ماں كا دودھ نہ ہو تو ؟

ماں كا دودھ نہ ہو تو ؟

اگر ماں كا دودھ بچے كى ضرورت پورى نہ كرتا ہو تو ماں كو حق نہيں پہنچتا كہ وہ اسے اپنے دودھ سے بالكل ہى محروم كردے بلكہ اس كا جتنا بھى دودھ ہے وہ بچے كو پلائے اور كمى كو دوسرے دودھ اور غذا سے پورا كرے _ ليكن اگر ماں كو دودھ بالكل نہ ہو (البتہ ايسا بہت ہى كم ہوتا ہے) يا وہ دودھ دينے سے معذور ہوتو پھرگائے كے دودھ سے استفادہ كيا جا سكتا ہے كہ جو كسى حد تك شير مادر سے ملتا جلتا يا پھرخشك دودھ سے _ اگر گائے كے دودھ سے استفادہ كيا جائے تو چاہيے كہ مندرجہ ذيل نكات كى طرف توجہ ركھى جائے _

1_ گائے كا دودھ عموماً ماں كے دودھ سے زيادہ گاڑھا اور زيادہ بھارى ہوتا ہے _ اس لحاظ سے چاہيے كہ اس ميں كچھ ابلا ہوا پانى ملاديا جائے ، اس حد تك كہ وہ ماں كے دودھ جيسا ہوجائے اس ميں تھوڑى سى چينى بھى ملا لينى چاہيے _

2_ دودھ كو پندرہ منٹ تك كے ليے ابال لينا چاہيے تا كہ اگر اس ميں جراثيم ہوں تو وہ ختم ہوجائيں _

3_ بچے كو جود ودھ پلايا جائے نہ زيادہ گرم ہو اور نہ زيادہ سرد بالكل ماں كے دودھ جيسى اس كى حرارت ہو _

4_ ہر مرتبہ بچے كو دودھ پلاتے وقت فيڈر (دودھ والى بوتل) كو دھولينا چاہيے تا كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ دودھ خراب ہوجائے اور بچہ بيمار ہوجائے _

5_ كوشش كرنى چاہيے كہ حتى المقدور تازہ اور صحيح دودھ سے استفادہ كيا جائے _ اگر آپ بچے كى غذا كے ليے خشك دودھ سے استفادہ كرنا چاہيں ، تو ضرورى ہے كہ اس بارے ميں ڈاكٹر سے مشورہ كريں كيونكہ خشك دودھ مختلف قسم كا ہوتا ہے اور ہر قسم كا دودھ ہر بچے اور ہر عمر كے ليے مفيد او رمناسب نہيں ہوتا _

اس سلسلے ميں ڈاكٹر ہى فيصلہ كركے آپ كى راہنمائي كرسكتا ہے _ اگر ڈاكٹر كوئي دودھ آپ كے بچے كے لئے تجويز كرے اور وہ آپ كے بچے كے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو تو آپ پھر ڈاكٹر كى طرف رجوع كرسكتے ہيں _