ادب

ادب

ہر ماں باپ كى يہ حتمى خواہش ہوتى ہے كہ ان كے بچے مہذب ہوں، اچھے اور باادب بچے ہر ماں باپ كى سربلندى كا ذريعہ ہوتے ہيں اور وہ ان پر فخر كرتے ہيں _ جو بچے دوسروں سے ملاقات كے موقع پر سلام كرتے ہيں اور جدا ہونے پر خداحافظ كرتے ہيں _ مصافحہ كرتے ہيں _ حال پوچھتے ہيں ،پيار سے انداز سے بات كرتے ہيں، بزرگوں كا احترام كرتے ہيں ، ان كے آنے پر احتراماً كھڑے ہوجاتے ہيں _ صاحبان علم ، باتقوى اور نيك افراد كا احترام كرتے ہيں _ محفل ميں مؤدب رہتے ہيں شور نہيں كرتے اور اگر كوئي كچھ دے تو اس كا شكريہ ادا كرتے ہيں _ كسى كو گالى نہيں ديتے ، دوسروں كو تكليف نہيں پہنچاتے ، دوسروں كى بات نہيں كاٹتے، كھانے كے آداب ملحوظ ركھتے ہيں _ بسم اللہ كہتے ہيں _ چھوتے نوالے ليتے ہيں ، آہستہ آہستہ چباتے ہيں، اپنے سامنے سے كھاتے ہيں ، زيادہ نہيں كھاتے ، كھانا زمين پر نہيں پھينكتے ، اپنے ہاتھوں اور لباس كو خراب نہيں كرتے ، صاف ستھرے اور پاكيزہ رہتے ہيں _ كسى كى توہين نہيں كرتے _ دوسروں كا لحاظ كرتے ہيں اور صحيح طريقے سے بيٹھتے اور اٹھتے ہيں، صحيح انداز سے چلتے ہيں _ اطاعت شعار اور فرمان بردار ہوتے ہيں _ كسى كا تمسخر نہيں اڑاتے _ اور دوسروں كى بات كان لگاكر سنتے ہيں ايسے بچے باادب ہوتے ہيں _

نہ صرف والدين بلكہ سب لوگ با ادب بچوں سے پيار كرتے ہيں اور گستاخ اور بے ادب بچوں سے نفرت_

 

امير المؤمين على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''ادب انسان كا كما ل ہے'' _(1)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''ادب انسان كے ليے خوبصورت لباس كے مانند ہے '' _(2)

حضرت علي عليه السلام فرماتے ہيں :

''لوگوں كو اچھے آداب كى سونے اور چاندى سے زيادہ ضرورت ہے '' _(3)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''ادب سے بڑھ كے كوئي زينت نہيں '' _(4)

امير المومنين على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''باپ كى بہترين وراثت اپنے بچے كے ليے يہ ہے كہ اسے اچھے آداب كى تربيت دے '' _(5)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''بے ادب شخص ميں برائياں زيادہ ہوں گي'' _(6)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

''سات سال تك اپنے بچے كو كھيلنے كى اجازت دو اور سات سال سے آدا ب زندگى سكھاؤ'' _(7)

رسول اكر م صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں:

''بچے كے والدين پر تين حق ہيں ،

1_ اس كے ليے اچھا نام منتخب كريں

2_ اسے با ادب بنائيں اور

3_ اس كے ليے اچھا شريك حيات انتخاب كريں '' _(8)

ہر ماں باپ كى انتہائي آرزو يہ ہوتى ہے كہ ان كى اولادبا ادب ہو ليكن يہ آرزو خود بخود اور بغير كوشش كے پورى نہيں ہو سكتى اور نہ ہى زيادہ و عظ و نصيحت سے بچوں كو مؤدب بنايا جا سكتا ہے _ اس مقصد تك پہنچنے كے ليے بہترين راستہ ان كے ليے اچھا نمونہ عمل مہيا كرنا ہے _ ماں باپ كو خود مؤدب ہونا چاہيے _ تا كہ وہ اپنى اولاد كو عملى سبق دے سكيں _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''بہترين ادب يہ ہے كہ اپنے آپ سے آغاز كرو'' (9)

امير المومنين حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''اپنے كردار كو مؤدب بنائيں پھر دوسروں كو وعظ و نصيحت كريں'' _(10)

بچہ تو نرا مقلّد ہوتا ہے تقليد كى فطرت اس كے اندر بہت اہم اور طاقتور ہوتى ہے _ بچہ ماں باپ اور دوسرے لوگوں كے گفتار و كردار كى پيروى كرتا ہے _ يہ صحيح ہے كہ تلقين بھى تربيتى عوامل ميں سے ايك ہے _ ليكن تقليد انسانى جبلّت ميں زيادہ قوى اور طاقت ور ہوتى ہے خصوصاً بچپن ميں جن ماں باپ كى خواہش ہے كہ ان كے بچے مؤدب ہوں انہيں چاہيے كہ پہلے اپنے طرز عمل كى اصلاح كريں وہ با ادب ماں باپ بنيں _ انہيں چاہيے كہ

ايك دوسرے سے ، اپنے بچوں سے اور تمام لوگوں سے مؤدبانہ طرز عمل اختيار كريں _ اور آداب زندگى كى پابندى كريں تا كہ بچے ان سے سبق حاصل كريں ان سے درس حيات حاصل كريں _ اگر ماں باپ آپس ميں ايك دوسرے سے بااب ہوں ، گھر ميں آداب واقدار كو ملحوظ ركھتے ہوں بچوں سے بھى با ادب رہتے ہوں لوگوں سے مؤدبانہ طريقہ سے ميل ملاقات كرتے ہوں ايسے گھر كے بچے فطرى طور پر مؤدب ہوں گے _ وہ ماں باپ كا طرز عمل ديكھيں گے اور اسے اپنے ليے نمونہ عمل بنائيں گے اور اس كے ليے ان كو وعظ و نصيحت كى ضرورت نہيں ہوگى _

جو ماں باپ خود آداب كو محلوظ نہيں ركھتے _ انہيں بچوں سے بھى ادب كى توقع نہيں كرنى چاہيے اگر چہ سينكڑوں مرتبہ انہيں نصيحت كريں _ جو ماں باپ ايك دوسرے كے ساتھ بدتميزى سے پيش آتے ہيں اور خود اپنے بچوں كے ساتھ غير مودبانہ سلوك كرتے ہيں وہ كيسے توقع كرسكتے ہيں كہ ان كے بچے با ادب ہوں _

ايسے گھر كے بچے زيادہ تر ماں باپ كى طرح يا ان سے بھى زيادہ بے ادب ہوں گے اور انہيں اچھى تلقين اور وعظ و نصيحت كا كوئي فائدہ نہيں ہوگا _ بچے بھى سوچتے ہيں كہ اگر ماں باپ كى بات صحيح ہوتى تو وہ خود عمل نہ كرتے لہذا يہ ہميں دھوكا دے رہے ہيں _

البتہ تلقيں بالكل بے اثر نہيں ہوتى ليكن اس كا پورا اثر اس وقت ہوتا ہے كہ جب بچے اس كا نمونہ عمل ديكھيں _ با ادب ماں باپ بچوں كو اچھے آداب كى نصيحت بھى كر سكتے ہيں _ ليكن اچھے انداز سے _ ادب كو ملحوظ ركھتے ہوئے ، تندى ، بدتميزى اور بے ادبى سے نہيں _ بعض ماں باپ كى عادت ہوتى ہے كہ جب وہ بچوں كا كوئي خلاف ادب كام ديكھتے ہيں تو دوسروں كى موجودگى ميں ڈانٹ ڈپٹ كرتے ہيں اور برا بھلا كہتے ہيں _ مثلاً كہتے ہيں اوبے ادب تو نے سلام كيوں نہيں كيا خداحافظ كيوں نہيں كيا ؟ گونگے ہو احمق اور بے شعو ربچے تو نے دوسروں كے سامنے پاؤں كيوں پھيلائے ؟ كسى كے ہاں آكر شور كيوں مچا رہے ہو حيوان كہيں كے دوسروں كى باتوں ميں بولتے كيوں ہوں _

يہ نادان ماں باپ اپنے تئيں اس طرح سے اپنے بچوں كى تربيت كررہے ہوتے ہيں جب كہ بے ادبى سے ادب نہيں سكھايا جا سكتا_ اگر بچے سے كوئي بے ادبى سرزد ہوجائے تو اسے نصيحت كرنى چاہيے _ ليكن بے ادبى سے نہيں _ نہ دوسروں كے سامنے بلكہ تنہائي ميں اور بھلے انداز سے _

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ بچوں كو سلام كرتے تھے اور فرماتے تھے

''ميں بچوں كو سلام كرتا ہوں كہ سلام كرنا ان كا معمول بن جائے '' _

 


1_ غرر الحكم ، ص34
2_ غرر الحكم ، ص 21
3_ غرر الحكم ، ص 242
4_ غرر الحكم ، ص 830
5_ غرر الحكم ، ص 393
6_ غرر الحكم ، ص 634
7_ بحار، ج 104، ص 95
8_ وسائل ، ج 15 ص 123
9_ غرر الحكم ، ص 191
10_ نہج البلاغہ ، ج 3 ، ص 166