بگڑا ہو ابچّہ

بگڑا ہو ابچّہ

يہ صحيح ہے كہ بچے كو محبت و نوازش كى ضرورت ہوتى ہے ليكن محبت ميں افراط صحيح نہيں ہے _ محبت غذا كے مانند ہے اگر ضرورى مقدار ميں اپنے مقام پر صرف ہو تومفيد ہے ليكن ضرورى مقدار سے زيادہ غير مناسب مقام پر صرف ہو تونہ صرف يہ كہ سود مندنہيں ہے بلكہ كئي ايك نقصانات كى حامل بھى ہے _ زيادہ لا ڈپيار نہ صرف بچے كے ليے مفيد نہيں ہے بلكہ ہے نہ ماں باپ كے دل بہلا نے كا ذريعہ ہے وہ ايك چھوٹا سا انسان ہے كہ جس كى خود اس كے ليے اور اكے مستقبل كے ليے تعمير و تربيت كى جاتى ہے اور يہ بہت بڑى ذمہ دارى ماں باپ كے كند ھے پر ركھى گئي ہے _ بچہ ہميشہ چھوٹا نہيں رھتا بلكہ بڑابھى ہو جاتا ہے اسے معاشر ے ميں زندگى بسر كرنا ہے اور زندگى بسر كرنا كوئي آسان كام نہيں بلكہ اس ميں اونچ نيچ ، كاميابى و ناكامى ، عروج وزوال راحت و مصيبت اور خوشى اور غم موجود ہو تا ہے _ ايك سمجھدار مربى صحيح اور علاقلانہ طرز تفكر كے ساتھ زندگى كے حوادث كو مدّ نظر ركھتے ہوئے اپنے بچے كى اس طرح سے تربيت كرتا ہے كہ وہ زندگى كے نشيب و فراز سے گزرنے كے ليے تيار ہو جائے _ ماں باپ كويہ بات معلوم ہو نا چاہيے كہ جيسے بچے كى تربيت كے ليے اصولى طور پر محبت ضرور ہى ہے اسى وہ بگڑ جاتے ہيں اوران كے ناز نخر ے بہت بڑھ جاتے ہيں _ اس برى صفت كا نتيجہ خطر ناك نكلتا ہے مثلا ً:

1_ جب بچہ يہ محسوس كرے گا كہ اس كے ماں باپ اسے بے انتہا چاہتے ہيں، پرستش كى حد تك اس سے محبت كرتے ہيں اور اس كى مرضى كے مطابق اسے سے سلوك كرتے ہيں تو اسے سے اس كى خواہشات كا دائرہ بہت وسيع ہوجائے گا _ وہ چاہے گا كہ فقط فرمان صادر كرے اور ماں باپ بلا چون و چرا اس پر عمل كريں كہ كہيں وہ ناراض نہ ہوجائے _ ايسے بچے ميں دن بدن استبداد اور قدرت طلبى بڑھتى جائے گى _ يہاں تك كہ وہ ايك آمر حكمران كى صورت اختيار كر ليتا ہے _ ايسا شخص جب معاشرے ميں آتا ہے تو لوگوں سے بھى يہ توقع ركھتا ہے كہ اس سے اس كے ماں باپ كى طرح محبت كريں ، اور اس كى خواہشات پر اسى طرح عمل پيراموں جيسے اس كے ماں باپ ہوتے ہيں ليكن لوگ خود غرض شخص سے محبت كرتے ہيں اور نہ اس كى خواہشات كى طرح توجہ كرتے ہيں _ اس بناء پر معاشرے سے اس كادل اچاٹ ہوجاتا ہے _ وہ شكست و ريخت كا شكار ہوجاتا ہے _ احساس كمترى كے باعث تنہائي پسند اور گوشہ نشين ہوجاتا ہے _ وہ مجبور ہوجاتا ہے كہ شكست و ناكامى كے ساتھ زندگى گزارے يا پھر خودكشى كركے اپنے آپ كو اس سے نجات دے لے _ بگڑے ہوئے اور ناز پرورلوگ ازدواجى زندگى ميں بھى عموماً كامياب نہيں ہوتے _ ايسا شخص اپنى بيوى سے بھى يہ توقع ركھے گا كہ اس كى ماں سے بھى بڑھ كر اس سے اظہار محبت كرے، اس كے فرامين كى پورى طرح اطاعت كرے اور بلا چون و چرا ان پر عمل كرے _ ليكن افسوس كى عملى زندگى ميں صورت حال مختلف ہے بہت سى بيوياں اپنے شوہر كے استبداد اور حكم كے سامنے تسليم محض كے ليے تيار نہيں ہيں _ اس ليے گھريلو لڑائي جھگڑے شروع ہوجاتے ہيں _ اسى طرح ايك بگڑى ہوئي بيٹى بھى جب اپنے سسرال ميں جاتى ہے تو اس كى بھى اپنے شوہر سے يہى توقع ہوتى ہے كہ وہ اس سے اس كے ماں باپ سے زيادہ محبت كرے اور اس كى ہر خواہش كوبلا حيل و حجّت قبول كرے _ عموماً مرد بھى ايك بلند پرواز اور ايسى بگڑى ہوئي عورت كى تمام خواہشات پورى نہيں كرسكتے ، لہذا گھر ميں لڑائي جھگڑا شروع ہوجاتا ہے _ ايسے مرد اور عورتيں ديكھنے ميں آجاتے ہيں جو اپنے بڑھاپے ميں بھى اس بات پر تيار نہيں ہيں كہ اس بگڑے پن اور بچگانہ عادت سے دست بردار ہو كر بڑے ہوجائيں _ ايسے لوگ گويا اس پر مصر ہيں كہ ہميشہ بچے ہى رہيں _

 

2_ ناز ونعم ميں پلنے والے بچے عموماً ضعيف و ناتوان روح اور رنجيدہ نفسيات كے حامل ہوتے ہيں _ يہ دوسروں كا سہارا ڈھونڈتے ہيں اور خود اعتمادى سے عارى ہوتے ہيں _ لہذا جب مشكلات پيش آتى ہيں تو راہ فرار ڈھونڈتے ہيں _ ان ميں يہ جرات نہيں ہوتى كہ بڑے كاموں ميں ہاتھ ڈاليں _ زندگى كے مسائل حل كرنے كے ليے وہ اللہ پر اور اپنى ذات پر اعتماد كرنے كے بجائے دوسروں كى مدد كى طرف ديكھ رہے ہوتے ہيں _

3_ لاڈپيار سے بگڑے ہوئے اور ناز پروردہ افراد عموماً خودپسند اور اپنے آپ ميں مگن ہوتے ہيں _ چونكہ ان كى حد سے زيادہ تعريف كى جاتى ہے اس ليے وہ اپنے تئيں ايك بہت بڑى شخصيت سمجھنے لگتے ہيں جب كہ حقيقت يوں نہيں ہوتى _ وہ اپنى برائياں نہيں ديكھتے بلكہ عيب كو كمال سمجھتے ہيں اور غرور بھى ايك بہت بڑا اخلاقى عيب اور ايك خطرناك نفسياتى بيمارى ہے _

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا:

خود پسندى بدترين چيز ہے _ (1)

امام على عليہ السلام نے يہ بھى فرمايا:

جو شخص بھى خودپسند ہواور بس اپنے ميں مگن ہواس كے عيب اور برائياں اس پر واضح ہوجائيں گى _(2)

ايسا شخص لوگوں سے يہ توقع ركھتا ہے كہ اس كى جھوٹى شخصيت كى تعريف كريں _ اس وجہ سے كاسہ ليس اور چاپلوس قسم كے لوگ اس كے گرد جمع ہوجائيں گے _ ليكن سچ گو اور تنقيد كرنے والوں كى اس كے ہاں كوئي جگہ نہ ہوگى _ خود پسند لوگ نہ صرف يہ كہ دوسروں كى محبت اور دوستى كو جذب نہيں كرسكتے بلكہ ہميشہ دوسروں كے نزديك قابل نفرت قرار پاتے ہيں _

 

حضرت امام على عليہ السلام نے فرمايا:

جو شخص بھى خودپسند ہوگا اور بس اپنى ذات ميں مگن ہوگا وہ بہت زيادہ مشكلوں ميں پھنس جائے گا _ (3)

4_ جن بچوں سے حد سے بڑھ كر محبت اور نوازش كى جاتى ہے اور ماں باپ ان كى ہر بات مانے چلے جاتے ہيں وہ رفتہ رفتہ ماں باپ بالكل مسلّط ہوجاتے ہيں _ جب بڑے ہوجاتے ہيں تو بھى اقتدار طلبى سے باز نہيں آتے اور ماں باپ سے بہت زيادہ توقعات ركھتے ہيں _ اگر ماں باپ ان كى خواہش كے مقابلے ميں آئيں تو وہ اپنا مقصد حاصل كرنے كے ليے بہت زيادہ غصّہ ،جھگڑا ، اور نازنخرا كرتے ہيں اور عادتيں بگاڑنے والے ماں باپ سے ہر جانہ وصول كرتے ہيں _ چونكہ اپنے لاڈلے پن كا احساس ہوتا ہے اس ليے آخر عمر تك ماں باپ سے جھوٹ بولتے ہيں اور ہر جانہ وصول كرتے ہيں _

5_ محبت ميں افراط بعض اوقات اس مقام پر جا پہنچتى ہے كہ اسے خوش ركھنے كے ليے حقيقى مصلحتوں اور تعليم و تربيت پر اس كى رضامندى كو ترجيح دينا پڑتى ہے _ اس كے عيبوں كو نہيں ديكھا جاتا يا نظر انداز كرديا جاتا ہے اور اس كى اصلاح كى كوشش نہيں كى جاتى _ اس كى خوشنودى حاصل كرنے كے لے كسى بھى كام سے دريغ نہيں كيا جاتا اگر چہ وہ غير شرعى ہى كيوں نہ ہو اور اس طرح سے ماں باپ اپنے عزيز بچے كے ساتھ عظيم ترين خيانتوں كے مرتكب ہوتے ہيں _

امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا:

بدترين باپ وہ ہے كہ جو اپنے بچے سے احسان اور مہر و محبت ميں افراط اور حد سے تجاوز كرے _ (4)

بچے كو ہميشہ خوف و رجاء كى كيفيت ميں زندگى بسر كرنا چاہيے _ اسے يہ اطمينان ہونا

 

چاہيے كہ وہ واقعاً ماں باپ كا محبوب ہے اور جہاں بھى ضرورى ہو اوہ اس كى مدد كو دوڑيں گے اور دوسرى طرف اسے معلوم ہونا چاہيے كہ جہاں بھى اس نے كوئي غلط كام انجام ديا ماں باپ اس كا مؤاخذہ كريں گے _

ڈاكٹر جلالى لكھتے ہيں

بچّے سے پيار ايك ضرورى چيز ہے _ ليكن بچے كا يہ چاہنا صحيح نہيں ہے كہ ماں باپ سارا وقت اسى كو دے ديں اور ہميشہ اسى كے چاؤ چونچلے كرتے _ (5)

ڈاكٹر جلالى ہى لكھتے ہيں :

اگر بچہ ايسے ماحول ميں زندگى گزارتا ہو كہ جہاں اسے بہت لاڈسے ركھا جاتاہو _ ہميشہ دوسرے اس كى حمايت كرتے ہوں _ اس كے برے اور ناپسنديدہ كاموں كو معاف كرديا جاتا ہو اور مشقت طلب دنيا ميں رہنے كے ليے اسے تيار نہ كيا جاتا ہو وہ معاشرے ميں ہميشہ بہت سارى مشكلات اور ركاوٹوں كا سامنا كرے گا _ بچے كو آغاز تولد سے ہى يہ سكھايا جانا چاہيے كہ زندگى گزارنے والا وہ اكيلا نہيں ہے بلكہ وہ ايك معاشرے كاحصّہ ہے اور اس كى خواہش كو دوسروں كى خواہشات سے ہم آہنگ ہونا چاہيے _ (6)

اگر بچہ بے مقصد ہى روئے يا غصہ كرے يا سر كو ديوار سے مارے اور اس طرح سے ماں باپ پر كاميابى حاصل كرنا چاہے اور اپنى غلط سلط خواہشات كو منوانا چاہے تو اس كى طرف اعتناء نہيں كرنا چاہيے _ اسے چھوڑديں تا كہ وہ سمجھ لے كہ اس كے رونے دھونے سے دنيا كا كچھ نہيں بگڑسكتا _ كچھ صبر كريں وہ خود ہى ٹھيك ہو جائے گا _

اگر آپ كا بچّہ زمين پرگرجائے تو ضرورى نہيں كہ اسے اٹھائيں اور اسے تسلى ديں يا زمين كو برا بھلا كہيں _ رہنے ديں تا كہ وہ خود اٹھے پھر اسے نصيحت كريں كہ محتاط رہے زمين پر نہ گرے _ اگر اس كا سر ديوار سے ٹكرا جائے تو چومنا اور پيار كرنا ضرورى نہيں ہے ايسے امور كى پرواہ نہ كريں _ كچھ ذرا ٹھيك ہوجائے تو پھر اسے نصيحت كريں _ جب آپ كا بچہ بيمار ہو جائے تو اس كے علاج كى كوشش كريں _ اس كے ليے دوا اور غذا مہيا كريں _ اس كى ديكھ بھال ميں دريغ نہ كريں اس كى بيمارى كو ايك معمولى واقعہ قرار ديں اور اپنے روزمرہ كے كام انجام ديتے رہيں _ آپ كى نيند، كھانا اور كام معمول كے مطابق انجام پانا چاہيے _ ايسا نہ ہوكہ اپنے كام اورمعمولات زندگى كو چھوڑ بيٹھيں اور غم و اندوہ كے ساتھ روتى آنكھوں كے ساتھ اس كے بستر كے كنارے بيٹھ جائيں اور وقت بے وقت اس كے بخار ميں تپتے ہوئے چہرے كو چومتے رہيں _ يہ كام بچے كے معالجے پر كوئي اثر نہيں ڈالتے البتہ اسے بگاڑ ضرور ديتے ہيں كيوں كہ وہ خوب احساس كرتا ہے كہ اس كى بيمارى ايك غير معمولى واقعہ ہے جس نے ماں باپ كى زندگى كو مفلوج كركے ركھ ديا ہے _

اپنے خط ميں لكھتى ہے :

دو بيٹيوں كے بعد ميرے ماں باپ كے ہاں بيٹا پيدا ہوا مجھے اپنى ماں كا شور شرا بہ اور جشن و سرور بھولتا نہيں، ميرے ماں باپ نے اس قدر اسے لاڈپيار كيا كہ دو سال كى عمر ميں وہ مجھے اور ميرى بہن كو خوب مارتا اور كاٹتا تھا او رہميں جرات نہ تھى كہ اپنا دفاع كريں _ جو كچھ وہ چاہتا بلا چون و چرا مہيا كرديا جاتا _ بچوں كو اذيت كرتا _ اس كے مدرسہ جانے كے ليے اس پر بہت زيادہ عنايات كى جاتيں _ ليكن وہ كوئي كام كرنے پر آمادہ نہ ہوتا _ استاد كى بات پر كان نہ دھرتا لہذا وہ سلسلہ تعليم جارى نہ ركھ سكااور ترقى نہ كر سكا _ اب جب كہ بڑا ہوگيا ہے بالكل ان پڑھ

ہے _ تنہائي پسند، كم گواور اپنے آپ ميں كھويا رہتا ہے _ كسى كام كے كرنے پر آمادہ نہيں ہوتا _ بے مقصد ادھر ادھر غصہ كرتا اور جھگڑتا رہتا ہے _ اپنى بہنوں سے اسے كوئي محبت نہيں _ اس كاانجام كار معلوم نہيں ہے _

ہاں ہمارا پيارا بھائي ماں باپ كى غلط تربيت اور حد سے زياادہ محبت ميں افراط كى بھينٹ چڑھ گيا ہے _

 

 

1_ غررالحكم ، ص 446
2_ غررالحكم ، ص 685
3_ غرر الحكم ، ص 659
4_ تاريخ يعقوبى ، جلد 2 ، ص 320
5_ روانشناسى كودك ص 461
6_ روانشناسى كودك ص 353