غصّہ

غصّہ

غصّہ انسانى طبيعت كا حصّہ ہے اس كى بنياد انسانى جہلت ميں موجود ہے اس غير معمولى نفسياتى كيفيت كا آغاز انسان كے دل و دماغ سے ہوتا ہے ، پھر يہ كيفيت شعلہ آگ كے مانند پورے جسم پرچھا جاتى ہے _ آنكھيں اور چہرہ سرخ ہوجاتا ہے _ ہاتھ پاؤں كا نپنے لگتے ہيں _ منہ سے جھاگ لگتى ہے _ انسان كے اعصاب اس كے كنٹرول سے نكل جاتے ہيں _ غصيلے شخص كى عقل كام نہيں كرتى اوراس حالت ميں اس ميں اور كسى پاگل ميں كوئي فرق نہيں ہوتا _ ايسے عالم ميں ممكن ہے اس سے ايسى غلطياں سرزد ہوں جن كى سزا اسے پورى عمر بھگتنا پڑے _

حضرت عليہ عليہ السلام فرماتے ہيں:

غصّے سے بچو كيونكہ اس كى ابتداء جنون سے ہوتى ہے اور انتہاء پشيمانى پر _(1)

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

غصّہ تمام برائيوں اور جرائم كى كنجى ہے _(2)

غصّہ انسان كے دين اور ايمان كو بھى نقصان پہنچاتا ہے اور اس كے نيك اعمال كو بھى غارت كرديتا ہے _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں:

غصّہ ايمان كو يوں ختم كرديتا ہے جيسے سر كہ شہد كو تباہ كرديتا ے (3)

غصّہ ايمان كے عالم ميں انسان احمقانہ باتيں كرتا ہے اور اس سے ايسا غلط كام صادر ہوتے ہيں جو اس كے باطن كو آشكار كرديتے ہيں اور اسے دوسروں كى نظر ميں رسوا كرديتے ہيں _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

غصہ ايك برا ساتھى ہے كہ جو انسان كى خاميوں كو آشكار كرديتاہے _ انسان كو برائي سے قريب اور نيكى سے دور كرديتاہے _ (4)

دائمى غصّہ انسان كے دل اور اعصاب پر برے اثرات مرتب كرتا ہے اور انہيں كمزور مضمحل كرديتا ہے _ لہذا جو شخص اپنى حيثيت ، صحت اور دين كا خيرخواہ ہے اسے چاہے كہ اس برى صفت كا سختى سے مقابلہ كرے اور اس امر كے ليے خبردار ہے كہ كہيں غصّہ اس كے اعصابى كنٹرول كو چھين لے اور اس كا دين و دنيا اور عزت و آبرو برباد كردے _

اس نكتے كى ياددھانى بھى ضرورى ہے كہ غصّہ ہر جگہ اور ہر حال ميں برا، ناپسنديدہ اور نقصان وہ نہيں ہے بلكہ اگر اس سے صحيح موقع پر صحيح طريقے سے استفادہ كيا جائے تو يہ انسانى زندگى كے ليے بہت فائدہ مند ہے _ اسى جہلت سے انسان اپنى جان ، مال، اولاد ، دين ، وطن اور ديگر انسانوں كا دفاع كرتا ہے _ اس جہلت كى موجودگى كے بغير انسان آبرو مندانہ زندگى نہيں گزارسكتا _ يہ جہلّت اگر عقل كے اختيار ميں رہے تو نہ فقط نقصان وہ نيں ہے بلكہ مفيد ہے _

راہ خدا ميں جہاد، دين ووطن كا دفاع، امر بالمعروف و نہى عن المنكر عزت و ناموس كى حفاظت ، ظلم كے خلاف قيام ، مظلوموں كى حمايت ، كفر اور بے دينى سے مقابلہ اور ستم رسيدہ انسانوں كى حمايت _ يہ سب كام اسى قوّت كى بركت سے انجام پاتے ہيں _ ايك متديّن اور ذمہ دار مسلمان زندگى كے تلخ و ناگوار حوادث كے سامنے ، ظلم اور حق كشى كے سامنے ، استبداد اور آمريت كے سامنے ، برائي اور گناہ كے سامنے ، لوگوں كے اموال پر تجاوز كے مقابلے ميں ، سامرا حج اور استعمار كے مقابلے ميں ، ملّتون كو غلامى كے طوق پہنانے كے مقابلے ميں ، بے دينى اور مادہ پرستى كے مقابلہ ميں خاموش اور لا تعلق رہے ، اسلام اس كى اجازت نہيں ديتا _ ليكن اس كے غصّے كو اس كى عقل پر بالادستى حاصل نہيں ہونا چاہئے كيونكہ حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:

اگر تونے غصّے كى پيروى كى تو يہ تجھے ہلاكت تك جا پہنچائے گا _ (5)

يہ درست نہيں ہے كہ اس قوت كو بالكل ختم كرديا جائے اور انسان لا تعلق ، بے حسّ اور بے غيرت ہوجائے _ بلكہ افراط و تفريط سے اجتناب كرنا چاہيے اور اس قوت كو صحيح طريقے سے پران چڑھانا چاہيے _ تا كہ ضرورى مواقع پر اس سے استفادہ كيا جاسكے _ غصّہ ديگر صفات كى طرح بچپن ہى سے انسان ميں نشوو نما حاصل كرتا ہے _ يہ تما م انسانوں كى سرشت كا حصّہ ہے ليكن ، اس كى كمى يا زيادتى كا تعلق تربيت ، ماحول اور ماں باپ سے ہے ماں باپ اپنے طرز عمل سے اس قوت كو حالت اعتدال ميں بھى ركھ سكتے ہيں اور افراط يا تفريط كى طرف بھى لے جا سكتے ہيں _ اس امر كى طرف توجہ بھى ضرورى ہے كہ سب انسانوں كا مزاج ايك سا نہيں ہوتا كسى ميں غصّہ زيادہ ہوتا ہے اور كسى ميں پيدائشےى طور پر كم _ عقلمند اور باتدبير ماں باپ بچے كے خاص مزاج كو مدّ نظر ركھتے ہوئے اس كى تربيت كرتے ہيں اور اس كى جبلّى قوتوں كو اعتدال پر لاتے ہں اور اسے افراط و تفريط كے عوامل سے بچاتے ہيں _

بچہ غصّے ميں چيختا چلاّنا ہے ، اس كا بدن كا پنتا ہے ، چہرے كا رنگ متغير ہوجاتا ہے زمين پر پاؤں مارتا ہے اور لوٹتا ہے ايسے عالم ميں وہ سخت سست جملے بولتا ہے كونسے ميں جالگتا ہے ليكن اس كا مقصد شرارت نہيں ہوتا _ ضرورى ہے كہ بچے كے غصّے كى وجہ دريافت كى جائے اور اسے دور كيا جائے _

غصہ كلى طور پر كسى پريشانى اور ناراحتى سے پيدا ہوتا ہے _ شديد درد تھكاوٹ زيادہ بے خوابى ، بھوك ، شديد پياس اور گرمى اور سردى كا غير معمولى احساس نو مولود اور چھوٹى عمر كے بچوں كو بے آرام كرديتا ہے اور اس كے غصّے كو بڑھاتا ہے بچے كى توہين كرنا اور اسے اذيت دينا _ اس كى خواہشوں كے خلاف قيام كرنا، اس كى آزادى كو سب كرنا ، خواہ مخواہ اس پر پابندياں عائد كرنا ، دوسرے كو ترجيح ديے جانے كا احساس اور ناانصافياں ، اس امر كا احساس كہ مجھ سے پيار نہيں كيا جاتا ، اس پر زبردستى بات ٹھونسنا ، بچے كى خود اعتمادى كو نقصان پہنچانا ، ناتوانى كا احساس اور كامياب نہ ہونے كا احساس ، مشكل اور طاقت فرسا احكامات ، سخت ڈانٹ ڈپٹ ان ميں سے ہر امر بچے كا چين چھين ليتا ہے اور اس كے غصے كو بڑھاتا ہے اور اگر ايسى چيزوں كا تكرار ہوتا رہے تو بچے كے اندر غصّے كى سرشت كو تقويت ملتى ہے اور وہ ايك غصيلہ اور چر چڑا شخص بن جاتا ہے _ بعض ماں باپ عملاً بچوں كو غصّے كا سبق ديتے ہيں _ ان پر چيختے ہيں اور سختى كرتے ہيں _ ان كے غصّے كے مقابلے ميں غصّے ہو جاتے ہيں _ اس طرح سے انہيں زيادہ غصيلہ بناتے ہيں _

اگر آپ كا بچہ غصّے ميں آيا ہو تو آپ اس كے مقابلے ميں غصّہ نہ كريں _ اس بات كا اطمينان ركھيں وہ كسى برائي كا ارادہ نہيں كرتا _ آپ اس امر كى كوشش كريں كہ اس كى ناراضگى كى وجہ معلوم كريں _ اگر اس در د ہے تو اس كا علاج كريں _

اگر بھوكا اور پياسا ہے تو اسے كوئي چيز كھانے پينے كے ليے ديں _ اگر تھكا ہوا ہے تو اسے تو اسے سلاديں _ اگر آپ كے كاموں يا طرز عمل كى وجہ سے وہ غصّے ميں ہے تو آپ تلافى اور اصلاح كريں _ اگر اس كا غصّہ خيال ادھر ادھر بھٹكنے كى وجہ سے پيدا ہوگيا ہے تو اس كے اشتباہ كو دور كريں _ اگر اسے روحانى طور پر تقويت كى ضرورت ہے تو آپ وہ مہيا كريں _ اگر اس كى كوئي جائز خواہش ہے اور آپ اسے پورا كرسكتے ہيں تو پورا كريں ليكن جب وہ معمول كى حالت پر آجائے تو كہيں كہ انسان كو جو چيز چاہيے تو اسے زبان سے مانگنا چاہيے نہ كے غصّے اور زور سے اس دفعہ تو ميں نے تمہارى خواہش پورى كردى ہے ليكن آئندہ اگر تم نے غصّے اور زور سے كوئي بات منوانے كى كوشش كى تو پورى نہيں كى جائے گى _

حضرت عليہ عليہ اسلام فرماتے ہيں:

''غصّے سے بچو كہيں يہ تم پر مسلط ہى نہ ہوجائے اور ايك عادت ہى نہ بن جائے '' _(6)

چڑچڑ ے بچے زود رنج ہوتے ہيں اور چھوٹى سى بات پر غصّے ميں آجاتے ہيں _ كيونكہ ان كى روح قوى نہيں ہوتى _ لہذا و ہ كوئي بھى ناپسنديدہ بات برداشت نہيں كرسكتے اور معمولى سى چيز پر بھى متاثر ہوجاتے ہيں اور غصّے ميں آجاتے ہيں _

 


1_ مستدرك ، ج 2 ، ص 326
2_ اصول كافى ، ج 2 ، ص 303
3_ اصول كافى ، ج 2 ، ص 302
4_ مستدرك، ج 2 ، ص 326
5_ مستدرك، ج 2، ص 326
6_ غررالحكم ص 809