تقليد

تقليد

تقليد كى سرشت انسانى فطرت ميں موجود قوى ترين جبلتّوں ميں سے ہے يہ بھى ايك سودمند اور تعميرى سرشت ہے _ اسى طبيعت كى بدولت بچہ بہت سى رسوم زندگى آداب معاشرت كھانا كھنا ، لباس پہننا ، طرز تكلّم ، اور الفاظ اور جملوں كى ادائيگى كا طريقہ ماں باپ اور دوسروں سے سيكھتا ہے انسان ايك مقلّد ہے اوراپنى پورى زندگى ميں دوسروں كى تھوڑى يا زيادہ تقليد كرتا ہے ليكن ايك سے پانچ چھ سال كى عمر كے دوران اس ميں يہ سرشت زيادہ نمايان ہوتى ہے ، بچہ ايك عرصے تك چيزوں كے حقيقى مصالح اور مفاسد سے ہرگز آگاہ نہيں ہوتا وہ اپنے كاموں كے ليے ايك عاقلانہ اور درست ہدف كا تعين نہيں كرسكتا اس مدت ميں اس كى تمام تر توجہ ماں باپ اور ارد گرد كے دوسرے لوگوں كى طرف ہوتى ہے ان كے اعمال اور حركات كو ديكھتا ہے اور ان كى تقليد كرتا ہے _

لفظ پانى ماں باپ سے سنتا ہے تقليد كرتے ہوئے وہى لفظ اپنى زبان سے ادا كرتا ہے _ پھر اس كے معنى كى طرف توجہ كرتا ہے پھر اسے اس كے موقع پر استعمال كرتا ہے ايك بچى ديكھتى ہے كہ ماں صفائي كرتى ہے اور كپڑے دھوتى ہے وہ بھى بالكل ايسے ہى كام انجام ديتى ہے _ ديكھتى ہے كہ ماں آگ ميں ہاتھ نہيں ڈالتى وہ بھى اس سے بچتى ہے _ وہ ديكھتى ہے كہ وہ پھلوں كو دھوتى ہے ان كے چھلكے اتارتى ہے اور پھر كھاتى ہے وہ بھى يہى عادت اپنا ليتى ہے _ وہ ديكھتى ہے كہ امى ابو اور اس كے بہن بھائي گھر كے امور ميں منظم ہيں اور ہر چيز كو اس كى مخصوص جگہ پر ركھتے ہيں وہ بھى اپنى زندگى ميں اس نظم كے بارے ان كى تقليد كرتى ہے وہ ديكھتى ہے كہ اس كے ماں باپ ادب سے بات كرتے ميں وہ بھى مؤدب ہوجاتى ہے وہ ديكھتى ہے كہ گھر كے چلانے ميں ماں باپ اور بہن بھائي ايك دوسرے سے تعاون كرتے ہيں وہ بھى اس تعاون ميں اپنا حصّہ ادا كرتى ہے _ جب وہ ديكھتى ہے كہ سڑك عبور كرتے ہوئے اس كے ماں باپ اس جگہ سے عبور كرتے ہيں جہاں لائنيں لگى ہوئي ہيں وہ بھى يہى كام انجام ديتى ہے اور رفتہ رفتہ اسے اس كى عادت پڑجاتى ہے جب بيٹا ديكھتا ہے كہ اس كا باپ باغبانى كرتا ہے يا لكڑى كاكام كرتا ہے يا تعمير كا كام كرتا ہے _ وہ بھى شروع شروع ميں وہى كام كھيل كى طرح انجام ديتا ہے اور يہى كھيل ممكن ہے اس كى زندگى كے آئندہ پيشے كے طور پر مؤثر ہو _

بچے كى تعليم و تربيت اور اسى كى تعمير ميں تقليد كا اثر و عظ ونصيحت سے زيادہ ہوتا ہے _ تقليد خودبخود انچام پاتى ہے اور اس كے ليے كہنے كى ضرورت نہيں پڑتى _ كہ ديكھ امّى كيا كررہى ہے بلكہ كہے بغير ہى وہ امّى اور ابو كے كام كى طرف پورى توجہ ديتا ہے _ ايك متكبر، بد اخلاق، بے ادب اور بد زبان باپ اپنے بچے كے ليے سرمشق قرار پائے گا _ اور ايك ہٹ ڈھرم ، گستاخ بے ادب اور بد زبان ماں اپنے ننھے بچے كو ايسى ہى برى صفات سے پر كردے گى _

ايك جھوٹا ، بزدل اور خيانت كارمربّى ، ايك سچا ، شجاع اور امانت دار بچہ پروان نہيں چڑھا سكتا _ بچے آپ كى وعظ ونصيحت اور گفتگو پر كوئي توجہ نہيں كرتے وہ آپ كے اعمال اوركردار كى طرف پورى توجہ كترے ہيں اور اسے كے مطابق عمل كرتے ہيں _ لہذا تقليد كى سرشت كو اہم تربيتى عوامل ميں سے شمار كيا جا سكتا ہے _ اس مقام پر ماں باپ اورتمام تربيت كرنے والے ايك بہت ہى بھارى ذمہ دارى كے حامل ہيں وہ اپنے كاموں كے بارے ميں بے توجہ نہيں رہ سكتے وہ اپنے اچھے اعمال و اخلاق سے اپنے بچوں كے ليے بہترين نمونہ بن سكتے ہيں _ اگر ماں باپ برے ہوں گے تو وہ وعظ و نصيحت سے بچوں كى نيكى اور بھلائي كى طرف ہدايت نہيں كرسكتے _ لہذا جن ماں باپ كو اپنے بچوں سے محبت ہے انہيں چاہيے كوشش كريں كہ پہلے اپنے آپ كى اور گھر كے ماحول كى اصلاح كريں اور اپنے بچوں كے ليے بہترين نمونہ عمل بنيں _ خود ايسا عمل كريں جيسا وہ چاہتے ہوں كہ ان كى اولاد عمل كرے _ تقليد سے روكنا بہت مشكل ہے آپ كوشش كريں كہ اپنى اولاد كے ليے بہترين نمونہ عمل بنيں _

امير المومنين عليہ السلام فرماتے ہيں :

اگر آپ دوسروں كى اصلاح كرنا چاہتے ہيں تو پہلے اصلاح كريں يہ بہت بڑى برائي ہے كہ آپ دوسروں كى اصلاح كے ليے اٹھ كھڑ ے ہوں اور خود فاسد رہيں ( 1)

پيغمبر اكر م صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے حضرت ابوذر سے فرمايا :

اللہ تعالى ماں باپ كى نيكى اور پر ہيز گارى و جہ سغ ان كى اولاد اور پھران كى اولاد كو صلاح اور نيك تربناد ے گا(2)

ايك ذمہ دا ر مربى اپنے بچے كے دوستوں اور ہم جو ليوں سے لا تعلق اور بے توجہ نہيں رہ سكتا كيونكہ بچہ بہت سارے كاموں ميں اپنے دوستوں اورہم جو ليوں كى تقليد كرے گا _

بعض اوقات بچہ سينما ميں يا ٹيلى وين كى سكر ين پر ادا كاروں كو قتل ، جرم ، چورى ، اور چاقو زنى كرتے ہوئے ديكھتا ہے تو اس كے اندر بھى اس سے تحريك پيدا ہوتى ہے اور وہ بھى و يسے ہى اعمال كرنے لگتا ہے _ آپ مجلوں اور اخبار وں ميں ان بچوں كے احوال پڑھتے ہوں گے كہ جو اعمال كرنے لگتا ہے _ آپ مجلوں اور اخبار وں ميں ان بچوں كے احوال سينما اور ٹيلى وين ميں انہوں نے جو پو ليس كے كام ديكھے يا قتل اور جرم كے مناظر ديكھے تو وہ ان ميں تحريك پيدا كرنے كا عامل بن گئے _ ايسى صورت ميں كيا بچوں كو ايسى چيزيں ديكھنے كے ليے كھلا چھوڑا جا سكتا ہے ؟


1_ غررالحكام ص 278
2_ مكارم الا خلاق ص 546