آزادي

آزادي

بہت سے ماں باپ بچے كى تربيت اس ميں سمجھتے ہيں كہ اس كى آزادى محدود كردى جائے يا چھين لى جائے _ كہتے ہيں بچہ اچھائي اور برائي ميں تميز نہيں كرسكتا _ اس كى اتنى عقل نہيں ہوتى _ اگر اسے آزاد چھوڑديں تو وہ خرابى كرے گا _ چاہيے كہ اسے محدود اور پابند ركھا جائے _ ايسے اں باپ اپنے آپ كو بچے كى عقل كے مطابق فرض كرليتے ہيں _ اس كے مقام پر سوچتے ہيں _ اس كى جگہ ارادہ كرتے ہيں _ اس كى بجائے خود انتخاب كرتےہيں يہاں تك كہ اس كے كھانے ، پينے اور كھيلنے پر بھى كنٹرول ركھتے ہيں _ اور اس كے ہر مسئلے پر نظر ركھتے ہيں _ اور اپنے سليقے كے مطابق اس كى زندگى كا نظام چلاتے ہيں _ ان كے نزديك بچہ آزادى اور خود ارادى كا حق نہيں ركھتا _ اور ماں باپ كى اجازت كے بغير كام نہيں كر سكتا _ جو كچھ وہ اس كے ليے پسند كريں اسے ناچار بے چون و چرا كرتا ہوگا _ اور جسے وہ برا سمجھيں مجبوراً بغير كچھ كہے اسے ترك كرنا ہو گا _ ماں باپ كے تربيتى پروگرام اور ان كے حكم اور ممانعت پر بچوں كو اطاعت كے ھلاوہ چارہ نہيں _ پہلے خاندان اسى طريقے سے اپنى اولاد كى تربيت كرتے تھے اور وہ زبردستى اور بزور اپنے احكام پر عمل كراتے تھے _ دور حاضر ميں بھى بہت سارے خاندان اسى طريقے پرچل رہے ہيں _

مذكورہ طريقہ كاراگر چہ معمول رہا ہے اور آج بھى ہے ليكن يہ تربيت كى صحيح روش نہيں ہے _ اس ميں بہت سے عيوب و نقائص موجود ہيں _ اس پروگرام كے مطابق ممكن ہے كہ بچوں كى ايسى تربيت ہوجائے كہ وہ بہت حد تك آرام سے رہيں ، خاموش رہيں اور فرمانبردار ہيں اور ماں باپ كى مرضى كے مطابق عمل كريں _ ايسے بچے زيادہ تر بے دبے اور قوت ارادى سے عارى رہ جاتے ہيں _ ان كى تخليقى صلاحيتيں خاموش ہوجاتى ہيں _ اہم كاموں ميں ہاتھ ڈالنے كى جرات ان ميں نہيں ہوتى _ اور وہ عزم و ارادہ سے محروم رہ جاتے ہيں _ دشوار ذمہ داريوں كو قبول كرنے سے ہچكچاتے ہيں _ يہ قيادت نہيں كرسكتے اور كمانڈر نہيں بن سكتے ليكن فرمانبردارى ان كے ليے مشكل نہيں ہوتى ايسے بچے ستم اٹھانے اور ظلم كو قبول كرنے كے عادى ہوجاتے اور بڑے ہوكر اس برى عادت سے دستبردار نہيں ہوتے چونكہ يہ لوگ آزادى سے محروم رہے ہيں اور اپنى اندرونى خواہشات كى تكميل نہيں كرسكے ہيں _ ان كے دل ميں گويا ايك گرہ سى پڑگئي ہے _ ممكن ہے يہ گرہ بہت سى نفسياتى اور اعصابى بيماريوں كا باعث بن جائے _ يہ بھى ممكن ہے كہ ايسے عقدہ افراد ردّ عمل كے طور پر ظلم كرنے لگيں تا كہ اس ذريعے سے اپنے ماں باپ اور پورے معاشرے سے انتقام لے سكيں اور اپنى كمى كو پورا كرسكيں _ انہى برائيوں كى بناء پر حال ہى ميں بعض دانشوروں اور ماہرين نفسيات نے اس ظالمانہ طرز تربيت كے خلاف علم جہاد بلند كيا ہے اور اس كى سخت مذمّت كى ہے اور بچے كى كامل آزادى كى حمايت ميں آوازى اٹھائي ہے _ ان دانشورون نے ماں باپ كو نصيحت كى ہے كہ اپنے بچے كو بالكل آزاد چھوڑديں تا كہ وہ اپنے ذوق و سليقے كے مطابق چلے _ وہ كہتے ہيں كہ بچے كو آزادى ديں كہ وہ جو كام چاہيے كرے اگر چہ وہ كام آپ كى نظروں ميں درست نہ ہو يا بچہ اس كام كى صلاحيت نہ ركھتا ہو _ اس چيز سے بچہ آزادى مزاج ہوكر پروان چڑھے گا اور اس كا دل كسى گرہ سے دوچار نہيں ہوگا _

معروف دانشور فرائڈ اسى نظرے كا حامى ہے اور اس نے مشرق و مغرب ميں اپنے اس نظريہ كے بہت سے پيروكار پيدا كرليے ہيں _ بہت سے ماں باپ نے بھى اس نظريے كو قبول كركے اس پر عمل كيا ہے اور اپنے بچوں كوكامل آزادى دے وہى ہے ايسے ماں باپ اپنے بچوں كو كوئي حكم نہيں ديتے اور ان سے بے تعلق رہتے ہيں _ يہ طرز عمل بھى درست نہيں _ اس ميں بھى بہت سے نقائص موجود ہيں _ وہ بچے جو اس طرز عمل كے مطابق پروان چڑھتے ہيں وہ كاموں كى انجام وہى ميں كسى بھى محدوديت كے

قائل نہيں ہوتے _ ايسے بچے زيادہ تر خود غرض ، شہوت پرست اور دھونس دھاندلى جمانے والے ہوتے ہيں اور دوسروں كے ليے كسى حق كے قائل نہيں ہوتے دوسروں كے حقوق پر ڈالتے ہيں _ ماں باپ سے چين ليتے ہيں _ بہن بھائيوں اور دوسرے بچوں كو تكليف پہنچا تے ہيں _ ہمسايوں اور رشتے داروں كو اذيت ديتے ہيں _ ان كى خواہشات چونكہ مطلق آزادى كى حامل ہوتى ہيں لہذا ايسے بچے عموما افراط اور زيادتى كى طرف مائل ہوتے ہيں _ يہ افراط ان كے ليے خرابى اور تباہى كا باعص بنتى ہے _ افراط اور نا معقول آزادى بچے كو اضطراب اور پريشانى ميں مبتلا كرديتى ہے ممكن ہے ان كى تو قعات اس ہمد تك جا پہنچيں كہ ان كى انجام دہى ايك شكل كام بن جائے _ اس طرح كے بچے حب بڑے ہوجا تے ہيں تو دوسروں سے ان كى يہ توقع ہوتى ہے كہ ان كے ماں باپ كى طرح ان كى اطاعت كريں _ وہ چاہتے ہيں كہ ہر جگہ ان كى فرمااں روائي ہو _ وہ كسى كى اطاعت قبول نہيں كرتے معاشر ے كے افراد پر ان كى نہيں چلتى اور جب وہ شكست كا سامنا كرتے ہيں تو پھران كے دل ميں ايك گرہ پڑ جاتى ہے _ ايسى صورت ميں وہ گوشہ نشين ہو جاتے ہيں يا اپنے شكست كى تلافى كے ليے ظلم اور خطر ناك كام انجام ديتے ہيں _ بے قيد آزادى كبھى بچے كى ہلاكت كا باعث بھى بن جاتى ہے _ شايد بچے كادل يہ چاہتا ہو كہ وہ بغير كسى پابندى كے سڑك پردورڈے يا بجلى كے ننگے تار كو چھو ئے يا گرم سماوار كو ہاتھ لگا ئے _ اس بناء پر تربيت كے يہ دو طريقے كہ جوايك دوسرے كے مقابل ہيں ايكم افراط كا حافل ہے اور دوسرا تفريط كا _ يہ دونوں طرز عمل درست نہيں ہيں _ بچے كى تربيت كے معاملے ميں ان پر عمل پيرا نہيں ہوا جاسكتا _ اس معاملے ميں بہترين قابل انتخاب روش بچے كى محدود اور معتدل آزادى ہے _ اللہ نے انسانى وجود كو مختلف جبلتوں اور محسوسات كا مركب بنا يا ہے كہ جو انسانى شخصيت كى تكميل كے ليے سودمند ہيں _ مثلا محبت ، نفرت ، شجاعت ، خوف ، دفاع ، جستجو ، تقليد اور كھيل كا غوغا و غيرہ يہ داخلى كيفيات و محسوسات اللہ كى طرف سے انسانى قوتوں كا سر چشمہ ہين اورزندگى كى مشكلات كو حل كرنے كے ليے انسان كو عطا كى گئي ہيں _ انہيسے انسانى شخصيّت تشكيل پاتى ہے _ ان جبلتوں كو آزاد ماحول ميں پرورش اور رشد كا موقع ملنا چاہيے _ انہيں كچلنے سے انسانى شخصيّت برى طرح مجروح ہو جاتى ہے _

خوف خطرات سے بچنے كے كام آتا ہے غصہ دشمن پر حملہ آور ہونے كے كام آتا ہے جستجو حصول علم كے ليے ضرورى ہے _ جس شخص ميں خوف اور غصہ نہ ہو وہ ناقص انسان ہے يہ درست نہيں ہے كہ بچے كے ان احساسات كو دباد يا حائے يا كچل ديا جائے _ آزاد ماحول ميں بچہ ان احساسات سے استقادہ كحرسكتا ہے آزادانہ عمل كرسكتا ہے ، اپنى شخصيّت كو پروان چڑھا سكتا ہے اور اجتماعى زندگى كے ليے اپنے تئيں تيار كرسكتا ہے _

دين مقدس اسلام نے آزادى كى طرفى خصوصى تو جہ دلائي ہے _ نمونے كے طور پر چند ايك احاديث ملا حظہ فرمائيں _

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا :

لا تكن عبد غيرك فقد جعلك اللہ حدا

غيرہ كا بندہ نہ بن اللہ نے تجھے آزاد پيدا كيا ہے (1)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا:

جس شخص ميں يہ پانچ خصوصيات نہ ہوں اس كا وجود فائدہ مند نہيں ہے _

اوّل _ دين

دوم _ عقل

سوم _ادب

چہادم _ آزادي

پنجم _ خوش اخلاقى (2)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ وآلہ وسلّم نغ فرمايا:

بچہ سات سال كى عمر تك فرماں رواہے _ سات سال كى عمر سے لے كر چو دہ سال تك فرماں بروار ہے چودہ سال كے بعد سات سال ماں باپ كا وزير اور مشير ہے (3)

البتہ مطلق آزادى بھى ممكن نہيں ہے _ معاشر ے ميں زندگى بسر كرنے والا انسان كا ملانہيں رہ سكتا كيونكہ معاشرے كے تمام افراد آزادى اور زندگى كا حق ركھتے ہيں _ ايك فرد كى آزادى كے ليے دوسروں كے حقوق پا مال نہيں كيے جا سكتے _ بچے كو بچپن ہى سے سمجھا دينا چاہيے كہ بے قيد و شرط آزادى كے ساتھ زندگى بسر نہيں كى جاسكتى _ دوسرے لوگ بھى زندگى اوور كے حقدار ہيں _ مثلا بچہ چاہتا ہے كہ كھيلے _ كھيل اس كى تربيت كے ليے بھى ضرورى ہے _ اسے اس بات كى آزادى ہو ناچا ہيے كہ اپنے ذوق اور سليقے كے مطابق كھيلے ليكن اس كھيل ميں ماں باپ ، ہمساسوں اور دوسرے بچوں كے حقوق كا بھى خيال ركھے اور ان كى آزادى ميں حائل نہ ہو _ درست ہے كہ اسےكھيلنا چاہيے ليكن اسے يہ بھى معلوم ہو نا چاہيے كہ اسے لوگوں كے در و دبوار خراب اور گندہ كرنے اور شيشے توڑ نے كا حق نہيں _ لہذا كھيل ميں تو اسے آزادى ہے ليكن ايك محدود او رمشروط آزادى نہ كہ بے قيد و شرط آزادى _

بچہ اپنے غصّے كو استعمال كرسكتا ہے _ اسے مناسب موقعے پر استعمال كركے اپنال دفاع كرسكتا ہے _ ليكن اسے يہ بھى معلوم ہو نا چاہيے ہ غصّے كے وقت اسے يہ حق حاصل نہيں كہ گھر كے سامان كى توڑ پھوڑ شروع كردے يا ماں باپ اور دوسرے لوگجوں كو كوى نقصان پہنچائے يا كسى كى تو ہين كرے ياكسى كا حق پامال كرے _

اس حكمت عملى كے ليے ماں باپ كو چاہيے كہ بچے كى عمر ، فہم ، طاقت ، خواہشات اور جذبات كو ملحوظ نظر ركھيں اور اس كے اعمال او رحركات كو دوحصّوں ميں تقسيم كريں _

1_ وہ كام جو اس كے ليے جائز ہيں _

2_ و ہ كام جن كا وہ مجاز نہيں ہے _

انھيں ان ميں سے ہر ايك كى حدود پورى طرح سے واضح كرنا چاہيے _ اس كے بعد انہيں چا ہيے كہ جائز امور ميں بچوں كو پورى آزادى ديں تا كہ وہ اپنى جبلّت اور طبيعت كے مطابق عمل كرسكيں اور اپنى شخصيّت كو پر وان چڑھا سكيں _ بچے كو اجازت دينى چاہيے كہ وہ خود غور كرے _ ارادہ كرے اور كام كے _ نہ صرف بچے كو كامل آزادى دينى چاہيے بلكہ ضرورى مواقع پر اس كى مدد بھى كرنا چاہيے ليكن جو كام اس كے ليے مناسب نہيں ان سے سختى سے رو كنا چاہيے اور ان كى خلاف ورزى كى اجازت نہين دينا چاہيئے

اس طرز عمل سے بچے كى آزادى سلب نہيں ہو گى او رنہ ہى اس كى صلاحيتيں كچلى جائيں گى _ بلكہ اس كو آزادى ہو گى البتہ حدود كے اندر _ اور ساتھ ہى اس كے جذبات اور طبيعت پر كنٹرول بھى پيدا ہو جائے گا _ جبلّت پر كنٹرول اس كو كچلنے اور اسے پيچھے كھينچنے كے معنى ميں نہيں ہ8ے بلكہ اس كا مطلب ہے نفس پر قابو اور تقويت ارادہ تا كہ وہ اپنى صلا حيتوں كو غلط كاموں پہ صرف نہ كرے بلكہ انہيں مفيد اور سودمند كاموں كمے ليے جمع ركھے _

آخر ميں ماں باپ كو نصيحت كى جاتى ہے كہ پہلے تو وہ صحيح اور غير صحيح كاموں كى حدود كو قطعى طور پر معين كريں تا كہ بچہ اپنى ذمہ دارى كو سمجھ سكے _ مثلا ايسے كام جو بچے يا خاندان كى سلامتى اور امن و سكون كے ليے نقصان وہ ہيں _ نيز ايسے كام جو جسمانى يا مالى طور پر ضرر ساں ہيں _ اسى طر ح شريعت او رقانون كے خلاف كام نيز اخلاقى اور معاشرتى اصولوں كے خلاف كام او رايسے كام جو دوسروں كى آزادى ميں حائل ہو تے ہيں اور ان كے حقوق ضائع كرنے كا باعث بنتے ہيں انھيں بليك لسٹ كرديا جاناچاہيے او ربچے كو ان سے سختى سے روك ديناچاہيے _ ايسے كاموں كے علاوہ ديگر كاموں ميں بچہ بالكل آزاد ہو ناچاہيے _ اور ان امور ميں اسے خود سو چنا چاہيے - خود اراده کرنا چاہيے - او مخور انہيس انجام دينا چاہيے -

دوسرايہ كہ بچے كى تو نائي كو ملحوظ ركھنا چاہيے _ اس كے عقلى رشد اور جسمانى طاقت كے مطابق اس كے ليے نظم و ضبط ہو نا چاہيے اور سخت قسم كے نظم و ضبط اور غير منطقى احكام سے پرہيزكرنا چاہيے _

تيسرا يہ كہ ماں باپ كو چاہيے كہ وہ اپنے قول پر پكے رہيں اور بچے سغ پورى صراحت سے كہہ دينا چاہيے كہ يہ كام تو انجام دنے سكتا ہے اور وہ كام تجھے حتماترك كرنا چاہيے

ماں باپ كو چاہيے كہ بے جا احساسات او رجذبات كو ايك طرف ركھ ديں _ شك و شبہ سے اجتناب كرين تا كہ بچہ اپنى ذمہ دار ى كو سمجھے اور اپنے فريضہ كى ادائيگى ميں شك نہ كے _

امام حسن عسگرى عليہ السلام فرماتے ہيں :

بچپن ميں كسى بچے كى ماں باپ كے حكم كے خلاف جسارت اور بے اعتنائي

بڑا ہو كراس كے سر كش اور نافرمان ہو جانے كا باعث بنتى ہے (4)

چوتھا يہ كہ ماں باپ كو چاہيے كہ آپس ميں ہم آہنگ ہوں او راہتلاف سے سختى سے پہيز كري'ں اور اپنے اختلافات سے بچے كو شك اور دو دلى ميں مبتلا نہ كرديں _

 

1_ بحار الانوار ج 77 ، ص 214
2_ بحار ، ج ، 1 ، ص 83
3_ وسائل ، ج 15 ، ص 195
4_ بحار ، ج ، 78، ص 374