محبّت _ جو تربيت ميں حائل نہ ہو

محبّت _ جو تربيت ميں حائل نہ ہو

بعض ماں باپ اپنى اولاد سے حد سے زيادہ محبّت ركھتے ہيں اس ليے اس كے لئے جو چيزيں ضرر رساں ہيں قطعا نہيں سمجھتے اور اگر كبھى وہ اس ميں عيب و يكھيں يا كوئي دوسرا اس كى طرف متوجہ كرے تو چونكہ يہ نہيں چاہتے كہ بچے كو ناراض كريں لہذا وہ اس عيب كو ان ديكھاكر ديتے ہيں اور اس كى اصلاح كى كوشش نہيں كرتے ہيں آپ ايسے بے ادب بچوں كو ديكھتے ہوں گے جو دوسرے بچوں كو اذيت ديتے ہيں ، لوگوں كو تنگ كرتے ہيں ، لوگں كى در و ديوار كو خراب كرديتے ہيں ، شيشے توڑ ديتے ہيں ، گالياں ديتے ہيں ،لوگوں كے مال كو نقصان پہنچا تے ہيں اور اسى طر ح كى دوسرى حركتيں كرتے ہيں ليكن ان كے نادان ماں باپ نہ قفط يہ كہ ان كو تنبيہ نہيں كرتے بلكہ ايك احمقانہ ، ہنسى سے ان كا بے جاد فاع كرتے ہيں اور اس طر ح سے ايسے كاموں ميں ان كى تشويق كا باعث بنتے ہيں يہ بے وقوف ماں باپ اپنى بے جا محبت سے دوستى كے لباس ميں اپنے بچوں كے ساتھ بہت بڑى خيا نت كے مرتكب ہوتى ہيں اور يہ ظلم عظيم اللہ كے نزديك بے مواخذہ نہيں ہو گا _ بچوں سے محبت كايہ مطلب نہيں كہ ان كى تربيت سے غافل ہو جائيں اور انہيں ہر كام كرنے كى كھلى چھٹى دے ديں _ اظہار محبت تربيت _ كا وسيلہ ہے اسے تربيت ميں ركاوٹ نہيں بننا چاہتے _ بہترين ماں باپ وہ ہيں جو بچے كى محبت كو اور تربيت كے مسئلہ كو الگ الگ كركے ديكھيں، اپنے بچوں سے خوب محبّت كريں ليكن حقيقت بين نظروں سے ان كى خوبيوں اور خاميوں پر نظر ركھيں اور نہايت سمجھدارى سے ان كى اصلاح كى كوشش كريں بچے كو بھى يہ بات سمجھنى چاہيئے كہ وہ بر ے كام كرنے

ميں آزاد نہيں اور اس پر اس كى باز پرس كى جائے گى اور اس كوہميشہ خوف اور اميد كے عالم ميں زندگى گزارنى چاہيئےاں باپ كى محبت سے اس كو دلگرم اور پر اميد ہونا چاہيئےور بے كاموں پر ان كى ناراضى اور غصّے كا اسے خوف ہو ناچا ہيئےن ماں باپ كو اپنے بچے سے محبت ہے ان كو يہ جاننا چا ہيئےہ ہميشہ يہ بچہ ہى نہيں رہيگا اور نہ ہميشہ ان كے ساتھ ساتھ رہيگا بلكہ وہ بڑا ہو جائے گا اور ناچار معاشر ے ميں زندگى گزار ے گالوگوں سے معاشرت كرے گااگر اسے زندگى اور معاشرت كے آداب نہ آنے اور اس نے دوسرں كے حقوق كا احترام كرنانہ سيكھا تو لوگ اس سے نفرت كريں گے اور اس طرح سے وہ لوگوں توجہ او ر محبت حاصل نہيں كرسكے گاكہ جوزندگى كى خوشى اور راحت كے ليے ضرورى ہے لوگ ماں باپ كى طرح نہيں ہو تے كہ اولاد كے عيوب كو نظر انداز كرديں _

امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ہيں :

سب سے براباپ وہ ہے كہ جو اولاد سے محبت اور احسان كرنے ميں حد سے تجاوز كرے (1)

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا :

جسے ادب سكھا ديا گيا اس كى برائياں كم ہو گئيں (2)

امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا:

ميرے اباجان نے ايك شخص كو ديكھا كہ جو اپنے بيٹے كے ساتھ جار ہا تھا _ وہ بے ادب بيٹا اپنے باپ كے ہاتھ كا سہارا ليے ہو ئے تھا _ مير ے والد زين العابدين اس بے ادب بيٹے پر اتنے ناراض ہوئے كہ سارى عمر اس سے بات نہ كى (3)


1_ تاريخ يعقوبى ، ج 2 ، ص 320

2_ غررا لحكم ج 2 ، ص 645

3_ بحار جلد 74 ص 64