عيب جوئي

عيب جوئي

لوگوں ميں يہنى كيڑے نكالنا بھى برى اور مذموم عادتوں ميں سے ہے _ عيب جوئي كرنے والے شخص سے لوگ نفرت كرتے ہيں اور اس سے ميل ملاپ پسند نہيں كرتے _ عيب جوئي دشمنى اور كينے كا باعث بن جاتى ہے ، دوستيوں كے بندھن توڑديتى ہے اور دوستوں كے ما بين جدائي ڈال ديتى ہے _ اگر كسى كى غير موجودگى ميں اس كى عيب جوئي كى جائے تو يہ غيبت ہے اور سامنے كى جائے تو بھى برائي ہے _ دين مقدس اسلام نے اس بڑى عادت كو گناہوں كبيرہ ميں سے شماركيا ہے اس بارے ميں بہت سى احاديث مروى ہيں _ مثلاً:

رسول اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے ايك خطبہ ديتے ہوئے بآواز بلند فرمايا:

اے وہ لوگو كہ جو زبان سے ايمان كا دعوى كرتے ہو _ ليكن تمہارے دلوں ميں ايمان داخل نہيں ہو مسلمانوں كى غيبت اور بدگوئي نہ كرو اور ان كے عيب تلاش نہ كرتے رہو كيونكہ ہر وہ شخص جو اپنے بھائي كے عيب ڈھونڈے اللہ اس كے عيوب آشكار كردے گا اور اسے لوگوں كى نظروں ميں رسوا كردے گا _ (1)

 

امام صادق عليہ السلام نے فرمايا:

جو شخص بھى كسى مومن سے متعلق كوئي ايسى بات كہے كہ جس سے اس كى عزت و آبرو جاتى ہو ، اللہ اسے اپنے دوستوں كے زمرے سے نكال كر شيطان كے دوستوں ميں شامل كردے گا اور شيطان بھى اسے قبول نہيں كرے گا _ (2)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا:

جو كوئي بھى كسى مسلمان مرد يا عورت كى غيبت اور بدگوئي كرے گا ، اللہ چاليس روز تك اس كى نماز روزہ قبول نہيں كرے گا مگر يہ كہ جس كى اس نے غيبت كى ہے اس راضى كرلے _(3)

امام صادق عليہ السلام نے فرمايا:

غيبت اور بدگوئي حرام ہے اور نيكيوں كو يوں تباہ كرديتى ہے جيسے آگ ايندھن كو جلاڈالتى ہے _ (4)

بد قسمتى سے اتنا برا گناہ ہمارے لوگوں كا معمول بن چكا ہے _ يہاں تك كہ اب يہ لوگوں كو برائي ہى معلوم نہيں ہوتا اور لوگ اس كے عادى ہوچكے ہيں _ ماں باپ كى برائي كرتى ہيں اور باپ ماں كى _ ہمسائے اور رشتے دار ايك دوسرے كى عيب جوئي كرتے ہيں _ معصوم بچے يہ برى عادت اپنے گھر اور ماں باپ ہى سے اپناتے ہيں _ بچے دوسرے بچوں كى عيب جوئي كرتے ہيں _ تدريجاً بڑے ہوجاتے ہيں تو پھر اس خود كو چھوڑنا ان كے ليے مشكل ہوجاتا ہے _

بعض نا سمجھ ماں باپ اپنے بچوں كى برائي بھى كرتے ہيں جب كہ انہيں اپنى اولاد كى كوتاہيوں كو چھپانا چاہيے _ كبھى ماں باپ اپنى اولاد كى برائي اس كے سامنے مذاق كے طور پر يا غصّے ميں بيان كرتے ہيں _

ايسى صورت ميں بچے ماں باپ كے بارے ميں بدظن ہوجاتے ہيں ، يا ان ميں بھى يہ عادت پڑجاتى ہے اور يا پھر اپنے بارے ميں وہ احساس كمترى كا شكار ہوجاتے ہيں لہذا ماں باپ كو بچوں كى عيب جوئي سے پرہيز كرن چاہيے _

 


1_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 203
2_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 305
3_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 304
4_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 305