ماں كى نفسيّات كا جنين پراثر

ماں كى نفسيّات كا جنين پراثر

ماہرين كے در ميان يہ مسئلہ زير بحث ہے كہ كيا ماں كى نفسياتى كيقيات جنيت كى روح پر اثر انداز ہوتى ہيں يا كہ نہيں ؟

بعض ماہرين كہتے ہيں كہ ماں اگر شديد خوف اور اضطراب سے دوچار ہوتو رحم مادر ميںموجود بچے پر بھى اس كا اثر ہو گا او ر ممكن ہے كہ وہ بھى ڈرپوك بن جائے او راسى طرح ماں كا حسد اور كينہ بھى جنين كى روح پر اثر ڈالتا ہے اور ممكن ہے يہ دو صفتيں اس كى طرف منتقل ہو جائيں _ اس كے بر عكس خوش خلقى ، انسان دوستى ، ايمان ، شجاعت اور مہر و محبت كہ جو ماں مين موجود ہو بچہ ماں كا ايك حقيقى عضو ہو تا ہے لہذا جيسے ماں كى نفسياتى كيفيات اور افكار اسكے اپنے جسم پر اثر انداز ہو تے ہيں اسى بات كو رد كرديا ہے اور اس امر كے غلط ہونے كوثابت كيا ہے وہ كہتے ہيں كہ دوران حمل ماں كے انكار اور اس كى نفسياتى كيفيت ممكن نہيں ہے كہ مستقيما بچے كے اعصاب اور نظريات پر اثرانداز ہو _

ڈاكٹر جلالى لكھتے ہيں :

ماں او جنين كے در ميان مستقيم ربط نہيںہے _ ماں اور بچے كے در ميان رابط ناف كے ذريعے سے ہے اور اس ناف ميں كو ئي اعصاب نہيں ہيں كہ جو سلسلہ اعصاب كو ہدايت كرے بلكہ بند ناف ميں خون كى رگيں ہوت ہيں لہذا جيسا كہ گزشتہ لوگوں كو خيال رہا ہے كہ اعصاب اور ہيجانى كيفيت بچے پر اثر انداز ہوتى ہے ايسا نہيں ہوسكتا _(1)

البتہ حق اس دانشور كے ساتھ ہے اور يہ دعوى نہيں كيا جا سكتا كہ حاملہ عورت كے افكار اور نفسياتى كيفيات بلا واسطہ بچے كى روح اور اعصاب پر اثر انداز ہوتى ہيں _ البتہ يہ بات بھى درست نہيں كہ كوئي يہ كہے كہ ماں كے افكار اور جذبات بچے پر بالكل اثر انداز نہيں ہوتے بالواسطہ طور پر بچے كے اخلاق اور نظريات پرانداز نہيں ہوتے _ اس بات كى وضاحت كے ليے مندرجہ ذيل تين نكات كى طرف توجہ فرمائيں _

1_ انسان كى روح اور جسم ايك دوسرے سے مربوط اور واستہ ہے _ انسانى جسم كى بيمارى اور صحت ، اور اعصاب اور جسمانى قوى كى قوت اور كمزورى يہاں تك كہ بھوك اور سيرى انسان كے طرز تفكر اور اس كے اخلاق پر اثر انداز ہوتى ہے انسان كى اخلاقى شخصيت اس كے خاص مزاج اور اس كے اعصاب اور مغزى كى تعمير كے انداز سے كسى حد تك وابستہ ہے _ روح سالم بدن سالم ميں ہوتے ہے _ ہوسكتا ہے كہ كچھ غذا كى كمى يا فقدان اعصاب اور مغز كو برے اخلاق اور ہيجانى كيفيت كے ظہور پر ابھارے_

2_ جنين اسى غذا سے استفادہ كرتاہے كہ جو ماں كے اندرونى نظام ميں تيارہوكر اس تك پہنچتى ہے _ بچہ جب تك رحم مادر ميں زندگى گزارتا ہے غذا كے اعتبار سے ماں كے تابع ہوتا ہے _ ماں كى غذا كى كيفيت بچے كى جسمانى اور نفسياتى پرورش پر بھى اثر انداز ہوتى ہے _

ڈاكٹر جلالى لكھتے ہيں:

جو چيز بھى ماں كى سلامتى كے ليے مؤثر ہے وہى جنين كى سلامتى كے ليے مؤثر ہے اگر ماں كى غذا ميں كيلشيم كى كمى ہوگى يہ تو كمى بچے كى ہڈيوں اور دانتوں كى تعمير پر اثر انداز ہوگى _(2)

 

3_ يہ بات يقينى طور پر ثابت ہوچكى ہے كہ انسان كا شديد اضطراب اور ہيجان اس كے سارے بدن بشمول اس كے نظام ہضم كے اثر انداز ہوتا ہے _ رنج و غم كى زيادتى يا خوف كى شدت كھانے كى طلب كو كم كردتى ہے اور غذا صحيح طور پر ہضم نہيں ہوتى _ نظام ہضم خراب ہوجاتا ہے ، منظم اعصاب بگڑجاتا ہے اور غدودوں كے معين اور طبعى نظام ميں خلل واقع ہوجاتا ہے _

ان تين مقدمات كى روشنى ميں يہ كہا جا سكتا ہے كہا ماں كے افكار اورروحانى كيفيات اگر مستقيماً بچے كے اعصاب اور مغز كى طرف مننتقل نہيں ہوتيں تا ہم ان امور كا تعلق ماں كے نظام ہضم سے ہے اور بچے كى خوراك كا تعلق ماں ہى كے نظام ہضم اورغذائي كيفيت سے ہے اور يہ كيفيت بچے كى روح اور مستقبل كى شخصيت پر انداز ہوتى ہے اس لحاظ سے يہ قطعى طور پر كہا جا سكتا ہے كہ ماں كى نفسياتى كيفيات اور افكار بدون شك بچے كى روح نفسيات پر اثر انداز ہوتے ہيں اور اس كى تعمير شخصيت ميں مؤثر ہيں _

ماں كا شديد غصہ يا اضطراب يا شديد خوف اس كے عمومى مزاج اور نظام ہضم كو دگرگوں كرديتا ہے اس كے اعصاب اس كے باعث خلل كا شكار ہوجاتے ہيں _ يہ غير معمولى كيفيت جيسے ماں كےجسم وجاں كے لينے باعث ضرر ہے اسى طرح كے رحم ميں موجود بچے كى غذائي كيفيت كے ليے خرابى كا سبب ہے _

ممكن ہے اس صورت ميں بچے كے اعصاب اور مغز ايك ايسى نفسياتى بيمارى ميں مبتلا ہوجائيں كہ جو بعد ميں ظاہر ہو _

ڈاكٹر جلالى لكھتے ہيں :

ماں كو پيش آنے والے شديد ہيجانى كيفيات اور ناراحت كردينے والے امور مسلماً بچے كے مزاج اور رشد كے ليے باعث ضررہيں_ چونكہ اس طرح كى كيفيات نظام كو خراب كردتى ہيں اور غير طبيعى غدود پيدا ہوجاتے ہيں _ اس كے باعث نظام ہضم اپنا كا م صحيح طور پر انجام نہيں دے سكتا _ شايد يہى ايك وجہ ہو كہ بچہ جو اعصاب ركھتا ہے اور بہت سى نفسياتى بيمارياں اس ميں پيدا ہوسكتى ہيں انہى ہيجاني كيفيات كى وجہ سے ممكن ہے ايام حمل ہى ميں بچہ ضائع ہوجائے _(3)

ايك حاملہ خاتون كہ جو جسم اور روح كے اعتبار سے بالكل سكون ميں ہو _ خوش و خرم ، با ايمان ہو ، انسان دوست ہو ، مہر و محبت سے بسر كرنے والى ہو ، سالم جسم اور پاك روح كى حامل ہو تو اس كے رحم ميں زندگى گزارنے والا بچہ بھى جسم و جان كے اعتبار سے پر سكون ہوگا _ ايسا پر امن اور سالم ماحول بچے كى پرورش ، جسمانى نشو و نما اور روحانى شخصيت پر بہت زيادہ اثر انداز ہوگا ، اس كے برعكس ايك بے ايمان ، حاسد ، كينہ پرور ، غصيلى ، دڑپوك ، پريشان حال اور نفسياتى مريض ماں بچے كے نظام غذاكو تباہ كردے گى ، اس كى روحانى آرام كو ختم كردے گى ، اس كے ليے برے اخلاق اور نفسياتى بيماريوں كے ليے فضا سازگار بتادے گى _

اس ضمن ميں

''ماہرين نفسيات نے يہ بات ثابت كردى ہے كہ نفسياتى امراض ميں مبتلا 66 فيصد بچے يہ بيمارى ماں سے وراثت ميں پاتے ہيں چنانچہ اگر ايك ماں صحيح و سالم ہو تو اس كا بچہ بھى ايك صحيح و سالم نظام اعصاب كا حامل ہوگا _ اگر كوئي عورت چاہے كہ اس كا بچہ صحيح و سالم، شاداب اور عقلى قوتوں كے اعبار سے بے نقص ہو تو اسے چاہيے كہ بچے كى ولادت سے پہلے اپنى سلامتى كے بارے ميں فكر كرے _ (4) ''ماحول كے عوامل بچے كے جسمانى او رنفسياتى رشد و تكامل پر اثر انداز ہوتے ہيں '' _ (5)

1_ روان شناسى كودك ص 188_
2_ روان شناسى كودك ص 422_
3_ روان شناسى كودك ص 223_
4_ اطلاعات ، شمارہ 10355، كودك ج 1 ص 119_
5_ بيوگرافى پيش از تولد ص 125