جسمانى سزا

جسمانى سزا

بہت سے والدين بچوں كى تربيت كے ليے جسمانى سزا ضرورى سمجھتے ہيں اور اكثر اساتذہ كے ذہن ميں بھى يہ سودا سمايا ہوتا ہے لوگوں ميں مشہور ہے كہ ''لاتوں كے بھوت باتوں سے نہيں مانتے _ گزشتہ زمانے ميں اس طرز عمل كے حامى بہت افراد تھے _ اور يہ طريقہ كارائج بھى تھا _ سكول كى ضروريات ميں سے ڈنڈا، زنحير اور كوڑا و غيرہ بھى تھا _ جو والدين اپنى اولاد كى تربيت كے خو اہش مند ہوتے وہ انہيں مارنے سے دريغ نہ كرتے _ ليكن بہت سے دانشور بالعوم اور ماہرين نفسيات بالخصوص اس طرز عمل كو بچے كے ليے نقصان وہ سمجھتے ہيں _ اور اس سے منع كرتے ہيں دنيا كے ترقى يافتہ ممالك ميں جسمانى سزا پر تقريباً تقريباً پابندى ہے اور اس سلسلے ميں كئي قوانين منظور اور نافذ ہوچكے ہيں _ دانشور كہتے ہيں _

جسمانى سزا سے بچے كى اصلاح نہيں كى جا سكتى _ ممكن ہے ظاہرى طور پر اس كا تھوڑا بہت اثر ہوليكن يہ ناقابل تلافى نقصان كى حامل بھى ہوتى ہيں مثلاً

1_ ماركھا كھا كر بچہ اس بات كا عادى ہوجاتا ہے كہ وہ زور اور طاقت كے سامنے بلا چون و چرا سر جھكالے _ اور ہوسكتا ہے اس طريقے سے وہ يہ سمجھے لگے كہ طاقت ہى كاميابى كى كليد ہے _ اور جب بھى غصّہ آئے مارناچاہيے _ اور اس سلسلے ميں كچھ لحاظ نہيں ركھنا چاہيے _ مارپيٹ كے ذريعے ماں باپ جنگل كے وحشيانہ قوانين اپنے بچے پر لاگوكرديتے ہيں _

2_ ماركھانے والے بچے كے دل ميں والدين كے بارے ميں كينہ و نفرت پيدا ہو جاتى ہے اورزيادہ تريہى ہوتا ہے كہ وہ آخر تك اسے فراموش نہيں كرتا _ ہوسكتا ہے وہ كسى رد عمل كا مظاہرہ كرے اور سركش ہوجائے _

3_ مارپٹائي بچے كو بزدل بناديتى ہے _ اس كے ذريعے سے بچے كى شخصيت بھى كچلى جاتى ہے اور اس كا روحانى توازن بگڑجاتا ہے اور وہ غصّے اور دوسرى نفسياتى بيماريوں ميں مبتلا ہوجاتا ہے _

4_ جسمانى مارپيٹ زيادہ تر بچے كى اصلاح نہيں كرتى اور اس كے اندر اصلاح كا جذبہ نہيں ابھارتى _ ممكن ہے مارپيٹ اور ڈنڈے كے خوف سے ظاہراً وہ برا كام نہ كرے _ اور دوسروں كى موجودگى ميں وہ كچھ نہ كرے ليكن اس كى حقيقى برائي اس طرح سے دور نہيں ہوتى اور باطن موجود رہتى ہے اور بعد ازاں كسى دوسرسى صورت ميں آشكار ہوتى ہے _

ايك صاحب كہتے ہيں:

ميرے بارہ سال بيٹے نے المارى سے ماں كے پيسے اٹھاليے _ اس كام پر ميں نے اس كى ڈنڈے سے پٹائي كى _ اس كے بعد وہ خوف كے مارے المارى كے قريب نہيں جاتا تھا _

اور يہ درست ہے كہ بچے نے اس كے بعد المارى سے پيسے نہيں اٹھائے اور اس لحاظ سے باپ نے اپنا مقصد پاليا ہے ليكن معاملہ اتنا سادہ نہ تھا _ يہ قصہ آگے بڑھا _ بعد ازاں وہ بس كا كرايہ ادا نہ كرتا _ ماں سوداسلف كے ليے پيسے ديتى تو اسى ميں چراليتا _ بعد ميں معلوم ہو اكہ اس نے اپنے دوستوں كے بھى پيسے چرائے ہيں _ گويا مارنے بچے كو مجبور كيا وہ ايك كام كا تكرار نہ كرے _ ليكن اس كام كى اصل حقيقت تو ختم نہ ہوئي _ (1)

ايك دانشور لكھتے ہيں :

جن بچوں كى مارپٹائي ہوتى رہتى ہے وہ بعد از ان ڈھيلے ڈھالے اور بيكارسے شخص بن سكتے ہيں _ يا پھر دھونس ڈعاندلى جماتے ہيں گويا پورى زندگى اپنے افسردہ بچپن كا انتقام ليتے ہيں _ (2)

مسٹررسل لكھتے ہيں:

ميرے نظرليے كے مطابق بدنى سزا كسى لحاظ سے بھى درست نہيں ہے _ (3)

اسلام نے بھى جسمانى سزا كو نقصان وہ قرار ديا ہے اور اس سے روكا ہے _

حضرت على عليہ اسلام فرماتے ہيں:

عقل مند ادب كے ذريعے نصيحت حامل كرتا ہے _ يہ تو صرف حيوانات ہيں جو ماركے بغير ٹھيك نہيں ہوتے _ (4)

حضرت صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

جو شخص بھى دوسرے كو ايك تازيانہ مارے گا _ اللہ تعالى اس پر آگ كا تازيانہ برسائے گا _ (5)

رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

تعليم و تربيت ہيں پيار محبت سے کام ہيں اور سخت گيري نه کريں کيونکه دانش مند استاد سخت گير استاد ہے بہتر ہوتا ہے (6)

ايك شخص كہتا ہے كہ ميں نے امام موسى بن جعفر عليہ السلام سے اپنے بيٹے كى شكايت كى تو آپ نے فرمايا:

اسے مارنانہ البتہ اس سے كچھ دور رہو ليكن تمہارى يہ دورى اور ناراضى زيادہ ديرے كے ليے نہ ہو _ (7)

بہر حال بدنى سزائيں تربيت كے ليے نہايت ہى خطرناك ہيں اور حتى الامكان ان سے بچنا چاہيے ليكن اگر كوئي دوسرا طريقہ مؤثر نہ ہو اور ماركے علاوہ كوئي چارہ كارنہ ہو تو ايك ضرورت كى حد تك اس سے كام ليا جا سكتا ہے _ اسلام نے بھى اس كے ليے اجازت دى ہے مثلاً رسول اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

اپنے بچوں كو چھ سال كى عمر ميں نماز كے ليے كہو اور اگر نصيحت اور ڈانٹ مؤثر نہ ہوں اور وہ تمہارے حكم كى خلاف ورزى كريں _ تو سات سال كى عمرميں تم انہيں ماركر نماز كے ليے كہہ سكتے ہو _(8)

ايك اور حديث ميں امام محمد باقر يا امام جعفر صادق عليہما السلام نے فرمايا:

جب بچہ نو سال كى عمر كو پہنچے تو اس وضو كرنا سكھاؤ اور اس سے كہو كہ وضو كرے اور نماز پڑھے _ اور اگر وہ نہ مانے تو مار كر نماز پڑھاؤ _(9)

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا:

اگر تمہارا خادم خدا كى نافرمانى كرے تو اسے مارو اور اگر تمہارى نافرمانى كرے تو اسے معاف كردو _ (10)

امير المومنين عليہ السلام ہى فرماتے ہيں:

جس طرح سے اپنے بيٹے كو سرزنش كرواسى طريقے سے تيمم كو سرزنش كرو اور جس مقام پر اپنے بيٹے كو سرزنش كے ليے مارو اس مقام پر تيمم كے ليے بھى اس سے كام لو _ (11)

ايك شخص نبى اكر م (ص) كى خدمت ميں آيا اور عرض كى ايك تيمم بچہ ميرى سرپرستى ميں ہے كيا ميں اسے سرزنش كے ليے مارسكتا ہوں فرمايا:

جس مقام پر تم اپنے بيٹے كو تربيت كے ليے مارسكتے ہو اس مقام پر تيمم كى تربيت كے ليے بھى مارسے كام لے سكتے ہو _ (12)

بہر حال جب تك ضرورت نہ پڑجائے اس حساس اور خطرناك وسيلے سے كام نہيں لينا چاہيے _ اور جب ضرورى ہو اس وقت بھى احتياط كا دامن ہاتھ سے نہيں چھوڑنا چاہيے _ اور سزا جچى تلى اور سوچى سمجھى ہوئي چاہيے _

ايك شخص نے رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى خدمت ميں عرض كى ميرے گھر والے ميرى نافرمانى كرتے ہيں ميں كس طريقے سے انہيں تنبيہ كروں _ فرمايا:

انہيںمعاف كردو _

اس نے دوسرى اور تيسرى مرتبہ يہى سوال كيا تو حضور(ص) نے يہى جواب ديا _

اور اس كے بعد فرمايا:

اگر تم انہيں سرزنش كرنا چاہتے ہو تو پھر تمہيں دھيان ركھنا چاہيے كہ سزا ان كے جرم سے زيادہ نہ ہو اور چہرے پر مارنے سے اجتناب كرنا _ (13)

حضرت صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

ضرورت كے موقع پر بچے اور خادم كو تنبيہ كے ليے پانچ يا چھ ضربوں سے زيادہ نہ مارو او رزيادہ زور سے بھى نہ مارو _ (14)

تنبيہ كے موقع پر كوشش كريں كہ دوسروں كى موجودگى ميں نہ ہو كيونكہ روحانى طور پر بچے پر اس كے برے اثرات مرتب ہوئے ہيں اور اسے وہ عمر بھى نہيں بھلاتا _ مارحدسے بڑھ جائے تو اسلام ميں اس كے ليے ديت اور جرمانہ مقرركيا گيا ہے _ لہذا اس حد تك نہيں مارنا چاہيے _ اسلام كے قوانين كے مطابق اگر مارنے كے نتيجے ميںكسى كا چہرہ سياہ پڑجائے تو مارنے والے كو اس چھ طلائي دينار دينا ہوں گے _ اور اگر چہرہ سبز پڑجائے تو تين دينار اور گر سرخ ہوجائے تو ڈيڑھ دينارے_(15)

ماں باپ كو حق نہيں پہنچتا كہ وہ پاگلوں كى طرح بيچارے بچے كى جان كے درپئے ہو جائيں _ اور اس مكوں اور لاتوں سے ماريں _ يازنجيز اور ڈنڈے سے اس كا بدن سياہ كرديں _

بہر حال ضرورت كے موقع پر اسلام نہ فقط بدنى سزا كو مفيد سمجھتا ہے بلكہ اس كا حكم ديتا ہے _كيونكہ بے حد و حساب اور مطلق آزادى كا بھى مفيد نتيجہ برآمد نہيں ہوتا _ يہى بے حساب اور غلط آزادى ہے كہ جس نے مغرب كے بچوں اور نوجوانوں كو بگاڑديا ہے _

 

 

1_ روان شناسى تجربى كودك، ص 263
2_ روان شناسى تجربى كودك، ص 266
3_ در تربيت ، ص 169
4_ غرر الحكم ، ص 236
5_ وسائل، ج 19 ، ص 12
6_ بحار، ج 77، ص 175
7_ بحار، ج 104 ، ص 99
8_ مستدرك، ج 1 ، ص 171
9_ وسائل، ج 3 ، ص 13
10_ غرر الحكم ، ص 115
11_ وسائل ،ج 15 ، ص 197
12_ مستدرك ، ج 2 ، ص 625
13_ مجمع الزوائد ، ج 8، ص 106
14_ وسائل ، ج 18 ، ص 581
15_ وسائل ، ج 19 ، ص 295