پيدائيش کي مشکلات

پيدائيش کي مشکلات

بچہ عموما رحم مادر ميں نو ماہ اور دس دن درہتا ہے_ ولادت سے_ ولادت سے پہلے كى زندگى نہايت حساس اور پر خطر ہوتى ہے كيوں كہ بچہ كا مستقبل اسى سے وابستہ ہو تا ہے _ بچہ اس عرصے مين ايسے محيط ميں زندگى گزار تاہے كہ جس كا نظم و ننسق اس كے اپنے ہاتےھ ميں نہيں ہوتا اور وہ دسيوں قسم كے جسمانى اور روحانى خطروں ميں گھرا ہو تا ہے اور خود انہيں دور كرنے كى اس ميں طاقت نہيں ہوتى جب اس مرحلے سے جان سالم لے كر آجائے اور نو ماہ كى خط ناك مسافرت كو تمام كربيٹھے تو اب ناچار ہے كہ ايك اور دشوار مرحلے كا آغاز كرے اور يہ مرحلہ پيدائشے كا ہے _ بچے كى پيدائشے كا مرحلہ ايسا سادہ او رمعمولى سا نہيں بلكہ نہايت دشوار اور حساس ہے _

بچہ نو ماہ اتنا بڑا ہو جاتا ہے ، خاص طور پر ديگر اعضاء كى نسبت اس كا سر بڑ ا ہو چكا ہو تا ہے كہ اس اسے ناچار ايك نئے سخت مرحلے سے گزر ناہى ہوتا ہے _ اس تنگ مقام تولد سے باہر آنا انسان كى پورى زندگى ميں انجام پانے والے كسى بھى سفر سے خطر ناك تر ہے _ ممكن ہے بچہ پس جائے يا اس كى كوئي ہڈى ٹوٹ جائے _ ممكن ہے اس كى نازك اور ظريف ہڈياں كہ جو ابھى با ہم اچھى طرح ملى نہيں ہو تيں ، ان پر دباؤ پڑ جائے جس سے بچے كے اعصاب اور مغز كو نقصان پہنچے _

ايك ماہر لكھتے ہيں :

پيدائشے كا مرحلہ ممكن ہے كہ بچے ميں دائمى ليكن غير مرئي قسم كے نفسياتى نقائص پيدا ہونے كا سب بنے _ نفسياتى بيماريوں كے معالجين كے نزديك پيدائشے كے عمل كو انسان كى پورى زندگى كيماہيت كے ليے ايك مؤثر عامل شمار ہوتا ہے ان ماہرين كى نظر ميں پيدائشے ايك انقلابى تبديلى كا نام ہے كہ جو بچے كے ماحول اور زندگى مين پيدا ہوتى ہے اور اچانك وہ خاص قسم كى آسودگى اور آرام جو جنين كى زندگى ميں اسے حاصل ہوتا ہے و ہ ختم ہو جاتا ہے _ ان كى نظر ميں پيدائشے كے موقع پر خوف ارو اضطراب انسان كى نفسيات كاحصہ بن جاتا ہے اور انسان كى آئندہ زندگى ہميشہ نا معلوم يادوں كے آزار كے تحت گزرتى ہے _ زندگى كا ايك پر آرام دور جنين كا اور پھر مستقل زندگى كى طرف نہايت مشكل عالم ميں ورود ( 1)

ڈاكٹر جلالي لکہتے هيں :

جب بچہ دنيا ميں آتا ہے تو عموما چند گھنٹے وہ ايك دباؤ كے تحت رہتا ہے اور سب سے زيادہ مشكل سے اس كا سر دو چار ہو تا ہے كہ جو اس كے بدن كے تمام تر اعضاء ميں سے سب سے بڑا ہوتا ہغ اگر پيدائشے غير معمولى طريقے سے ہو تو دنيا ميں آنے كے مرحلے اور بھى سخت تر ہو جاتے ہيں اور بچہ عام حالات كى مشكلات برداشت كرنے كے علاوہ ميكانياتى آلات كى مصيبت بھى برداشت كرتا ہے اور زيادہ تر بچوں كا ضائع ہو جا نا يا پيدائشے كے تھوڑى ہى مدت بعدت ان كا مرجا نا ايسى ہى مصيبتوں اور مشكلوں كے باعث ہو تا ہے فالج اور ديوانگى و غيرہ جيسے ہدنى اور دہنى نقائص جو بچوں ميں دكھائي ديتے ہيں عموما ايسى ہى مصيبتوں كا باعث ہوتے ہيں جو دنيا ميں آتے وقت آن پروارد ہوتى ہيں (2)

بنا بريں پيدائشے كا مر حلہ ايك معمولى اور غير اہم مرحلہ نہيں بلكہ ايك دشوار اور قابل تو جہ عمل ہے كيونكہ ز چہ اور بچہ كى سلامتى اس سے البستہ ہوتى ہے _ ٹھوڑى سے غفات يا سہل انگارى ماں يا بچے كے ليے نا قابل تلافى نقصان كا باعث بن سكتى ہے _ يہاں تك كہ ممكن ہے اس مرحلے ميں ان كى جان چلى جائي ليكن آج كل كى حالت ميں جب مرا كز پيدائشے ، ڈاكٹر اور دواز يادہ تر لوگوں كى دسترس ميں ہے تو احتمالى خطرات سے بچا جا سكتا ہے _

لہذا حاملہ خواتين كو نصيحت كى جاتى ہے كہ اگر وہ ڈاكٹر يا مركز پيدائشے تك دسترس ركھتى ہيں تو وقت سے پہلے ان كى طرف رجوع كريں اور بچے كى پيدائشے كے وقت كے بارے ميں معلومات حاصل كريں او رجب ضرورى ہو تو فورا مركز پيدائشے كى طرف رجوغ كريں چونكہ يہ مراكز گھر سے ہر لحاظ سے بہتر ہوتے ہيں _ كيونكہ اورلا تو و ہاں ڈاكٹر ، دوا اور نرس موجود ہيں اور ضرورى موقع پر وہ و چہ كى فورى مار دكر سكتے ہيں اور اگر پيدائشے ميں كوئي غير معمولى مسئلہ پيش آجائے تو ہر لحاظ سے وسائل موجود ہوتے ہيں اور جلدى سے اس كى مد د كى جاسكتى ہے _ ليكن اگر وہ گھر ميں ہو اور پيدائشے ميں كوئي غير معمولى مسئلہ پيش آجائے تو اسے ڈاكٹر يا مركز پيدائشے تك لے جانے ميں ممكن ہے كہ زچہ اور بچہ كى جان خطر ے ميں پڑ جائے _

دوسرا يہ كہ مركز پيدائشے كے كمر ے صحت و سلامتى كے نقطہ نظر سے گھر كے كمروں سے بہتر ہوتے ہيں اور عورت و ہاں زيادہ آرام كرسكتى ہے _

تيسرا يہ كہ وہاں پر رشتے داروں اور ہمسايہ عورتوں كا پيدائشےى عمل ميں دخل نہيں ہوتا اور نہ ہى ان كى مختلف قسم كى آراء ہوتى ہيں جب كہ ان كى وكالت عموماً علم و آگہى كى بناء نہيں ہوتى لہذا ضرررساں ہوسكتى ہے _

مرد كى بھى اص ضمن ميں بھارى ذمہ دارى ہوتى ہے _ شرعاً اور عقلاً اس كافريضہ ہے كہ ان حسّاس اور خطرناك لمحات ميں اپنى بيوى كى مدد كرے اور احتمالى خطرات سے اسے اور بچے كو بچانے كى كوشش كرے _ اگر اس كى غفلت يا سستى كى وجہ سے بيوى يا بچہ تلف ہوجائے يا پھر انہيں جسمانى يا روحانى لحاظ سے نقصان پہنچے تو ايسا بے انصاف شوہر شريعت اور ضمير كى عدالت ميں مجرم قرار پائے گا اور روز قيامت اس سے بازپرس كى جائے گى _ علاوہ ازيں اس جہاں ميں بھى وہ اپنے كام كا نتيجہ بھگتے گا اور اگر آج سہل انگارى يا كنجوسى يا كسى اور بہانے سے بيچارى بيوى كى مدد نہيں كرے گا تو بعد ميں مجبور ہوگا كہ اس كے مقابلے ميں سوگنا خرچ كرے ليكن پھر بھى زندگى كا پہلا سكون واپس نہيں لايا جا سكے البتہ اگر ڈاكٹر اور پيدائشے گا ہ تك رسائي نہ ہو تو پھر گھر ميں ہى يہ كام ان دائيوں كے ذريعے انجام پانا چاہيے كہ جو اس كام ميں مہارت ركھتى ہيں_

 

اس ضمن ميں مندرجہ ذيل ہدايات كى طرف توجہ كرنى چاہيے _

1_ پيدائشے كے كمرے كا درجہ حرارت معتدل اور طبيعى ہونا چاہيے اور سرد نہيں ہونا چاہيے كيونكہ زبردست دباؤ، درد اور كئي گھنٹوں كى زحمت كى وجہ سے عورت كى طبيعت عام حالات سے مختلف ہوجاتى ہے اسے پسينے آتے ہيں اور بچے كے ليے بھى ٹھنڈلگنے اور بيمارى كا خطرہ ہوتا ہے ، جب بچے كى پيدائشے كا دشوار گزار مرحلہ گزر جائے تو اگر كمرے كى ہوا كا درجہ حرارت سرد ہو تو احتمال قوى ہے كہ زچہ كو ٹھنڈلگ جائے اور اس كى وجہ سے كئي بيمارياں پيدا ہوجائيں _ علاوہ ازيں ٹھنڈى ہوا نو مولود كے ليے بھى نہايت خطرناك ہے كيونكہ پچہ رحم مادر ميں طبيعى حرارت كے ماحول ميں رہا ہوتا ہے كہ جس كا درجہ حرارت تقريباً3765 سينٹى گريڈہوتا ہے _ ليكن جب وہ دنيا ميں آتا ہے تو كمرے كا درجہ حرارت عموماً اتنا نہيں ہوتا اس وجہ سے نومولود كو جو بہت ناتوان ہوتا ہے اوراس ميں يہ طاقت نہيں ہوتى كہ اپنے بدن كے ليے دركار حرارت اور توانائي مہيا كرسكے، اسے ٹھنڈ لگ جانے كا اور بيمارى ميں مبتلا ہوجانے كا خطرہ ہوتا ہے اور ان نومولود گان كامعالجہ بھى نہايت مشكل ہوتا ہے _ اس طرح بيمار ہونے والے زيادہ تر بچے مرجاتے ہيں _

2_ محتاط رہنے كى ضرورت ہے كہ كمرے كى ہوا مٹى كے تيل يا كوئلے كے جلنے كى وجہ سے دھوئيں سے مسموم اور آلودہ نہ ہوجائے كيونكہ ايسى مسموم ہوا ميں سانس لينا زچہ اور بچہ ہر دو كے لئے ضرر رساں ہے _

3_ بہتر ہے كہ پيدائشے كے كمرے ميں حتى المقدور خلوت ہو _ غير متعلق عورتوں كو كمرے سے باہر كرديں كيونكہ ايسى خواتين علاوہ اس كے كہ ان كى ضرورت نہيں ہوتى وہ زچہ كے ليے ناراضى اور شرمندگى كا باعث بنتى ہيں _ كمرے كى ہوا كو كثيف كرتى ہيں علاوہ ازيں پيدائشے كے وقت زچہ كى شرم گاہ كى طرف ديگر عورتوں كا ديكھنا حرام ہے اوروہ اس عالم ميں اپنى سترپوشى نہيں كرسكتى _

امام سجاد عليہ السلام نے ايك موقع پر جب كہ ايك حاملہ عورت كاوضع حمل ہونے والا تھا تو فرمايا عورتوں كو باہر نكال ديں كہ كہيں زچہ كى شرم گاہ كى طرف نہ ديكھيں _(3)

حاملہ عورت اگر اپنى ذمہ دارى پر عمل كرے تو اسے چاہيے كہ پورى احتياط كے ساتھ اپنے حمل كے زمانے كو اختتام تك پہنچائے اور ايك سالم اور بے عيب بچہ معاشرے كو سونپے اس نے ايك بہت ہى قيمتى كا م انجام ديا _ ايك صحيح اور بے نقص انسان كو وجود بخشا ہے كہ جو ہميشہ اپنى ماں كا مرہون حق رہے گا _ اس كے علاوہ اس نے انسانى معاشرے كى بھى خدمت انجام دى ہے كہ اسے ايك بے نقص اور قيمتى انسان عطا كيا ہے ممكن ہے اس كا وجود معاشرے كے ليے خيرات و بركات كا موجب قرار پانے اور يہ عظيم خدمت كے نزديك بھى بے اجر نہيں رہے گى _ ايك روز پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم جہاد كى فضيلت كے بارے ميں گفتگو فرما رہے تھے _ ايك عورت نے عرض كى يا رسول اللہ كيا عورتيں جہاد كى فضيلت سے محروم ہيں _ پيغمبر (ص) نے فرمايا: نہيں عورت بھى جہاد كا ثواب حاصل كر سكتى ہے _ جس وقت عورت حاملہ ہوتى ہے اور اس كے بعد اس كا وضع حمل ہوتا ہے اور جب بچے كو دودھ ديتى ہے يہاں تك كہ بچہ دودھ پينا چھوڑ ديتا ہے تو اس سارى مدّت ميں عورت اس مرد كى طرح ہے جو ميدان كارزار ميں جہاد كررہا ہو _ اگر اس عرصے ميں عورت فوت ہوجائے تو بالكل ايك شہيد كے مقام پر ہے _(4)

 


1_ بيو گرافى پيش از تولد ص 160
2_ روانشناسى كودك ص 193
3_ وسائل الشيعہ _ جلد 10 ص 119
4_ مكارم الاخلاق _ج 1 ، ص 268