خود نمائي

خود نمائي

خود نمائي اور اپنى شخصيت كو نما ياں كرنے كا احساس ہر ايك ميں تھوڑا بہت موجود ہے _

ہر انسان كى يہ خواہش ہوتى ہے كہ جاذب نظر اور اہم كام انجام دے كر اپنى شخصيت و اہميت دوسروں پر ثابت كرسكے تا كہ دوسرے اسے سرا ہيں ، اس كى قدر پہچانيں اور اس كے وجود كو غنيمت شمار كريں _ تقريبا ايك سال كى عمر كے بعد اس فطرى خواہش كى علامتيں بچے ميں ظاہر ہونے لگتى ہں _ بچہ كوشش كرتا ہے كہ محفل ميں ايك سے دوسرى جگہ جاتا رہے اور اپنى حركات سے دوسروں كى توجہ اپنى طرف ہبذول كروائے_جس كام سے اس كے ماں باپ اور دوسرے لوگ خوش ہوں اور وہ ہنسيں ان كا تكرار كرتا ہے ، انہيں ديكھ كر خوش ہو تا ہے اور اپنى كا ميابى پر فخر كرتا ہے _ كبھى اشار ے اور كبھى تصريح كے ساتھ يہ كہتا ہے كہ ديكھيں ميں كتنا اہم كام انجام دے رہاہوں

خود نمائي كى خواہش فى نفسہ كوئي برى صفت نہيں ہے _ يہى درونى احساس انسان كو كوشش اور جدو جہد كے ليے ابھار تا ہے تا كہ وہ سبق پڑھ كر بہتريں نمبر حاصل كرے يا بہترين مقرربن جائے يا اچھا خطيب قرار پائے يا ماہر مصور ہو جائے يا ايك زبر دست شاعر بن جائے يا ايك اچھا مصنف بن جائے يا ايك اچھا صنّاع يا موجد ہو جا ئے _

اس صفت كا اصل وجود برانہيں ليكن اہم بات اس سے استفادہ ہے _ اگر اس خواہش كى درست راہنمائي كى جائے اسے صحيح طريقے سے سيراب كيا جائے تو يہ بہترين نتائج كى حاصل ہو تى ہے _ ابتدائي طور پر بچہ اچھے اور برے ميں تميز نہيں كرسكتا _ ہر كام كى اچھائي يا برائي كا معيار اس كے ليے يہ ہے كہ اس كے والدين اسے پسند كرتے ہيں يا ناپسند _ ايك اچھا مربى كہ جس كى اس نكتے پر توجہ ہو وہ تحسين و تشويق كے ذريعے بچے كى خودنمائي كى خواہش كى تقويت كرتا ہے _ اس كے اچھے اور مفيد كاموں پر اظہار مسرت كرتا ہے اور اس طرح سے اس ميں اچھے اخلاق و آداب كى بنياد ركھتا ہے اگر اس سے كوئي غلط اور خلاف ادب كام ديكھتا ہے تو نہ صرف يہ كہ اظہار مسرت نہيں كرتا بلكہ اپنى ناراضى اور ناپسنديدگى كا اظہار بھى كرتا ہے اور اس طرح سے اس عمل كى برائي بچے كو سمجھتا ہے _ اس كى طرف سے تھين و تعريف سوچى سمجھى اور حقيقت كے مطابق ہوتے ہيں اور اس بارے ميں وہ تھوڑى سى بھى سہل انگارى اور غفلت نہيں كرتا _ اور اس طريقے سے وہ بچے كو اچھائيوں كى طرف جذب كرتا ہے اور برائيوں سے روكتا ہے _

البتہ بعض نادان ماں باپ اس بارے ميں افراط سے كام ليتے ہيں _ بچے كے ہر كام پر اگر چہ وہ غلط او ربے ادبى پر مبنى كيوں نہ ہو اظہار مسرت كرتے ہيں اور اس طرح سے اس ميں ناپسنديدہ اخلاق و آداب كى بنياد ركھتے ہيں _ اس كى خوبيوں كے بارے ميں مبالغہ كرتے ہيں _ ہر جگہ او رہر كسى كے سامنے اس كى تعريف كرتے ہيں _ اس كى ہنر نمائيوں كو دوسروں كے سامنے پيش كرتے ہيں _ ايسا بچہ ممكن ہے تكبر اور خود پسندى ميں مبتلا ہوجائے اور پھر آہستہ آہستہ ايك خو د غرض اور جاہ طلب شخص بن جائے اور اپنے ليے ايك جھوٹى شخصيت گھڑے اور لوگوں سے خواہس كرے كہ اس كے ماں باپ كى طرح اس كى موہوم اور خيالى شخصيت كى تعريف و توصيف كريں اور اگر وہ اس بارے ميں كامياب نہ ہو ا تو ممكن ہے اس ميں ايك نفسياتى عقدہ پيدا ہوجائے اور وہ لوگوں كو قدر ناشناس سمجھنے لگ جائے _ يہاں تك ممكن ہے كہ اپنى خيالى شخصيت كے ليے اور لوگوں كى ناقدرى كا بداء لينے كے ليے وہ كوئي غلط يا خطرناك اقدام كرے _ وہ چاہے گا كہ اپنى شكست خوردہ خواہشات كو پورا كرے اور دوسروں كى توجہ اپنى شخصيت كى طرف مبذول كرے چاہے اس كے ليے كچھ بھى ہوجائے _

اس نكتے كى ياد دھانى بھى ضرورى ہے كہ ماں باپ كو چاہيے كہ بچے كے اس احساس سے استفادہ كريں اور تدريجاً اس كى تربيت او رتكامل كى كوشش كريں اور اس كى ايك بلند اور بہتر راستے كى طرف راہنمائي كريں _ ماں باپ كى رضا اور خوشنودى كى جگہ آہستہ آہستہ اللہ كى رضا اور خوشنودى حاصل كرنے كى اس ميں خوپيدا كريں _ آہستہ آہستہ اس طرح كے جملے كہنے كى بجائے كہ مجھے يہ كام پسند نہيں يا فلاں كام ابو كو پسند نہيں يہ كہيں كہ اللہ كو يہ كام پسند نہيں او روہ اس كام پر راضى نہيں _