دودھ پلانے كا پرو گرام

دودھ پلانے كا پرو گرام

ماہرين نے بچے كو دودھ پلانے كے ليے دو طريقے تجويز كيے ہيں

بعض كايہ نظريہ ہے كہ بچے كو غذا يا خوراك دينے كے ليے چاہيے كہ منظم اور دقيق پروگرام بنا يا جائے اور بچے كو اسى پروگرام كے تحت معين و قفوں ميں دود ھ پلا يا جا ئے _

دو مرتبہ دود ھ پلانے كے در ميان بعض نے تين گھنٹے كا و قفہ معين كيا ہے اور بعض نے چار گھنٹے كا يہ ماہرين كہتے ہيں كہ ہر تين يا چار گھنٹے بعد بچے كو دودھ دينا چاہيے اور اس دوران بچے كودودھ دينے پرہيز كرنا چا ہيے _

بعض دوسرے ماہرين نے اس روش كو پسند نہيں كيا اور انہوں نے آزاد پرورش يا طبعى تنظيم كو تجويز كيا ہے _ وہ كہتے ہيں كہ جب بھى بچہ بھو كا ہو جا تا ہے اور وہ بھوك كا تقاضا كرتا ہے تواسے دودھ دينا چاہيے _

بعض كى نظر ميں دوسرى روش اس پہلى سے بہتر ہے كہ جس ميں معين و قفوں كى پابندى كى جاقى ہے چاہے جب دودھ يا جائے بچہ بھو كا بھى نہ ہو ان كے نزديك دوسرى تجويز علاوہ برا ينكہ عملى لحاظ سے آسان ہے ظاہرا پسنديدہ اور معقول تر ہے كيونكہ پہلے مجوزہ پرو گرام كا تقاضا اگر چہ يہ ہے كہ بچے كو بھوك كے وقت دود ھ يا جائے نہ كہ معين اوقات ميں ليكن اس كے باو جوديہ بہت سے نقائص كا حامل ہے بہر حال دوسرى تجويز بھى نقائص سے خالى نہيں ، ذيل كے چند نكات كى طرف توجہ كيجئے _

1_ بچے ميں بھوك اور پياس كو يقيتى طور پر متشخص نہيں كيا جاسكتا كيونكہ بچہ بات تو نہيں كر سكتا كہ اپنے داخلى محسوسات كو بيان كرسكے اگر چہ ابتدائي طور پر بچہ بھوك مٹا نے كے ليے دودھ پيتا ہے ليكن آہستہ آہستہ وہ دودھ پينے كا عادى بن جاتا ہے اور پستان كو چو سنے سے لطف آٹھاتا ہے _ اس صورت ميں كبھى كبھى بچے كے اندرونى احساسات اسے تجريك كرتے ہيں كہ وہ روئے تا كہ دوسروں كى محبت كو اپنى طرف جذب كرسكے _ ماں بھى اسے چپ كرانے كے ليے اپنا دودھ پيش كرديتى ہے _ بچہ بھوك كے بغير بھى روتا ہے اور ماں اس خيال سے دودھ ديتى ہے كہ وہ بھوكا ہے _ كبھى بھوك كى وجہ سے دودھ پيتا ہے اور كبھى بغير بھوك كے بھى _ البتہ ہے كہ نامنظم طور پر اور بھوك كے بغير غذا كا استعمال جيسے بڑوں كے ليے نقصان وہ ہے اسى طر ح بچوں كے ليے بھى كہ جن كا نظام ہضم ابھى قوى نہيں ہو تا _ نامنظم طور پردودھ دينے سے ممكن ہے بچے كے نظام ہضم ميں كوئي خلل پيدا ہو جائے اور بچہ كسى بيمارى كے ليے تيار ہو جائے _ اس بنا پر غذا دينے كى آزاد روش بچے كى صحت و سلامتى كے ليے بے ضرر نہيں ہوسكتى كيونكہ اس ميں بھوك كے وقت كو متشخص نہيں كيا جا سكتا _ بچوں ميں بہت سى بيمارياں نامنظم اور زيادہ غذا كے باعث پيدا ہوتى ہيں _

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا :

زيادہ كھانے اور كھا نے كے بعد پھر كھانے سے اجتناب كرنا چاہيے كيونكہ زيادہ كھانے والا بيمار بھى زيادہ ہو تا ہے ( 1 )

2_ جو بچہ شروع ہى سے بغير كسى نظم و حساب كے دودھ پيتا ہے وہ شروع سے بے نظمى كا عادى ہو جاتا ہے اور اپنى آئندہ كى زندگى ميں نظم و ضبط سے عارى ايك فر د ثابت ہو گا

3_ جو بچہ جب بھى ردتا ہے اور اس كے منہ ميں پستان دے ديا جاتا ہے وہ اسى عمر ے گريہ وزارى كا عادى ہو جاتا ہے اور وہ آئندہ بھى رونے دھونے اور منت سماجت كو ہى مقصد تك پہنچنے كا بہترين وسيلہ سمجھنے لگتا ہے _ كاموں ميں صبر اور حو صلہ سے كام نہيں ليتا _ وہ چاہتا ہے كہ جتنى جلدى ہو سكے مقصد تك پہنچ جانے اگر چہ اس كے ليے رونا پڑے يا التماس كرنے پڑے يا ذلت كا بو جھ اٹھا نا پڑ ے _

4_ ايسے بچے كے ماں لاپ اور مربيوں كو راحت و آرام نہيں ملتا كيونكہ وہ وقت بے وقت رونے مگتا ہے اور دودھ مانگتا ہے _

انہيں نقائص كى وجہ سے ميں پہلى روش كو دوسرى روش پر ترجيح ديتا ہوں اور منظم طريقے سے غذا دينے كو بچے كى جسمانى اور روحانى نشو و نما كے ليے بہتر سمجھتا ہوں _

ڈاكٹر جلالى اس بار ے ميں لكھتے ہيں:

اگر كسى ماہر ڈاكٹر كے كہنے كے مطابق بچے كے ليے دودھ پلانے كا منظم پروگرام بنا يا جائے تو اس ميں اسى كے مطابق عادت پيدا ہو جائے گى اورعادت خود اس بات كا سبب بنے گى كہ اس عادت سے مربوط طرز عمل اور رد عمل سے مائيں بچے كى سيرى اور بعوك كى حالت سے آگاہ ہو سكيں _

ثانيا انسان كے بہت سارے كام ہر روز چونكہ عادت كے مطابق انجام پانے چاہيں لہذا دود ھ دينے كا يہى منظم پروگرام اس كى بعد كى عادتوں كے لئے اچھى بنياد بن جائے گا (2)

رسل لکهتاہے :

آج كل ہرماں بچے كى پرورش كے سادہ سے حقائق جانتى ہے اور اس كى تربيت كرتى ہے مثلا وہ جانتى ہے كہ بچے كو مناسب وقفوں سے غذا دينا كتنا ضرورى ہے نہ كہ جب وہ رورہا ہو اسے علم ہے كہ ايسى پا بندى اس ليے ركھى جاتى ہے ہ يہ غذا كے ہضم ہونے ہيں بہت فائدہ مند ہے ......

علاوہ از يں تربيت اخلاق كے حوالے سے بھى مطلوب ہے كيونكہ شير خوار بچے اس سے زيادہ حيلہ ساز اور كمر باز ہوتے ہيں كہ جتنا بڑے ان كے بارے ميں تصور كرتے ہيں _ بچے جب ديكھتے ہيں كہ رونے دھونے سے ان كا مقصود حاصل ہوجاتا ہے تو وہ پھر اسى روش كو اختيار كرتے ہيں اور بعد جب كہ وہ ديكھتے ہيں كہ شكوہ اور آہ و زارى كى عادت بجائے اس كے كہ نوازش كا باعث بنے نفرست كا سبب بنتى ہے تو تعجب كرتے ہيں اور ان كو بہت دھچكا پہنچتا ہے اور دنيا ان كے آنكھوں ميں سرد ، خشك اور بے روح ہوجاتى ہے _

ليكن چند نكات كى طرف توجہ ضرورى ہے _

1_ سب بچوں كے ليے اور دودھ پينے كے تمام عرصے كے ليے غذا كا ايك جبسا پروگرام معين نہيں كيا جا سكتا كيونكہ نظام ہضم اور بچے كى غذائي ضرورت تمام مدّت ميں ايك جيسى نہيں رہتى _ نو زائدہ بچہ كا معدہ اور نظام ہضم آغاز تولد سے چاليس پچاس روز تك بہت چھوٹا ہوتا ہے كہ جو تھوڑے سے دودھ سے بھر جاتا ہے _ نو زائدہ بچہ تھوڑے سے دودھ سے سير ہوجاتا ہے ليكن تھوڑى ہى مدّت بعد پھر بھوكا ہوجاتا ہے اس مدّت ميں چاہيے كہ دودھ پلانے كے درمياں فاصلہ كم ہو مثلاً 21 اسے 2 گھنٹے تك ليكن اس كے بعد بچے كے بڑے ہونے كے اعتبار سے وقفوں ميں زيادہ اضافہ كيا جا سكتا ہے مثلاً تين گھنٹے يا چار گھنٹے يہاں تك كہ بعض اوقات اس سے بھى زيادہ كا _

2_ سب بچے جسمانى ساخت اور نظام ہضم كے اعتبار سے ايك جيسے نہيں ہوتے بعض كو جلدى بھوك لگ جاتى ہے اور بعض كو دير سے لہذا ان سب كے لئے ايك جيسا پروگرام تجويز نہيں كيا جا سكتا _ سمجھدار اور ہوش مند مائيں اپنى ذمہ دارى كا احساس كرتى ہيں اور اپنے بچوں كى صحّت و سلامتى كى خواہاں ہوتى ہيں _ وہ بذات خود اپنى بچے كے ليے خاص شرائط و حالات كو مدّنظر ركھتے ہوئے غذا كا پروگرام منظم كرتى ہيں اور ضرورى ہو تو وہ ڈاكٹر كى طرف رجوع كركے مشورہ بھى كرتى ہيں _

3_ جب بھى بچے كو دودھ ديا جائے تو اسے پورى طرح سير كرنا چاہيے البتہ خواتين كو اس امر كى طرف متوجہ رہنا چاہيے كہ بچے بالخصوص نوزاد بچہ جلدى سوجاتا ہے اور معمولاً دودھ پيتے پيتے سوجاتا ہے جب كہ ابھى وہ سير نہيں ہواہوتا اس صورت ميں ماں بچے كى پشت پر آہستہ آہستہ ہاتھ مارسكتى ہے تا كہ وہ بيدار رہے اور پورى طرح سے سير ہوجائے _

4_ جب بچے كودودھ دينے كا منظم پروگرام ترتيب پاجائے تو اس پر صحيح طرح سے عمل درآمد كى طرف توجہ ركھنا چاہيے اور مقرر اوقات كے درميان ميں اسے ہرگز دودھ نہيں دينا چاہيے اگر چہ وہ گريہ و زارى كرے _ اس كام ميں صبر و استقامت كا مظاہرہ كرنا چاہيے تا كہ بچہ آہستہ آہستہ اس غذائي پروگرام كا عادى ہوجائے _ اس كے بعد وہ خود بخود معين اوقات ميں بيدار ہونے لگے گا اور دودھ كا تقاضا كرنے لگے گا _ ايسى صورت ميں ايك صابر ، بردبار اور منظم بچہ بھى پروان چڑھے گا اور آپ بھى آرام وراحت ميں رہيں گے_

5_ بچے كے غذائي پروگرام كو اس طريقے سے مرتب كرنا چاہيے كہ آدھى رات كے بعد سے صبح تك اسے غذا نہ دى جائے تا كہ وہ اس طرز عمل كا عادى ہوجائے _ اس صورت ميں بچہ بھى آرام و راحت سے سوجائے گا اور ماں بھى چند گھنٹے سكون اور چين سے آرام كرسكے گي_

6_ ہر مرتبہ بچے كو دودھ دينے كے بعد پستان كو تھوڑى سى روٹى سے صاف كرنا چاہيے _ يہ كام بچے كى صحت و سلامتى كے ليے بھى مفيد ہے اور پستان كو زخمى ہونے سے بھى بچاتا ہے _

7_ جب بچہ دودھ پيتا ہے تو عموماً كچھ ہوا اس كے معدے ميں داخل ہوجاتى ہے _ اور اس كے ليے ناراحتى كا سبب بنتى ہے اور اس كے پيٹ ميں ہوا بھر جاتى ہے _ دودھ دينے كے بعد آپ اسے بلند كرسكتے ہيں اور آہستہ آہستہ اس كى پشت پر ہاتھ مارسكتے ہيں تا كہ ہوا نكل جانے اور بچہ دل كى تكليف ميں مبتلا نہ ہو _

8_ بچے كو دونوں پستانوں سے دودھ ديں تا كہ آپ كا دودھ خشك نہ ہو اور آپ پستان كے درد ميں مبتلا نہ ہوں _ ايك خاتون كہتى ہے :

حضرت امام صدق عليہ السلام نے مجھ سے فرمايا اپنے بچے كو ايك پستان سے دودھ نہ دے بلكہ دونوں پستانوں سے دودھ دے تا كہ اسے كامل غذا مل سكے _ (3)

9_ دودھ پلانے والى ماؤں كو چاہيے كہ وہ زيادہ تھكادينے والے كام اور شديد غصہ سے اجتناب كريں كيونكہ ماں كى ناراضى اور شديدغصّے كے اثرات دودھ پر مرتب ہوتے ہيں كہ جو بچے كے ليے نقصان دہ ہيں _

1_مستدرك ج 3ص 82
2_ روان شناسى كودك ص 224
3_ وسائل _ج 15 ص 176