قانون كااحترام

قانون كااحترام

لوگ قانون كے بغير زندگى نہيں گزارسكتے _ معاشرے كے نظام كو چلانے كے ليے برائيوں كو روكنے كے ليے لوگوں كى جان و مال كى حفاظت كے ليے اور عوام كے آرام و آسائشے كے ليے قانون ضرورى ہے جن ملكوں ميں قانون بنانے والے افراد اور عوامل كے اچھے باہمى ربط ہوتے ہيں اور جہاں لوگوں كے ليے قانون بنائے گئے ہيں وہاں لوگ قانون كا احترام بھى كرتے ہيں اور قانون كے احترام سے ہى ملك ميں امن و امان اور عوام كى زندگى كے ليے آرام و راحت وجود ميں آتا ہے _

ليكن جن ملكوں ميں قانون بنانے والے لوگ حكومتوں كے مفادات كے ليے قانون بناتے ہوں اور عوام كے حقيقى مفادات ان كى نظر ميں نہيں ہوتے وہاں عوام كى نظر ميں قانون كا كوئي احترام بھى نہيں ہوتا اور مل بھى امن او رچين سے محروم رہتا ہے _ بدقسمتى سے پہلے ہمارے ملك كى بھى يہى حالت تھى _ بيشتر قوانين اسلامى اور عوامى نہ تھے بلكہ حكومتوں كى خواہش پر او رمغرب و مشرق كى سامراجى طاقتوں اور ان كے چيلوں كے فائدے ميں قانون بنتے تھے _ مزدور ، محنت كس اور محروم افراد كے حقيقى مفادات كى طرف كوئي توجہ نہ تھى _ ان كى كوشش ہوتى تھى كہ رعب و دبدبہ سے اور مكر و فريب سے عوامل دشمن قوانين ہى كہ عوام پر نافذ كريں_ ليكن ايران كے مسلمان عوام چونكہ ان قوانين ك و اسلامى اور اپنے مفادات كا محافظ نہيں سمجھتے تھے _ لہذا ان كى نظر ميں ان كى كوئي حيثيت نہ تھى _ البتہ ان قوانين ميں كچھ عوامى فائدے كے قوانين بھى موجود تھے ليكن چونكہ عوام كا ان پر اعتماد نہيں تھا لہذا ان كا احترام بھى نہيں كرتے تھے _ البتہ جائز صحيح اور سودمند قانون كا احترام ضرورى ہے اور ماں باپ كى ذمہ دارى ہے كہ يہ بات اپنى اولاد كو سمجھائيں _ جب بچے اپنے ماں باپ كو ديكھتا ہے كہ وہ سڑ ك پار كرتے ہوئے سڑك پار كرنے كى معينہ جگہ (زيبرا كراسنگ) ہى سے سڑك پاركرتے ہيں تو اس ميں بھى اس كى عادت پڑ جاتى ہے اور پھر وہ اس كى خلاف ورزى كو اچھا نہيں سمجھتا _

خصوصاً ماں باپ كو چاہيے كہ بچوں كو سمجھائيں سڑك كو استعمال كرنا ڈرائيوروں كا حق ہے اور زيبرا كراسنگ پيدال چلنے والوں كا حق ہے اور دوسرے كے حق پہ تجاوز درست نہيں ہے _ جب بچہ يہ سمجھ جاتا ہے كہ قانون پر عمل در آمد خود اس كے اور معاشرے كے فائدے ميں ہے تو پھر تدريجاً ماں باپ كے عمل كو ديكھتے ہوئے اس كے اندر بھى اس بات كى عادت پڑ جاتى ہے

حضرت على عليہ السام فرماتے ہيں:

''عادت فطرت ثانيہ ہے '' _(1)


1_ غرر الحكم ، ص 26