھى ہے وہ يہ كہ حملہ آور ہونے كى كھيليں ہيں اور ايسى كھيليں بچے ميں جنگجوئي اور تشدد پسندى كا مزاج پيدا كرديتى ہيں _ ان كھيلوں ميں حصّہ لينے والے بچوں كى پورى توجہ اس جانب مبذول ہوتى ہے كہ اپنے ساتھيوں يعنى دوسرے انسانوں پر كس طرح برترى حاصل كى جائے اور انہيں كيسے مغلوب اور شكست خورد كيا جائے اور يہ انسان كے ليے ايك برى صفت ہے _ ان كھيلوں ميں اگر چہ تعاون بھى ہوتا ہے ليكن يہ تعاون بھى دوسرے انسانوں پر غلبہ حاصل كرنے كى نيت سے ہوتا ہے _ ان كھيلوں سے بھى بدتر كشتى اور باكسنگ ہے _ جو كہ ابتدائي انسان كے وحشى پن كى ايك كامل يادگار ہے _ كالش اس طرح كے كھيل بالكل رائج نہ ہوتے اور ان كى جگہ ايسے كھيل مرسوم ہوتے جن ميں اجتماعى تعاون كى روح كارفرما ہوتى اور بچوں ميں انسان دوستى كے جذبے كوتقويت ملتى اور وہ فائدہ مند پيداوارى سرگرميوں كى طرف متوجہ ہوتے _ رسل اس ضمن ميں تحريركرتے ہيں:

آج كى انسانيت پہلے كى نسبت بہت زيادہ فكرى پرورش اور باہمى تعاون كى محتاج ہے كہ جس كا سب سے بڑا دشمن مادہ پرستى ہے _

انسان رقابت آميز اعمال اور مزاحمت و حسد كا محتاج نہيں ہے كيونكہ يہ تو وہ چيزيں ہيں كہ جو كبھى انسان پر غالب آجاتى ہيں اور كبھى وہ ان پر غالب آجاتا ہے _ (7)

باعث افسوس ہے كہ سرپرست حضرات نہ فقط يہ كہ اس امر كے بارے ميں نہيں سوچتے بلكہ دانستہ يا نا دانستہ ايسے كھيلوں كى بہت زيادہ ترويج كررہے ہيں اور بچوں اور نوجوانوں كو حدّ سے زيادہ ان ميں مصروف كررہے ہيں _ اے كاش اسكولوں اور كالجوں كے سمجھدار اور ذمہ سرپرست اس بارے ميں كوئي چارہ كار سوچتے اور ہمدرد ماہرين كے ذريعے فائدہ مند اجتماعى كھيلوں كو رواج ديتے جو ايسے مذكورہ كھيلوں كى جگہ لے سكتے _

اس سلسلہ بحث كے آخر پر اس نكتے كا ذكر بھى پر اس نكتے كا ذكر كر بھى ضرورى ہے كہ بچھ كو اگر چہ كھيل كى ضرورت ہے اور يہ اس كے ليے ضرورى ہے ليكن كھيل كے اوقات محدود ہونے چاہئيں _ ايك سمجھدار اور با شعور مرّبى بچے كے كھيل كے اوقات اس طرح سے مرتب كرتا ہے كہ بچہ خود بخود اجتماعى اور سودمندپيدا وارى سرگرميوں كى طرف مائل ہو جاتا ہے _ يوں زندگى كے دوسے مرحلے ميں كھيل كو چھوڑ كرحقيقى اور سودمند كام انجام دينے لگتا ہے _ ايسا مربى اس امر كى اجازت نہيں ديتا كہ بچے كا مزاج ہى كھيل كودكا بن جائے اور اس كا كمال يہى كھيل كود بن جائے او ر وہ اس بات پر فخر كرنے لگے كہ ميںبہترين كھلاڑى ہوں _

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا :

جو كھيل كارہيا ہو گا كامياب نہ ہو سكے گا _ (8)

رسل اس كے متعلق لكھتا ہے

يہ نظريہ كہ كسى انسان كى شخصيّت كا معيار كھيل ميں اس كا سابقہ ہے ، ہمارے سماجى عجزو تنزل كى علامت ہے كہ ہم يہ بات نہيں سنجھ سكے كہ ايك جديد اور پيچيدہ دنيا ميں رہنے كے ليے معرفت اور تفكر كى ضرورت ہے (9)

اجتماعى كھيلوں كى ايك مشكل يہ ہے كہ ان سے بچوں ميں كدورت اور لڑائي جھگڑا پيدا ہو جاتا ہے _ اكٹھے كھينے والے بچے كبھى ايك دوسرے سے لڑتے جھگڑتے بھى ہيں _

ايسے موقع پر سرپرست حضرات كى ذمہ دارى ہے كہ فورا دخالت كريں اور ان ميں صلح و محبت پيدا كركے انہيں كھيل ميں مشغول كرديں يہ كام اتنا مشكل بھى نہيں ہے كيونكہ ابھى تك عناد اور دشمنى بچوں كے دل ميں جڑ پيدا نہيں كرچكى ہوتى _ اس ليے وہ بہت جلد ايك دوسرے سے پھر گھل مل جاتے ہيں _

بد قسمتى سے بعض اوقات بچوں كا جھگڑا بڑوں ميں سرايت كرجاتا ہے اور وہ كہ جو عقل مند ہيں ايك دوسرے كے مقابل كھڑ ے ہو جاتے ہيں _ پھرماں باپ بغير تحقيق كے اور كى بات سمجھے بغيراپنے بچے كا دفاع شروع كرديتے ہيں اور يہ امر كبھى لڑائي جھگڑا مار پيٹ يہاں تك كہ كبھى تھا نے تك جاپہنچتا ہے _ جب كہ ايسا كرنے سے بچوں كى غلط تربيت ہوتى ہے اور يہ بچے پر بہت بڑا ظلم ہے جو بچے ايسے واقعے كو ديكھتا ہے سو چتا ہے كہ جق و حقيقت كى كوئي اہميّت نہ8يں اور كسى كو حق سے سرو كاو نہيں اور ہر ماں باپ تعصب كى بنا پر اپنے بچے كا دفاع كررہے ہيں _ اس طرح كا بچہ بے جا تعصب اور حق كشى كا عملى سبق اپنے ماں باپ سے ليتا ہے اور كل كے معاشر ے ميں اس سے كام ليتا ہے

 


1_ وسائل ج 15 ص 193
2_ مجمع الزوائد ج 8 ص 159
3 _ روانشناسى كودك تاليف دكتر جلالى ص 331
4_ روان شناسى تجربى كودك ص 130
5_ روان شناسى كودك از ڈاكٹر جلالى ص 332
6_ ايران ميں يہى كھيل زيادہ رائج ہيں (مترجم)
7_ در تربيت ص 121
8_ غر الحكم ، ص 854
9_ در تربيت ص 122