جب بچہ باہر كى دنيا كو ديكھنے لگتا ہے

جب بچہ باہر كى دنيا كو ديكھنے لگتا ہے

بچہ ايك چھو ٹا سا انسان ہوتا ہے اور انسان مدنى با لطبع ہے _ مدد اور تعادن كے بغير زندہ نہيں رہ سكتا اور نہ زندگى گزار سكتا ہے دوسروں كى طرف توجہ ركھتا ہے ان سے استفادہ كرتا ہے اور انہيں فائدہ پہنچا تا ہے _ ليكن نومولود اپنى زندگى كے ابتدائي مہينوں ميں كسى كو نہيں پہچانتا اور دوسروں كى طرف توجہ نہيں كرتا يعنى اجتماعى مزاج ابھى اس ميں ظاہر نہيں ہوا ہوتا جب تقر بيا چار ماہ كا ہو جاتا ہے تو آہستہ آہستہ مدنى بالطبع ہونے كے آثار اس ميں ظاہر ہو نے لگتے ہيں _ اس وقت وہ اپنے سے خارجى دنيا اور اپنےھ ارد گرد كے موجودات كى طرف توجہ كرتا ہے وہ ماں كى حركات و سكنات كو ديكھتا رہتا ہے _ ماں كى حركات پر اپنا رو عمل ظاہر كرتا ہے مسكراہٹ كے جواب ميں مسكراتا ہے اور اس كى را بردؤں كے جواب ميں اپنے ابردؤں كو حركت ديتا ہے بچوں كے كھيل كو حيرت سے ديكھتا ہے ، اٹھكيلياں كرتا ہے اور مسكر اتا ہے دوسروں كے جذبات كو محسوس كرتا ہے ، غصے پر اپنے تيئں پيچھے كھينچ ليتا ہے _

خوش دخرم چر ے اور محبّت آميز آواز ہو تو ھمك ھمك كر قريب آتا ہے _ وہ چا ہتا ہے كہ اسے بٹھا ديا جائے تا كہ دنيا كو اپنے سامنے ديكھے _

جب بچہ اس مرحلے ميں پہنچ جائے تو ماں باپ كو توجہ ركھنا چاہيئے كہ بچے ميں اجتماعى احساسات پيدا ہو چكے ہيں اور وہ اب خاندان كا ايك با قاعدہ حصہ بن گيا ہے _ دوسروں كى طرف تو جہ ركھٹا ہے اور ان كے جذبات كو كسى حد تك محسوس كرتا ہے _ اب نہيں چائے كہ اسے بے شعور اور لا تعلق سمجھا جائے اور اس سے لا تعلق ہا جائے _ ان چار اہ كى مدت ميں اس نے تجربے كيے ہيں اور چيزوں كو ياد كيا ہے وہ اب خارجى دنيا كو ديكھنے والا اور اجتماعى وجود ركھنے والا انسان ہے _ يہ احساس اگر چہ بہت سادہ اور بار يك ساہے _ ليكن يہ اس كى آئندہ كى مفصّل اجتماعى زندگى كا افق ہے _ اگر ماں باپ اپنے بچے كے اس نئے احساس كو پہچانيں اور سوچ سنجھ كر عقلى بنياد وں پر اس كى تكميل كى كوشش كريں تو وہ ايك اجتماعى شعور ركھنے والا مفيد انسان پروان چڑھا سكتے ہيں ليكن خارجى دنيا كايہ احساس آہستہ آہستہ دب جاتا ہے اور بچہ داخلى دنيا كى ہو لنا ك وادى كى طرف لوٹ جاتا ہے اور يہ بذات خود نقصان وہ صفات ميں سے ہے _ اسى صفت كى وجہ سے انسان گوشہ نشينى پسند كرنے لگتا ہے اور خو د بين ہو جاتا ہے _ معاشر ے اور معاشرتى كاموں سے گريزاں ہو جاتا ہے دوسرں كے بارے ميں بد گمال ہو جاتا ہے اور احساس كمترى كا شكار ہو جاتا ہے _ تعاوں اور ہمكار ى سے ڈرتاہے اور خوف كھا تا ہے _

اس موقع پر ماں باپ كے سر پرنئي ذمہ دارياں آجاتى ہيں _ انہيں چا ہيے كہ بچے كو با شعور سمجھيں كہ جو ان كے جذبات كو محسوس كرتا ہے اور ان كے كردار سے اثر قبول كرتا ہے _ بچے كو بھول نہيں جانا چاہيے اور ہميشہ اس كى طرف تو جہ ركھنا چاہيے اس سے مسكراتے برتٹوں اور اور خوش وو خرم چہرے سے ملاقات كرناچا ہيے _ اس سے محبت آميز انداز سے بات كرنا چاہيے _ پيار بھر ے انداز سے بوسہ لے كر اس سے اظہار محبت كرنا چا ہيے _ ايك مہربان ماں اپنے سر اور گردن كى حركت سے ، اپنے چشم و آبرو كے اشار ے سے ، اپنى ميٹھى مسكراہٹ سے اور اپنى محبت آميز گنگنا ہٹ سے بچے كى حس اجتماعى كو تقويّت پہنچا سكتى ہے اور اسے خارجى دنيا كى طرف متوجہ كرسكتى ہے كھيلنے كى اچھى اچھى اور مناسب چيزوں كے ذريعے اسے خارجى دنيا كى طرف متوجہ كيا جاسكتا ہے _

بچے كى اندرونى خواہشات اگر ٹھيك طريقے سے پورى كردى جائيں تو وہ آرام اور سكون محسوس كرتا ہے _ دوسروں كے بارے ميں خوش بين ہوجاتا ہے _لوگوں كو خير خواہ ، مہربان اور ہمدرد سمجھتا ہے _ جب معاشرہ اس سے اچھا سلوك كرتا ہے اور اس كى اندرونى خواہشات كا مثبت جواب ديتا ہے تو بچہ بھى اس سے خوش بين اور مانوس ہو جاتا ہے _ اس طرح كا طرز فكر بچے كى روح اور جسم پر اچھے اثرات مرتب كرتا ہے اور اس كى آئندہ زندگى كے ليے اچھى بنياد بنتا ہے اچھے ماں اور باپ بچے كو مارتے نہيں ، تر ش روٹى سے پيش نہيں آتے اور اس كى زندگى كو تلخ نہيں بنا تے كيونكہ انہيں معلوم ہو تا ہے كہ اس طرح كا احمقانہ رويہ بچے پر روحانى اور نفسياتى اعتبار سے برے اثرات مرتب كرتا ہے اور اس كے جذبات اور پاك احساسات كو مجروح كرديتا ہے اور اس كى شكستگى كا باعث بنتا ہے _ اسى غير عاقلانہ طر ز عمل كا نتيجہ ہى ہو تا ہے كہ بچہ ڈر پوك ، احساس كمتر ى كا شكار ، گوشہ نشين ، بد بين اوردل گرفتہ ہو جاتا ہے _

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ وآلہ و سلّم نے فرمايا :

اپنى اولاد كا احترام كرواور ان كى اچھى تربيت كرد تا كہ اللہ تمہين بخش دے ( 1)


1_ مكارم الاخلاق ص 255