خوف

خوف

خوف سب ميں پائي جانے والى ايك صفت ہے _ تھوڑا يا زيادہ سب لوگوں ميں ہوتا ہے _ اجمالى طور پر خوف انسان كى حفاظت كے ليے ضرورى ہے اور اس طرح سے ہونا كوئي بڑى چيز بھى نہيں ہے _ جس ميں بالكل ہى خوف نہ ہو وہ انسان معمول كے مطابق نہيں ہے بلكہ بيمار اور ناقص ہے _ يہ خوف ہے جس كى وجہ سے انسان خطرناك حوادث سے بھاگتا ہے اور اپنے آپ كو موت سے بچاتا ہے _ لہذا خوف اللہ كى عظيم نعمتوں ميں سے ہے كہ جو خالق كائنات نے انسان كے وجود ميں وديعت كى ہيں اور اس ميں مصلحتيں اور حكمتيں پوشيدہ ہيں _ ليكن يہ عظيم نعمت ديگر تما م نعمتوں كى طرح اس صورت ميں مفيد ہوگى كہ جب انسان اس سے صحيح طور پر استفادہ كرے _ اگر وہ اپنے صحيح مقام كے برخلاف استعمال ہوئي تونہ صرف يہ كہ مفيد نہيں ہے بلكہ ممكن ہے برے نتائج كى حامل بھى ہو _ خوف كے مواقع كو مجموعى طور پر 2 حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے _

پہلا _ خيالى ، بے موقع اور غير عقلى خوف

دوسرا _ معقول ، درست اور بجا خوف
غير عاقلانہ خوف

پہلى قسم كا غير عاقلانہ خوف عموماً زيادہ ہوتا ہے _ جيسے جن اور بھوٹ سے ڈرنا تاريكى سے خوف كھانا ، بے ضرر حيوانات سے ڈرنا، بلى ، چوہے ، لال بيگ، مينڈك، اونٹ گھوڑے اور ديگر ايسے جانوروں سے ڈرنا _ چورسے ڈرنا ، مردے ، قبرستان ، قر اور كفن سے ڈرنا ، ڈاكٹر ، ٹيكے اور دوا سے خوف كھانا، دانتوںكے ڈاكٹر سے ڈرنا ، ريل گارى كى آوازيا بادل كے گر جنے اور بجلى كے كڑكنے سے خوف كھانا، اكيلے سونے سے ڈرنا ، امتحان دينے اور سبق سنانے سے ڈرنا، بيمارى سے خوف كھانا، موت سے ڈرنا اور ايسے ہى ديگر دسيوں قسم كے خوف كہ جو بالكل بے موقع ہيں اور ان كى بالكل كوئي عقلى بنياد نہيں ہے _ ايسے خوف كو نظر انداز نہيں كرنا چاہيے ايسے ہى خوف ہوتے ہيں كہ جو بچے كو دائمى رنج و عذاب ميں مبتلا كرديتے ہيں _ يہاں تك كہ وہ سكھ كى نيند سے بھى محروم ہوجاتا ہے اور نيند ميں وحشت ناك قسم كے خواب ديكھتا ہے ور چيختا چلاتا ہے _ بے جاف خوف و اضطراب ايك نفسياتى بيمارى ہے جو بچے كى آئندہ زندگى پر بھى برے اثرات مرتب كرے گى _ ڈرپوك آدمى ميں جرات نہيں ہوتى كہ وہ كوئي بڑا قدم اٹھائے ہميشہ اضطراب كے عالم ميں رہے گا اور اس كے دل ميں ہميشہ گرہ سى رہے گى ، ملنے جلنے سے كترائے گا، پريشان اور افسردہ رہے گا _ اجتماع سے بھاگے گا اور اپنى ذات ميں گم ہوجائے گا _ اكثر نفسياتى بيمارياں ايسے ہى بے جا خوف سے وجود ميں آتى ہيں _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

خوف بھى ايك مصيبت ہے _ (1)

لہذا ايك اچھا مربى اس امر سے لا تعلق نہيں رہ سكتا بلكہ كوشش كرتا ہے كہ اپنے بچے كے بے جا خوف كو دور كرے _ اس موقع پر مربّى حضرات كى خدمت ميں ہم چند گزارشات پيش كرتے ہيں _

1_ خوف كو دور كرنے سے كہيں آسان ہے كہ اسے پہلے سے روكا جائے _ كوشش كريں كہ خوف كے علل اور عوامل حتى المقدور پيدا ہى نہ ہوں تا كہ آپ كا بچہ ڈرپوك نہ بنے ماہرين نفسيات كا نظريہ ہے كہ ريل گاڑى كى آواز، بادل اور بجلى كى صدا، خطرے كے آلارم كى آواز اور بچے كے سربانے شور مچانا بچوں كے ليے خوف كے ابتدائي عومل ميں سے ہيں _ جہاں تك ہوسكے كوشش كريں كہ بچے اس طرح كى چيزوں سے بچيں اگر چہ نو مولود كيوں نہ ہوں ان كے سرہانے شور نہ مچائيں _ ان كى طرف غصے سے نہ ديكھيں _

2_ دڑمتعدى بيماريوں ميں ہے _ بچہ ذاتى طور پر ڈرپوك نہيں ہوتا ماں باپ اور اردگرد والے لوگ اگر دڑپوك ہوں تو بچہ دڑپوك بن جاتا ہے _ اگر آپ چاہتے ہيں كہ آپ كے بچے ڈرپوك نہ ہوں تو پہلے اپنے دڑ كا علاج كريں اور غير عقلى عوامل پر اظہار خوف اور جزع و فزع نہ كريں تا كہ بچے بھى ڈرپوك نہ ہوں _

3_ پوليس اور جرائم سے متعلقہ فلموں كو ديكھنا ، ٹيلويں كے بعض پروگراموں كو ديكھنا ، ريڈيوكى ہيجان آور داستانوں كا سننا ، ہيجان انگيز قصوں او رداستانوں كا پڑھنا اور سننا، يہاں تك كہ مجلوں اور روزناموں ميں چھپنے والے بعض اوقات كا پڑھنا بچے كے ليے ضرر رساں ہے بچے كے نازك اور ظريف اعصاب پر ان كا اثر ہوتا ہے اور ان سے بچے كے دل ميں ايك خوف ، پريشانى اور گرہ سى پيدا ہوجاتى ہے _ جہاں تك ممكن ہو سكے بچے كو ان چيزوں سے دورركھيں _ جن اور پرى كے بارے ميں بات تك نہ كريں _ اگر انہوں نے كسى اور سے سن ليا ہو تو انہيں سمجھائيں كہ جن اگر موجود بھى ہو اجيسا كہ قرآن كريم نے ان كے وجود كے بارے ميں تصريح بھى كى ہے تو وہ بھى انسانوں كى طرح سے ہيں اور زندگى گزارتے ہيں اور انسان كے ليے ان كا كوئي نقصان نہيں اور ان سے خوف كى كوئي وجہ نہيں ہے _

4_ بچے كى تربيت كے ليے اس ڈرانے اور سختى سے پرہيز كريں _ بچوں كو بھوت ، ديو، لولو، و غيرہ سے نہ ڈرائيں _ ايسے خوف ہوسكتا ہے كہ وقتى طور پر بچے پر اثر ڈاليں ليكن يقيناً ان سے بچے ميں برے اثرات باقى رہ جائيں گے كہ جن كا نقصان فائدے سے زيادہ ہے _ اس طرح سے آپ كو ڈرپوك اور كمزور بناديں گے بچوں كو تنبيہہ كے ليے تاريك اور دہشت آور جگہوں پر بند نہ كريں _ بچوں كو كتّے بلّى سے نہ ڈرائيں _ بعض بيوقوف ماؤں كى غلط عادت ہے كہ بچے كو چپ كروانے كے ليے در واز ے اور ديوار كے پيچھے سے مياؤ ں مياؤں كرتى ہيںكرتى ہيں اور دروازے اور ديوار پرہاتھ مارتى ہيں اور اس طرح سے اسے طرح سے اسے ڈراتى ہيں تا كہ وہ چپ كرجائے _ ان نادان ماؤں كو خبر نہيں كہ وہ اس غلط عادت سے كتنے بڑے جرم كى مرتكب ہوتى ہيں اور بچے كى حساس روح كو پريشان كرديتى ہيں اور اس كى آئندہ نفسياتى زندگى و تباہ كرديتى ہيں ... اپنى ياد داشتوں ميں لكھتا ہے :

ہمارى دادى امّاں ہميں شرارتوں سے روكنے كے ليے دوسرے كمر ے ميں چلى اورايك خاص آواز نكال كركہتى ، ميں ديو ہوں ، ميں آگيا ہوں كہ تمہيں كھا جاؤں _ ہم ڈر جاتے اور چپ كرجاتے اورسمجھتے كہ يہ حقيقت ہے _ اسى وجہ سے ميں ايك ڈر پوك شخص ہوں اور اكيلا گھر ے سے باہر نہيں رہ سكتا _ اب حب كہ بڑا ہ گيا ہوں وہى خوف ايك اضطراب اور دل گرفتگى كى صورت اختيار كر چكا ہے ..._اپنے ايك خط ميں لكھتى ہے _

ميں پانچ سال كى تھى اپنى خالہ زاد كے ساتھ كھيل رہى تھى اچانك ہم نے ايك وحشت ناك ہيولا بڑا ساسر درشت آنكھيں ، بڑے بڑے دانت ، كھلا سياہ لباس اور بڑ ے بڑے كا لے جوتے _ وہ صحن كے در ميان ميں تھا _ عجيب آواز نكا لتے ہوئے وہ چاہتا تھا كہ نہيں كھا جائے _ ہم نے چينح مارى اور تار يك دالان كى طرف بھاگ گئيں _ ميں خوف سے يوں ديوار سے جاچمٹى كہ ميرى انگلياں زخمى ہو گئيں _ خوف كے مارے ميں بے ہوش ہو گئي اور كچھ مجھے سمجھ نہ آيا _ مجھے ڈاكٹر كے پاس لے گئے اور مجھے مرنے سے بچايا _ اس غير انسانى فعل نے مجھ پر ايسا اثر كيا كہ ايك عرصے تك ميں كونوں كھدروں ميں چھپتى اور ذر اسى آواز بھى مجھے خوف و وحشت ميں مبتلا كرديتى اور ميرى چينح نكال جاتى اب حب كہ ميں بڑى ہوگئي ہوں تو ميں ضعف اعصاب او رسوزش قلب ميں مبتلا ہو گئي ہوں _ ہميشہ غم زدہ رہتى ہوں اور عجيب و غريب خيالات آتے ہيں _ كام اور زندگى ميں ميرا دل نہيں لگتا نہ كسى سے ميل ملاقات ہے اور نہ كہيں آتى جاتى ہوں _

بے چين اور مضطرب سى رہتى ہوں _ بعد ميں مجھے پتہ چلا كہ ہمارى پھوپھى زادنے اپنے سرپر ايك بڑا ساديگچہ ركھ كے وہ ڈراؤنى بھوت كى شكل بنائي تھى تا كہ ہميں ڈرائے اور وہ ہے ميرى بيمارى اور اعصاب كى كمزورى كى ذمہ دار_

5_ اگر آپ كا بچہ آپ كى سہل انگارى اور عدم توجہ يا دوسرے اسباب كے باعث ڈرپوك بن گيا ہو تو اس كے ڈر كو غير اہم چيز نہ سمجھيں _ كوشش كريں كہ جتنى جلدى ہوسكے اس كى روح كو آرام پہنچائيں اور اس كا خوف دور كريں _ اگربچے كو اپنے بعض كاموں كے حقيقى اسباب كاعلم ہوگيا تو اس كا كچھ خود بخود جاتا رہے گا ليكن خوف كا علاج بچے كہ جھاڑ پھٹكار پلانا اس كا مذاق اڑانا اور دوسروں كے سامنے شرمندہ كرنا نہيں ہے_ ايسا كام نہ فقط يہ كہ بچے كا خوف دور نہيں كرے گا بلكہ اس كى حسّاس روح كو آزردہ تركردے گا _ خوف ميں اس كا كوئي گناہ نہيں ہے _ وہ دڑنا نہيں چاہتا _ آپ خود اور دوسرے عوامل اس كے خوف كا سبب بنے ہيں _ اسے كيوں قصور وار ٹھہراتے ہيں _ صبر ، بردبارى سمجھدارى اور تحقيق و جستجو كے ساتھ اس كے خوف كے علل و اسباب معلوم كريں پھر ان كے ليے چارہ كارسوچيں _ اگر وہ جنّ اور بھوت سے دڑتا ہے تو اسے پيار محبت سے سمجھائيں كہ بھوت ، لولواور ديو و غيرہ كا وجود جھوٹ ہے اور ايسى چيزوں كا اصلاً وجو د ہى نہيں ہے _ اسے مطمئن كريں كہ جن كا انسان سے كوئي كام نہيں _ كوشش كريں كہ ان چيزوں كا اس كے سامنے اصلاً ذكر ہى نہ كيا جائے تا كہ رفتہ رفتہ ان كا خيال بچے كے ذہن سے محو ہوجائے _ اگر وہ بے ضرر حيوانات سے دڑے توان كا بے ضرر ہونا اس كے سامنے عملى طور پر ثابت كريں _ ان حيوانات كے قريب جائيں اور انہيں چھوئيں اور ہاتھ پكڑيں تا كہ بچہ تدريجاً ان سے مانوس ہوجائے اور اس كا خوف دور ہو جائے _ اگر وہ اندھيرے سے دڑتا ہے تو اسے كم روشنى كا عادى كريں تا كہ رفتہ رفتہ اس كا خوف جاتارہے اور وہ تاريكى كا بھى عادى ہوجائے _ جب آپ خود بچے كے پاس موجود ہوں تو كچھ دير كے ليے چراغ گل كرديں _ پھر تدريجاًاس مدت كو بڑھائيں _ جب آپ كسى كمرے ميں بچے سے كچھ فاصلے پر ہوں تو يہى عمل دھرائيں _ صبر اور حوصلے سے اس عمل كا تكرار كريں يہاں تك بچے كا خوف دور ہوجائے اور وہ تاريكى ميں رہنے كا عادى ہوجائے _ اس امر كى طرف بہرحال متوجہ رہيں كہ دڑانے ڈھمكانے ، مارپيٹ اور سختى سے كام نہ ليں كيونكہ اس طرز عمل سے آپ بچے كا خوف دورنہيں كر سكتے _ بلكہ ممكن ہے يہ برے اعمال كا پيش خيمہ بنے _ بچے كو اس امر پر مجبور كرنا كہ وہ جن چيزوں سے دڑتا ہے ان كے سامنے جائے ، اس كے اضطراب اور پريشانى ميں اضافے كا سبب بنتا ہے _ اس طريقے سے اس كے اعصاب پر بہت دباؤ پڑتا ہے _ اگر بچہ ڈاكٹر اور ٹيكے سے دڑتا ہے تو اسے پيار اور محبت كى زبان ميں سمجھائيں كہ وہ بيمار ہے اور اگر وہ تندرست ہونا چاہتا ہے تو ضرورى ہے كہ دو اكھائے اور ٹيكہ لگوائے _ اسے دكھائيں كہ دوسرے لوگ بھى ٹيكہ لگواتے ہيں اور روتے دھوتے نہيں تا كہ وہ آہستہ آہستہ ڈاكٹر اور ٹيكے سے مانوس ہوجائے اور اس كا خوف زائل ہوجائے _ اگر كوئي مجبورى نہ ہو تو اسے زبردستى ٹيكہ نہ لگايا جائے كيونكہ ممكن ہے اس كے بر ے اثرات مرتب ہوں _ كبھى ضرورت كا تقاضا ہوتا ہے كہ بچہ ہسپتال ميں داخل ہوجائے ليكن اكثر بچے ہسپتال ميں داخل ہونے اور ماں باپ كى جدائي سے دڑتے ہيں _ اس بناء پر كبھى وہ ماں باپ كے ليے بڑى مشكل پيدا كرديتا ہے _ اگر اسے سختى سے ہسپتال ميں داخلے پرمجبور كيا جائے تومسلماً اس سے روحانى اور نفسياتى طور پر اس پر برے اثرات مرتب ہوں گے _ اگر ماں باپ يہ سمجھيں كہ ہسپتال ميں داخل نہ كروانا اس كى صحت و سلامتى كے ليے نقصان وہ ہے ، يہاں تك كہ اس كى جان كو خطرہ ہوسكتا ہے تو والدين كے ليے ضرورى ہے كہ بچے كو پہلے ہى سے ہسپتال كے ماحول سے مانوس كريں _ جب كبھى وہ كسى مريض كى عيادت كے ليے جائيں تو اپنے بچے كو بھى ساتھ لے جائيں اور وہاں كچھ دير ٹھہريں اور اسے يہ بات اچھى طرح سمجھائيں كہ ہسپتال ايك اچھى اور آرام وہ جگہ ہے جہاں پر ڈاكٹر اور مہربان نرسيں موجود ہيں اور يہ لوگ مريض كا علاج كرتے ہيں اسے بتائيں كہ خطرناك بيماريوں كا علاج ہسپتال ہى ميں ممكن ہے _ بچے كوتدريجاً ہسپتال كے ماحول سے مانوس كيا جا سكتا ہے _ ايسى صورت ميں اگر بچے كو ہسپتال ميں داخل كرنا پڑجائے تو وہ اس كے ليے آمادہ ہوگا _ بہتر ہے كہ پہلے اس بات كى ياد دہانى كرو ادى جائے كہ تم بيمار ہو ، تندرست ہوجاؤ گے ليكن اس كے ليے تمہيں كچھ عرصہ ہسپتال ميں رہنا ہوگا _ وہاں پر نرسيں اور مہربان ڈاكٹر موجود ہيں جو تمہارى تندرستى كے ليے كوشش كريں گے _ ہم بھى تمہيں لئے

 

آتے رہيں گے _ ليكن آپاس امر كى طرف متوجہ رہيں كہ بچے سے جھوٹ نہ بوليں _ جب آپ كو جانا ہے تو اس سے يہ نہ كہيں كہ يہاں سوجاؤ، ہم تمہارے پاس ہى ہيں _ اس سے يہ نہ كہيں كہ ڈرومت تمہيں دوا نہيں دى جائے گى اورٹيكہ نہيں لگايا جائے گا _ اس سے يہ نہ كہيں كہ ہسپتال ميں تمہارا وقت خوب گزرے گا _ كيونكہ يہ تمام باتيں خلاف حقيقت ہيں _ ان سے بچے كا اعتماد جاتا رہتا ہے بلكہ اس سے يہ كہيں كہ تم بيمار ہو اورتمہارے علاج كے ليے ہسپتال ميں داخلے كے سواچارہ نہيں ہے _ ہسپتال ميں داخلے كے بعدجہاں تك ممكن ہو سكے اس كى عيادت كے ليے جائيں _ اس كے پاس ٹھہريں اور اس كے ليے خوشى اور آرام وراحت كا باعث بنيں _


معقول خوف

معقول خوف كے معاملے ميں مربّى كو چاہيے كہ ايك معتدل اور عاقلانہ نہ روش اختيار كرے _ بچے كے سامنے خطرناك موضوعات چھيڑے اور اسے ان سے بچنے كى تدابير بتائے ، نيز اسے بے احتياطى كے برے نتائج سے ڈرائے _ اسے گيس، ماچس اور برقى اشياء كے استعمال كا درست طريقہ سمجھائے _ اسے ممكنہ خطرات كے بارے ميں آگاہ كرے _ اسے سڑك پار كرنے كا صحيح طريقہ بتائے _ گاڑيوں كى آمدو رفت كے ممكنہ خطرات اس سے بيان كرے اور بچے كو اس بات پر ابھارے كہ وہ اجتماعى قوانين ، خصوصاً ٹريفك قوانين كى پابندى كرے اور اسے قانون كى خلاف ورزى كے ممكنہ برے نتائج سے ڈرائے _ مجموعى طور پر احتمالى خطرات كى اس كے سامنے وضاحت كرے اور ان سے اسے ڈرائے _ مجموعى طور پر احتمالى خطرات كى اس كے سامنے وضاحت كرے اور ان سے اسے ڈرائے اور ان سے بچنے كا طريقہ اسے سمجھائے ليكن اس امرميں مبالغہ سے كام نہ لے _ مبالغہ آرائي سے ايسا نہ كرے كہ بچہ وحشت و اضطراب ميں گھر جائے _ ڈرپوك اوروسواسى بن جائے _ اوريوں سمجھنے مگے كہ اس كے بچنے كا كوئي راستہ نہيں _ كوشش يہ كرنا چاہيے كہ اس ميں توكل على اللہ اور اميد بر خدا كا جذبہ بيدار ہو _

خوف كا ايك صحيح مقام موت كاڈرہے البتہ موت سے خوف اگر حدّ سے تجاوز كرجائے تو يہ بھى ايك نفسياتى بيماربى بن جاتا ہے _ يہ بيمارى انسان سے روحانى آرام و سكون چھين ليتى ہے اور اس كى عملى صلاحيتوں كو ناكارہ كرديتى ہے لہذا اس كے ليے بھى حفاظتى تدابير ضرورى ہيں_ كچھ عرصے تك بچہ اصلاً موت كا مفہوم ہى نہيں سمجھتا _ بہتر يہ ہے كہ مربى حضرات اس بارے ميں بات نہ كريں ليكن كبھى ايسا ہوتا ہے كہ بچہ اپنے كسى واقف كاريارشتے دار كے مرنے سے موت كى طرف متوجہ ہوتاہے ممكن ہے ايسے موقع پر وہ ماں باپ سے موت كے بارے ميں سوالات پوچھے _ اگر اس وقت بچہ رشد و تميز كے سن كو پہنچ چكا ہو تو ماں باپ اسے اس قضيے كى حقيقت بتاديں _ اس سے كہيں كہ موت كوئي خاص چيز نہيں ہے _ انسان مرنے كى وجہ سے اس جہاں سے دوسرے جہاں ميں منتقل ہوجاتاہے ، اسے جہاں آخرت كہتے ہيں _ اس جہاں ميں انسان كو اچھے كاموں كا ثواب ملے گا اور برے كاموں پر اسے عذاب ملے گا ، سب نے مرجاتا ہے ، اللہ تعالى قرآن كريم ميں فرماتا ہے _

''تمام لوگ مرجائيں گے ''

موت اہم چيز نہيں ہے بلكہ اہم يہ ہے كہ انسان برے كام نہ كرے اور اچھے كام كرے تا كہ مرنے كے بعد وہ آرام سے رہے _

موت كى يا دحدّ سے تجاوز نہيں كرنى چاہيے اور اسے وسواس كے مقام تك نہيں پہنچنا چاہيے _ ايسا ہونا نقصان وہ ہے جب كہ اسى يادسے بچے كى تعليم و تربيت كے ليے بھى استفادہ كيا جاسكتا ہے _

خوف كا ايك مثبت مقام خوف خدا يا خوف قيامت ہے _ يہ خوف بھى اگر ايك نفسياتى بيمارى كى صورت ميں نہ ہو تو نہ فقط يہ كہ برا نہيں ہے بلكہ انسان كى دنياوى اور اخروى سعادت كے ليے بہت مفيد ہے _ خوف الہى اور عذاب آخرت كاخوف انسان كونيك كاموں پر ابھارتا ہے اور برے كاموں سے روكتا ہے _ اسى ليے اللہ تعالى قرآن مجيد ميں لوگوں سے فرماتا ہے :

فلا تخافوہم و خافون ان كنتم مومنين

اگر تم اہل ايمان ہو تو دوسروں سے نہ ڈرو صرف سمجھ سے دڑو_(آل عمران _175)

نيز قرآن قيامت كى مشكلات اور عذاب كو لوگوں كے سامنے بيان كرتا ہے _ لہذا ايك عقل مند ، سمجھ دار اور متدين مربّى كوشش كرتا ہے كہ خوف الہى گناہ سے خوف اور خوف قيامت كا بيج بچے كى حسّاس روح ميںاس كے بچپن ہى ميں بودتے تا كہ رفتہ رفتہ وہ نشو و نما پائے اور بڑا ہوكر اس كا نيك ثمرہ ظاہر ہو_

البتہ اس نكتے كى ياددھانى بھى ضرورى ہے كہ ايك بہترين مربى كو يہ نہيں چاہيے كہ وہ ہميشہ دوزخ اور عذاب دوزخ كا ذكر كرتا رہے اور اللہ كو سخت ، جابر شخض كى حيثيت سے متعارف كروائے بلكہ اس كى رحمت ، مہربانى ، شفقت اور لطف كى صفت كا زيادہ تذكرہ كرے _ اس كے ذريعے سے اللہ كو محبوب كے طور پر منوائے اورلوگوں كو گناہ كے عذاب اور اللہ كى عظمت سے اس طريقے سے ڈرائے كہ وہ ہميشہ خوف و رجاء كى حالت ميں رہيں _

 

1_ غرر الحكم ص 8