احساس وابستگي

احساس وابستگي

نومولود بہت كمزور سا وجود ہے جو دوسروں كى مدد كے بغير زندہ رہ سكتا ہے نہ پرورش پا سكتا ہے نو مولود ايسا محتاج وجود ہے جس كى ضروريات دوسرے پورى كرتے ہيں _ جب وہ رحم مادر ميں تھا تواسے نرم و گرم جگہ ميسّر تھى _ وہاں اس كى غذا اور حرارت كياحتياج ماں كے ذريعے پورى ہو رہى تھى _ وہ چين سے ايك گوشے ميں پڑاتھا اوراپنى ضروريات كے ليے بالكل بے فكر تھا _ اب جب كہ وہ دنيا ميں آيا ہے تو احساس نياز كرتا ہے _ بچے كا پہلا پہلا احساس شايد سردى كے بارے ميں ہوتا ہے اور اس كے بعد بھوك كے بارے ميں _ اسے پہلى بار احساس ہوتا ہے كہ حرارت اور غذا كے ليے وہ دوسرے كا محتاج ہے _ اس مرحلے ميں وہ كسى كو نہيں پہچانتا _ اپنى ضروريات كو فطرتاً سمجھتا ہے اور ايك انجانى قدرت مطلقہ كى طرف متوجہ ہوتا ہے _ اپنے تئيں اس قدرت مطلقہ سے منسلك سمجھتا ہے _ اسے انتظار ہوتا ہے وہ قدرت اس كى ضروريات پورا كرے گى _ بچہ زندگى كى ابتدا ہى ميں كسى سے وابستگى كا احساس كرتا ہے اور يہ احساس زندگى كے تمام مراحل ميں اس كے ساتھ رہتا ہے _ بھوك يا پياس لگے تو دوسروں كو متوجہ كرنے كے ليے روتا ہے _ ماں كے سينے سے چمٹ جاتا ہے اور اس كى محبتوں اور لوريوں سے سكون محسوس كرتا ہے _ اگر اسے كوئي تكليف ہو يا كسى خطرے كا احساس كرے تو ماں كے دامن ميں پناہ ليتا ہے _

يہى وابستگى اور احساس ضرورت ہے جو بعد ميں دوسرے لوگوں كى تقليد كى صورت ميں ظاہر ہوتا ہے_ يہ ايك نفسياتى وابستگى ہے _ بچہ اپنے اخلاق اور طرز عمل كو اپنے ارد گردوالوں كے اخلاق اور طرز عمل كے مطابق ڈھالتا ہے _ يہى احساس تعلق ہے جو بعد ازاں كھيلوں اور دوسرے سے مل جل كر كام كرنے اور دوست بنانے ميں ظاہر ہوتا ہے _ بيوى بچوں سے الفت و محبت كا سرچشمہ بھى يہى احساس ہے اجتماعى زندگى كى طرف ميلان ، باہمى تعاون اور مل جل كر كام كرنے كا مزاج بھى اسى احساس سے تشكيل پاتا ہے _ احساس وابستگى كو كوئي معمولى سى چيز نہيں سمجھنا چاہيے بلكہ يہ بچے كى اخلاقى اور سماجى تربيت اور اس كى تكميل شخصيت كا ايك اہم ذريعہ ہے _ اگر اس احساس وابستگى و تعلق كى صحيح طور پر راہنمائي كى جائے تو بچہ آرام و سكون محسوس كرتا ہے _ وہ پر اعتماد اور خوش مزاج ہوجاتا ہے _ اچھى اميدوار توكل كى كيفيت اس ميں پيدا ہوجاتى ہے _ دوسروں كے بارے ميں اس ميں حسن ظن پيدا ہوجاتا ہے _ اس طرح معاشرتى زندگى كى طرف قدم بڑھاتا ہے _ دوسروں كو اچھا سمجھتا ہے اور ان سے تعاون كى اميد ركھتا ہے _ جب معاشرے كے بارے ميں اس كے رائے اچھى ہوگى تو اس سے تعاون بھى كرے گا اور اس كے ليے ايثار بھى كرے گا _ معاشرے كے لوگ بھى جب اسے اپنا خير خواہ اور خدمت گزار سمجھيں گے تو وہ بھى اس سے اظہار محبت كريں گے _

اس كے برعكس اگر يہ گراں بہا احساس كچلا جائے اور اس سے صحيح طور پر استفادہ نہ كيا جائے تو خدا نے جو صحيح راستہ بچے كے ليے مقرر كيا ہے اس كى اجتماعى زندگى اس سے بھٹك جائے گى _ ماہرين نفسيات كا نظريہ ہے كہ بہت سے مواقع پر خوف ، اضطراب ، بے اعتمادى ، بدگمانى ، شرمندگي، گوشہ نشيني، افسردگى اور پريشانى يہاں تك كہ خودكشى اور جراثيم كى بنياد بچپن ميں پيش آنے والے واقعات ہوتے ہيں

اگر آپ چاہتے ہيں كہ بچے كے احساس وابستگى كو صحيح طرح سے مطمئن كريں تو ہميشہ اس كے مددگار ہيں _ جب اسے بھوك لگے تو غذا ديں اور اس كے ليے آرام و راحت كا سامن فراہم كريں _ اگر اسے درد ہو يا كوئي اور تكليف پيش آئے تو فوراً اس كى داد رسى كريں _ اس كى نيند اور خوراك كو منظم ركھيں _ اس طرح سے كہ اسے بالكل پريشانى نہ ہو او ر وہ آرام كا احساس كرے _

نو مولود كو مارپيٹ نہ كريں _ نو مولود كچھ نہيں پہچانتا _ اسے صرف اپنى ضرورت كا احساس ہوتا ہے اور ايك انجانى قدرت پر بھروسہ كرتا ہے _ وہ رنے كى زبان سے اس كى پناہ حاصل كرتا ہے اور اپنى احتياج كا اظہار كرتا ہے _ مارپيٹ كے ذريعے اسے مايوس اور بدظن نہ كرديں _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

''بچوں كو رونے پر مارنانہ چاہيئےيونكہ چار ماہ تك اپنے اس رونے كے ذريعے وہ اللہ اور اس كى توحيد كى گواہى ديتے ہيں '' _(1)

ہر حال ميں بچے كے مددگار رہيں اگر وہ كوئي انجام دينا چاہتا ہے اور آپ اس كى مدد نہيں كرسكتے تو بھى اس سے نوازش و محبت سے پيش آئيں _ اگر بچہ پريشان ہواور وہ ناراحتى محسوس كرتا ہو تو اس پريشانى كے اسباب ختم كريں اور اس كو مطمئن كريں اسے ہرگز ڈانٹ ڈپٹ نہ كريں اور يہ نہ كہيں كہ ميں تمہيں يہيں چھوڑ كر جارہى ہوں _ كيونكہ يہى ڈانٹ ڈپٹ ممكن ہے اس كى روح پر برا اثر كرے اور اسے پريشان كردے _ بچہ چاہتا ہے كہ وہ ماں باپ اور دوسروں كو محبوب ہو _ اگر ماں باپ اس سے محبت نہ كريں تو وہ اس پر سخت پريشان ہوتا ہے _ وہ ہميشہ كوشش كرتا ہے كہ ان كا پيارااور محبت ہميشہ باقى رہے _ بعض ماں باپ بچے كے اس جذبے سے استفادہ كرتے ہيں اور بچے كو ڈانٹتے ہيں كہ اگر تونسے يہ كام نہ يكا تو ہم تم سے پيار نہيں كريں گے ليكن آپ كو چاہيے كہ اس حربے كو استعمال نہ كريں _ كيونكہ اس طرح كى ڈانٹ ممكن ہے تدريجاً بچے كى روح پر برے اثرات مرتب كرے اور اس سے اس كا عتماد اور رآرام جاتا رہے اور يہ بچے كے ضعيف اعصاب اور داخلى اضطراب كا سبب بن جائے _ اگر وہ رورہا ہو يا شور كررہا ہو تو وہ يہ نہيں چاہ رہا ہوتا كہ آپ كو بے آرام كرے بلكہ وہ آپ كى توجہ مبذول كرنا چاہ رہا ہوتا ہے تا كہ آپ اس كى بات سنيں _ آپ صبر اور سمجھدارى كے ساتھ اس كى بے آرامى كى وجوہ سمجھيں اور اس بے آرامى كو دور كريں _ تا كہ اسے آرام ملے _ اگر آپ اسے رونے پر ڈانٹيں گے يا ماريں _ گے تو ممكن ہے وہ خاموش ہوجائے _ ليكن كيسے خاموش ؟

ايك اضطراب آميز
 

مايوسانہ خاموشى كہ جو بہت خطرناك ہے جو ممكن ہے اس كے مستقبل كو دگرگوں كردے _ ماں باپ كى موجودگى سے بچہ ہميشہ خوش رہتا ہے اور ان كى جدائي سے وحشت كھاتا ہے _ آپ كبھى اپنى موت كے بارے ميں سے بات نہ كريں كيونكہ يہ اس كى پريشانى اور وحشت كا سبب ہوگى _ اگر آپ بيمار ہوجائيں تو موت كاذكر نہ كريں _ بلكہ اپنے بچوں كو پر اميد ركھيں اور ان كا حوصلہ بڑھائيں اگر آپ ايك عرصے كے ليے بچوں سے دور ہونے پر مجبور ہوں تو پہلے انہيں اس پر آمادہ كريں _ ان كادل بڑھائيں پھر سفر اختيار كريں اور اس كے بعد ابھى ہميشہ ان سے رابطہ برقرار ركھيں اور نامہ و پيام كے ذريعے سے ان كى دھارس بندھاتے رہيں_

اگر آپ كا بچہ بيمار ہوجائے تو دوا كھلانے كے ليے اسے موت سے اور اچھا نہ ہونے سے نہ ڈرائيں _ بلكہ ايسے مواقع پر تشويش كى راہ اختيار كريں اور اسے صحيح ہوجانے كى اميد دلائيں _ يہاں تك كہ اسے اگر كوئي خطرناك بيمارى ہو تو اپنى پريشانى اور اضطراب كو اس سے چھپائے ركھيں _ مختصر يہ كہ پورى عمر اپنے بچوں سے ايسا سلوك ركھيں كہ وہ آپ كو اپنا بہترين غمگسار اور غمخوار سمجھيں _

البتہ اس بات كا خيال رہے كہ بچے سے اظہار محبت ضرورى حد تك اور ضرورى مقامات پر ہونا چاہيے _ اس طرح سے كہ وہ لا ڈپيارسے بگڑنہ جائے اور خود اعتمادى سے محروم نہ ہوجائے _ جہاں بچہ واقعى كوئي كام نہ كرسكتا ہو اس كى مدد كرنا چاہيے ليكن اگر وہ ايك كام خود كرسكتا ہے اور اسے مدد كى ضرورت نہيں ہے بلكہ وہ دوسروں پر رعب جمانے كے ليے شور كررہا ہو تو اس كى طرف اعتناء نہيں كرنا چاہيے _

رسل لكھتا ہے :

اگر بچہ كسى وجہ اور واضح علت كے بغير روئے تو اسے اس كے حال پر چھوڑ دينا چاہيے اور وہ جتنا چلاّ نے ديں _ ايسے مواقع پر اگر كوئي اور روش اپنائي گئي تو وہ جلدى ہى ايك جابر حاكم كى صورت اختيار كرلے گا ايسے مواقع كہ جہاں ضرورت ہے كہ اس كى طرف توجہ كى جائے وہاں بھى افراط سے كام نہيں لينا چاہيے بلكہ حسب ضرورت طرز عمل اپنا ناچاہيے اور زيادہ ہى اظہار محبت نہيں كرنا چاہيے _(2)

1_ بحار الانوار _ جلد 104 ص 103
2_ در تربيت ، ص 79