اسقاط حمل

اسقاط حمل

اسلام كے نقطہ نظر سے عورت اور مرد كى باہمى رضامندى سے حمل ٹھرنے كو روكنے ميںكوئي مضائقہ نہيں ہے اگر بيوى اور شوہر اولاد كى خواہش نہ ركھتے ہوں تو پھر وہ ضرر گوليوں، ٹيكوں يا انزال وغيرہ كے ذريعے حمل ٹھہرنے كو روك سكتے ہيں _ البتہ بچے كى پيدائشے كو روكنا اسلام كى نظر ميں پسنديدہ نہيں ہے _ كيونكہ اسلام كى خواہش ہے كہ مسلمانوں كى نسل جتنى بھى ہوسكے پھولے پھلے _ ليكن بہر حال ايسا كرنا حرام نہيں ہے ليكن جب نر او ر مادہ سيل تركيب پاكر عورت كے رحم ميں ٹھہر جائيں اور ايك زندہ موجود وجود ميں آجائے تو وہ اسلام كى نظر ميں محترم ہے اورزندگى كا حق ركھتا ہے _ و ہ نيا موجود اگر چہ بہت چھوٹا ہى كيوں نہ ہو صلاحيت كے اعتبار سے انسان ہے ، وہ ايسا موجود زندہ ہے كہ بڑى تيزى كے ساتھ اور حتمى طور پر غير معمولى طريقے سے كمالات انسانى كى طرف رواں دواں ہے _ وہ ننھا منا سا موجود جو كہ اتنى غير معمولى استعداد ركھتا ہے اپنى مہربان ماں سے اميد ركھتا ہے كہ وہ اس كے ليے پر امن ماحول فراہم كرے گى تا كہ وہ پرورش پاكر ايك كامل انسان بن سكے _ اگر اس باليقات اور باشرف وجود كو تونے ساقط كرديا اور اسے قتل كرديا تو تم قاتل قرار پاؤگى اور اس برے عمل كے ارتكاب كى وجہ سے قيامت كے دن تمہارى بازپرس كى جائے گى _

دين مقدس اسلام كہ جو تمام لوگوں كے حقوق كا نگہبان ہے اس نے اسقاط حمل اور اولاد كشى كو كلّى طور پر حرام قرارديا ہے _ اسحان بن عمّار كہتے ہيں كہ ميں نے حضر ت موسى (ع) بن جعفر (ع) كى خدمت ہيں عرض كيا كہ وہ عورت جو حاملہ ہونے سے ڈرتى ہے كيا آپ اسے اجازت ديتے ہيں كہ

رہ دراكے ذريعے حمل گرادے _ آپ (ع) نے فرمايا:

نہيں ميں ہرگز اس چيز كى اجازت نہيں ديتا _

راوى نے پھر كہا : ابتداء دور حمل كہ جب ابھى نطفہ ہوتا ہے ، اس وقت كے ليے كيا حكم ہے ؟

فرمايا:

انسان كى خلقت كا آےاز اسى نطفے سے ہوتا ہے _ (1)

اللہ تعالى قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

و اذا الموء دة سئلت _ باى ذنب قتلت

يعنى _ قيامت كے دن ماں باپ سے پوچھا جائے گا كہ تم نے كس جرم ميں اپنے بے گناہ بچے كو مارڈالا ؟(تكوير _8،9)

اسقاط حمل نہايت برا عمل ہے كہ جس سے اسلام نے روكا ہے _ علاوہ ازيں يہ كام ماں كے جسم و جاں كے ليے بھى باعث ضرر ہے _ ڈاكٹر پاك ناد نے اسقاط حمل كے بارے ميں منعقدہ ايك كانفرس سے خطاب كرتے ہوئے كہا:

... يہ ثابت ہواہے كہ اسقاط حمل اوسط عمر ميں كمى كرديتا ہے نيز سائنسى تحقيق كے مطابق اسقاط حمل عورتوں كے نفسياتى اعتدال كو تباہ كرديتا ہے _(2)

1951 ء سے 1953 ء تك كے نيويارك كے اعداد و شمار كے مطابق 2601 عورتوں كى وفات اسقاط حمل كى وجہ سے ہوئي دس سال كے دوران ميں اس تعدا ميں 1261 4 كا اضافہ ہوا _ چكى ميں 1963 ء كے ريكارڈ كے مطابق 39 عورتوں كا انتقال اسقاط حمل كى وجہ سے ہوا_
 

اسقاط حمل كا ايك بہانہ فقر و تنگ دستى بھى قرارديا جاتا ہے _ بعض نادان ماں باپ فقر و غربت كے بہانے سے اپنے بے گناہ بچوں كو ضائع كرديتےہيں _

اس ميں شك نہيں كہ فقر و تگ دستى ايك بڑى مصيبت ہے اور بہت سارے خاندان اس ميں مبتلا ہيں اور اسے برداشت كرنا بہت مشكل كام ہے _ ليكن اسلام اسے بچہ ضائع كرنے كا عذر قبول كرنے كے ليے تيار نہيں _ آخر بے گناہ بچے كا كيا قصور ہے كہ ماں باپ اسے حق حيات سے محروم كرديں _ اللہ تعالى قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

ولا تقتلوا اولاد كم خشية املاق نحن نرزقہم و ايّاكم انّ قتلہم كان خطا كبيراً

اپنى اولاد كو مفلسى كے خوف سے قتل نہ كرو ہم ہيں كہ جو تمہيں اور انہيں روز ديتے ہيں _ اولاد كو قتل كرنا يقينا ايك بہت بڑا گناہ ہے _ (بنى اسرائيل _آيہ 31)

اب جب كہ ايك انسان كا نطفہ ٹھر چكا ہے ماں با پ كو چاہيے كہ سختى كو برداشت كريں ممكن ہے يہى بچہ كل ايك ممتاز اور عظيم شخصيّت بن جائے كہ ماں باپ اور معاشرہ جس كے وجود سے استفادہ كريں _ ممكن ہے اسب چے كے وجود كى بركت سے خاندان كى اقتصادى حالت بھى بہتر ہوجائے يا اس كے ذريعے سے فقر و تنگ دستى سے نجات مل جائے _

اس كے علاوہ بھى كئي بہانے پيش كئے جاتے ہيں _ مثلاً گھر سے باہر كى مشغوليات ، دفتر كى مصروفيات يا بچوں كى كثرت و غيرہ ليكن يہ ايسے عذر نہيں ہيں كہ ان كى وجہ سے شريعت يا عقل اس برے عمل كو جائز قراردے دے _

اسقاط حمل نہ يہ كہ اسلام كى نظر ميں ايك برا اور حرام عمل ہے بلكہ اس بڑے گناہ كے ليے كفارہ بھى مقرر كيا گيا ہے كہ جو جنين كى عمر كے اختلاف كے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے _

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں

اگر ساقط شدہ بچہ نطفہ ہواتو اس كا خون بہسونے كے بيس دينا رہے، اگر علقہ اور لوتھڑا ہوتو سونے كے چاليس دينار، اگر مضغہ اور گوشت كى حد تك پہنچ چكا ہوتوسونے كے ساتھ دينار، اگر اس ميں ہڈى بن گئي ہو تو سونے كى اسّى دينار، اگر وہ انسان كى صورت اختيار كر چكا ہو تو سونے كے سودينار اور اگر اس ميں روح بھى پيدا ہوچكى ہو تو اس كى ديت ايك كامل انسان كى ديت ہوگى _(3)

خانم افسر الملوك عاملى نے اس بارے ميں ايك خوبصورت نظم كہى ہے:


بخواب آمد مرا طفل جنينى
بگفتا مادرم را گر بہ بيني
بگو ماد رخطا از من چہ ديدى
كہ بہ جرمم بہ خونم دركشيدي
درونت كودكى آرام بودم
كجا محكوم برا عدام بودم؟
بخونم چنگ و دندان تيز كردى
نہ خون دامان خود، لبريز كردي
بدم تازہ رسيدہ ميہمانت
نہ آسيبى رسيد از من بجانت
بہ مہمان بايدت مہمان نوازى
نہ بيرحمانہ اش نابودسازي
تو فكر خرج و برجم را نمودى
زجسم كو چكى جان در ربودي
مرا روزى بہمرہ بود مادر
ولى افسوس ننمودى تو باور
تو گردش را بہ من ترجيح دادى
اساس ظلم در عالم نہادي

اميد كودكان بر مام باشد
چو مادر باشدش آرام باشد
اميد بودرديت را ببينم
گلى از گلش حسنت بچينم
ولى ميخواست پستانت زنت چنگ
غمت بيرون نمايم از دل تنگ
دلم مى خواست از شيرت بنوشم
صداى مادرم آيد بگوشم
اميدم بود لبخندم ببينى
كنار تختخوابم خوش نشيني
اميدم بددبستانم فرستى
دھى تعليم ، درس حق پرستي
بيايم از دردوشادت نمايم
سردو كودكان بہرت سرايم
اميدم بودگروم من جوانى
زمان پيريت قدرم بداني
زمان پيريت غم خوار باشم
بہر كارى برايت يادباشم
من اينك روح پاكم در جنان است
مكانم در جوار حوريان است
كنون كن توبہ ،استغفار ، شايد
خداى مہربان رحمت نمايد
تمنّا دارد و افسر از تواني

پيامم را بہ مادر ہا رسانى (4)

نظم كا ترجمہ :

چھوٹا سا سقط شدہ بچہ ميرے خواب ميں آيا اور بولا ميرى ماں كو ديكھو تو اس سے كہو

امّى تو نے ميرى كيا خطا ديكھى تھى كہ بے جرم ہى تو نے ميرا خون بہاديا _

ميں تو بچپن ميں آرام سے رہتا تھا ميرے قتل كا حكم كيسے سرزد ہوگيا _

ميرے خون پر تونے اپنے پنجے اور دانت تيز كئے _ اور اپنے دامن كو ميرے خون سے آلودہ كرليا _

ميں ابھى تيرے پاس تازہ مہمان آيا تھا اور مجھ سے ابھى آپ كو كوئي نقصان نہيں پہنچا تھا _ چاہيے كہ آنے والے مہمان كى مہمان نوازى كى جائے نہ كے بے رحمى سے اس كا كام تمام كرديا جائے _

تجھے ميرے بارے ميں خرچ كى فكر ميں تھى لہذا تو نے ميرے ننھے سے جسم سے جان نكال دى _

ماں ميں تو اپنى روزى ساتھ لے كر آيا تھا ليكن افسوس كہ تجھے اس كا يقين نہ آيا _

تو نے گھومنے پھر نے كو مجھ پر ترجيح دى او ردنيا ميں ظلم كى بنياد ڈالى _

بچوں كى اميد توماں ہى ہوتى ہے _ اور جب ماں كے پاس ہو تو وہ سكھ چين سے ہوتے ہيں _مجھے تمنا تھى كہ ميں تيرے چہرے كو ديكھوں اور ميں بھى تيرے گلشن حسن سے ايك پھول چنوں _

ميرا دل چاہتا تھا كہ ميںتيرے پستان سے دودھ پيوں اور يوں تيرے دل كا غم دور كروں _ مير ى آرزو تھى كہ تيرا دودھ پيوں اور تيرى آواز ميرے كانوں ميں پڑے _

آرزو تھى كہ تو مجھے مدر بھيجتى ، مجھے تعليم ديتى اور حق پرستى كا درس پڑھاتى _

ميں گھر آتا اور تجھے خوش كرتا اور بچوں والے گيت تجھے سناتا _

خيا ل تھا كہ جب ميں جوان ہوجاؤں گا تو پھر تجھے اپنے بڑھاپے ميںميرى قدر معلوم ہوتى _

تيرے بڑھاپے ميں ميں تيرا غم خوار ہوتے اور ہر كام ميں تيرا مددگار بنتا _

ميں كہ ايك پاك روح بن كر اب جنت ميں ہوں اور ميرا مقام يہاں حوروں كے جوار ميں ہے اب تو توبہ اور استغفار كر كہ شايد خدائے مہربان اپنى رحمت كرے _

اے افسر سيرى تجھ سے يہ تمنا ہے كہ تو ميرا يہ پيغام تمام ماؤں تك پہنچادے _

 

1_ وسائل الشيعہ ، ج 19، ص 15
2_ مكتب اسلام سال 13 ، شمارہ 8
3_ وسائل الشيعہ ج 19 ص 169
4_ مجلہ مكتب اسلام سال 16_شمارہ 12