عرض ناشر

بسم اللہ الرحمن الحيم


عرض ناشر

دور حاضرميں جہاں حضرت انسان نے ماديت ميں اس قدر ترقس كى ہے اب وہ خلائي سفر كاميابى سے انجام ديتے ہوئے مظام شمسى ميں ديگر سيّارگان پر كمندين ڈال رہا ہے ، وہاں وہ اقدار انسانى ميں مسلسل الخطاط كے مسئلہ سے بھى شدّت كے ساتھ دو چار ہے _ ظاہر ہے كہ يہ مادّى ترقى مادى تعليم كے حصول كامنطقى نتيجہ ہے ليكن اقدار حيات كى ترقّى ميں ايك اور چيز بھى ناگزير ہے حبس كو تربيّت كہتے ہيں _ يہ انسان كى ايسى ضرورت ہے جو مہد يعنى ماں كى گود سے شروع ہوتى ہے اور يہ وہ كيفيّت ہے جبس كى عدم مو جود گى مادّى تعليم كے با وجود انسان كو اس سطح پر لے آئي ہے جہاں ترقّى علوم مادّى كا عملى مقصد مخالفين كى حيات كو صفحہ ء ہستى سے يكمرمٹا دنيا ہے _ دنيا كى بڑى طاقتوں كے وہ منصوبے اس بات كى دليل ہيں جو بتدريج سائنسى تجربات كى شكل ميں سامنے آرہے ہيں ان كے ذريعے كوشش كى جادہى ہے كہ ايسے ہتھيار ايجاد كريں ، جن كا استعمال كم سے كم وقت ميں زياد ہ سے زيادہ انسانوں كو نيست و نابود كردے _

ان تمام حالات كے پيش نظر تربيّت انسان كى ضرورت ون بدن زيادہ محسوس ہوتى جارہى ہے _ كتا ب ہذا آئين تربيّت ايران كے فاضل مصنّف جناب ابراہيم امينى نجف آبادى كى ايك نہايت عمدہ سعى ہے حبس ميں تر بيّت انسان كے موضوع پر اسوہ ء معصومين عليہم السلام كى روشنى ميں بجث كى گئي ہے _ جيسا كہ ہم نے سطور بالا ميں عرض كيا ہے ، تربيّت كا پہلا مدرسہ آغوش مادر ہے _ اس سلسلہ مسن شاعر مشرق علاّمہ محمّد اقبال رحمة اللہ عليہ قرماتے ہيں _
سيرت فرزند ہا از امہات
جو ہر صدق وصفا از امہات

كتاب ہذا ميں مندرجہ ذيل امور پر خصوصيّت كے ساتھ روشنى ڈالى گئي ہے جو ضروريات تربيّت ميں شامل ہيں :

1 : جسمانى اور نفسانى دونوں ميں تربيّت كنندہ كى امور تربيّت سے كما حقّہ ، واقفيّت

2: ہدف تربيّت سے واقفيّت _

3: تربيّت كے ليے جن اقدار و اوضاع كى ضرورت ہوتى ہے ، ان سے كما حقّہ واقفيّت _

فاضل مؤلّف نے يہ سب كچھ سيرت معصومين كى روشنى ميں پيش كيا ہے _ ہم ان كى اس كاوش كو اردو زبان ميں بطور ترجمہ پيش كرنے كى سعادت حاصل كرر ہے ہيں _ اميد و اثق ہے كہ يہ كتاب والدين اور اساتذہ كے ليے تربيّت او لاد و شاگردان ميں ايسى معاون ثابت ہو گى حبس سے دور ماديّت ميں قوم كو با اقدار انسان مل سكيں گے _

قارئين كرام سے استداعا ہے كہ كتاب ہذا كے مطالعہ كے بعد اپنى قيمتى آراء سے ادارہ مصباح الہدى پبليكيشنز كو ضرور مطلع فرمائيں

طلبگارى تعاون

ڈائر يكڑ مصباح الہدى پبليكيشنز

لاہور

انتساب

حضرت على و فاطمہ سلام اللہ عليہما _ گى خدمت ميں _ كہ جو اسلام كے مثالى ماں باپ ہيں _ جنہوں نے _ امام حسن ، امام حسين ، زينب اور ام كلشوم جيسى لائق اولاد كى تربيّت كى _

ان لائق احترام ماں باپ _ كى خدمت ميں _ جن كے دامن ميں اما م خمينى روحى فدا جيسے با بصيرت اور مضبوط مو قف كے حامل رہبر كے سے فداكار اور آبرومند بيٹے پر وان چڑھے _

ان ماں باپ _ كى خدمت ميں _ جو اپنے تربيت يافتہ مجاہد اور جانباز فرزندوں كى جدائي كا داغ سينے پر لگا ئے ہوئے ہيں _ وہى فرزند كہ جنہوں نے اسلام كے ليے شہادت نوش كيا اور اپنے عزيز خون كو نثار كر كے انقلاب اسلامى ايران كے چہر ے كو گل رنگ كرديا اور شجر اسلام كى آبيارى كى _

بسم اللہ الرحمن الرحيم
كچھ تر جمے كے بار ے ميں

ترجمہ كيا ہو ؟ اس كى شرائط كيا ہيں؟ اس پر بہت كچھ كہا گيا ہے ، كہا جاتار ہے گا اور كہا جا تار ہنا چا ہيے _

معمولا دو طريقے ترجمے كے ليے رائج ہيں :

1_ لفظى ترجمہ

2_ آزاد اور مفہومى ترجمہ

ان دونوں كى اپنى خو بياں ہيں ، دونوں كے حاميوں كے اپنے اپنے دلائل ہيں او ردونوں كے ليے موجود وزنى دلائل كى اپنے اپنے مقام پر اہميّت سے انكار بھى نہيں كيا جا سكتا _

ہميں يہاں صرف _ زير نظر ترجمے كے بار ے ميں كچھ عرض كرنا ہے _

آئين تربيت كے خاص اسلوب نگارش اور ترجمے كے قارئين پر نظر نے ہم سے ايك جدا گانہ سے طرز ترجمہ كا تقاظا كيا ہو ہو نے ;

بعض مقامات پر لفظى ترجمہ ضرورى سمجھا اور بعض عبارتوں كو فقط اردو كا لباس پہنا كر آپ تك پنچا ديا ہے _

بعض _ بلكہ بہت سے مقامات پر آزاد ترجمے كى روش اپنائي ہے اور مفہوم عبارت منتقل كرنے كى كوشش كى ہے

بعض مقامات پران دونون صورتوں سے كام نہيں ليا بلكہ مقصود پہنچانے كى كوشش كى ہے كيونكہ دہاں ترجمے كى صورت مين مقصود مضمحل ہو جاتا اور مطلوب و مقصود كو بہر حال لفظ اور مفہوم پر فوقيت حاصل ہے _

جيسے اردو پر يورپى زبانوں كيے اثرات بے پناہ ہيں اسى طرح فارسى جيسى وسيع زبان بھى اپناد امن اس سے بچا نہيں سكى _ بہت سے انگيريزى لفظ اور اصطلاحات فرسى لہجے كا رنگ اختيار كر كے فارسى ميں داخل ہو گئے ہيں يا يوں كہا جا ئے كہ فا رسيا ليے گئے ہيں _ اسى طرح فارسى كى اپنى اصطلاحات ہيں اور ہمارے ہاں اپنى اصطلاحات _ ان پہلوؤں كو ترجمہ كرتے ہو ئے ملحوظ ركھا گيا ہے _ متبادل اصطلاحات لكھى گئي ہيں جہاں جہاں ضرورى محسوس ہو ا متبادل انگيزى اصطلاحات بھى لكھ دى گئي ہيں _

اصل كتاب ميں قرآنى آيات اور روايات كى عربى عبارات نہايت ہى كم درج كى گئي ہيں ترجمہ كر تے ہو ئے خاص طور پر قرآنى آيات اپنے اصل متن كے ساتھ درج كردى گئي ہيں اور بہت سے مقامات پر روايات كى عربى عبارات بھى اصل متن كوديكھ كر لكھ دى كئي ہيں _

كوشش كى گئي ہے كہ عبادت رواں ، ساوہ او رعام فہم ہو ليكن پھر بھى يہ ترجمہ ہى ہے _ تاليف يا تضعيف نہيں لہذا كہيں كہيں بو جھل پن كا احساس ہو تو قارئين معاف فرمائيں _

كتاب چو نكہ تربيتى ہے لہذا بہت سے مطالب تكرارى ہيں اور يہ تربيت كا تقاضا بھى ہے اور خاصہ بھى _ ترجمہ كرتے ہوئے اس حو الے سے تصرف سے دامن بچا نے كى كوشش كى گئي ہے _

مذكورہ امور ميں سے بينادى امور پر خود صاحب كتاب يعنى حضرت آيت ا... ابراہيم امينى سے تبادلہ خيال كے بعد ہم آہنگى پاكر ہمين كچھ اور بھى اطمينان ہے _

تنقيد اور آراء كے ليے بہر حال ہم خندہ پيشانى سے منتظر ہيں _ كيوں كہ كمال كا راستہ انہى واديوں سے ہو كرگزرتا ہے

مترجمين

پيشگفتار

تعليم اور تربيت ميں فرق ہے تعليم كا معنى ہے آموزشي، سكھا نا يا كسى كو كوئي مطلب ياد كرانا_جب كہ تربيت كہ مطلب ہے شخصيّت كى تعمير اور پرورش _ تربيت كے ذريعے سے اپنے پسند كے مطابق افراد ڈھالے اور تياركيے جا سكتے ہيں او رنتيجتا معاشر ے كو تبديل كيا جا سكتا ہے _

ضرورى ہے كہ تربيت ايك سو چے سمجھے اور دقيق پروگرام كے تحت انجام پا ئے تا كہ كا ميابى كے ساتھ نتيجہ ثابت ہو _ تربيت ہيں صرف و عظ و نصيحت اور ڈرانا رھمكانا ہى كافى نہيں بلكہ پا ہيے كہ تمام حالت اور شرائط مقصد كے مطابق فراہم ہوں _ تا كہ مقصود حاصل ہو سكے _ تربيت كے ليے چند چيزيں ضرورى ہيں _

1_ چاہيے كہ مربّى اس شخص كو اچھى طرح پہنچا نتا ہو كہ جس كى اسے تربيت كرنا ہے _ اس كى خوصيات اور اس كے جسمانى اور نفسياتى رموز سے آگاہ ہو _

2_ مربّى كى نگاہ ميں تربيت كا كوئي ہدف ہو نا چا ہيے _ يعنى اس كى نظر ميں يہ ہونا چا سيے كہ وہ كيسا انسان بنا نا چاہتا ہے _

3_ تربيت كے ليے مربّى كے پاس كوئي پروگرام ہو نا چا ہيے _ يعنى اسے جاننا چاہيے كہ جيسى شخصيت و ہ پروان چڑھانا چاہتا ہے اس كے ليے كن حالات اور شرائط كى ضرورت ہے لہذا ان سب كو اسے فراہم كرنا چاہيے اور پورے غورو خوض سے كام لينا چاہيے _ پھر يہ ممكن ہو سكتا ہے كسى مثبت نتيجہ كا انتظار كرے _

تربيت كے لئے بہترين زمانہ بچين كا ہے كيونكہ بچے نے ابھى پورى شكل اختيار نہيں كى ہوتى اور ہر طرح كى تربيت كے لئے آمادہ ہوتا ہے _ يہ حساس اور اہم ذم دارى پہلے مرحلہ پرماں باپ كے ذمے ہے _ ليكن تربيت ايك سہل اور سادہ سا كام نہيں ہے _بلكہ ايك انتہائي ظريف و حساس فن ہے كہ جس كے ليے كام كى شناخت ، كافى اطاعات ، تجربہ ، برد بارى اور حوصلہ و عزم كى ضرورت ہے _ يہ بات باعث افسوس ہے كہ اكثرماں باپ فن تربيت سے آشنا نہيں _ يہى و جہ ہے كہ زيادہ تر بچوں كى كسى حساب شدہ اور منظم پروگرام كے تحت پرورش نہيں ہوتى بلكہ وہ گويا خود رو پودوں كى طرح پروان چڑ ھتے ہيں _

مشرق و مغرب كے ترقى يافتہ كہلا نے والے ممالك ميں تربيت كے مسئلے كو بہت زيادہ اہميت حاصل ہے _ انہوں نے اس سلسلے ميں بہت تحقيقات كى ہيں ، بہت سى سودمند كتا بيں لكھى ہيں اوران كے ہاں فن كے بہت سے ماہرين موجود ہين _ ليكن ہمارے ملك ميں زندگى كے اس اہم مسئلہ كى طرف كوئي تو جہ نہيں كى گئي _ البتہ چند ايك ماہرين موجود ، ہيں اور تھوڑى بہت كتا بيں بھى ہيں ليكن اتنا كچھ كفايت نہيں كرنا _ دوسرى زبانوں سے اس ضمن ميں بہت سى كتابوں كافارسى ميں ترجمہ ہوا ہے جو سب كى دسترس ميں ہيں _ ليكن ان مشترقى اور مغربى كتابوں ميں دوبڑے نقص موجود ہيں _

پہلا عيب يہ ہے كہ ان ميں انسان كو فقط جسمانى حوالے اور اس كى دينا دى زندگى كے حوالے سے ديكھا گيا ہے اور بحث و تحقيق كى گئي ہے _

اور وحانى سعادت و بد بختى اور اخروى زندگى سے يا غفلت برقى گئي ہے يااعراض كيا گيا ہے _

مغرب ميں تربيت كے ليے اس كے علاوہ كوئي ہدف نہيں كہ بچے كى جسمانى طاقت اس كى حيوائي قوتوں ، اعصاب اور مغز كو صحيح طريقے سے پروان چڑ ھا يا جائے تا كہ جس و قت وہ بڑا ہو آرام سے زندگى گزارسكے اور مادى فوائد اور حيوانى لذتوں سے بہرہ مند ہو سكے اور ان كتابوں ہيں اگر اخلاق كے بارے مين گفتگو ہوتى بھى ہے تو وہ بھى اى دنيا وى زندگى اور مادى مفادات كے حصول سے مربوط ہے _ ان كتايوں ميں روحانى كمالات يا نقائص كاذكر نہيں _ اخروى خوشبختى يا بد بختى كا تذكرہ نہيں اور مجموعى طور پر يہ كہا جاسكتا ہے ان مين اخلاقى اور روحانى زندگى كے بارے مين كچھ نييں _

دوسراعيب يہ ہے كہ مغرب والوں كے نزديك تربيتى مسائل كا انحصار تجربات اور شماريات پر ہے _ دذين كا ان پركوئي رنگ نہيں _ لہذار يہ مابيں مسلمانوں كے نزديك مفيد ، جامغ اور كامل نہيں ہو سكتيں كيوں كہ ايك مسلمان كى نظر مين انسان كے دو پہلو ميں _ ايك جسم اور دوسرا روح _ ليك دنيا دى زندگى اور دوسرى اخروى زندگى _ لہذا قم نے فيصلہ كيا كہ اس سلسلے اس مين مطالعہ اور تحقيق كى جائے اور پھرا پنے نتيجہ كو تحرير كى صورت مين طالبين كى خدمت ميں پيش كيا جائے _ اس كتاب كى تحرير كے ليے را قم كا اصلى ماخذ قآن اور كمتب حديث و اخلاق ہيں _ البتہ بچے كى تربيت سے متعلق اور فضيات سے متعلق دسيلوں كتابيں جو فارسى اور عربى زبان مين ترجمہ ہو چكى مين او رحفظان صحت سے متعلق كتب سے بھى استفادہ كيا گيا ہے _ ايرانى علماء نے بچے كى تربيت كے متعلق جو كتابيں لكھى ہيں ان سے بھى استفادہ كيا گيا ہے _ البتہ اس سلسلے مين را قم كے اپنے بھى كچھ تجربات ہيں _ اميد ہے كہ يہ نا چيز پيش كش تربيت كرنے والوں كے مفيد ثابت ہو گى اور اسلام اور مسلمانوں كے ليے سودمند قرار پائے گى _
ابراہيم امينى نجف آبادي

حوزہ علميہ قم

بہمن ماہ1358 ھ

جنورى سنہ 1980ئ