بيٹى يا بيٹا

بيٹى يا بيٹا

جو نہى عورت حاملہ ہوتى ہے وہ اس مسئلہ ميں مضطرب رہتى ہے كہ بيٹا ہوگيا يا بيٹى ، دعا كرتى ہے نذر مانتى ہے نياز ديتى ہے كہ بيٹا ہو _ جب اس كے عزيز رشتے دار ملتے ہيں تو كہتے ہيں كہ تمہارے چہرے كے رنگ سے لگتا ہے كہ بيٹا پيدا ہوگا _ جب كہ اس كے برخلاف اس كے دشمن كہتے ہيں كہ تمہارى آنكھوں سے ظاہر ہوتا ہے كہ بيٹى پيدا ہوگى _ شوہر بھى بيگم سے پيچھے نہيں ہوتا اس كے بھى دل ميں بيٹے كى خواہش چٹكياں ليتى رہتى ہے _ موقع بے موقع وہ اس بارے ميں بات كرتا ہے اور ادھر ادھر كے وعدے كرتا رہتا ہے _ پيدائشے كے وقت سب حاضرين كى توجہ اس مسلئے كى طرف رہتى ہے كہ بيٹا ہے يا بيٹى _ اگر بيٹى ہو تو ايك دفعہ كمرہ پيدائشے ميں سرتا پا سكوت ہوجاتا ہے اور چہرے اتر جاتے ہيں ليكن اگر بيٹا ہو تو خوشى كا شوروشين بلند ہوجاتا ہے _ ماشاء اللہ سے آواز گونج اٹھتى ہے _ جب بچے كى پيدائشے كى خبر باپ تك پہنچتى ہے تو اگر بيٹا ہو تو خوش ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر دوڑتا ہے ، مٹھائياں اور پھل لاتاہے ،ڈاكٹر اور دوا كا بندوبست كرتا ہے _ كہتا پھرتا ہے بچے كا دھيان ركھنا اسے كہيں ٹھنڈ نہ لگ جائے _ بيگم كے بارے ميں احتياط كرنا كہ كہيں ہلے چلے نہ _ دائيہ اور نرسوں كو انعام ديتا ہے _ ليكن اگر بيٹى جنم لے تو اس كا چہرہ ہى اترجاتا ہے _ كونسے ميں جا بيٹھتا ہے اپنى بدبختى پر روتا ہے اور اپنى زندگى كو تلخ بناليتا ہے _ بيمار بيوى كى طرف اعتنا نہيں كرتا اس كى احوال پرسى اور عيادت نہيں كرتا _ يہاں تك كہ بعض اوقات اسے ايسا غصہ آتا ہے كہ طلاق كى دھمكى دينے لگتا ہے _ ہمارے انحطاط پذير اور بے تربيت معاشرے كى اكثريت ميں ايسے ہى غلط افكار اور برى عادت موجود ہے _ البتہ سب ايسے نہيں ہيں _ روشنفكر لوگ بھى موجود ہيں كہ جن كى نظر ميں بيٹا اور بيٹى برابر ہے ليكن وہ اقليت ميں ہيں _

والد عزيز اور والدہ گرامي

بيٹا ہو يا بيٹى ان ميں كيا فرق ہے _ كيا بيٹى ميں انسانت كم ہوتى ہے ؟ كيا اس ميں ترقى اور پيش رفت كى صلاحيت نہيں ہوتى ؟ كيا وہ ايك مفيد اور قيمتى انسان نہيں بن سكتى ؟ كيا بيٹى تمہارى اولاد نہيں ہے ؟ آخر بيٹوں كا ماں باپ كے ليے كون سا ايسا فائدہ ہے جو بيٹى كا نہيں ؟ اگر بيٹى كى كى كوئي اہميت نہ ہوتى تو اللہ اپنے رسول (ص) كى نسل كو فاطمہ (ع) كے ذريعے كيسے برقرار ركھتا _ اگر بيٹى كى آپ اچھى پرورش كريں تو وہ بيٹے سے پيچھے نہيں رہے گى تاريخ كے اوراق پلٹ كرديكھيں آپ كو ايسى خواتين نظر آئيں گى جن ميں سے ايك ايك ہزاروں مردوں پر بھارى ہے _ يہ كيسى غلط افكار كے خلاف جہاد كيجئے بيٹے اور بيٹى ميں غلط قسم كے فرق كو اپنے ذہن سے نكال ديجئے _ ذمہ دار اور مفيد انسانوں كى تعمير كے بارے ميں سوچيے _ سودمند اور قيمتى انسان بيٹى بھى ہوسكتى اور بيٹا بھى _ جس وقت تمہيں بچے كى پيدائشے كى خبر ملے اگر وہ صحيح و سالم ہو تو خدا كا شكر كرو كہ وہ پروردگار عالم كا عطيہ ہے اور تمہارے وجود كى يادگارى ہے كہ جو زندگى كے حساس اور خطرناك مرحلے سے صحيح و سالم گزر آياہے اور اس نے زمين پر قدم ركھا ہے _

پيغمبر اكرم اورائمہ اطہار عليہم السلام كى يہى روش تھى _

جس وقت اما م سجاد عليہ السلام كو نو مولود كى خبر دى جاتى تو بيٹى كے بارے ميں ہرگز سوال نہ كرتے _ ليكن جب ان كو بتايا جاتا كہ صحيح و سالم ہے تو خدا كا شكر ادا كرتے _ (1)

رسول اكرم (ص) اپنے دوستوں كے ساتھ محو گفتگو تھے اسى اثنا ميں ايك شخص محفل ميں داخل ہوا اورحضور كو خبرى دى كہ اللہ نے آپ كو بيٹى علا كى ہے _ رسول اللہ اس خبر پرخوش ہوئے اور اللہ كا شكر ادا كيا آپ (ص) نے جب اپنے اصحاب كى طرف نظر كى تو ان كے چہروں پر ناراحتى كے آثار ہويدا تھے _ آپ (ص) نے برا مانتے ہوئے فرمايا:
مالكم ؟ ريحانة اشمہا و رزقہا على اللہ عزوجل

كيا ہوگيا تمہيں ؟ اللہ نے مجھے پھول عطا كيا ہے جس كى مہك ميں سونگھتا ہوں اول اللہ نے اس كا رزق ديا ہے _ (2)

اللہ تعالى نے اس برى عادت كى مذمت كى ہے اور قرآن ميں فرمايا ہے _

و اذا بشّر احدہم بالانثى ظلّ وجہہ مسودًا و ہو كظيم _ يتوارى من القوم من سوء ما بشّر بہ _(سورہ نحل ، آيہ 58 _59)

جب ان ميں سے كسى كو بيٹى كى بشارت دى جاتى ہے تو شرم كے مارے اس كا چہرہ سياہ ہوجاتا ہے ، غصہ اس پر چھاجاتا ہے _ اس برى خبر كے باعث وہ لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے _

 

1_ وسائل _ ج 15 _ص 143
2_ وسائل الشيعہ _ ج 15_ ص 102