گھر ميں بچوں كا لڑائي جھگڑا

گھر ميں بچوں كا لڑائي جھگڑا

ايك بہت بڑى گھريلو پريشانى بچوں كا لڑائي جھگڑا ہے _ بچے جب ايك سے زيادہ ہوجائيں تو پھر ان كے درميان لڑائي جگھڑا بھى شروع ہوجاتا ہے _ ايك دوسرے كو اپنے ليے بدشگون سمجھتا ہے _ وہ آپس ميں ايك دوسرے كو دھكّے ديتے ہيں ، كھلونے چھينتے ہيں ، ايك دوسرے كى كاپى پر لكيريں كھينچ ديتے ہيں ،مذاق اڑاتے ہيں، ايك شور مچاتاہے تا كہ دوسرا اسكول كا سبق يا دنہ كر سكے ، ہر بچہ جانتا ہے كہ وہ كن طريقوں سے اپنے بھائي يا بہن كو ستا اور لا سكتا ہے وہ ايك دوسرے كى خوب خبر ليتے ہيں _ اس صورت حال پر ماں باپ بے چار ے كڑھتے رہتے ہيں _ لڑائي جھگڑے كى شكايت ان كے پاس آتى ہے ، خرابى تو اس وقت پيدا ہوتى ہے جب بچوں كى لڑائي ماں باپ پر اثر انداز ہوجاتى ہے _ ماں ، باپ س كہتى ہے تم تو بچے كى تربيت كى طرف توجہ نہيں ديتے ، وہ تم سے دڑتے تك نہيں ، يہ تمہارى لا پروا ہى كى وجہ ہى سے گھر ميدان جنگ بن چكا ہے _

باپ ، ماں سے كہتا ہے ،اگر تو سمجھدار عورت ہوتى تو يہ سچے اتنے شيطان اور نالائق نہ ہوتے _ تيرى حمايت كى وجہ سے بچوں كى يہ حالت ہے _

يہاں پر ماں باپ كو يادركھنا چاہيے كہ بچے تو بچے ہوتے ہيں _ ان سے اس بات كى توقع نہ ركھيں كہ وہ پينتاليس سالہ كسى شخص كى طرح آرام سے كسى كونسے ميں بيٹھے ہوں _ آپ اس حقيقت كو قبول كريں كہ بچوں كا لڑائي جھگڑا تو ايك فطرى سى بات ہے _ لڑائي تو بڑوں ميں بھى ہوجاتى ہے _ ايك گھر ميں بچوں سے كيسے توقع كى جاسكتى ہے كہ وہ ہميشہ آرام و سكون سے بيٹھے رہيں اور كبھى لڑائي جھگڑا نہ كريں_ بچے تو شرير ہوتے ہى ہيں _ وہ جلدى پھر آپس ميں گھل مل جاتے ميں بڑوں كى طرح دير تك ايك دوسرے سے منہ بسورے بيٹھے نہيں رہتے _ ايك ماہر نفسيات اس سلسلے ميں لكھتے ہيں:

يہ نكتہ بہت اہم ہے كہ يہ بات ہميں سوچنا ہى نہيں چاہيے كہ ايك گھر ، اس ميں چند بچے بھى ہوں مگر وہ ہميشہ مل جل كر رہيں كبھى لڑيں جھگڑيں نہيں _ ہم نے جس بچے سے بھى بات كى ہے وہ يہ كہتا ہے كہ امى ابو يہ سوچتے رہتے ہيں كہ ہم بہن بھائي جب اكھٹے ہوں تو ہميں بہت زيادہ اتفاق و آرام سے رہنا چاہيے _ اگر آپ حقيقت كو مدّ نظر ركھتے ہوئے اپنى اس توقع سے تھوڑا سا پيچھے ہٹ جائيں توبچوں كے اس لڑائي جھگڑے سے اتنا پريشان نہيں ہوں گے _ (1)

ہميں يہ بات بھى معلوم ہونى چاہيے كہ بچوں كہ يہ عادت ہميشہ نہيں رہے گى بلكہ عمر كے ساتھ ساتھ خود بخود ختم ہوجائے گى _ اگر ماں باپ ان كے بچن كے طرز عمل كو ايك حقيقت كے طور پر مان لين تو پھر كسى حد تك انہيں اطمينان ہوجائے گا اور كم از كم وہ ان كے بچپن كے لڑائي جھگڑے خو د ان تك نہيں پہنچنے ديں گے _

ايك ماہر نفسيات لكھتے ہيں:

شايد بچوں كے بہت سارے كام مثلاً آپس ميں مذاق كرنا _ ايك دوسرے سے لڑائي جھگڑا كرنا _ كشتى كرنا _ صرف وقت كے ساتھ ساتھ اور ان كے بڑے ہونے سے ختم ہوجاتے ہيں _ (2)

ہاں يہ درست ہے كہ زيادہ تر موقع پر ماں باپ بچوں كے لڑائي جھگڑوں كو ختم نہيں كرسكتے ليكن عقل اور تدبير سے ان ميں كمى پيدا كرسكتے ہيں_ عقل مند ماں باپ بچوں كے لڑائي جھگڑے پر بالكل تماشائي نہيں بنے رہ سكتے _ بلكہ ان كى ذمہ دارى ہے كہ عقل و تدبير سے اس كے عوامل كو ختم كريں _ انہيں اجازت نہ ديں كہ وہ ايك دوسرے كو اذيت پہنچائيں _ ماں باپ كو چاہيے كہ پہلے وہ اختلاف كے عوامل كو سمجھيں اور ان اسباب كو پيدا ہونے سے روكيں وگرنہ بعد ميں مسئلہ مشكل ہوجائے گا _ بچوں كے درميان اختلاف كى ايك اہم وجہ ان كا آپس ميں حسد ہے نظر انداز كرنے سے حسد ختم نہيں ہوسكتا _ اور ڈانٹ ڈپٹ بھى اس كا علاج نہيں ہے _ چاہيے كہ حسد پيدا ہونے كے اسباب كو روكا جائے _

بچہ خود پرست ہے وہ چاہتا ہے كہ فقط وہى ماں باپ كا محبوب ہو اور كوئي اور ان كے دل ميں جگہ نہ پائے _ پہلا بچہ عموماً ماں باپ كو لاڈلاہوتا ہے _ وہ اس سے پيار محبت كرتے ہيں _ اس كى خواہشات كو پورا كرتے ہيں _ ليكن جب دوسرا بچہ دنيا ميں آتا ہے تو حالات بدل جاتے ہيں _ ماں باپ كى پورى توجہ نو مولودكى طرف ہوجاتى ہے اب بڑا بچہ خطرہ كا احساس كرتا ہے وہ سمجھتا ہے كہ يہ ننھا بن بلا يا مہمان اب اس كا رقيب بن گيا ہے _ اور ماں باپ كو اس نے اپنا بناليا ہے _ وہ سمجھتا ہے كہ اس سے انتقام لينا چاہيے _ ليكن نومولود پر اں باپ كى شفقت ہوتى ہے لہذا اسے قبول كيے بغير چارہ بھى نہيں ہوتا _ ان حالات ميں ممكن ہے بڑا بچہ اپنے آپ كو بيمار ظاہر كرے ، زمين پر گرجائے ، كھانا ہ كھائے ، غصّہ كرے ، روئے يا اپنے كپڑوں كو خراب كردے تا كہ اس طرح سے وہ ماں باپ كى توجہ اپنى طرف مبذول كرسكے يہ بچہ اپنے آپ كو مظلوم سمجھتا ہے اور اسى وقت سے بھائي يا بہن كے بارے ميں اپنے دل ميں كينہ كرليتا ہے _ اور اس موقع كے انتظام ميں رہتا ہے كہ اس سے انتقام لے سكے _ اس كيفيّت ميں سب بچے پيدا ہوتے ہيں اور گھر كے دوسرے بچوں سے آملتے ہيں _ انہيں حالات ميں حسد اور كينہ پيدا ہوتا ہے _ كيا يہ بہتر نہيں ہے كاماں باپ شروع ہى ہے اپنے طرز عمل پر توجہ ركھيں _ اور بچوں ميں حسد كے اسباب پيدا نہ ہونے ديں _ سمجھدار ماں باپ نو مولود كے دنيا ميں آنے سے پہلے ہى بڑے بچوں كو ذہنى طور پر اس كے استقبال كے ليے اور قبول كرنے كے ليے تيار كرتے ہيں _ ان سے كہتے ہيں _ انہيں پہلے ہى سمجھاتے ہيں كہ جلد ہى تمہارا ننھا بھائي يا ننھى بہن پيدا ہوگى _ تعجب وہ بڑى ہوگى تو تم سے پيار كرے گى _ تمہارے ساتھ مل كے كھيلے گى _

اگر وہ نو مولود كے ليے كوئي چيز تيار كريں تو بڑے بچوں كے ليے بھى كوئي چيز خريديں جب ماں نئي پيدائشے كے ليے كسى ميڈيكل سينٹر ميں داخل ہوجائے تو باپ بچوں كے ليے تحفہ لاسكتا ہے اور ان سے كہہ سكتا ہے كہ يہ ننّھے كى آمد كى خوشى ميں تمہارے ليے تحفہ لايا ہوں _ جب نو مولود گھر آئے تو زيادہ شورو شرابہ نہ كريں اور دوسرے بچوں كى موجودگى ميں اسى كى زيادہ تعريف نہ كريں _ پہلے كى طرح بلكہ پہلے سے بھى زيادہ ان كا خيال كريں _ ان سے محبت كريں ايسا سلوك كريں كہ بڑے بچے مطمئن ہوں وہ سمجھيں كہ نئے بچے كہ آنے سے ان كى زندگى كو نقصان نہيں پہنچا _ اس طرح سے وہ نئے بچے كے ليے اپنى گو دپھيلا سكتے ہيں اور خوشى خوشى اس كا استقبال كرسكتے ہيں _ مجموعى طور پر يہ كہا جا سكتا ہے كہ اگر ماں باپ چاہيں كہ ان كے بچے آپس ميں دوست ہوں اور ان ميں لڑائي جھگڑانہ ہو تو ان ميں حسد كے اسباب پيدا ہونے ديں اور ان كو ايك آنكھ سے ديكھيں _ سب سے ايك جيسا سلوك كريں تا كہ وہ آپس ميں دوست ہوں _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

انصاف اختلاف كو ختم كرديتا ہے اور دوستى كا سبب بنتا ہے _ (3)

امير المومنين على عليہ السلام ہى فرماتے ہيں:

عادلانہ سلوك بہترين تدبير ہے _(4)

ممكن ہے بعض بچوں ميں واقعاً ايسى خصوصيت ہو كہ جس كى وجہ سے ماں باپ كى محبت ان سے زيادہ ہوجائے _ ہوسكتا ہے بعض بچے زيادہ ذہين ہوں ، زيادہ خوبصورت ہوں _ بعض كا اخلاق بہتر ہو _ ہوسكتا ہے زيادہ محنتى ہو _ ہوسكتا ہے بعض زيادہ خوش زبان ہوں ، ہو سكتا ہے كسى كا سلوك دوسرے سے ماں باپ سے بہتر ہو _ ہوسكتا ہے كوئي كلاس سے دوسروں كى نسبت نمبر اچھے لائے _ ہوسكتا ہے ماں باپ بيٹى يا بيٹے كو زيادہ پسند كرتے ہوں _

ممكن ہے اس ميں كوئي حرج بھى نہ ہو كہ ماں باپ قلباً كسى ايك بچے كو زيادہ پسند كرتے ہوں ليكن ان كا سلوك سب سے ايك جيسا ہونا چاہيے او راس ميں فرق نہيں كرنا چاہيے _ يہاں تك كہ بچے ذرا بھى دوسرے كے بارے ميں ترجيحى سلوك نہ ديكھيں _ يہاں اس امر كا تذكرہ ضرورى ہے كہ بچے ماں باپ كى محبت كے بارے ميں بہت حساس ہوتے ہيں _ اور اس پر بہت توجہ ديتے ہيں اور حقيقت كو جلد سمجھ ليتے ہيں _ لہذا ماں باپ كو بہت محتاط ہونے كى ضرورت ہے _

بعض ماں باپ بچوں كى تربيت كے ليے ايك كى خصوصيات دوسرے كے سامنے بيان كرتے ہيں_ مثلاً كہتے ہيں : حسن خوب سبق پڑھوتا كہ عباس كى طرح اچھے نمبر حاصل كرسكو_ كہتے ہيں: زہرا تم اپنى بہن زينب كى طرح ماں كى مدد كرو زينب كتنى اچھى بچى ہے كہتے ہيں: رضا تم بھى اپنے بھائي على كى طرح دستر خوان پر سليقے سے بيٹھو_ ديكھو وہ كتنا با ادب بچہ ہے _

ايسے ماں باپ كا طرز عمل بالكل غلط ہے كيونكہ غلط ہے كيونكہ اس كا نہ فقط مثبت تربيتى نتيجہ نہيں نكلتا بلكہ اس سے بچوں ميں رقابت اور حسد پيدا ہوجاتاہے اور انہيں انتقام اور دشمنى پر ابھارتا ہے _ كبھى بچے خود بھى ايسى باتوں كا اظہار كرتے ہيں _

بچوں كے لڑائي جھگڑے كى ايك وجہ ماں باپ كى ان سے بے جا توقع ہے _ بچہ چاہتا ہے كہ اپنے بھائي يا بہن كے كھلونوں سے كھليے ليكن وہ اسے اس كى اجازت نہيں ديتے _ لہذا لڑائي جھگڑا شروع ہوجاتا ہے _ ايسے وقت ماں يا باپ دخالت كرتے ہيں اور پياز كے ساتھ سمجھاتے ہيں اور اگر پيار كا اثر نہ ہو تو سختى سے انہيں سمجھا تے ہيں كہ وہ اپنے كھلونے اپنے بھائي كودے ديں _ مثلاً كہتے ہيں: يہ تمہارا بھائي ہے ، كيوں اے كھلونے نہيں ديتے ہو كھلونے لائے و ہم ہى ہيں ، كيا يہ تمہارى ملكيّت ہيں كہ جو اسے كھيلنے كى اجازت نہيں ديتے ہو اگر تم نے ايسا كيا تو پھر تم سے ہم پيار نہيں كريں گے اور نہ ہى آئندہ تمہيں كھلونے خريد كرديں گے _

بچہ بيچار مجبور ہوجاتا ہے _ كھلونے دے تو ديتا ہے ليكن ماں يا باپ كو سخت مزاج اور بھائي كو ظالم سمجھنے لگتا ہے اور دل ميں دونوں سے نفرت پيدا ہوجاتى ہے اور جب بھى اسے موقع ملتا ہے پھر وہ اس كا اظہار كرتا ہے كيوں كہ بچہ ان كھلونوں كو اپنا مال سمجھ رہا ہوتا ہے اور اس كا خيال ہوتا ہے كہ كسى كو حق نہيں كہ اس كى اجازت كے بغير انہيں ہاتھ لگائے لہذا وہ اپنے آپ كو مظلوم اور اپنے بھائي اور باپ كو ظالم سمجھتا ہے _ ايسے موقع پر يہ بچہ حق پر ہے كيوں كہ ماں باپ كسى كو اجازت نہيں ديتے كہ ان كى مخصوص چيزوں كو كوئي چھيڑے پھر يہ حق وہ بچوں كو كيوں نہيں ديتے اور ہر شخص كى كچھ اپنى چيزيں ہوتى ہيں كہ جن كے استعمال سے وہ دوسروں كو روك سكتا ہے _ البتہ عقل مند اور باتدبير ماں باپ آہستہ آہستہ بچوں كے اندر تعاون اور ايثار كا جذبہ پيدا كرسكتے ہيں _ اور ايسى فضا پيدا كرسكتے ہيں كہ وہ خوشى خوشى اپنے بہن بھائيوں كو اپنے كھلونوں سے كھيلنے اور اپنى چيزوں كے استعمال كى اجازت ديں _

كبھى اختلاف كى وجہ يہ ہوتى ہے كہ كبھى ماں باپ كوئي كا م ايك بچے كے سپردكرديتے ہيں اور دوسروں كو ايسے ہى چھوڑديتے ہيں اس صورت ميں لڑائي جھگڑا شروع ہوجاتا ہے _اگر ماں باپ اس طرح كى كشمكشوں سے بچنا چاہيں تو انہيں چاہيے كہ سب بچوں كو ايك نظر سے ديكھيں اور ان ميں كوئي تفريق روانہ ركھيں _ يا تو كسى سے كوئي نہ كہيں _ يا پھر ان كى صلاحيت كو سمجھ كر ہر كسى كے ليے كوئي كام متعين كريں اور ان كے ذمہ لگائيں تا كہ اختلاف پيدا نہ ہو بيكارى بھى خرابيوں كى ايك وجہ ہے بچوں كى مشغوليت كے ليے كوئي كام ہونا چاہيے تا كہ ان ميں جھگڑا كم سے كم ہو _ خاص طور پر اگر ہ سكے تو انہيں كسى ايسے كھيل پر ابھاريں كہ جسے وہ مل جل كر كھيل سكيں _ يہ ان كے ليے بہت مفيد ہوگا _

كبھى ماں باپ كى آپس كى لڑائي بھى بچوں ميں جھگڑے كا باعث بن جاتى ہے _ جب معصوم بچے ديكھتے ہيں كہ ان كے ماں باپ ہميشہ ايك دوسرے سے قوتكار اور لڑائي جھگڑا كرتے رہتے ہيں تو وہ يہ سمجھتے ہيں كہ شايد لڑائي جھگڑا زندگى كے لازمى امور ميں سے ہے _ اور ايك ايسا كام ہے جس سے بچا نہيں جا سكتا _ اس لحاظ سے وہ ماں باپ كى تقليد كرتے ہيں _ اور يہى كام وہ آپس ميں كرتے ہيں _

لہذا جو ماں باپ بچوں كے لڑائي جھگڑے سے تنگ ہوں انہيں پہلے اپنى اصلاح كرنا چاہيے _ آپس كے نزاع اور كشمكش كو ترك كردينا چاہيے پھر بچوں كى اصلاح كے درپے ہونا چاہيے _ شايد ايسا كوئي خاندان كم ہى ہو كہ جس ميں كبھى كوئي جھگڑا پيدانہ ہواہو _ ليكن يہ ہوسكتا ہے كہ بچوں كى عدم موجودگى ميں وہ آپس ميں اس سلسلے ميں بات كريں _ اور اگر كوئي بات بچوں كے سامنے ہوجائے تو وہ بچوں سے كہہ سكتے ہيں كہ كسى مسئلے پر ہمارا اختلاف رائے ہے _ ہم چاہتے ہيں كہ اسے حل كريں _

آخر ميں ہم اس بات كى طرف توجہ دلانا چاہتے ہيں توجہ دلانا چاہتے ہيں كہ ممكن ہے آپ ان تمام امور كو ملحوظ خاطر ركھيں ليكن پھر بھى بچوں كے لڑائي جھگڑے سے كامل طور پر نہ بيچ سكيں _ آپ كو يہ توقع نہيں ہونى چاہيے _ نہ ہى ہم نے اس كى ضمانت دى ہے _ آپ كے بچے بھى عام بچوں كى طرح ہيں _ بچوں كے جھگڑے ايك فطرى سى بات ہے _ بچوں ميں توانائي زيادہ ہوتى ہے _ جو وہ ايسے كاموں پہ خرچ كرتے ہيں _ آپ متوجہ رہيں كہ وہ ايك دوسرے نقصان نہ پہنچائيں اور ايك دوسرے كو شديد اذيت نہ ديں بہتر يہ ہے كہ حتى الامكان بچوں كے چھوٹے موٹے جگڑوں ميں آپ شريك نہ ہوں _ انہيں آپ رہنے ديں كہ وہ اپنے مسئلے خود حل كريں _ نہ ہى آپ ايسى باتوں پر زيادہ پريشان ہوں _ ان كا طرز عمل خود ہى ٹھيك ہوجائے گا _

 

1_ روان شناسى كودك از تولّد تادہ سالگى ، ص 286
2_ روان شناسى كودك _ رفتار كودكان از تولد تا دہ سالگى ص 286
3_ غرر الحكم ، ص 64
4_ غررالحكم ، ص 64