چورى چكاري

چورى چكاري

كئي دفعہ ايسا ہوتا ہے بچہ دوسروں كے ماں كى طرف ہاتھ بڑھاتا ہے كھانا ، پھل يا كسى اور بچے كے كھلونے زبردستى لے ليتا ہے _ باپ كى جيب سے يا ماں كے پرس سے چورى چھپے پيسے نكال ليتا ہے _ ماں نے كھانے كے ليے چيزيں چھپا كے ركھى ہوتى ہيں اس ميں ہاتھ مارتا ہے _ دكان سے چپكے سے چيزا اٹھا ليتا ہے _ بہن يا بھائي يا ہم جماعت كى پنسل ، پين ، رہبڑيا كا پى اٹھاليتا ہے _ اكثر بچے بچپن ميں اس طرح كے كم زيادہ كام كرتے ہيں _ شايد ايسا شخص كوئي كم ہى ملے كہ جسے بچپن كے دنوں ميں اس طرح كے واقعات ہر گز پيش نہ آئے ہوں ، بعض ماں باپ اس طرح كے واقعات ديكھ كر بہت ناراحت ہوتے ہيں اور بچے كے تاريك مستقبل كے بارے ميں اظہار افسوس كرتے ہيں ، وہ پريشان ہوجاتے ہيں كہ ان كا بچہ آئندہ ايك قاتل يا چور بن جائے گا اس وجہ سے وہ اپنے آپ ميں كڑھتے رہتے ہيں _

سب سے پہلے ان ماں باپ كو اس امر كى طرف توجہ دلانا چاہيے كہ زيادہ ناراحت نہ ہوں اور اس پہ اظہار افسوس نہ كريں _ كيونكہ يہ چھوٹى چھوتى چيزيں اٹھالينا يا چرا لينا اس امر كى دليل نہيں كہ آپ كا بچہ آئندہ شرير ، غاصب اور چور ہوگا ، كيونكہ بچہ ابھى رشد و تميز كے اس مرحلہ پر نہيں پہنچا كہ كسى كى ملكيّت كے مفہوم كو اچھى طرح سمجھ سكے اور اپنے اور د وسرے كى ملكيت ميں فرق كرسكے _ بچے كے احساست اس كى عقل سے زيادہ قوى ہوتے ہيں اس ليے جو چيز بھى اسے اچھى لگتى ہے انجام سوچے بغير اس كى طرف لپكتا ہے _ بچہ فطرى طور پر شرير نہيں ہوتا اور بچے كى يہ غلطياں اس كے باطن سے پيدا نہيں ہوتى _ يہ تو عارضى سى چيزيں ہيں _ جب بڑا ہوگا تو پھر ان كا مرتكب نہيں ہوگا _ ايسے كتنے ہى پرہيزگار ، امين اور راست باز انسان ہيں كہ جو بچپن ميں اس طرح كى ننّھى منى خطائيں كرتے رہے ہيں _ البتہ ميرے كہنے كا يہ مقصد نہيں كہ آپ ايسى خطاؤں كو ديكھ كر كوئي رد عمل ظاہر نہ كريں اور اس سے بالكل لا تعلق رہيں بلكہ مقصد يہ ہے كہ ان كو ديكھ كر بچے كو شرير اور ناقابل اصلاح نہ سمجھ ليں _ ايسے ہى داد و فرياد نہ كرنے لگين بلكہ صبر اور بردبارى سے ان كا علاج كريں _

خاص طور پر دو تين سالہ بچہ اپنے اور غير كے مال ميں فرق نہيں كرسكتا اور ملكيّت كى حدود كو اچھى طرح نہيں سمجھ سكتا _ جس چيز تك اس كا ہاتھ پہنچ جائے اس اپنا بناليتا چاہتا ہے _ جو چيز بھى اسے اچھى لگے اٹھالينا چاہتا ہے اس مرحلے پر ڈانٹ ڈپٹ اور مارپيٹ كا كوئي فائدہ نہيں _ اس مرحلہ پر ماں باپ جو بہترين روش اپنا سكتے ہيں وہ يہ ہے كہ بچے كو عملاً اس كام سے روك ديں _ اگر وہ زبردستى كوئي چيز دوسرے بچے سے لينا چاہے تو اسے اجازت نہ ديں اور اگر وہ لے لے تو اس سے لے كر واپس كرديں _جو چيز وہ چاہتے ہيں كہ بچہ نہ اٹھائے اسے اس كى دسترس سے دور ركھيں _ زيادہ تر بچے جب رشد و تميز كى حد تك پہنچ جاتے ہيں اور ملكيّت كى حدود كو اچھى طرح جان ليتے ہيں تو پھر دوسروں كے مال كى طرف وہ ہاتھ نہيں بڑھاتے اور چورى نہيں كرتے البتہ بعض بچے اس عمر ميں بھى اس غلط كا م كے مرتكب ہوجاتے ہيں _ اس موقع پر ماں باپ كو خاموش اور لاتعلق نہيں رہنا چاہيے يہ درست نہيں ہے كہ ماں باپ اپنے بچے كى چورى چكارى كو ديكھيں اور اس كى اصلاح نہ كريں اور يہ كہتے رہيں كہ ابھى بچہ ہے _ اس كى عقل ہى اتنى ہے جب بڑا ہوگا تو پھر چورى چكا رى نہيں كرے گا _ البتہ يہ احتمال ہے كہ جب وہ بڑاہو تو چورى نہ كرے ليكن يہ احتما ل بہت ہے كہ ان چھوٹى چھوٹى چوريوں سے اسے چورى كى مستقل عادت پڑجائے اور وہ ايك چورا اور غاصب بن كر ابھر سے _ علاوہ ازيں يہ بات بھى درست نہيں ہے كہ بچہ كسى كا ياماں باپ كا مال اٹھا لے اور كوئي اس سے كچھ نہ كہے _ او راس سے بھى بدتر يہ ہے كہ ماں باپ اپنے بچے كے غلط كام پر اسے منع كرنے كى بجائے اس كا دفاع اور اس كى حمايت كرنے لگيں _ اگر كوئي ان سے شكايت كرے كہ ان كے بچے نے اس كا مال چرايا ہے تو يہ شور و غل كرنے لگيں كہ ہمارے

بچے پر يہ الزام لگا يا كيوں گيا ؟

اس طرح كے نادن ماں باپ اپنے طرز عمل سے اپنى اولاد كو چورى چكارى كى تشويق كرتے ہيں اور عملاً انھيں سبق ديتے ہيں كہ وہ چورى كريں اور مكر جائيں اور اپنے آپ كو درست ثابت كرنے كے ليے شور مچائيں _

اس بناپر ماں باپ كو نہيں چاہيے كہ وہ اپنے اولاد كے غلط كاموں سے لاتعلق رہيں بلكہ انہيں كوشش كرنا چاہيے كہ وہ انہيں ايسے كام سے روكيں _ كہيں ايسا نہ ہو كہ برائي ان كے اندر جڑ پكڑے اور عادت بن جائے اور عادت كو ترك كرنا بہت مشكل ہے _

حضرت على عليہ اسلام فرماتے ہيں:

''عادت كو ترك كرنا انتہائي كٹھن كام ہے '' _(1)

ماں باپ كو پہلے مرحلے پر كوشش كرنا چاہيے كہ ان عوامل كو دور كريں كو جو بچے كى چورى كا سبب بنے ہيں تتا كہ يہ عمل اصلاً پيش ہى نہ آئے _ اگر بچے كو پنسل ، ربٹر، كاپى يا قلم كى ضرورت ہے ت وماں باپ كو چاہيے كہ اس كى ضرورت كو پورا كريں _ كيونكہ اگر انہوں نے اس كى ضروريات كو پورا نہ كيا تو ہو سكتا ہے كہ وہ اپنے ہم درس كى چيز اٹھالے يا ماں باپ كى جيب سے پيسے چورى كرے _ اگر اسے كھيل كے ليے گيندكى ضرورت ہے اور ماں باپ نہ لے كرديں تو ممكن ہے كہ وہ كسى دوسرے بچے كا گيندزبردستى لے لے _ يا محلّے كى دوكان سے چورى كرے _ ماں باپ كو چاہيے كہ حتى المقدور بچے كى حقيقى ضروريات كو پورا كريں _ اور اگر ممكن نہ ہو توبچے كو پيار سے سمجھائيں اور اس كاحل خود اس پہ چھوڑديں _ مثلاً اسے كہہ سكتے ہيں كہ ہمارے پاس اتنے پيسے نہيں كہ تمہارے ليے رنگوں والى پينسليں خريد سكيں _ تم فلاں دوكان سے ادھار لے لو _ بعد ميں اسے پيسے دے ديں گے _ يا آج اپنے دوست سے عاريتاً لے لو بچے پر زيادہ سختياں اور كنٹرول اور سخت پا بندياں اس كے ذہن ميں چورى كاراستہ پيدا كرسكتى ہيں _ اگر ماں باپ كھانے پينے كى چيزيں كسى المارى ميں يا كسى اور ڈبے ميں ركھ كر اس كوتا لگاديں اور اس كى چابى چھپاليں تو بچہ اس سوچ ميں پڑجائے گا كہ كسى طرح سے چابى ڈھونڈے اور مناسب موقع پاكر اس چيز كو نكالے_ يہ بات خاص طور پر اس وقت ہوتى ہے جب ماں باپ خود كھائيں اور بچے كہ نہ ديں _

جب ماں باپ اپنے پيسے سات تہوں ميں كسى جگہ چھپاديں تو ممكن ہے بچے ميں تحريك پيدا ہو اور وہ اتنا انہيں تلاش كرے كہ آخر پالے _ ممكن ہو تو ماں باپ كو پيسے زيادہ بھى باندھ باندھ كر نہيں ركھنے چاہئيں _ انہيں بچوں سے مل جل كر اور ہم رنگ ہوكر رہنا چاہيے اور ان كے ساتھ افہام و تفہيم پيدا كرنا چاہيے _ انہيں سمجھائيں كہ زندگى كس حساب كے تحت ہى بسر ہوسكتى ہے كھانے پينے كى چيزوں كى معيّن وقت پر ہى استعمال كرنا چاہيے اور پيسے ضروريات زندگى كى تكميل كے ليے ہيں انہيں كسى حساب كے مطابق ہى خرچ كرنا چاہيے _

بچوں كہ چورى ، ڈاكے اور قتل كى فلميں نہيں دكھانا چاہئيں _ ريڈيوا اور كتابوں كى ايسى كہانيوں سے بھى بچوں كو دور ركھنا چاہيے _كئي دفعہ ايسا ہوا ہے كہ چورى كرنے كے جرم ميں عدالت ميں پيش ہونے والے بچوں نے يہ بيان ديا ہے كہ يہ كام انہوں نے سينما يا ٹيلى وين ميں ہوتے ديكھا ہے _

سب سے اہم يہ ہے كہ ماں باپ اور گھر كے سارے افراد كوشش كريں كہ ان كے گھر كا ماحول امانت دارى اور سچائي پر مبنى ہو _ دوسروں كى ملكيّت كا احترام كيا جائے اور اس پر تجاوز نہ كيا جائے _ ماں باپ كى اجازت كے بغير ان كى جيب سے پيسے نہ نكالے اور اسے بتائے بغير اس كے اموال ميں بے جا تصرّف نہ كرے _ شوہر بھى بتائے بغير زوجہ كى المارى اور سوٹ كيس كو ن چھپيڑے اور اس كے ليے مخصوص چيزوں ميں تصرف نہ كرے _ ماں باپ كو بھى بچوں كى ملكيّت كا احترام كرنا چاہيے اور بچوں كى اجازت كے بغير ان سے مخصوص المارى طور اٹيچى كيس كو ہاتھ نہ لگائيں اور ان كے كھيلوں كے سامان ميں تصرّف نہ كريں _

بچے كے چھوٹے سے تجاوز پر اس كى عزّت و آبرو كو نابود كركے اسے ذليل و خوار نہ كريں اسے يہ نہ كہيں اسے چور اسے خيانت كرے تم چور بن جاؤ گے اور جيل خانے ميں جاؤگے ان توہين خطابات كے ساتھ آپ بچے كو چورى سے نہيں روك سكتے بلكہ اسے سے وہ ڈھيٹ بن جائے گا اور ممكن ہے كہ ان سب باتوں كا انتقام لينے كے ليے وہ بڑى بڑى چورياں شروع كردے _

وہ بہترين طريقہ كہ ماں باپ كو جس كا انتخاب كرنا چاہيے يہ ہے كہ محبت اور نرمى كے ساتھ بچے كو سمجھائيں چورى كى برائي كو بيان كريں اور ملكيت كى وضاحت كريں _ مثلاً اسے كہيں تم نے جو فلان چيزا ٹھائي ہے وہ كسى اور شخص كى ہے اسے فوراً واپس لوٹاديں _ اور آئندہ ايسا عمل نہ دہرائيں _

ليكن اگر اس طرز عمل سے بھى كوئي مثبت نتيجہ حاصل نہ كيا جا سكے تو مجبوراً بچے كو سختى اور ڈانٹ ڈپٹ سے روكا جائے اور اگر ناگزير ہو توبعض مواقع پر مارپيٹ سے بھى بچے كو چورى سے روكا جا سكتا ہے _

 

1_ غرر الحكم ، ص 181