ولادت كے بعد

ولادت كے بعد

بچہ پيدا ہوتا ہے تو ہوا اس كے پيپھڑوں ميں داخل ہوجاتى ہے _ اس سے وہ سانس لينا شروع كرتا ہے عمل تنفسّ كے آغاز كے بعدو وہ زندگى ميں پہلى مرتبہ روتا ہے _ بچے كا يہ رونا اس ہوا كے ردّ عمل كے طور پر ہوتا ہے كہ جو اس كے پھيپھڑوں ميں داخل ہوتى ہے _ اگر وہ سانس نہ لے اورنہ روئے تو اسے پاؤں سے پكڑ كر الٹا كركے اس كے سرپر آہستہ آہستہ ہاتھ مارتے ہيں تا كہ وہ سانس لے _ پھر اس كے بند ناف كو باندھ ديتے ہيں اور بچّے كے بدن سے ابھر ہوئي ناف كو جراثيم سے پاك كسى چيز سے كاٹ ديتے ہيں اور ناف كو بھى جراثيم سے پاك كرتے ہيں _ اس كے بعد بچے كو صابن كے ساتھ نيم گرم پانى سے نہلا كر لباس پہناديتے ہيں _ كچھ دير تك بچے كو غذا كى ضرورت نہيں ہوتى _ پھر نيم گرم پانى ميں چينى ملا كر اس كے منہ ميں ميں قطرہ قطرہ ڈالتے ہيں _

بچہ عموماً حالت خواب ميں رہتا ہے _ اسے استراحت كى بہت ضرورت ہوتى ہے كيونكہ اس كى زندگى كى داخلى و خارجى حالت بالكل تبديل ہوچكى ہوتى ہے _ پہلے وہ ماں كى غذا ہى سے استفادہ كرتا تھا ليكن اب اس كا اپنا نظام ہضم كام كرنا شروع كرديتا ہے_

پہلے بچہ اس آكسيجن سے استفادہ كرتا تھا جو ماں كے تنفس سے حاصل ہوتى تھى ليكن اب اس كا اپنا نظام تنفس كام كرنا شروع كرديتا ہے اور اس كا اپنا نظام اس كے ليے آكسيجن حاصل كرتا ہے اور بدن كے ليے نقصان دہ ہوا خارج كرتا ہے _ اس كى داخلى كيفيت ميں بہت بڑى تبديلى واقع ہوچكى ہوتى ہے _ نيز اس كى خارجى حالت اور ماحول بھى بدل چكا ہوتا ہے _

پہلے وہ رحم مادر ميں تھا جہاں درجہ حرارت 3765 درجے سنٹى گريڈ تھا ليكن اب وہ اس ماحول ميں ہوتا ہے كہ جس كا درجہ حرارت مستقل نہيں ہے پيدائشے كے وقت بھى اس كے جسم و روح پر مختلف قسم كا دباؤپڑتا ہے جس كى تلافى كى ضرورت ہوتى ہے _ اس عالم ميں بچہ ايك ايسے بيمار كے مانند ہوتا ہے جو عمل جرّاحى كے بعد ابھى ابھى آپريشن تھيڑسے باہر آيا ہو جسے ہر چيز سے زيادہ استراحت كى ضرورت ہوتى ہے _ وہ سانچے ميں ڈھل كے نكلى ہوئي نئي نئي ايسى مشينرى ہے كہ جس كى ديكھ بھال اور خصوصى توجہ ضرورى ہے _ اس لحاظ سے بچے كے ليے جو بہترين كام انجام ديا جا سكتا ہے وہ يہ ہے كہ اس كے ليے آرام و ہ ماحول فراہم كيا جائے تا كہ وہ آرام كرسكے _ جس سخت عمل سے گزارہے اس كى تلافى كرسكے اور اپنى زندگى كو نئے حالات كے مطابق ڈھال سكے _

ڈاكٹر جلالى لكھتے ہيں _

بچے كو ہنسانا، اسے مستقل چومتے رہنا اور ہر وقت اسے اٹھا كر دوسروں كو دكھانا اور اس كے كپڑے تبيدل كرتے رہنا تا كہ وہ خوبصورت دكھائي دے يہ سب ايسے نامطلوب كام ہيں كہ جن سے اجتناب كرنا چاہيے بچہ كھيل كا سامان نہيں ہے اسے پھلنے پھولنے كے ليے آرام وہ ماحول كى ضرورت ہے _ ايسا كام نہيں كرنا چاہيے كہ اس كے آرام كى داخلى حالت درہم برہم ہوجائے _ اس كے سامنے اونچى آواز ميں نہيں بولنا چاہيے _ اسے كبھى اونچا ، كبھى نيچا نہيں كرنا چاہيے _ اسى طرح اسے چومنا چاٹنا ، اس پہ دباؤ ڈالنا يہ سب چيزيں اس كے منظم رشد اور آرام پر اثر انداز ہوتى ہيں _ (1)

ان كو بھى استراحت اور تقويت كى شديد ضرورت ہوتى ہے دوران حمل نو ماہ كے عرصے ميں اس نے بہت مشكلات اٹھائي ہوتى ہيں وہ بالكل ضعيف اور ناتوان ہوچكى ہوتى ہے _ خاص طور پر وضع حمل كے دوران وہ جس جا نگل مرحلے سے گزرى ہوتى ہے اور جس طرح

سے اس كا خون بہا ہوتا ہے اس كا تن بدن خستہ حال ہوچكا ہوتا ہے _ اس عالم ميں مہربان شوہر پر لازم ہے كہ وہ اس كے ليے مكمل آرام كے اسباب فراہم كرے اور غذا كے ذريعے سے اس كى قوت بحال كرے _ اگر ڈاكٹر اور دوا كى ضرورت ہو تو پورى طرح سے معالجہ كرے تا كہ اس كى جسمانى ناتوانى دور ہوسكے اور صحت معمول پر آسكے اور پہلے كى سى سلامتى اور شادابى پلٹ سكے _ تا كہ وہ اپنے سالم جسم اور شاداب روح سے پھر سے زندگى بسر كرنے لگے اور اپنے بچوں اور شوہر كى خدمت كر سكے _ اگر شوہر نے اس امر ميں كوتاہى كى تو اس كى شريكہ حيات رنجور اور ناتوان رہ جائے گى اور اس كا نتيجہ بعد ميں شوہر كو خود بھگتنا پڑے گا _

1_ روانشناسى كودك ص 223