صحت و صفائي

صحت و صفائي

بچے كا لباس سال كے مختلف موسموں اور آب دہوا كے اعتبار سے ايسا تياركنا چاہيے كہ نہ اسے ٹھنڈے مگے اور نہ ہى گرمى كى شدت سے اس كا پسنہ بہتا رہے اور اسے تكليف محسوس ہو _ نرم اور سادہ سوتى كپڑے بچے كى صحت اور آرام كے ليے بہتر ہيں _ تنگ اور چپكے ہوئے لباس بچے كى آزادى كو سلب كرليتے ہيں اور ايسا ہونا اچھا نہيں ہے _ ان كو تبديل كرتے وقت بھى ماں اور بچے دونوں كو زحمت ہوتى ہے _ اكثر لوگوں ميں رواج ہے كہ بچے كو سخت كپڑوں ميں پيك كرديتے ہيں اور اس كے ہاتھ پاؤں مضبوطى سے باندھ ديتے ہيں _ ظاہراً ايسا كرنا اچھا نہيں ہے اور بچے كے جسم اور روح كے ليے ضرر رساں ہے _ اس غير انسانى عمل سے اس ننھى سى كمزور جان كى آزادى سلب كرلى جاتى ہے _ اسے اجازت نہيں دى جاتى كہ وہ آزادى سے اپنے ہاتھ پاؤں مارے اور حركت دے سكے اس طرح سے اس كى فطرى نشو و نمااور حركت ميں ركاوٹ پيدا ہوتى ہے _

ايك مغربى مصنف لكھتا ہے :

جو نہى بچہ كے پيٹ سے نكلتا ہے اور آزادى سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے اور اپنے ہاتھ پاؤں كو حركت ديتا ہے تو فوراً اس كے ہاتھ پاؤں كو ايك نئي قيد و بند ميں جكڑديا جاتا ہے _ پہلے تو اسے پيك كرديتے ہيں _ اس كے ہاتھ پاؤں كو دراز كركے زمين پر سلاديتے ہيں اور پھر اس كے جسم پر اتنے كپڑے اور لباس چڑھاتے ہيں اور كمربند باندھتے ہيں كہ وہ حركت تك نہيں كر سكتا ... اس طرح سے بچے كى داخلى نشو و نما كہ جو وقت كے ساتھ ساتھ زيادہ ہوتى ہے اس خارجى ركاوٹ كى وجہ سے رك جاتى ہے كيونكہ بچہ نشو و نما اور پرورش كے ليے اپنے بدن كے اعضاء كو اچھى طرح سے حركت نہيں دے پاتا ... جن ممالك ميں اس طرح كى وحشيانہ ديكھ بھال كا معمول نہين ہے اس علاقے كے لوگ طاقت درياقوى ، بلند قامت اور متناسب اعضا ء كے حال ہوتے ہيں _ اس كے برعكس جن علاقوں ميں بچوں كو كس باندھ ديا جاتا ہے وہاں پر بہت سے لوگ لولے لنگڑے ، ٹيڑے ميڑھے، پست قامت اور عجيب و غريب ہوتے ہيں ... كيا آپ سمجھتے ہيں كہ اس طرح كى پرورش اور ايسے وحشيانہ عمل اس كے اخلاق اور مزاج كى كيفيّت پر نامطلوب اثر نہيں ڈاليں گے _ سب سے پہلا احساس اس ميں درد اور قيد و بند كا ہوتا ہے كيونكہ وہ ذرا بھى حركت كرنا چاہتا ہے تو اسے ركاوٹ كے علاوہ كچھ نظر نہيں آتا اس كى حالت تو اس قيدى سے بھى برى ہوتى ہے جو قيد بامشقت بھگت رہا ہوتا ہے _ ايسے بچے ايسے ہى كوشش كرتے رہتے ہيں ، پھر انہيں غصہ آتا ہے _ پھر چيختے چلاتے ہيں ... اگر آپ كے بھى ہاتھ پاؤں باندھ ديے جائيں تو آپ اس بھى زيادہ او ربلند تر چيخيں چلائيں _

بچہ بھى ايك انسان ہے اس ميں بھى احساس اور شعور ہے وہ بھى آزادى اورراحت كا طلب گار ہے _ اسے بھى اگر كس باندھ ديا جائے اور اس كى آزادى سلب كرلى جائے تو اسے تكليف ہوتى ہے _ ليكن وہ اپنا دفاع نہيں كرسكتا اس كا ايك ہى ردعمل ہے گريہ و زارى اور دادو فرياد اور اس كے سوا اس كا كوئي چارہ ہى نہيں _ يہ دباؤ، بے آرامى اور تكليف تدريجاً بچے كے اعصاب اور ذہن پر اثرانداز ہوتى ہے اور اسے ايك تند مزاج اور چڑچڑآ شخص بناديتى ہے بچے كے لباس كو صاف ستھرا اور پاكيزہ ركھيں جب بھى وہ پيشاب كرے تو اس كا لباس تبديل كريں

 

اس كے پاؤں كو دھوئيں اور زيتون كے تيل سے اس كى مالش كريں تا كہ وہ خشكى اور سوزن كا شكار نہ ہو _ چند مرتبہ پيشاب كے بعد بچے كو نہلائيں اور اسے پاك كريں اس طرح بچے كى صحت و سلامتى ميں آپ اس كى مدد كرسكتے ہيں اور اسے بچپنے كى كئي بيماريوں سے بچا سكتے ہيں _ علاوہ ازيں بچہ نفيس و پاكيزہ ہوگا ، آنكھوں كو بھلا لگے گا اور سب اس سے پيار كريں گے _

پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا:

''اسلام دين پاكيزگى ہے _ آپ بھى پاكيزہ رہيں كيونكہ فقط پاكيزہ لوگ بہشت ميں داخل ہوں گے '' _(1)

پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا:

''بچوں كو چلنا ہٹ اور ميل كچيل سے پاك كريں كيونكہ شيطان انہيں سونگھتا ہے پھر بچہ خواب ميں دڑتا ہے اور بے چين ہوتا ہے اور فرشتہ ناراحت ہوتے ہيں '' _(2)

بيٹوں كا ختنہ كرنا ايك اسلامى رواج ہے اور واجب ہے _ختنہ بچے كى صحت و سلامتى كے ليے بھى مفيد ہے ختنہ كركے بچے كو ميل كچيل اور آلہ تناسل اور اضافى گوشت كے درميان پيدا ہونے والے موذى جراثيم سے بچايا جا سكتا ہے _ ختنے كو زمانہ بلوغ تك مؤخر كيا جا سكتا ہے ليكن بہتر ہے كہ پيدائشے كے پہلے پہلے دنوں ميں ہى يہ انجام پاجائے _ اسلام حكم ديتا ہے كہ ساتويں دن نو مولود كا ختنہ كرديا جائے _

حضرت صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

''اختنوا اولادكم لسبعة ايّام، فانہ اطہر و اسرع لنبات اللحم ، و ان الارض لتكرہ بول الاغلف''

''ساتويں دن اپنے بچوں كا ختنہ كريں _ يہ ان كے ليے بہتر بھى ہے اور پاكيزہ تر بھى نيز ان كى سريع تر نشو و نما اور پرورش كے ليے بھى مفيد ہے اور يقينا زمين اس انسان كے پيشاب سے كراہت كرتى ہے كہ جس كا ختنہ نہ ہوا ہو '' _(3)

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں:

''اختنوا اولاد كم يوم السابع فانہ اطہر و اسرع لنبات اللحم''

''نو مولد كا ساتويں دن ختنہ كريں تا كہ وہ پاك ہوجائے اور بہتر رشد و نمو كرے '' _(4)

عقيدہ كرنا بھى مستحبات مؤكد ميں سے ہے _ اسلام نے اس امر پر زور ديا ہے كہ ساتويںدن بچے كے بال كٹوائے جائيں اور اس كے بالوں كے وزن كے برابر سونے يا چاندى صدقہ ديا جائے اور اسى روز عقيقہ كے طور پر دنبہ ذبح كيا جائے اور اس كا گوشت فقرا ميں تقسيم كيا جائے _ يا انہيں دعوت كركے كھلاياجائے _ عقيقہ كرنا ايك اچھا صدقہ ہے اور بچہ كى جان كى سلامتى اور دفع بلا كے لئے مفيد ہے _

نو مولود نہايت نازك او ر ناتوان ہوتا ہے _ اسے ماں باپ كى توجہ اور نگرانى كى بہت احتياج ہوتى ہے _ صحت و سلامتى يا رنج و بيمارى كى بچپن ميں ہى انسان ميں بنياد پڑجاتى ہے اور اس كى ذمہ دارى ماں باپ پر عائد ہوتى ہے جو ماں باپ اس كے وجود ميں آنے كا باعث بنے ہيں ان كا فريضہ ہے كہ اس كى حفاظت اور نگہداشت كے ليے كا وش كريں اور ايك سالم اور تندرست انسان پروان چڑھائيں _ اگرماں باپ كى سہل انگارى اور غفلت كى وجہ سے بچے كے جسم و روح كو كوئي نقصان پہنچا تو وہ مسئول ہيں اور ان سے مؤاخذہ كيا جائے گا _ بچہ دسيوں بيماريوں ميں گھر اہوتا ہے ، جن ميں سے بہت سى بيماريوں كو لاحق ہونے سے روكا جا سكتا ہے مثلاً بچوں كا فالج ، جسم پر چھالوں كا پيدا ہونا ، خسرہ چيچك ، خناق، تشنج اور كالى كھانسى و غيرہ جيسى بيماريوں سے متعلقہ ٹيكے لگواكر (ديكسنيشن كے ذريعے ) بچے جا سكتا ہے خوش قسمتى سے شفا خانوں اور طبى مراكز ميں اس قسم كى بيماريوں كى روك تھام كا انتظام موجود ہے _ اور رجوع كرنے والوں كو اس مقصد كے ليے مفت ٹيكہ لگايا جاتا ہے _ ماں باپ كے پاس اس بارے ميں كوئي عذر موجود نہيں ہے _ اگر وہ كوتاہى كريں اور ان كا عزيز بچہ فالج زدہ ہوجائے اور مختلف بيماريوں ميں مبتلا ہوجائے يا آخر عمر تك ناقص اور بيماررہ جائے تو وہ خدا اور اپنے ضمير كے سامنے جواب دہ ہوں گے _ بہر حال ماں باپ كى ذمہ دارى ہے كہ اپنى اولاد كى صحت و سلامتى كى حفاظت كے ليے كوشش كريں اور توانا اور صحيح و سالم انسان پروان چڑھائيں_

 


1_ مجمع الزوائد ج 5 ص 132
2_ بحار الانوار ج 104 ص 95
3_ وسائل الشيعہ ج 15ص 161
4_ وسائل الشيعہ ج 15 ص 165