جنين كى سلامتى ہيں ماں كى غذا كااثر

جنين كى سلامتى ہيں ماں كى غذا كااثر

رحم مادر ميں بچہ ماں كے بدن كا كوئي با قائدہ حصہ نہيں ہو تا تا ہم وہ ماں كے خون اور غذا سے ہى پرورش پاتا ہے _ ايك حاملہ خاتون كى غذا كا مل ہونى چاہيے جو ايك طرف تو خود اس كے بدن كى ضروريات پورى كرسكے تا كہ اس كى جسمانى طاقت اور تندرستى مين كوئي كمى واقع نہ ہو اور صحيح و سالم طريقے سے اپنى زندگى جارى ركھ سكے اور دوسرى طرف اس كى غذا كو _ بچے كے جسم كى ضروريات كا بھى كفيل ہونا جا ہيے تا كہ وہع معصوم بچہ اچھے طريقے سے پرورش پا سكے اور اپنيب اندرونى طاقتوں كو ظاہر كر سكے

لہذا يك حاملہ عورت كا غذائي پرو گرام سو چا سمجھا ' كسى حساب كے تحت اور مرتب ہو نا چاہيے _ كيونكہ ممكن ہے بعض و ٹا من يا غذائي مواد كى كمى سے ماں كى سلامتى خطر ے ميں جاپڑے يا بچے كى صحت و سلامتى كو نا قابل تلافى نقصان پہنچ جائے _

اسلام كى نظر مين ماں كى غذا بہت اہميت ركھتى ہے _ يہاں تك كہ وہ حاملہ عورت كہ جس كے اپنے ليے يا اس كے بچے كے ليے روزہ ركھنا باعث ضرر ہوا سے اجازات دى گئي ہے كہ ماہ رمضان كا واجب روزہ نہ ركھے بعد ہيں فضا كرے _

ايك تحقيق كے مطابق دنيا كے اسى فيصد نا قص الخلقت نيز فكرى ' اعصابى يا جسمانى طور پر كمز ور بچوں كے نقص اور كمزورى كا سبب يہ ہے كہ رحم ماور ميں نہيں صحيح غذا نہيں طى (1)
 

ڈاكٹر جزائرى كہ جو ايك ماہر غذا ہيں لكھتے ہيں :

ماں اور جنين كى سلامتى اس غذا سے وابستہ ہے كہ جوماں حمل كے دوران ميں ك;ھاتى ہے (2)

مدتوں سے انسان كو اس بات كا علم ہے كہ جنين اور بچے كے رشد ميں ولادت سے پہلے اور دودھ دينے كے دوران ميں ماں كى غذا اثر ركھتى ہے _ ماں كو چاہيے كہ تمام پروٹين ' وٹامن ' كا ربو ہاٹيڈ رٹيس ' روغنيات اور ديگر در كا غذا كو اس زندہ سيل يعنى بچے كى نشوو نما ك ليے فراہم كرے تجربات سے يہ بات ثابت ہو چكى ہے كہ ماں كے ليے ضرورى ہے كہ وٹامنز كى وہ مخصوص مقدار جنين كے ليے مہيا كر ے كہ جوزندہ خليوں كے ليے ضرورى ہے _ اس طرح سے كہ جنين كے رشد كو يقينى بنا يا جا سكے كيونكہ مختلف دٹا منز كى كمى بچے پ زياہ اثر انداز ہوتى ہے كيونكہ وہ تو حالت رشد ميں ہو تا ہے جب كہ ماں كى نشو ونما تو مكمل ہو چكى ہوتى ہے _ ممكن ہے كہ دوران حمل ماں با لكل تندرست رہے جب كہ بچہ مخصوص وٹا منز كى كمى كا شكار ہوجائے اور اس كے نتيجے ميں اس كے رشد كى حالت خلاف معمول ہو (3)

كرنر كہتا ہے:

بچے كے غير طبعى ہونے كى وجہ كبھى يہ ہوتى ہے كہ تخم تو اچھا ہوتا ہے ليكن اسے فضا اچھى ميّسر نہيں آتى اور كبھى يہ ہو تا ہے ' تخم اچھا نہيں ہو تا جبكہ فضا اچھى ميّسر آجاتى ہے بہت سار ے جسمانى نقائص مثلا ہو نٹوں كا پھٹا ہو اہونا ،آنكھيں چھوٹى اور رھنسى ہوئي ہو نا اور پاوں كے تلوے كاہموار ہونا كہ جنيں پہلے مورد ثى عواملى كا نتيجہ سمجھا جاتا تھا آجكل ماحول با لخصوص حمل آكسيجن كى كمى جيسے عوامل كا نتيجہ قرار و يا جاتا ہے _ ماحول اور فضا كو بہت س پيدائشےى نقائص اور بچوں كے اعضاء كے فالج ز وہ ہو نے كى علت شمار كيا جاتا ہے ( 4)

امام صادق عليہ السلام ايك حديث ميں فرماتے ہيں :

جو كچھ ماں كھاتى اور پيتى ہے بچے كى خوراك اسى سے بنتى ہے ( 5)

1_بہداشت جسمى رو روانى كودك ص 62
2_ اعجاز خورا كيھا ص 220
3_ بيو گرافى پيش از تولد ص 182
4_ روانشناسى كودك ص 190
5_ بحار الانوار _ جلد 60 _ ص342