وفائے عہد

وفائے عہد

انسانى زندگى كا نظام عہد و پيمان كے بغير نہيں چل سكتا _ لوگ ايك دوسرے كے ساتھ قول و قرار كرتے ہيں يہ عہد و پيمان ہى ہے جس كے ساتھ خاندان تشكيل پاتاہے _ شہروں اور ملكوں كو معاہدے ہى ايك دوسرے سے مربوط كرتے ہيں _ لوگ اس قول و قرار كو بہت اہميّت ديتے ہيں اور يہ ان كى اجتماعى زندگى كى بنياد ہے ايفائے ہد كا ضرورى ہونا ايك فطرى چيز ہے اور ہر انسان فطرتاً اس كو سمجھتا ہے اورعہد و پيمان كى خلاف ورزى كو برا اور قبيح سمجھتا ہے _ ہر شخص جو دوسرے سے عہد و پيمان باندھتا ہے توقع كرتاہے كہ وہ اس كى پاسدارى كرے گا _ جو گروہ بھى اپنے عہد و معاہدوں كا وفادار ہوگا ان كا اجتماعى نظام اچھے طريقے سے چلے گا _ كيوں كہ ان كو ايك دوسرے پر اعتماد اور حسن ظن ہوگا _ وہ نفسياتى طور پر آرام اور اطمينان سے رہيں گے _ ان كے درميان زيادہ لڑائي جھگڑا نہيں ہوگا _ وہ اعصاب كى كمزوريوں اور نفسياتى پريشانيوں ميں كم مبتلا ہوں گے _ ان كى زندگى سعادت و خوش بختى سے ہمكنار ہوگى _ لوگ جس قدر بھى اپنے عہد كے زيادہ وفادار ہوں گے وہ زيادہ سكون و آرام سے زندگى گزارسكيں گے _ جب كہ اس كے برعكس جن ملك كے لوگ اپنے عہد كے وفادار نہ ہوں اس كا نظم و ضبط درست نہيں ہوگا ايسے لوگ باہمى لڑائي جھگڑے ميں مبتلا رہيں گے _ ان كے درميان نفسياتى پريشانياں ، اضطراب اور بے چينى زيادہ ہوگى _ ايك دوسرے پر اعتماد نہيں كريں گے اور بدگمان رہيں گے _ ہر شخص يا ہر وہ معاشرة كو جو اپنے عہد وپيمان كا پابند ہو دوسروں كے نزديك عزيز، محترم اور قابل اعتماد ہوگا _ جب كہ عہد شكن لوگ دوسروں كے نزديك ذليل اور گھيا سمجھے جائيں گے _ اسلام كامقدس دين ايك فطرى دين ہے اس ميں اس حيات آفرين امر پر بہت تاكيد كى گئي ہے _ اور ايفائے عہد كو واجب اور ايمان كى نشانيوں ميں سے قرار ديا گيا ہے _ مثال كے طور پر

اللہ تعالى قرآن حكم ميں فرماتا ہے :

'' اوفو بالعہد ان العہد كان مسئولا''

اپنے وعدے كو پورا كرو كيوں كہ وعدے كے بارغ ميں پوچھا جائے گا _ (اسراء ، آيہ 34)

 

اللہ تعاى قرآن حكيم ميں ايك دوسرى جگہ فرماتا ہے :

والذين ہم لاماناتہم و عہدہم راعون

(اوركامياب مومنين كى ايك نشانى يہ ہے كہ ) وہ امانت ادا كرتے ہيں اور عہد كى پاسدارى كرتے ہيں _ (سورہ مومنون _ آيہ 8)

 

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

'' لا لہ دين لمن لاعہد''

''جن شخص كا عہد نہيں اس كا دين ہى نہيں ہے '' _(1)

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

جو شخص بھى ا للہ اورروز جزا پر ايمان ركھتا ہے اسے چاہيے كہ اپنا وعد ہ و فاكرئے (2)

حضرت على عليہ السلام مالك اشتر سے فرماتے ہيں :

پيمان شكنى سے خدا بھى ناراض ہو تا ہے اور لوگ بھى (3)

حضرت على على السلام فرماتے ہيں :

جس مقام پر اپنا وعدہ پورا نہيں كرسكتا وہاں وہاں وعدہ ہى نہ كر اور جہاں تو ضمانت پورى نہيں كرسكتا وہاں ضامن نہ بن (4)

اس لئے كہ پورے معاشر ے ميں ايفا ئے عہد كا احياء ہو اور وہ سب لوكوں كى ايك ذمہ دار يكے طور پر جانا جائے تو آپ اس اچھى عادت كو قانون فطرت كى خلاف ورزى سمجھيں تا كہ انہيں ايفا ئے عہد كى عادت پڑے _ اور وعدہ خلافى كو قانون فطرت كى خلاف ورزى سمجھيں _ ايفائے عہد كى تربيت بچپن ميں اور گھر كے ماحول سے شروع كى جانا چاہيے _ بچہ ماں باپ كى طرف احترام كى نظر سے ديكھتا ہے اور گفتار و كردار ميں ان كى تقليد كرتا ہے _ ماں باپ بچے كے ليے نمونہ عمل ہيں ، بچے كا ذہن بہت حساس ہوتا ہے اور بہت چھوٹى چھوٹى چيزوں كى تصوير بھى اس كے ذہن ميں نقش ہوجاتى ہے _ وہ ماں باپ كے كاموں كو بہت گہر نظر سے ديكھتا ہے اور آئندہ كى نزدگى ميں اس سے استفادہ كرتا ہے _ بچہ اپنى طبيعت اور فطرت كے باعث ايفائے عہد كے ضرورى ہونے كو سمجھتا ہے جب ماں باپ اس سے وعدہ كرتے ہيٹ تو اسے ان سے توقع ہوتى ہے كہ وہ اپنے وعدہ پر عمل كريں گے _ اگر وہ عمل كريں تو بچہ ايفائے عہد كا عملى درس ان سے حاصل كرتا ہے _ ليكن اگر وہ اپنا وعدہ پورا نہ كريں تو اسے دكھ ہوتا ہے اور ماں باپ كو غلط كام كرنے والا سمجھتا ہے _ جس گھر ميں ماں باپ اپنے وعدے پر عمل كريں آپس ميں اپنے بچوں سے اور دوسرے لوگوں سے وعدہ خلافى نہ كريں اس گھر كے بچوں ميں بھى ايفائے عہد كى عادت ہوگى _ جب كہ اس كے برعكس جس گھر ميں ماں باپ اپنے وعدوں ہر روز ماں باپ كى عہد شكنى كو ديكھتے ہيں ان كى نظر ميں ايفائے عہد كى كوئي حيثيت نہيں _ اور وعدے كو فقط چكرا اور فريب دينے كا بہانہ سمجھتے ہيں _

اگر ماں باپ خود عہد شكن ہوں اور جھوٹے وعدوں سے بچے كو فريب ديں اور اپنے وعدے پر عمل نہ كريں _ يا اپنے غلط طرز عمل سے معصوم بچوں كو عہد شكنى كا سبق ديں اور عملاً انہيں سمجھائيں كہ انسان اپنے مفادات كے ليے جھوٹے وعدے كرسكتا ہے اور پھر انہيں توڑسكتا ہے جو معصوم اور سادہ بچے اپنے ماں باپ سے سينكڑوں جھوٹ اور وعدہ خلافياں ديكھتے ہيں _ كيا ايسے بچوں سے توقع ہوسكتى ہے كہ وہ باوفا ہوں ماں بچے كو چپ كرانے كے ليے اس سے وعدہ وعيد كرتى ہے كہ ميں تمہارے ليے مٹھائي لاؤں گى آئس كريم لے كے دوں گى ، ٹافى كھلاؤں گى _ پھل كے كے دوں گى جوتا نيا خريدوں گى نئے كپڑے لاؤں گي، كھلونے خريدوں گى ، تمہيں دعوت پر اور سير پر لے جاؤں گى يہ وعدے وہ كبھى صرف اس ليے كرتى ہے كہ بچہ كڑدى دوائي پے لے _ اس ليے كہ بچہ ڈاكٹر كے پاس اور انجكشن لگانے والے كے پاس چلاجائے اسے خوشخبرياں ديتى ہے _ اس سے كہتى ہے اگر تو نے فلاں كام كيا تو تجھے پيٹوں گى ، ماڑ ڈالوں گى ، پوليس كے حوالے كہ دوں گى _ گھر سے نكال دوں گى _ تہہ خانے ميں بند كردوں گى _ تم سے كوئي بات نہيں كروں گى _ پيسے نہيں دوں گى عيد پر تمہارے ليے نئے كپڑے نہيں خريدوں گى _ تمہيں دعوت پہ نہيں لے جاؤں گى تمہارے ابو سے شكايت كروں گى اور ايسى سينكڑوں دہمكياں _ اگر آپ مختلف خاندانوں اور خود اپنى زندگى پر غورں كريں تو ديكھيں گے كہ ہر روز سادہ لوح بچوں سے كتنے وعدے كيے جاتے ہيں كہ جن ميں سے اكثر پرعمل نہيں ہوتا _ كيا ماں باپ جانتے ہيں كہ ان وعدہ خلافيوں كى بچوں كى حساس روح پر كتنى برى تاثير ہوتى ہے اور اس طريقے سے وہ ان كے بارے ميں كتنى بڑى خيانت كے مرتكب ہوتے ميں _ بچہ ماں باپ سے جو ناپسنديدہ عمل ديكھتا يا سنتا ہے وہ اس سے اس قدر متاثر ہوتا ہے كہ اس كے اثرات آخر عمر تك نہيں جاتے _

خاندان ماں باپ كہ جو وعدہ خلافى كرتے ہيں ايك تو وعدہ خلافى كے گناہ كے مرتكب ہوتے ہيں دوسرا وہ ان وعدہ خلافيوں سے اور جھوٹ سے بچے كى بھى تربيت كرتے ہيں كہ جس كا گناہ مسلّمہ طور پر عہد شكنى سے بھى بڑا ہے _

اس وجہ سے اسلام ماں باپ سے كہتا ہے كہ آپ جو وعدہ اپنے بچوں سے كريں اسے حتماً ايفا كريں _

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں :

بچوں سے پيار كريں ، ان سے مہربانى سے پيش آئيں اور اگر ان سے كوئي وعدہ كريں تو اسے حتماً پورا كريں _ بچے يہ خيال كرتے ہيں كہ آپ ان كو روزى ديتے ہيں'' _(5)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

جب آپ بچوں سے كوئي وعدہ كريں تو اسے حتماً پورا كريں _(6)

 


1_ بحار ، ج 75 ، ص 96
2_ كافى ، ح 2 ، ص 364
3_ بحار ، ج 77 ، ص 96
4_ غرر الحكم ص 801
5_ وسائل، ج 15 ، ص 201، بحار ج 104 ، 92
6_مستدرك ج 2 ، ص 606_