راستگوئي

راستگوئي

جھوٹ بولنا ايك انتہائي برى صفت ہے اور گناہان كبيرہ ميں ہے _ دنيا كى تمام قوميں اور ملتيں ، جھوٹ بولنے كى مذمت كرتى ہيں _ اور جھوٹ بولنے والے كو پست اورگھٹيا قرار ديتى ہيں _ جھوٹ بولنے والے شخص كا دنيا والوں كى نظر ميں كوئي عزت واعتبار نہيں ہوتا _ ايك شريف اور اچھا شخص جھوٹ نہيں بولتا _ اسلام نے بھى اس برى صفت كى مذمت كى ہے _ اور اسے گناہ كبيرہ اور حرام قرار ديا ہے _

امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ہيں:

''جھوٹ خرابى ايمان كى بنياد ہے '' (1)

حضرت صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

كہ حضرت عيسى عليہ السلام نے فرمايا جو زيادہ جھوٹ بولتا ہے اس كى كوئي عزت نہيں ہوتى (2)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

كوى كام جھوٹ سے بڑھ كے گھٹيا نہيں _(3)

اللہ كے سب نبيوں اور سب دينى رہنماؤں نے لوگوں كو سچائي كى دعوت دى ہے _ سچ ايك فطرى اور طبيعى چيز ہے _ اور انسان كى سرشت كا حصہ ہے سب سچ اور سچّے كو پسند كرتے ہيں _ اور جھوٹے سے نفرت كرتے ہيں _ يہاں تك كہ جھوٹ بولنے والا شخص بھى ايسا ہى ہے _ اگر بچے كو اس كے حال پہ چھوڑدياجائے تو فطرى طور پر اس كى تربيت ايسى ہوگى كہ وہ سچا ہوگا _ يہ تو خارجى عوامل اور اسباب ہيں كہ جو اسے خداداد فطرت سے منحرف كرديتے ہيں اور اسے دروغ گوئي كى طرف لے جاتے ہيں _ جھوٹ بولنا ايك ننھے بچے سے اصلاً ميں نہيں كھاتا _ بعد از آن اس سے منحرف ہوجائے اور جھوٹ بولنے كا عادى بن جائے تو بڑے ہوكر يہ عادت ترك كرنا اس كيلئے دشوار ہوگا اور زيادہ امكان يہى ہے كہ وہ اس سے دستبر دار نہيں ہوگا پھر اس پر نہ كوئي آيت اثر كرے گى نہ روايت اور نہ وعظ ونصيحت _

ماں باپ كى ذمہ دارى ہے كہ وہ بچپن ہى سے اس بات كى فكر كريں كہ ان كى اولاد سچى ہو _ جھوٹ كے علل و اسباب كوروكيں _ اور سچائي كو جو ان كى سرشت ميں شامل ہے اس كى پرورش كريں _ سچائي كى تربيت كو نظر انداز نہيں كرنا چاہيے اور نہ اسے بڑے ہونے پرٹال دينا چاہيے _

جو ماں باپ اپنى اولاد كى تربيت كے خواہش مند ہيں اور احساس ذمہ دارى ركھتے ہيں توانہيں چاہيے كہ مندرجہ ذيل امور كى طرف توجہ فرمائيں _

1_ بچے كى تربيت پر اثر انداز ہونے واى ايك نہايت اہم چيز خاندان كا ماحول ہے _ خاندان كے ماحول ميں بچہ پروان چڑھتاہے _ اور وہ ماں باپ سے اور ساتھ رہنے والوں سے اخلاق سيكھتا ہے اور ان كى پيروى كرتا ہے _ اگرگھر كا ماحول سچائي اور درستى پر بنى ہو ، ماں باپ اور ديگر افراد صداقت اور سچائي سے ايك دوسرے كے ساتھ پيش آنے والے ہوں تو ان كے بچے بھى يہى سيكھيں گے _ اس كے برعكس اگر گھر كا ماحول ہى جھوٹ اور دروغ گوئي پر بنى ہو، ماں باپ ايك دوسرے سے اپنى اولاد سے اور ديگر افراد سے جھوٹ بولتے ہوں _ بے گناہ بچے جو ايسے ماحول ميں پرورش پائيں گے يہى برى عادت ماں باپ سے سيكھيں گے اور دروغ گو بن جائيںگے _ جن بچوں كے كان جھوٹ سے آشنا ہو گئے ہوں اور جو ہر روز ماں باپ سے دروغ گوئي كے مظاہر ديكھتے ہوں ان سے كيسے توقع كى جا سكتى ہے كہ وہ سچّے اور صادق پروا ن چڑھيں _ ايسے ماحول ميں يہ صلاحيت نہيں ہے كہ وہ جھوٹے اور فريبى شخص كے علاوہ كچھ تريت كرے _ ايسا زہر يلا ماحول ہى ہے كہ جو ايك حساس اور اثرات قبول كرنے والے بچے كى فطرت كو سچائي سے منحرف كرديتا ہے اور دروغ گوئي كا عادى بناديتا ہے _ بعض نادان ماں باپ نہ صرف يہ كہ خود جھوٹ بولتے ہيں بلكہ اپنے بچوں كو بھى جھوٹ بولنے كى تلقين كرتے ہيں _ باپ گھر پہ ہے ليكن بچے كو كہتا ہے فلان شخص سے كہو ابو گھر پہ نہيں ہيں _ بچہ جو ٹھيك ٹھاك تھا اور اس نے گھر كا كام نہيں كيا باپ اس سے كہتاہے استاد سے كہنا ميں بيمار تھا _ ايسے سينكڑوں جھوٹ ہيں جن كا بعض گھروں ميں ہر روز تكرار ہوتا ہے _ ايسے نادان ماں باپ اپنے بچوں سے بہت بڑى خيانت كے مرتكب ہوتے ہيں _ جھوٹ بولنا گناہ ہے ليكن جھوٹ سكھانا اس سے كہيں بڑا گناہ ے _ جھوٹے ماں باپ جھوٹ بولنے كى سزاكى علاوہ بھى بہت بڑى سزاپائيں گے اور وہ ہے جھوٹ بولنے كى تربيت دينا _

ماں باپ كہ جو خاندان كے سرپرست ہوتے ہيں وہ جھوٹ بوليں تو يہ كوئي معمولى گناہ نہيں ہے بلكہ ہمت بڑا گرناہ ہے اس كے ساتھ بہت بڑا گناہ نمسلك ہے اور وہ ہے بچوں كو جھوٹ سكھانا _ ايسے ماں باپ نہ صرف گناہ كبيرہ كے مرتكب ہوتے ہيں اور انہيں اس كى سزا ملے گى بلكہ وہ اپنے معصوم بچوں كے ساتھ بھى ايك بہت بڑى خيانت كے مرتكب ہوتے ہيں _ جب كہ يہ بچے ان كے پاس اللہ كى امانت ہيں _ اور يہ خيانت ان كى معاشرے كے ساتھ بھى ہے _ ايسے ماں باپ ہى ہيں جو ايك جھوٹے اور فريب كار معاشرے كو وجود ديتے ہيں _

لہذا جو ماں باپ چاہتے ہيں ان كے بچے سچے ہوں ان كے پاس اس كے علاوہ كوئي چارہ نہيں كہ وہ خود راست گوئي اختيار كريں اور اپنى اولاد كے ليے بہترين ماحول فراہم كريں اور ان كے ليے نمونہ عمل بنيں _

رسل لكھتا ہے _

'' اگر آپ چاہتے ہيں كہ بچے جھوٹ بولنا نہ سيكھيں تو اس كے علاوہ كوئي چارہ نہيں كہ بڑے پور ى توجہ سے ہميشہ بچوں كے سامنے سچائي اختيار كريں ''_(4)

اے كاش رسل كہتا كہ

بچوں كے سامنے بھى اور ہر كسى كے سامنے بھى سچائي اختيار كريں _

كيونكہ بچوں كى پاك فطرت ہر جھوٹ سے متاثر ہوتى ہے _ يہاں تك كہ مخفى جھوٹ بھى جلد ان كے سامنے آشكار ہوجاتے ہيں _

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

''لوگوں كو بغير زبان كے اچھائي كى طرف دعوت ديں لوگ آپ سے تقوى ، محنت، نماز ، نيكى ديكھيں اور اس طرح اس ان كے ليے ايك نمونہ عمل مہيا ہوجائے '' _(5)

2_ بچہ فطرى طور پر دروغ گو نہيں ہوتا بلكہ اس كى فطرت اوليہ تقاضا كرتى ہے كہ وہ راستگو ہو _ اس كے جھوٹ بولنے كے ليے كسى سبب كى ضرورت ہے _ اگر ماں باپ جھوٹ بولنے كے علل و اسباب پہچان ليں اور ان كى روك تھام كريں تو بچہ طبعاً راست گو ہوگا _ ايك سبب جو بچے كو جھوٹ بولنے پر ابھارتا ہے وہ ماں باپ كى مارپيٹ اور ڈانٹ ڈپٹ كا خطرہ ہے مثلاً بچے نے كھڑكى كا شيشہ توڑديا _ ماں باپ سے دڑتا ہے كہيں اسے ماريں نہ _ لہذا جب اس سے پوچھئے كہ شيشہ تم نے توڑا ہے تو جواب ديتا ہے نہيں مجھے بالكل نہيں پتہ يا پھر شيشہ توڑنے كا الزام كسى دوسرے پر لگاديتا ہے _ مثلاً كہتا ہے كہ ميں نے ديكھا ہے كہ حسن نے شيشے كو پتھر مارا ہے واضح ہے كہ اس بچے كے جھوٹ بولنے كى وجہ اس كا ماں باپ سے خوف ہے _ اگر ماں باپ سمجھدار ، ہوش مند اور منصف مزاج ہوں اور بچوں كى تربيت كے ليے انہوں نے صحيح حكمت عملى اپنائي ہو تو ان ميں ايسا خوف پيدا نہيں ہوگا كہ جس كى وجہ سے وہ جھوٹ بولين اور پھر تدريجاً جھوٹ بولنے كى انہيں عادت پڑجائے _ كيونكہ ہوسكتا ہے شيشہ سہواً اور بلا ارادہ ٹوٹ گيا ہو _ اس صورت ميں بچہ تنبيہ اور سرزنش كا مستحق نہيں ہے _ يہ تو كئي دفعہ ماں باپ كے ساتھ بھى پيش آيا ہوگا كہ شيشہ ان سے غير ارادى طور پر ٹوٹ گيا ہو اور اس صورت ميں انہوں نے اپنے آپ كو مجرم نہيں سمجھا ہوگا _ پھر بيچارے بچے كو وہ كيوں مجرم سمجھتے ہيں اور اس پہ كيوں غصّہ جھاڑتے ہيں اور اگر شيشہ كم توجہى اور بے احتياطى كى وجہ سے ٹوٹ گيا ہے توماں باپ كو چاہيے كہ نرمى سے اس كو نصيحت كريں _ اور سمجھائيں اور اسے كہيں كہ وہ اپنے كاموں ميں توجہ اور احتياط سے كام لے تا كہ اس طرح كے واقعات پيش نہ آئيں _

اس صورت ميں بھى بچہ مارپيٹ اور ملامت كا مستحق نہيں ہے كہ جس كى وجہ سے وہ خوف زدہ ہوكر جھوٹ كا سہارا لے _ اور اگر اس نے شيشہ عمداً توڑا ہے اور اس كے ليے اسى نے سركشى اور ڈھٹائي كامظاہرہ كيا ہے پھر بھى مارپيٹ اور سرزنش مسئلے كا حل نہيں ہے _ كيونكہ مارپيٹ اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچے كى تربيت نہيں ہوسكتى _ اور نہ اس طرح سے اسے خرابيوں اور ضد بازيوں سے روكا جا سكتا ہے _ اس سلسلے ميں ماں باپ كو اس امر كى طرف خيال ركھنا چاہيے كہ بچہ فطرى اعتبار سے شر دوست اور بدجنس نہيں ہوتا _ اس كى شرارت اور ضد كا يقيناً كوئي خارجى سبب موجود ہے _ لہذا كوشش اور تحقيق كرنى چاہيے تا كہ شيشے توڑنے كا اصل سبب اور وجہ معلوم كى جائے _ جب سبب دور ہوجائے گا تو پھر اس طرح كے كاموں كى تكرار نہيں ہوگى _ مثلاً ہوسكتا ہے اس كى تحقير اور توہين كى گئي ہو _ ہوسكتا ہے اس كى طرف كم توجہ دى جاتى ہو _ ہوسكتا ہے ماں باپ كى سردمہرى كا شكار ہو ، ہوسكتا ہے ماں باپ يا كسى اور نے اس پر ظلم كيا ہو _ ہوسكتا ہے اس سے غير مساويانہ سلوك برتاگيا ہو _ ہوسكتا ہے ايسى ہى كسى وجہ سے بچے كے اندر ضد اور سركشى پيدا ہوگئي ہو _ اس صورت ميں ہوسكتا ہے كہ شيشہ اس نفسياتى كيفيت يا احساس كمترى كى وجہ سے يا دوسروں كى توجہ اپنى طرف كرنے كے ليے توڑا ہو يا ايسے ہى كسى سبب سے اس نے كوئي اور غلط كام سرانجام ديا ہو _ اگر ماں باپ اس كے غلط كام كى نفسياتى وجہ برطرف كرديں تو بچہ بھى غلط كام اور سركشى چھوڑدے گا تو پھر ڈانٹ ڈپٹ اور مارپيٹ كى ضرورت ہى باقى نہيں رہ جائے گى _ لہذا ايسے موقع پر بھى مارپيٹ اور ڈانٹ ڈپٹ كا خوف نہيں ہوگا كہ بچے كو جس كى وجہ سے جھوٹ بولنا پڑے_

3_ اگر آپ كو معلوم ہو كہ آپ كے بچے نے كوئي غلط كا م كيا ہے اور آپ اس كى راہنمائي كرنا چاہيں تو اس سے اعتراف جرم كر انے كے ليے ايك سخت گير اور بدتميز پوليس والے كى طرح بازپرس اور سوال نہ كريں ہوسكتا ہے وہ اپنى عزت بچانے كے ليے حقيقت چھپائے اور جھوٹ بولے _ ايسے موقع پر بہتر ہے كہ بغير سوال و جواب كے اس سے كہيں مثلاً اسى سے كہيں مجھے معلوم ہے كہ جو كتاب تم اپنے دوست سے امانتاً لے كر آئے تھے ابھى تم نے اسے واپس نہيں كى _ يہ اچھا نہيں ہے لوگوں كى امانت مقر ر موقع پر انہيں واپس كرنا چاہيے _ اپنے دوست كى كتاب فوراً اسے لوٹا دو اور اس سے معذرت كرو _

4_ بچہ كو ايسى دھمكى ہرگز نہ ديں كہ جسے انجام دينے كا آپ كا ارادہ نہ ہو _مثلاً اس سے نہ كہيے كہ تو نے فلان كام كيا تو تجھے مارڈالوں گا يا پيٹوں گا _ يا پوليس كے حوالے كردوںگا _ يا تجھے گھر سے نكال دوں گا _ يا تجھے فلاں كے ہاں دعوت پہ ساتھ نہ لے جاؤں گا _ كيوں كہ ايسى جھوٹى دھمكيوں سے آپ بچے كہ جھوٹ بولنا سكھائيں گے _ آپ كو چاہيے كہ بچے سے وہى بات كريں جسے آپ انجام دينا چاہتے ہيں _ اور جس كا انجام دينا درست بھى ہے _ وہى بات كريں جسے آپ انجام دينا چاہتے ہيں _ اور جس كا انجام دينا درست بھى ہے _

5_ جو ماں باپ اپنى اولاد سے سختى كرتے ہيں اور ان كى طاقت اور صلاحيت سے زيادہ ان سے توقعات ركھتے ہيں ہوسكتاہے وہ اس طرح سے بچوں كو جھوٹ كى طرف دھكيل ديں _ مثلاً اگر وہ جانتے ہوں كہ ان كا بچہ پڑھنے كى استعداد نہيں ركھتا اور يہ اس سے توقع ركھتے ہوں كہ مبشر بہترين نمبر لے كر آئے بلكہ كلاس ميں فرسٹ آئے _ ہر روز اس سے پوچھتے رہتے ہوں كہ كتنے نمبر ليے ہيں اور پھر اسے ڈانٹ ڈپٹ كرتے ہيں _ بچہ ميں چوں كہ يہ استعداد نہيں ہے وہ جتنى بھى كوشش كرتا ہے ماں باپ كى توقع كے مطابق نمبر نہيں لا پاتا_ بچہ چونكہ چاہتا ہے ماں باپ كى خوشنودى حاصل كرے اور ان كى ڈانٹ ڈپٹ سے ڈرتا ہے تو وہ مجبور ہوجاتا ہے كہ كبھى كبھى جھوٹ بولے يا كہے كہ امتحان كے موقع پر ميرے سر ميں درد ہونے لگا تھا _ ميں اچھے طريقے سے امتحان نہيں دے سكا _ يا كہتا ہے ميرے كلاس فيلونے ايسى باتيں كہيں جس سے ميرے حواس كھوگئے ، يا كہتا ہے استاد كو مجھ سے غرضى تھي اس ليے اس نے مجھے اچھے نمبر نہيں ديے _ يا كہتا ہے آج ميں نے پورے سو نمبر ليآ ہيں _

اگر اس بچے كے ماں باپ اس كى صلاحيت اور طاقت كو سمجھ ليتے اور اس سے بے جا توقعات نہ ركھتے تو اسے دروغ گوئي پر آمادہ نہ كرتے اور اس طرح اسے رفتہ رفتہ جھوٹ بولنے كى عادت نہ پڑتى _

6_ بعض ماں باپ جب اپنے ننھے بچے سے كوئي برا كام ديكھتے ہيں تو اس كو برى الذمہ قرارديتے ہيں اور يہ برا كام دوسروں كے ذمے لگاديتے ہيں يہاں تك كہ بعض اوقات حيوانات اور جمادات پر الزام دھرنے لگتے ہيں مثلاً كہتے ہين كہ حسن تو اچھا بچہ ہے اس نے يہ كام نہيں كيا يہ كسى بلى چوہے نے كيا ہے _ ہمسايے كے بچے نے كيا ہے _ يا كسى درخت نے كيا ہے _ گندى بلى نے كيوں يہ كام كيا ہے ؟

يہ نادان ماں باپ اپنے تئيں اچھا كام كررہے ہوتے ہيں كہتے ہيں بہتر ہے بچے كے سامنے برا كام كرنے كى بات كو كھولانہ جائے _ ليكن اس كے اخلاقى نقصانات اور بد آموزيوں سے غافل ہيں _ اسى كام كے دوبڑے نقصانات ہيں _

ايك طرف تو يہ بچے كو غلط بيانى كى تقلين كرنے كے مترادف ہے اور اسے جھوٹ بولنا سكھاتا ہے _ دوسرى طرف عملاً اور قولاً اسے يہ بتاتا ہے كہ غلط اور برے كام انجام دے كر انہيں دوسروں كى گردن پر ڈالا جا سكتا ہے _ اور يہ كام جھوٹ بولنے سے بھى زيادہ برا ہے اور اس كا نقصان بھى زيادہ ہے _

7_ اگر اتفاقاً آپ كے بچے جھوٹ بولين تو كوشش كريں كہ اس كى وجہ معلوم كريں اور اس كے علاج كے درپے ہوں _ البتہ اس بات پر زور نہ ديں كہ تحقيق و جستجو سے ان كا جھوٹ بولنا ثابت كيا جائے اور انہيں شرمندہ اور رسوا كيا جائے _ كيونكہ جھوٹ بولنا اگر ثابت ہوجائے تو اس كا اس كے سوا كوئي فائدہ نہ ہوگا كہ بچے كو شرمندہ اور رسوا كيا جائے اور الٹا وہ اس سے اور بھى بے باك ہوجائے گا _ اور اس كى جرات بڑھ جائے گى _

 


1_ اصول كافى ، ج 4، ص 36
2_ اصول كافى ، ج 4، ص 33
3_ مستدرك ، ج 2، ص 100
4_ در تربيت _ ص 148
5_ اصول كافى ، ج2، ص 78