دنيا مہدى (عج) كے زمانہ ميں

دنيا مہدى (عج) كے زمانہ ميں

انجينئر : ميرى خواہش ہے كہ آپ حضرت مہدى (عج) كے زمانہ حكومت ميں دنيا كے عام حالت بيان فرمائيں _

ہوشيار : احاديث سے واضح ہوتا ہے كہ جب مہدى موعود ظہور فرمائيں گے اور جنگ ميں كامياب ہوجائيں ، مشرق و مغرب پر تسلط پاليں گے تو اس وقت پورى دنيا ميں ايك ہى حكومت ہوگى _ تمام شہروں او رصوبوں ميں لائق حكام ضرورى احكام كے ساتھ منصوب كئے جائيں گے _ (1) ان كى كوشش سے تمام زمين آباد ہوجائے گى _ حضرت مہدى بھى پورى زمين كے ممالك كے حوادث و حالات پر نظر ركھيں گے ، زمين گا گوشہ گوشہ ان كيلئے ايسا ہى ہے جيسے ہاتھ كى ہتھيلى _ آپ كے اصحاب و انصار بھى دور سے آپ كو ديكھيں گے اور گفتگو كريں گے _

ہر جگہ عدل و انصاف كا بول بالا ہوگا _ لوگ آپس ميں مہربان ہوجائيں گے اور صدق و صداقت كے ساتھ زندگى بسر كريں گے _ ہر جگہ امن و امان ہوگا _ كوئي كسى كو آزار پہنچانے كى كوشش نہيں كرے گا _ لوگوں كے اقتصادى حالات بہت اچھے ہوجائيں گے يہاں تك كہ كوئي زكوة كا مستحق نہيں مليگا _ منافع كى مسلسل بارش ہوگى _ سارى زمين سر سبز ہوجائے گى _ زمين كى پيدا وار ميں اضافہ ہوگا _ كاشتكارى كے امور كي ضرورى اصلاحات ہونگى _ لوگ خدا كى طرف زيادہ متوجہ ہوں گے ، گناہ چھوڑديں گے دين اسلام دنيا كا سركارى دين ہوگا _ ہرجگہ اللہ اكبر كى آواز بلندہوگى _ اصلى راستہ كو ساٹھ گزچوڑاكيا جائے گا ، راہ سازى پر اتنى توجہ دى جائے گى كہ راستوں ميں مساجد كى بھى رعايت نہ كى جائے گى ، پيدل چلنے والوں كيلئے راستہ بنائے جائيں گے اور انھيں ، اسى پر چلنے كى تاكيد كى جائے گى اور سوارى والوں كو روڈ كے درميان سے گزرنے كا حكم ہوگا _

راستوں ميں كھلنے والى كھڑكياں بندكردى جائيں گى _ گلى كو چوں ميں پرنالے لگانے سے منع كرديا جائے گا ، مناروں كو توڑديا جائے گا _

امام مہدى كے زمانہ ميں عقليں كامل ہوجائيں گى ، معلومات عامہ كى سطح بلند ہوجائے گى يہاں تك حجلہ نشين عورتيں بھى فيصلہ كرسكيں گى _

حضرت امام صادق (ع) كا ارشاد ہے :

''علم كو 27 حصوں ميں تقسيم كيا گيا ہے ليكن ابھى تك اس كے دو حصوں تك ہى انسان كى رسائي ہوئي ہے _ جب ہمارا قائم ظہور كرے گا اس كے پچيس حصوں كو بھى آشكار كريں گے '' _(2)

لوگوں كا ايمان كامل ہوجائے گا، كينہ سے دل پاك ہوجائيں گے _ آخر ميں اس بات كا ذكر كردينا ضرورى ہے كہ مذكورہ مطالب كو روايت سے ليا گيا ہے _ اگر چہ ان كا مدرك خبر واحد ہے _ تفصيل كيلئے بحار الانوار ج 51 و 52 ، اثبات الہداة ج 6 و 7 اور غيبت نعمانى كا مطالعہ فرمائيں _

 

1_ دلائل الامامہ مولفہ محمد بن جرير طبرى ص 249
2_ بحار الانوار ج 52 ص 326_