ملكيّت

ملكيّت

ماں سے محبت انان كى طبيعت كا حصّہ ہے جن چيزوں كى انسان كو ضرورت ہوتى ہے انہيں اپنى ملكيت بناليتا ہے _ اور اپنے تئيں اس كا مالك سمجھتا ہے _ دوسروں سے بھى وہ توقع ركھتا ہے كہ اس كى مليكت كا حترام كريں اور اس كے مزاحم نہ ہوں _ ملكيّت كى خواہش انسان كى فطرت ہيں اس طرح سے، موجود ہے كہ اسے كاملاً ختم نہيں كيا جا سكتا _ جدھرسے بھى اس كا مقابلہ كيا جائے وہ كسى اور صورت ميں ظاہر ہوجائے گى _ ملكيت اگر چہ ايك امر اعتبارى ہے ليكن ايسا امر اعتبارى كہ جس نے حقيقت كى صورت اختيار كرركھى ہے اور انسان كى فطرت ميں جاگزيں ہوچكا ہے اور اس كے بغير انسانى كا نظام چلنا ممكن نہيں ہے _ جب سے بچہ اپنے آپ كو بچاننے لگتا ہے اور اپنے احتياجات كو سمجھنے لگتا ہے تو اس كا اشياء سے تعلق پيدا ہوجاتا ہے اور اس كا احساس اس كے وجود ميں پيدا ہوجاتا ہے _

بچے كو جو چيز زمين پہ پڑى مل جائے يا كسى كے ہاتھ سے لے لے وہ اسے اپنے آپ سے مختص سمجھتا ہے _ اسے مضبوط سے تھام ليتا ہے اور آسانى سے تيار نہيں ہوتا كہ كسى كودے دے _ وہ اپنے جوتے ، لباس اور كھلونوں كا اپنے آپ كو مالك سمجھتا ہے اور كسى كو اجازت نہيں ديتا كہ ان ميں تصرف كرے اور اگر كوئي اجازت كے بغير انہيں استعمال كرے تو اسے غاصب اور متجاوز سمجھتا ہے اور اس كے خلاف قيام كرتا ہے اور لڑتا ہے _

آپ نے ديكھا ہوگا كہ بچے اپنے كھلونوں سے يہاں تك كہ نايت غير اہم سى چيزوں سے كتنى محبت كرتے ہيں اور ان كى حفاظت كرتے ہيں اور ان كے ليے لڑتے

جھگڑتے ہيں او ريہ ان كا حق ہے كيوں كہ وہ مالك ہيں اور اپنے حق كا دفاع كرتے ہيں _ اگر كوئي اپنے حق كے حصول كے ليے قيام كرے تو اسے شرير اور غلط نہيں سمجھنا چاہيے _ احساس ملكيّت كوئي غلط چيز نہيں ہے بلكہ ہر انسان كے ليے فطرى ہے _ ماں باپ كو چاہيے كہ بچے كے اس فطرى احساس كو قبول كرليں اور اس كى خلاف ورزى نہ كريں _

ايسا بہت ہوتا ہے كہ بچے ايك دوسرے كى ملكيّت ميںتجاوز كرتے ہيں اور چاہتے ہيں كہ دوسروں كى چيزوں او ركھلونوں ميں تصرف كريں يا انہيں غصب كرليں ماں باپ كو چاہيے كہ ايسے كاموں كى بچوں كو اجات نہ ديں _ كيوں كہ جن ميں زيادہ طاقت ہوگى انہيں دوسروں كے حقوق اس طرح غصب كرنے كى عادت پڑجائے گى _ اور چھوٹے مظلوم بن جائيں گے او ران كے دل اس پر ملول ہوں گے _ اگر ماں باپ ايسے امور ميں ظالم كى حمايت كريں تو وہ شريك جرم ہوں گے اور جو بچہ مظلوم ہوگاوہ ان كے بارے ميں بدگمان ہوجائے گا _ اگر وہ ايسے مسئلے پر چپ رہيں تو اپنے سكوت سے بھى وہ زيادتى كرنے والے كے عمل كى تائيد كريں گے اور اسے تشويق كريں گے _ اور اس طرح سے وہ بچوں كو تجاوز پر سكوت اور حق كا دفاع نہ كرنا سكھائيں گے _ اور يہ بھى ايك بہت بڑا جرم ہے _ ماں باپ كو ايسے امور ميں دخيل ہونا چاہيے _ زيادتى كرنے والے بچے كى زيادتى كو روكنا چاہيے اور اسے اجازت نہيں دينا چاہيے كہ وہ طاقت سے كسى دوسرے بچے كے كھلونے چھين لے _ ليكن يہ كام مارپيت اور گالى گلوچ كے ذريعے نہيں ہونا چاہيے _ بلكہ شروع ميں اچھے انداز سے اور مشفقانہ طريقے سے اسے سمجھائيں كہ يہ چيز تمہارى بہن كى ہے يا تمہارے بھائي كى ہے _ اور تمہيں ان ميں تصرف كا حق نہيں پہنچتا _ بعد ازاں پورى قاطعيت سے كہيں كہ ہم اجازت نہيں دے سكتے كہ تم اپنى بہن يا بھائي كى چيزوں پر زبردستى قبضہ جمالو_ اور اگر يہ طريقہ بھى مؤثر نہ ہو تو كچھ سختى اور ڈانٹ ڈپٹ سے روكيں اور جس بچے كے ساتھ زيادتى ہوتى ہو اس كى حمايت كريں يہ صحيح ہے كہ احساس ملكيّت كا احترام كيا جانا چاہيے اور جائز حدود ميں اس كى حمايت كى جانا چاہيے ليكن اس بالكل آزاد او رغير مشروط نہيں چھوڑ دينا چاہيے _ انسان كى نفسانى خواہشات ہميشہ بڑھتى رہتى ہيں اور كسى معين حد پر جاكر ٹھرتى نہيں _ اگر ان پر كنڑول نہ كيا جائے تو انسان كى تباہى اور ہلاكت كا سبب بن جاتى ہيں _ اصول ملكيّت انسانى ضروريات كو پورا كرنے كے ليے ہيے _ اور مليكت كے حصول كے ليے كام اور محنت كو جائز قرار ديا گيا ہے _ اور حبّ مال جائز حدود ميں نہ فقط عيب نہيں ہے بلكہ انسان كے ليے ايك فطرى امر شمار ہوتا ہے ليكن اگر بالكل آزادى دے دى جائے تو پھر يہ مال پرستى كى صورت اختيار كرے گى _ ايسے بہت سے لوگ ہيں كہ جو مال و دولت پہ مرے جاتے ہيں _ بغير ضرورت كے شب و روز ديوانہ وار اس كے ليے لگے رہتے ہيں ، يہاں تك كہ بعض لوگ حصول دولت كے ليے اپنا آرام و راحت عزت و آبرو، ، دين و اكرام اور احترام و شرافت سب كچھ فردا كرديتے ہيں ايسے لوگوں كو عقل مند انسان نہيں سمجھا جا سكتا _ ماں پرستى بھى ايك طرح كا جنون ہے وہ لوگ كہ جنہيں نہ ضرورت ہوتى ہے نہ خود كھاتے ہيں نہ دوسروں كو ديتے ہيں فقط اور فقط جمع كيے جاتے ہيں اور ڈھير لگائے جاتے ہيں ايسے لوگوں كو عاقل اور خردمند نہيں سمجھاجاسكتا_

لہذا ماں باپ بچے كے احساس ملكيت كے حترام كے ساتھ ساتھ اس كى زيادہ طلبى كى خواہش كو بھى روكيں _ اس كے كھلونے ضرورت كے مطابق ہونا چاہئيں _ زيادہ نہيں _ بس اتنے كہ ان سے وہ كھيل سكے اور كوئي كام سيكھ سے _ نہ اتنے كے بس جمع كرركھے اور دوسرے بچوں كے مقابلے ميں فخر كرتا رہے _ اگر اس كے پاس اتنے كھلونے ہوں كہ اسے ان كى ضرورت نہ ہو اور انہيں اس نے بس جمع كركے ركھ چھوڑا ہو تو بہتر يہ ہے كہ ماں باپ اسے شوق دلائيں كہ وہ دوسرے بچوں كو دے دے جنہيں ان كى ضروت نہيں جب كہ دوسرے بچوں كے پاس كھلونے نہيں ہيں او ران كو ضرورت بھى ہے _ مناسب نہيں ہے كہ تم ان كا ذخيرہ كر ركھو اور دوسروں كو نہ دو _ جن كھلونوں كى تمہيں ضرورت نہيں ہے وہ دوسرے ضرورت مند بچوں كو دے دو _ وہ خوش ہوں گے خدا بھى خوش ہوگا او رماں باپ بھى _ بچہ چون كہ صاف ذہن ہوتا ہے اور فطرى طور پر خيرخواہ ہوتا ہے اور اس كى خواہش ہوتى ہے كہ ماں باپ كى خوشنودى حاصل كرے وہ ان كى بات سنتا ہے اور يوں اس كے اندر جو دو عطا كى ايك پسنديدہ عادت پيدا ہوجائے گى _ اس صورت ميں جب كہ بچے كو كھلونے كى ضرورت نہيں _

اور دوسرا بھى كوئي بچہ ان كھلونوں سے كھيلنا چاہتا ہے تو بہتر ہے كہ ماں باپ بچے كو نرمى اور پيار سے تشويق كريں كہ وہ كچھ دير كے ليے كھلونے دوسرے بچے كو دے دے تا كہ وہ ان سے كھيل سكے _ اس طرح سے اس ميں تعاون اور ايثار كا جذبہ پيدا كيا جا سكتا ہے _ باہمى تعاون كے جذبے كو فروغ دينے كے ليے ايسے كھلونے بچوں كو خريد كرديے جا سكتے ہيں كہ جن سے مشتركہ طور پر كھيلا جائے _ اور انہيں شوق دلانا چاہيے كہ مل جل كر كھيليں _ اور مل جل كر فائدہ اٹھائيں _ مختصر يہ كہ ماں باپ كو چاہيے تريت كرتے ہوئے تمام مراحل بچوں كے ليے حد اعتدال كو محلوظ ركھيں احساس ملكيت كے اصول كى حمايت كريں اور خرابيوں كو روكيں ، كوشش كريں كہ اس احساس كو كنٹرول كريں اور صحيح راستے پر ڈاليں _ اور اس امر پر نظرركھيں كہ كہيں وہ مال و دولت كے اندھے عاشق اور زرپرست نہ بن جائيں _