محبّت _ كام نكا لنے كاذريعہ نہيں

محبّت _ كام نكا لنے كاذريعہ نہيں

چونكہ بچے كوماں باپ كى محبّت اور پيار كى ضرورت ہے ، بعض ماں باپ بچے كے اس احساس سے استفادہ كرتے ہيں اور اسے كام نكا لنے كا ذريعہ بنا تے ہيں _ اس سے كہتے ہيں يہ كام كرو تا كہ امى تجھ سے پيار كر ے اور اگرتم نے فلاں كام كيا تو ابوتم سے پيار نہيں كريں گے _ البتہ شك نہيں ہے كہ اس طريقے سے بچے پر اثر انداز ہو ا جاسكتا ہے اور اس كمے كاموں كو ايك حد تك كنٹروں كيا جاسكتا ہے _ ليكن اسى راستى راستے كو اختيار كئے رہنا بے ضرر نہيں ہے كيونكہ اس ذريعہ سے آہستہ آہستہ بچہ ميں عادت پيدا ہو جائے گى كہ وہ ماں اور باپ اور دوسر ے لوگوں كى محبت حاصل كرنے كے ليے كام كرے نہ اس لئے كہ وہ كام واقعى اسكے اور معاشر ے كے مفا دميں ہے وہ كاموں كى اچھائي اور برائي كامعيار انفرادى اور اجتماعى مفاد اور بھلائي اور رضائے الہى كا حصول ہونہ كہ لوگوں خواہش اور ايسا نہيں ہے كہ سب ماں باپ بچے اور معاشر ے كے حقيقى مفادات كو بخوبى پہچان سكيں ايسے ماں باپ بھى ہيں كہ اپنے مفادات اور آرام كو حقيقى فائدے پر ترجيح ديتے ہيں _ اس ذريعہ سے يہ بھى ممكن ہے كہ بچہ چاپلوس ، منافق اور فريب كاربن جائے كيونكہ اس كا مقصد دوسروں كى خوشنودى اور توجہ حاصل كرنا بن جائے گا اگر چہ وہ منافقت اور فريب كارى ہى كے ذريعے كيوں نہ ہو _لہذا ايك سمجھدار مربى محبت كو مطلب نكالنے اور بچے پر اثر انداز ہونے كا وسيلہ قرار نہيں ديتا _