بچہ اور فرائض ديني

بچہ اور فرائض ديني

يہ درست ہے كہ لڑكا پندرہ سال كى عمر ميں اور لڑكى نو سال كى عمر ميں مكلّف ہوتے ہيں اور شرعى احكام ان پر لاگو ہو جاتے ہيں _ ليكن دينى فرائض كى انجام دہى كو بلوغت تك ٹالانہيں جا سكتا_ انسان كو بچپن ہى سے عبادت اور دينى فرائض كى انجام دہى كى عادت ڈالنى چاہيے تا كہ بالغ ہوں تو انہيں شوق سے بجالائيں خوش قسمتى سے ايك مذہبى گھرانے ميں پرورش پانے والا بچہ تين سال كى عمر ہى سے اپنے ماں باپ كى تقليد ميں بعض مذہبى كام بجالاتا ہے _ كبھى ان كے ليے جائے نماز بچھاتا ہے ، كبھى ان كے ساتھ سجدے ميں جاتا ہے ، اللہ اكبر اور لا الہ اللہ كہتا ہے چھوٹے چھوٹے مذہبى اشعار مزے مزے سے پڑھتا ہے _ فرض شناس اور سمجھ دار ماں باپ بچے كى ان فطرى حركات سے استفادہ كرتے ہيں _ ان پر مسكراكر اور اظہار مسرت كركے اسے تقويت كرتے ہيں _ اگر زبردستى يہ چيزيں بچے پر ٹھونس نہ جائيں تو بہت مفيد ہوتى ہيں _ اس عمر ميں ماں باپ كو نہيں چاہيے كہ بچے كو سكھانے اور نماز پڑھانے و غيرہ كے امور ميں جلدى كريں يا ان پر دباؤ ڈاليں _ پانچ سال كى عمر كے قريب بچہ سورہ فاتحہ و غيرہ يا دكرسكتا ہے آہستہ آہستہ يادكروانا شروع كريں اور پھر سات سال كى عمر ميں اسے حكم ديں كہ وہ باقاعدہ نماز پڑھا كرے _ اول وقت ميں خود بھى نماز پڑھا كريں اور بچوں كو بھى اس كى نصيحت كريں _ نو سال كى عمر ميں انہيںحتمى طور پر نماز پڑھنے كى تلقين كريں _ انہيں سمجھائيں كہ سفر حضر ميں نماز پڑھا كريں _ عمل نہ كرے تو سختى بھى كريں اور اس سلسلے ميں كوئي سستى نہ كريں _ اگر ماں باپ خود نمازى ہوں تو آہستہ آہستہ بچوں كو بھى اس كا عادى بناسكتے ہيں اور پھر وہ سنّ بلوغ تك پہنچ كر خود بخود شوق و ذوق سے نماز پڑھنے لگيں گے _ اگر ماں باپ نے يہ عذر سمجھا كہ بچہ ابھى چھوٹا ہے ، بالغ نہيں ہوا اور اس پر نماز ابھى فرض نہيں ہوئي لہذا اسے كچھ نہ كہيں تو پھر بالغ ہوكر بچے كے ليے نماز پڑھنا مشكل ہوگا_ كيوں كہ جس عمل كا انسان بچپن ميں عادى نہ ہو اہو بڑے ہو كر اسے اپنا نا مشكل ہوتا ہے يہى وجہ ہے كہ پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم اور ائمہ اطہار(ع) نے چھ يا سات سال كى عمر ميں بچے كو نماز پڑھنے كا عادى بنانے كا حكم ديا ہے _

امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا:

ہم اپنے بچوں كو پانچ سال كى عمر ميں نماز پڑھنے پر آمادہ كرتے ہيں اور سات سال كى عمر ميں انہيں نماز پڑھنے كا حكم ديتے ہيں _ (1)

پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا:

جب آپ كے بچے چھ سال ہوجائيں تو انہيں نماز پڑھنے كاحكم ديں اور سات سال كے ہوجائيں تو انہيں اس كے ليے زيادہ تاكيد كريں اور اگر ضرورت ہو تو مارپيٹ سے بھى انہيں نماز پڑھوائيں _ (2)

امام باقر عليہ السلام يا امام صادق عليہ السام نے فرمايا:

جب بچہ سات سال كا ہوجائے تو اسے كہيں كہ منہ ہاتھ دھوئے اور نمازپڑھے ليكن جب 9 سال كا ہوجائے تو اسے صحيح اور مكمل وضو سكھائيں اور سختى سے نماز پڑھنے كا حكم ديں _ ضرورت پڑے تو اسے مارپيٹ كے ذريعے بھى نماز پڑھنے پر مائل كيا جا سكتا ہے _ (3)

امام صادق عليہ السلام نے فرمايا:

جب بچہ چھ برس كا ہوجائے تو ضرورى ہے كہ وہ نماز پڑھے اور جب وہ روزہ ركھ سكتا ہو تو ضرورى ہے كہ روزہ ركھتے _ (4)

روزے كے معاملے ميں بچے كو آہستہ آہستہ عادت ڈالنا چاہيے _ جو بچہ سن تميز كو پہنچ چكا ہوا سے سحرى كے ليے بيدار كريں تا كہ وہ ناشتے كى جگہ سحرى كھائے اور اس كا عادى ہو جائے _ جب بچہ روزہ ركھ سكتا ہو تو ضرورى ہے كہ اسے اس كى ترغيب دى جائے اور اگر وہ روزہ ركھ كر اسے نبھانہ پارہاہو تو اسے درميان ميں كچھ كھانے پينے كو ديا جا سكتا ہے _ آہستہ آہستہ اس كے روزوں كى تعداد بڑھائي جائے البتہ اس كى طاقت كو ملحوظ خاطر ركھا جائے بچہ بالغ ہوجائے تو اسے كہا جائے كہ تم پر فرض ہے كہ روزہ ركھواور نماز پڑھوا اگر تم نے ايسا نہ كيا تو گنہ كار ہوگے _ بہتر يہ ہے كہ اسے روز ے كى فضيلت اور ثواب بھى بتايا جائے تا كہ اس ميں برداشت كرنے كى قوت بڑھے_ رمضان المبارك كے آخرى ايام ميں بچے كى ديگر ذمہ داريوں ميں كمى كى جانا چاہيے تا كہ وہ آرام سے روزہ ركھ سكے _ آخر رمضان المبارك ميں اسے انعام كے طور پر بھى كچھ ديں _ دن دھيان ركھيں كہ كہيں چھپ چھپا كرروزہ توڑنہ لے _

ماں باپ كے ليے ضرورى ہے كہ بلوغ سے پہلے بچے كو احتلام كى علامتوں سے آگاہ كريں _ غسل اور استنجا كے بارے ميں اسے بتائيں_

اس نكتے كى ياددہانى بھى ضرورى ہے كہ اگر ماں باپ كى خواہش ہے كہ ان كے بچے اہل مسجد ہوں اور دينى محافل كى طرف راغب ہوں تو پھر بچپن ہى سے انہيں اس كا عادى بنائيں _ مسجد اور دينى محفل ميں انہيں اپنے ہمراہ لے جايا كريں تا كہ ان ميں بھى اس كا شوق پيدا ہوجائے ورنہ بڑے ہوكر وہ رغبت سے ايسى محفلوں ميں نہيں جايا كريں گے _

آخر ميں اس بات كى طرف بھى توجہ ضرورى ہے كہ بچہ بالغ ہونے سے پہلے مكلف نہيں ہوتا اور مذہبى فرائض اس پر عائد نہيں ہوتے اور انہيں ترك كرنے پر اسے گناہ نہيں ہوگا مگر ماں باپ كو حق نہيں پہنچتا كہ وہ بلوغ سے پہلے بچوں كو آزاد چھوڑديں كہ وہ جو چاہيں كرتے پھريں _ كيونكہ نماز روزہ اس پر واجب نہ بھى ہو تو اگر وہ كسى كا شيشہ توڑ آئے كسى كے جسمانى عضو كو نقصان پہنچائے مثلاً كسى كا كان كاٹ دے ، آنكھ اندھى كردے يا ہاتھ توڑڈالے تو واجب ہے كہ بالغ ہوكر اس كى شرعى ديت اداكرے _

دوسرى طرف اگر آزاد چھوڑديا جائے كہ جو اس كے جى ميں آئے كرے تو پھر بڑا ہوكر بھى وہ گناہ اور غلط كاموں كا عادى ہوگا كيونكہ بالغ ہوكر پھر وہ بچپن كا طر ز عمل نہيں چھوڑے گا _ لہذاا ماں باپ كے ليے ضرورى ہے كہ اسے بچپن ہى سے واجبات اور محرّمات كى حدود سے آگاہ كريں _ حرام كا م انجام دينے سے روكيں او رواجب كام كى انجام وہى ميں اس كى مدد كريں _

 


1_ وسائل ، ج 3، ص 12
2_ مستدرك ، ج 1 ، ص 171
3_ وسائل، ج 3، ص 13
4_ همان، ص 19، باب استحباب أمر الصبيان بالصلاة، ح 4