ضدّى پن

ضدّى پن

سب بچوں ميں كچھ نہ كچھ ضدى پن اور خود سرى ہوتى ہے خصوصاً دو سال كى عمر ميں _ ضدى بچہ اصرار كرتا ہے كہ جو كچھ بھى اس دل ميں آئے انجام دے اور كوئي اس كے راستے ميں حائل نہ ہو _ اگر وہ اپنى خواہش كے مطابق كام نہ كرسكے تو پھر وہ روتا ہے چيختا چلاتا ہے تا كہ كوئي راہ مكمل آئے _ اپنے آپ كو زمين پرگھيٹتا ہے _ سر ديوار سے ٹكراتا ہے _ شور مچاتا ہے غصہ كرتا ہے اور كھانا چھوڑديتا ہے _برتن توڑتا ہے يہاں تك كہ كبھى ماں باپ يا بہن بھائي پر حملہ بھى كرتا ہے _ اتنا شورمچاتا ہے كہ ماں باپ پر اس كو كاميابى حاصل ہوجائے اور وہ اپنا مقصد پالے _ يہ بچپنے كى ايسى عادت ہے كہ كبھى تو نسبتاً بڑے بچوں ميں بھى ديكھى جاتى ہے _ اكثر ماں باپ بچوں كى اس عادت سے نالاں رہتے ہيں اور اس كاحل سوچتے رہتے ہيں _ بچوں كے ضدى پن كے بارے ميں ماں باپ عموماً ان دو طريقوں ميں سے ايك اختيار كرتے ہيں _

پہلا طريقہ: بعض ماں باپ كا يہ نظريہ ہے كہ بچے كى ضد كے مقابلے ميں سخت ردّ عمل كا مظاہرہ كيا جائے اور اس كى خواہشات كے سامنے سر تسليم خم نہ كيا جائے _ ايسے ماں باپ كا كہنا ہے كہ يہ بچہ بہت خود سراور ضدّى ہوچكا ہے _ اس كے مقابلے ميں استقامت كا مظاہرہ كى جانا چاہيے تا كہ يہ اپنے ضدّى پن سے دستبردار ہوجائے _ و كہتے ہيں كہ ہم اس بچے كو ايك انچ بھى اپنا زور چلانے كى اجازت نہيں ديں گے _ وہ سختى ، زور اور مارپيٹ كے ذريعے بچے كو روكتے ہيں اور اپنى خواہشات اس پر سوار كردتيے ہيں _ يعنى در حقيقت وہ بچے كى ہٹ دھرمى كے جواب ميں ہٹ دھرمى كا مظاہرہ كرتے ہيں _ يہ طرز عمل درست نہيں ہے كيوں كہ اگر چہ انہوں نے مارپيٹ اور زور كے ذريعے بچے كو اس كى ضد سے پيچھے ہٹا ديا ہے اور چپ كرواديا ہے ليكن دوسرى طرف اس كى شخصيت پر بڑى كارہى ضرب لگائي ہے _

دو سال كى عمر شخصيّت اور ارادے كے اظہار كى عمر ہے اور ضدّى پن ارادے كى پختگى اور خود اعتمادى كا بنيادى جوہر ہے بچے كى عقلاس عمر ميں اتنى رشد يافتہ نہيں ہوتى كہ وہ اپنى خواہشات پر كنٹرول كرسكے اور ان كے نتائج كے بارے ميں غور و فكر كرسكے _ وہ سوچے سمجھے بغير كسى كام كا ارادہ كرليتا ہے اور چاہتا ہے كہ اس كى خواہش كے مطابق عمل كيا جائے تا كہ اس كے وجود كا اظہار ہوسكے اور اس كى شخصيّت نمايان ہوسكے _ اگر ماں باپ اس كى مخالفت كريں گے تو وہ گويا اس كى شخصيت كو مجروح كريں گے _ ممكن ہے وہ ايك پر سكون فروبن جائے ليكن حيثيت اور ارادے سے عاري_ جب بچہ يہ ديكھتا ہے كہ كوئي اس كى خواہش پورى نہيں كررہا اور طاقت كے ذريعے اسے روكا جارہاہے تو وہ مايوس اور بدگمان ہوجاتا ہے _ اضطراب اور پريشانى كى يہى حالت اس ميں باقى رہتى ہے البتہ اس بات كا امكان بھى ہے كہ اپنى خواہشات كى شكست كا بدلہ لينے كے ليے وہ بڑا ہو كر خطرناك كاموں كا مرتكب ہو مثلاً قتل اور ظلم و غيرہ تا كہ اس ذريعے سے وہ اپنے وجود كا اظہار كرسكے اور اپنى شخصيت منواسكے _

دوسرا طريقہ : بعض پرورش كنندگان كا نظريہ ہے كہ جہاں تك ممك ہوسكے بچے كے دل كو راضى كرنا چاہيے _ اور اس كى خواہش كے مطابق عمل كرنا چاہيے _ اسے جازت دى جانا چاہيے كہ جو كام وہ چاہے انجام دے ، يہ لوگ كہتے ہيں كہ بچے كى ضد اور اصرار كے سامنے تسليم محض ہونا چاہيے _ يہ لوگ كہتے ہيں كہ يہ بچہ ہے اسے آزادى ملنى چاہيے جب بڑا ہوگا تو خودہى ضد اور بہانے بنانے چھوڑدے گا _ يہ طريقہ بھى غيبت سے خالى نہيں ہے _

اولاً: بعض كام ايسے ہوتے ہيں كہ جو بڑے جانى يا مالى نقصان كے حامل ہوتے ہيں او رخود بچے كى يا دوسروں كى جان و ماں كو خطرہ ميں ڈال ديتے ہيں ايسے كاموں ميں بچے كو آزادى دينا خلاف عقل او رخلاف وجدان ہے ہوسكتا ہے دو تين سالہ بچہ بڑى سيڑھى كے ذريعے اوپر

جانا چاہے كہ جس ميں احتمال ہے وہ گر پڑے گا اور اس كے ساتھ پاؤں ٹوٹ جائيں گے ممكن ہے وہ چاہے كہ ماچں سے خود گيس جلائے كہ جس ميں امكان ہے كہ وہ اپنے آپ كو اور پورے گھر كو جلادے گا _ ہوسكتا ہے وہ دوسروں كے احوال اور حقوق پر تجاوز كرنا چاہے يا دوسرے بچوں كو اذيت دينا چاہے _ ايسے كاموں ميں بچوں كو آزادى نہيں دى جا سكتى _

ثانياً: جو بچہ ہميشہ مطلق العنان رہا ہو _ ضد سے اور شور شرابے سے اپنے مقاصد حاصل كرتا رہا ہو ، جس نے اپنے سامنے كسى كو ٹھرتے نہ ديكھا ہو رفتہ رفتہ اس طريقے كا عادى ہو جاتا ہے اور ايك خود غرض اور ڈكٹيڑبن جاتا ہے _ اسے لوگوں سے توقع ہوتى ہے كہ وہ بے چون و چرا اس كى خواہش پر عمل كريں اور اس كے طرز عمل اور كردار پر كوئي تنقيد نہ كريں _ اس نے بچپن ميں اپنى خواہشات كے مقابلے ميں كسى كو قيام كرتے نہيں ديكھا كہ وہ دوسروں كى خواہشات كا اعتناء كرے _ اگر وہ ديكھے كہ زور و زيادتى سے اپنى خواہشات كو سيرات كرسكے اور اپنے مقصد كو پائے تو بہت خوش ہوتا ہے _ ليكن زيادہ تر ايسا نہيں ہوتا كيوں كہ دوسرے تيار نہيں ہوتے كہ اس كى ڈكٹيڑى كو برداشت كريں _ اس لحاظ سے وہ معاشرے سے مايوس ہوكر گوشہ نشين ہوجاتا ہے ہميشہ آہ و زارى كرتا رہتا ہے _ اپنے تئيں شكست خوردہ سمجھتا ہے اورلوگوں كو حق ناشناس سمجھتا ہے _

اسلام ہٹ دھرمى كو برى صفات ميں سے شمار كرتا ہے اور اس كى مذّمت ميں بہت سى حديثيں وارد ہوٹى ہيں _

نمونہ كے طور پر _ حضر ت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

''ہٹ دھرمى برائيوں كا سبب ہے '' (1)

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا:

'' ڈھٹائي عقل انسانى كو نقصان پہنچاتى ہے'' (2)

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا:

''ہٹ دھرمى جنگ اور دشمنى كا باعث ہے''(3)

حضرت على عليہ السلام نے ہى فرمايا:

''ہٹ دھرمى كا نقصان انسان كى دنيا اور آخرت كے ليے سب سے زيادہ ہے ''_(4)

تيسرا طريقہ: بہترين روش اعتدال كو ملحوظ ركھنا ہے _ يہ وہ طريقہ ہے كہ جس كے مطابق ماں باپ بچے كى خودسرى كو عيب نہيں سمجھتے بلكہ اس كى استقامت اور اصرار كو اس كے وجود اور قوت ارادى كے اظہار كا وسيلہ جانتے ہيں _ نہ صرف يہ كہ اس كو ختم نہيں كرتے بلكہ تعليم و تربيت كے ليے اسى فائدہ اٹھاتے ہيں ، بچے كى خواہشوں كے درميان فرق كرتے ہيں، بے ضرر خواہشات كے ضمن ميں بچے كو آزادى ديتے ہيں تا كہ وہ اپنے ميلان كے مطابق عمل كرے اور اس طرح اپنى قوت ارادى ميں اضافہ كرے _ اس كے بے ضرر يا كم ضرر كاموں ميں زيادہ دخالت نہيں كرتے وہ بچے كے دوست بن جاتے ہيں اور كاموں كى ادائيگى ميں اس كى راہنمائي كرتے ہيں _

ايسى صورت ميں بچے كو زيادتر كاموں ميں آزادى حاصل ہوتى ہے اس طرح سے وہ اپنے ارادے كو مضبوط كرسكتا ہے اور اپنے وجود كا اظہار كرسكتا ہے _ ماں باپ كے بارے ميں وہ بھى اچھى رائے ركھتا ہے اور انھيں اپنے راستے ميں حائل نہيں سمجھتا _

ليكن خطرناك نقصان وہ اور خلاف و ضمير كاموں ميں ناجائز امور ميں اور دوسروں كے حقوق پر تجاوز كے معاملے ميں بچے كے سامنے استقامت كرتے ہيں اور اس سلسلے ميں ذرا سى بھى ڈھيل نہيں ديتے وہ پورى بے نيازى سے اور صراحت سے بچے سے كہتے ہيں اس كام كو نہ كرنا _ وہ كوشش كرتے ہيں كى حتى الامكان اس كام سے روكنے كى وجہ اسے بائيں اوراسے مطمئن كريں اور اس كى توجہ كسى اور اچھے كام كى طرف موڑديں _ بچہ چونكہ ماں باپ كے بارے ميں اچھے رائے ركھتا ہے اور اس پر زيادہ پابندياں نہيں ہوتيں زيادہ تر مان جاتا ہے اور اس كام كو چھوڑديتا ہے _ ليكن اگر وہ غلط كاموں كے بارے ميں ضد كرے _ شورشرابہ كرے _ زمين پر پاؤں مارے تو آپ سختى سے اسے روك ديں _ اور اس سلسلے ميں كوئي ڈھيل نہ ديں _ اس كے شوروشين اور رونے دھونے پر توجہ نہ ديں _ اسے اس كے حال پر رہنے ديں تا كہ وہ سمجھے كہ دنيا ميں ہر چيز كا كوئي حساب ہے كہ جو اس كے شورشرابے سے بدل نہيں سكتا _ آپ كچھ صبر كريں وہ خود شو رشرابے سے تھك ہاركر چپ كرجائے گا _ بچے كو سمجھائيں كہ آپ كى نہ حقيقى نہ ہے _ اسے سمجھائيں كہ زور اور خود سرى سے زندگى نہيں گزارى جاسكتى دوسروں كے حقوق كا بھى لحاظ ركھنا چاہيے _ كہيں ايسا نہ ہو كہ آپ اس كى ہٹ دھرمى اور شور شرابے پر مارپيٹ شروع كرديں اور سختى سے اسے چپ كرائيں كيونكہ اس طرح سے اسے چپ تو كرايا جاسكتا ہے ليكن حتمى طور پر اس كى روح اور نفسيات پر اس كے برے اثرات باقى رہ جائيں گے كيوں كہ وہ آپ سے بدبين ہوجائے گا _ اور آپ كو بھى ايك زيادتى كرنے والا اور ڈكٹيٹر سمجھے گا _ ہوسكتا ہے كہ آپ كے خلاف اس كے دل ميں كينہ پيدا ہوجائے اور وہ انتقام لينے كى ٹھان لے ہوسكتا ہے آپ كى آمريت كو اپنے ليے نمونہ بنالے _ اس بحث كے اختتام پر ضرورى ہے كہ مربّى حضرات كى خدمت ميں چند امور ذكر كيے جائيں _

1_ جہاں تك ممكن ہو بچوں كو عمل كى آزادى ديں _ ان كے امور ميں زيادہ دخالت نہ كريں اور ہر وقت يہ كرو يہ نہ كرو نہ كرتے رہيں _ بچہ كرسى ، درخت يا چھوٹى سيڑھى كے ذريعے اوپر جانا چاہتا ہے آپ كہيں بيٹے گر جاؤگے وہ پھل كا چھلكا اتارنے لگے تو آپ كہيں بيٹا ہاتھ كو زخمى كرلوگے ، وہ سما وار روشن كرنے لگے تو آپ كہيں جل جاؤگے ، وہ چائے ڈالنا چاہے تو آپ كہيں چينك توڑ دوگے ،گھر ميں كھيلنا چاہے تو كہيں شور نہ كرو _ گلى ميں جانا چاہے تو آپ كہيں سائيكل كے نيچے آجاؤگے _

پھر يہ ننھا بچہ كيا كرے آخر وہ بھى انسان ہے _ اس كا بھى ارادہ ہے _ وہ بھى اپنے وجود كا اظہار كرنا چاہتا ہے _ جب آپ اس كے كاموں ميں دخالت كريں گے وہ خستہ حال ہوجائے گا اور اس كے اندر ايك ہٹ دھرمى اور خود مرى كى كيفيت پيدا ہوجائے گى بچے كى ہٹ دھرميوں كى ايك وجہ ماں باپ كى اس كے كاموں ميں زيادہ دخالت ہے _

2_ جب آپ كا بچہ ضد كرے تو كوشش كريں كہ اس كى ضد كى وجہ معلوم كريں اور اس كو دور كريں تا كہ وہ خود بخود مطمئن ہوجائے _ اگر اسے بھوك لگى ہو تو كھانا ديں _ اگر وہ تھكا ہوا ہے تو اسے سلاديں _ اگر وہ گھر كے تنگ ما حول ، ريڈيو اور ٹيلى وين كے شور اور مہمانوں كى وجہ سے تنگ آگيا ہے تو اس كے ليے آرام وہ ماحول فراہم كريں _

3_ بچے كى توہين اور اسے سرزنش نہ كريں كيونكہ توہين اور سرزنش اسے ضد بازى پر ابھارتى ہے وہ اپنے آپ سے كہتا ہے كہ يہ ميرى توہين كرتے ہيں اور مجھے ملامت كرتے رہتے ہيں _ ميں بھى ان كے سامنے ڈٹ جاؤں گا اور ان سے انتقام لوں گا _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :

''سرزنش ميں زيادتى ہٹ دھرمى كى آگ كو بھر كاتى ہے '' _(5)

4_ كبھى كسى بچے پر اس كے بھائي بہن ظلم اور زيادتى كرتے ہيں اور اس كى كوئي حمايت نہيں كرتا يوں وہ ہٹ دھرمى اور سركشى پر اتر آتا ہے اس صورت ميں ماں باپ كو چاہيے كہ اس كى سركشى كى وجہ معلوم كريں _ اور اسے دور كريں تا كہ وہ اسے چھوڑدے _

5_ اگر آپ كا بچہ شد كرتا ہے اور آپ كو اس كى وجہ معلوم نہيں ہوتى تو آپ اپنے آپ كا جائزہ ليں او رديكھيں كہ خود آپ كہيں ضدى پن كا شكار تو نہيں ہيں _ شايد آپ كا ضدى پن بچے كے ضدى پن كا باعث بنا ہو _ ايسا بہت ہوتا ہے كہ بچے ماں باپ ہى كے ضدى پن كا مظہر ہوتے ہيں اور انہيں كى تقليد كرتے ہيں _

ايك خاتون اپنى يادداشتوں ميں لكھتى ہيں كہ مجھے يادہے بچپن ميں ايك روز ہمارے ہاں مہمان آئے _ ميں نے كسى بات پہ ضدكى تو اس پہ مہمانوں كے سامنے مجھے مارپڑى مجھے مہمانوں سے بہت شرمندگى ہوئي _ ميں نے بہت چيخ و پكار كى _ امى مسلسل كہے جاتى تھيں چپ كر ہابيٹى كا شور مچانا اچھا نہيں ہوتا_ ميں آرہى ہوں تمہيں چپ كرواتى ہوں _ امى نے اس بارے ميں بالكل نہ سوچا كہ ميرى ضدكى وجہ كيا ہے اور ميں كيوں شورمچار ہى ہوں _وہ صرف يہ چاہتى تھيں كہ اس طرح كى باتوں سے مجھے چپ كرواديں ، جو مجھے اور بھى برى لگتى ہيں _ ليكن ميں نے بھى زيادہ شورمچايا _ ماں نے اپنے تئيں اس كا بہترين حل سوچا _ گڑيا كے جو كپڑے ميں نے خودسيے تھے وہ اٹھالائيں مجھے وہ جان سے زيادہ عزيز تھے _ انھيں امّى نے ميرے سامنے آگ لگادى _ گويا ميرى سارى اميديں ختم ہوگئي _ ميں آگ كے شعلے كى طرف ديكھتى تھى اور آنسو بہاتى تھى _ اس وحشيانہ واقعہ سے ميرے دل ميں ايك گرہ سى پڑگئي كہ جسے ميں آج تك بھلانہيں سكى _ اور اب بھى مجھے اس پر افسوس رہتا ہے اور كبھى كبھى ميں اپنى امّى سے كہتے ہوں ... ... ...

 

 


1_ غرر الحكم ، ص 16
2_ غرر الحكم ، ص 17
3_ غرر الحكم، ص 18
4_ غرر الحكم ، ص 104
5_ تحف العقول ،ص 80_