محبّت

محبّت

انسان محبت كا پيا سا ہے محبّت دلوں كو زندگى بخشتى ہے _ جو اپنے آپ كو پسند كرتا ہے اور چاہتا ہے كہ دوسرے اس سے محبت كريں ، محبوبيت كا يہ احساس اس كے دل كو شاد كرديتا ہے _ جسے يہ معلوم ہو كہ اسے كوئي بھى پسند نہيں كرتا وہ اس پر آشوب زندگى ميں اپنے آپ كو تنہا اور بے كس سمجھتا ہے _ اس وجہ سے وہ ہميشہ افسردہ اور پر مدہ رہتا ہے_ بچہ بھى ايك چھوٹا سا انسان ہے اور اسے بڑوں كى نسبت محبت كى بھى ضرورت ہوتى ہے _ بچہ يہ نہيں سمجھتا كہ محل ميں زندگى گزار رہا ہے يا جھونپٹرى ميں _ البتہ يہ خوب سمجھتا ہے كہ دوسرے اس سے محبت كرتے ہيں يا نہيں _ اس احساس محبت سے وہ آرام و سكون كے ساتھ اپنى نشوو نما كے راستے پر گامزن ہو سكتا ہے اور انسانيت كى بلند صفات حاصل كرسكتا ہے _ اچھے اخلاق كا سرچشمہ محبت ہے _ محبّت كے پر توميں بچے كے جذبات اور احساسات كو اچھے طريقے سے پروان چڑ ھا يا جا سكتا ہے اور اسے ايك اچھا انسان بنا يا جاسكتا ہے

جس بچے كو بھر پور محبت ملى ہو اس كى روح شاد اور دل پر نشاط ہو تا ہے _ وہ احساس محرومى كا شكار ہو كر بڑاردّ عمل ظاہر نہيں كرتا _ خوش بين ، خوش مزاج اور پر اعتماد ہو تا ہے _ اس فطرى نشوونما كى وجہ سے وہ نفسياتى مشكلات كا شكار نہيں ہو تا _ خير خواہ اور انسان دوست بن جاتا ہے _ كيونكہ وہ محبت كے ميٹھے چشمے سے سيراب ہو ا ہوتا ہے لہذا چاہتا ہے كہ دوسروں كوبھى اس سے سيراب كرے _ وہ لوگوں سے ايسا سلوك كرتا ہے جيسااس سے كيا جاتا ہے _ جو بچہ پيار محبت كے ماحول ميں پرورش پاتا ہے وہ دوران بلوغت پيش آنے والى مشكلات اور جسمانى و نفسياتى تبديليوں كا بہتر طور پر مقابلہ كرسكتا ہے _

جس لڑكى كو ماں باپ سے محبت ملى ہوا ور اس كا گھريلو حول محبت سے معمور ہو وہ جوانى ميں بے كسى اور محرومى كا احساس نہيں كرتى _ وہ كسى خود غرض لڑكے كے چند محبت آميز جملے سن كر اپنے تئيں اس كے سپرد كركے اپنا مستقبل تباہ نہيں كرديتى _ جس نوجوان نے پيار اور محبت كے ماحول ميں پرورش پائي ہو وہ احساس محرومى كا شكار نہيں ہوتا كہ اسے برائيوں ، منشيات اور شراب كے مراكز پناہ كى ضرورت پڑے _

نفسياتى نكتہ نظر سے بھى يہ بات ثابت ہے كہ وہ بچے جنہيں خوب محبت ملى ہو ان بچوں كے مقابلے ميں زيادہ ہوشمند اور صحيح و سالم ہوتے ہيں جو پرورش گاہوں ميں پلے ہوں _ اگر چہ پرورش گاہوں ميں پلنے والے بچے غذا اور حفظان صحت كے اعتبار سے اچھے ہوں _

مگر جس نے جذبات سے عارى سرد ماحول ميں پرورش پائي ہو اور ماں باپ كى مہر و محبت نہ ديكھى ہو اس شخص كى كيفيت اطمينان بخش اور فطرى نہيں ہوگى _ جس شخص نے محبت كا ذائقہ نہ چكھا ہو وہ اسے دوسروں پر كيسے نثار كرسكتاہے _ ايسے محروم انسان سے انسان دوستى كى توقع نہيں كى جا سكتى _

جو بچہ ماں باپ كى محبت سے محروم رہا ہو يا صحيح طريقے سے اس سے بہرہ مند نہ ہوا ہو وہ اپنے اندر احساس محرومى و كمترى كرتا ہے اور اس ميں ہر طرح كے انحراف كى گنجائشے ہوتى ہے ، تندخوئي ، غصّہ، ڈھٹائي ، بدبينى ، جھوٹ ، حساسيت ، نااميدي، افسردگى ، گوشہ نشيني، نام آہنگى كى زيادہ تر وجہ محبت سے محروى ہوتى ہے _

جو محبت سے محروم رہا ہو ، ہوسكتا ہے ، وہ چورى اور قتل ميں ملوث ہوجائے تا كہ وہ اس معاشرے سے انتقام لے جو اسے پسند نہيں كرتا يہاں تك ممكن ہے وہ خودكشى كرلے تا كہ وہ وحشت اور تنہائي سے نجات حاصل كرے _ بہت سے چور اور مجروم ايسى ہى محروميت كا شكار اور دلگرفتہ ہوتے ہيں _ آپ اخبارات اور رسائل كو ديكھ سكتے ہيں اور ايسے لوگوں كا حال پڑھ سكتے ہيں اور اس سے عبرت حاصل كرسكتے ہيں _

انجمن ملى حمايت بچگان كے شعبہ نفسيات كے سربراہ ڈاكٹر حسن احدى نے پانچ سو مجرموں پر ايك تحقيق كى ہے _ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ ايسے افراد نے پہلا جرم 12 سے 13 سال كى عمر كے دوران كيا ہے اور اس كى وجہ خاندان ميں محبت كى كمى سے مربوط ہے ...

انجمن ملى حمايت بچگان كے نفسياتى ديكھ بھال كے شعبے كے سربراہ اور معروف ماہر نفسيات و عمرانيات كہتے ہيں :

''بہت سارے نفسياتى مسائل كو بنياد بچپن ميں پڑى ہوتى ہے _ يہاں تك كہ سمجھدار ترين بچے كو جو مسئلہ پريشان كرتا ہے وہ اس كے جذبات كى تسكين كا معاملہ ہے '' _(1)

... اپنے خط ميں لكھتا ہے :

ايك چھوتے سے قصبے ميں، ايك غريب سے گھرانے ميں ميں نے آنكھ كھولى _ ميرے ماں باپ كے ليے ميرى اور ميرى دو بہنوں كى پرورش مشكل تھى _ ميرى دادى مجھے اپنے گھرلے گئي _ ان كى حالت ہم سے بہتر تھى _ وہ مجھ سے بہت محبت كرتى تھى _ ميرے ليے اچھے اچھے كپڑے اور ديگر ضرورى چيزيں مہيا كرتى تھى _ ليكن يہ رنگارنگ دنيا ميرى اس تشنگى كو دور نہ كرسكى جو ماں باپ سے دورى كى وجہ سے محسوس ہوتى تھے مجھے يوں لگتا جيسے مجھ سے كچھ كھو گيا ہو _ كبھى كبھى دوسروں كى نظروں سے اوجھل ميں پہروں روتا رہتا _ ميں تيسرى جماعت ميں پڑھتا تھا _ ايك مرتبہ ميرا باپ مجھے ملنے آيا _ اس نے مجھے اپنے گھر جانے كے ليے كہا _ ميں خوش ہوكر چلنے كو تيار ہوگيا _ مجھے يوں لگا جيسے ميرا سالہا سال كا غم پل بھر ميں ختم ہوگيا ہے _ ميں ہر ماں باپ كو يہ نصيحت كرتا ہوں كہ حالات كچھ بھى ہوں اپنے بچوں كو اپنے آپ سے جدا نہ كريں _ انہيں اس امر كى طرف متوجہ رہنا چاہيے كہ ماں باپ سے دورى اور ان كى محبت سے محرومى بچوں كے ليے نہايت سنگين اور تكليف وہ ہے اس كى جگہ كوئي چيز بھى پر نہيں كرسكتى _

... اپنے ايك خط ميں لكھتا ہے _

ميں ماں باپ كے پيار سے محروم تھا _ اس ليے ميں ايك دل گرفتہ اور حاسد انسان ہوں _ ڈرپوك بھى ہوں اور غصيلا بھى _ بچپن ميں ميں اسكول سے بھاگ جايا كرتا تھا _ چھٹى جماعت مشكل سے پڑھ پايا ہوں _

دين مقدس اسلام كہ جس كى تربيتى مسائل كى جانب پورى توجہ ہے ، اس نے محبت كے بارے ميں بہت تاكيد كى ہے _ قرآن او رحديث ميں اس ضمن ميں بہت كچھ موجود ہے _ نمونے كے طور پر چند مثاليں پيش خدمت ہيں :

امام صادق عليہ السلام نے فرمايا:

انسان كو اپنى اولاد سے جو شديد محبت ہوتى ہے اس كے باعث اللہ اپنے اس بندے كو مشمول رحمت قرار دے گا _ (2)

خداوند تعالي نے حضرت موسي عليه السلام ہے فرمايا :

بچوں سے محبت بہترين عمل ہے كيونكہ ان كى خلقت كى بنياد خداپرستى اور توحيد ہے _ اگر وہ بچپن ميں ہى مرجائيں تو بہشت ميں داخل ہوں گے _(3)

پيغمبر اكر م صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

بچوں سے پيار كرو اور ان پر مہربانى كرو _ (4)

رسول اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

اپنے بچوں كو خوب چوموكيونكہ ہر بوسے كے بارے ميں اللہ جنّت ميں تمہارا ايك درجہ بڑھادے گا _ (5)

ايك شخص نے رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سے كہا :

ميں نے آج تك كسى بچے كا بوسہ نہيں ليا _

جب وہ شخص چلا گيا تو رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب سے فرمايا:

ميرى نظر ميں يہ شخص دوزخى ہے _ (6)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

جو ، بچوں پر شفقت نہ كرے اور بڑوں كا احترام نہ كرے وہ ہم ميں سے نہيں ہے _ (7)

حضرت على عليہ السلام نے وصيت كرتے وقت فرمايا:

بچوں پر مہربانى كرو اور بڑوں كا احترام كرو _(8)

1_ روزنامہ كيہا ن _ شمارہ 10042
2_ وسائل ، ج 15 ، ص 98
3_ مستدرك ، ج 2، ص 615
4_ بحار، ج 104، ص 92
5_ بحار، ج104، ص 92

6_ بحار، ج 104، ص 99
7_ بحار ، ج 75، ص 137
8_ بحار، ج 175، ص 136