صاف ستھرى فضا

صاف ستھرى فضا

رحم مادر ميں نشو و نماپانے والا بچہ آكسيجن كا احتياج مند ہوتا ہے _ البتہ جنين خود سانس نہيں ليتا اور بلا واسطہ ، كھلى ہواسے استفادہ نہيں كرتا بلكہ اس آكسيجن سے استفادہ كرتا ہے كہ جو ماں كے تنفس كے ذريعے سے مہيا ہوتى ہے _ ماں نہ صرف اپنے بدن كى ضرورت كے مطابق آكسيجن فراہم كرتى ہے بلكہ جنين كى ضرورت كو بھى پورا كرتى ہے _ اگر ماں صاف ستھرى اور اچھى ہوا ميں سانس لے گى تو اپنى سلامتى كى بھى حفاظت كرے گى اور بچے كى بھى سلامتى اور پرورش كے ليے مددگار ثابت ہوگى _ ليكن اگر وہ گندى اور زہريلى ہوا ميں سانس لے گى تو اپنى اور بچے دونوں كى صحت كو نقصان پہنچائے گى _ لہذا حاملہ خواتين كو نصيحت كى جاتى ہے كہ وہ كوشش كريں كہ صاف ستھرى ہوا ہے استفادہ كريں _ صاف فضا ميں چليں اور گہرا سانس ليں _ اسى طرح تھكادينے والى شب بيدارى سے بھى سختى سے اجتناب كريں _

انہيں يہ بھى چاہے كہ تمباكونوشى سے بچيں _ اور مسموم فضا ميں سانس لينے سے اجتناب كريں _ سوتے ہوئے كمرے كى كھڑكى كھلى ركھيں تا كہ تازہ ہوا داخل ہوسكے كيونكہ آكسيجن كى كمى ممكن ہے بچے پر ناقابل تلافى اثر ڈالے _

ڈاكٹر جلالى كا وہ پيراہم پھر آپ كى توجہ كے ليے نقل كرتے ہيں جو قبل ازيں آپ كى نظروں سے كبھى گزرچكا ہے _

جسم كے بہت سے نقائص مثلاً ہونٹوں كى خرابى ، پاؤں كے تلوے كا سيدھا ہونا يہاں تك كہ آنكھوں كا بہت چھوٹا ہونا كہ جنہيں پہلے موروثى سمجھاجاتا ہے آج كل ، ماحول بالخصوص دوران حمل آكسيجن كى كمى جيسے عوامل كا نتيجہ سمجھاجاتا ہے _(1)


1_ روان شناسى كودك ص 190