عالم ہورقليا اور امام زمانہ

عالم ہورقليا اور امام زمانہ

جلالى صاحب كے گھر پر جلسہ منعقد ہوا اور موصوف نے ہى گفتگو كا آغاز كيا _

جلالى : مسلمانوں كى ايك جماعت كہتى ہے كہ امام زمانہ اما م حسن عسكرى كے فرزند ہيں جو كہ 256 ھ ميں پيدا ہوئے اور اس دنيا سے عالم ہورقليا منتقل ہوگئے اور جب انسانيت درجہ كمال پر پہنچ جائے گى اور دنيا كى كدورتوں سے پاك ہوجائے گى اور امام زمانہ كے ديدار كى صلاحيت پيدا كرے گى تو اس وقت آپ كا ديدار كرے گى _

اسى جماعت كے ايك بزرگ اپنى كتاب ميں لكھتے ہيں : يہ عالم زمين كہ تہہ ميں تھا آدم كے زمانہ ميں اسے كہا گيا : اوپر آؤجبكہ وہ اوپر كى طرف ہى محو سفر تھا وہ گردو غبار اور كثافتوں سے نكل كر صاف فضا ميں نہيں پہنچا ہے _ پس يہ ايك تاريك جگہ ہے جہاں وہ دين كو تلاش كرتا ہے ، عمل كرتا ہے اعتقاد پيدا كرتا ہے اور جب غبار سے گزركر صاف ہوا ميں داخل ہوگا تو مہدى كے روئے منور كو ديكھے گا اور ان كے نور كو مشاہدہ صاف ہوا ميں داخل ہوگا تو مہدى كے روئے منور كو ديكھے گا او ران كے نور كو مشاہدہ كرے گا اور كھلم كھلا ان سے استفادہ كرے گا _ احكام بدل جائيں گے دنيا كى كچھ اور ہى حالت ہوگى ، دين كى كيفيت بھى بدل جائے گى _

پس ہميں وہاں جانا چاہئے جہاں ولى ظاہر و آشكار ہيں نہ كہ ولى ہمارے پاس آئے اگر ولى ہمارے پاس آجائے اور ہم ميں صلاحيت وليقات نہ ہو تو ان سے مستفيد نہ ہو سكيں گے ، اگر وہ آجائے اور اسى حالت پر باقى رہيں گے تو انھيں ديكھ سكيں گے اور نہ مستفيض ہوسكيں گے اور اگر ہمارى قابليت ميں اضافہ ہوجائے اور اچھے بن جائيں تو واضح ہے كہ ہم نے ترقى كى كچھ منزليں طے كرلى ہيں لہذا ہميں ترقى كركے اوپر جانا چاہئے تا كہ اس مقام تك پہنچ جائيں جس كو فلسفہ كى اصطلاح ميں ، ہورقليا كہتے ہيں _ جب دنيا ترقى كركے ہورقليا تك پہنچ جائے گى تو وہاں اپنے امام كى حكومت و حق كو مشاہدہ كريگى اور ظلم ختم ہوجائے گا _ (1)

ہوشيار: مؤلف كا مقصد واضح نہيں ہے _ اگر وہ يہ ثابت كرنا چاہتے ہيں كہ امام زمانہ نے اپنے مادى جسم كو چھوڑ كر جسم مثالى اختيار كرليا ہے اور اب زمين كے موجودات ميں ان كا شمار نہيں ہوتا اور مادّہ كے آثار سے برى ہيں ، تو يہ بات نامعقول اور امامت كى عقلى و نقلى دليلوں كے منافى ہے كيونكہ اندليلوں كامقتضييہ ہے كہ ہميشہ لوگوں كے درميان ايك ايسے كامل نسان كا وجود ضرورى ہے كہ جس ميں انسانيت كے سارے كمالات جمع ہوں ، صراط مستقيم پر گامز ن ہو اورلوگوں كے امور كى زمام اپنے ہاتھ ركھتا ہوتا كہ نوع انسان حيران و سرگردان نہ رہے اور خدا كے احكام ان كے درميان محفوظ رہيں اور خدا كے بندوں پر حجت تمام ہوجائے _ بہ عبارت ديگ: جہاں انسان كمال اور مقصد انسانيت كى طرف رواں دواں ہيں وہيں رہبر كا وجود بھى ناگزيرہے _

اگر مؤلف كى مراد عالم ہورقليا سے اسى دنيا كا كوئي نقطہ مراد ہے تو يہ بات ہمارے عقيدے كے منافى نہيں ہے ليكن ان كلام سے يہ بات سمجھ ميں نہيں آتى لہذا نامعقول ہے _


1_ ارشاد العوام مولفہ محمد كريم خان ج 3 ص 401_