ظہوركى كيفيت

ظہوركى كيفيت

حسب سابق 8 بجے جلسہ كى كاروائي شروع ہوئي اور اولين سوال ڈاكٹر صاحب نے اٹھايا :

ڈاكٹر: اجمالى طور پر امام زمانہ كے ظہور كى كيفيت بيان كيجئے _

ہوشيار : اہل بيت كى احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ جب دنيا كے حالات سازگار ہوجائيں گے اور حكومت حق كو قبول كرنے كيئے دنيا والوں كے قلب آمادہ ہوجائيں گے اس وقت خداوند عالم امام مہدى كوانقلاب كى اجازت دے گا چنانچہ آپ يكايك مكہ ميں ظاہر ہوں گے اور منادى حق دنيا والوں كے كانوں تك آپ (ع) كے ظہور كى بشارت پہنچائے گا _ دنيا كے برگزيدہ افراد ، كہ بعض روايات ميں جن كى تعداد تين سو نيرہ بيان ہوئي ہے _ ندائے حق پر سب سے پہلے لبيك كہيں گے اور لمحوں ميں ولى خدا كى طرف كھينچ آئيں گے _

امام صادق كا ارشاد ہے : جب صاحب الامر ظہور فرمائيں گے كچھ شيعہ جوان پہلے سے كسى وعدہ كے بغير شب ميں مكہ يہنچ جائيں گے _(1)
 

اس كے بعدآپ اپنى دعوت عام كا سلسلہ شروع كريں گے _ مظلوم و مايوس لوگ آپ كے پاس جمع ہوجائيں گے _ بيعت كريں گے اور ديكھتے ہى ديكھتے شجاع ، فداكار اور اصلاح طلب لوگوں فوج تيار ہوجائے گى _ امام زمانہ كے انصار كى توصيف ميں امام محمد باقر و امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا ہے كہ وہ دنيا كے مشرق و مغرب پر قابض ہوجائيں گے دنيا كى ہر چيز كو مسخر كرليں گے، ان ميں سے ہر ايك ميں چاليس مردوں كى قوت ہوگى ، ان كے دل فولاد كے ہيں ، مقصد كے حصول ميں اگر پہاڑ بھى سامنے آئے گا تو اسے بھى ريزہ ريزہ كرديں گے ، اس وقت تك جنگ سے دست بردار نہ ہوں گے جب تك خدا راضى نہ ہوگا _ (2)

اس زمانہ ميں ظالم و خود سر حاكمان خطرہ محسوس كريں گے ، دفاع كيلئے اٹھيں گے اور اپنے ہم مسلكوں كو امام زمانہ كى مخالفت كى دعوت ديں گے ، ليكن عدل دوست و اصلاح پسند سپاہى جو كہ ظلم و جور سے عاجز آچكے ہيں ، متحد ہوكر ان پر حملہ كريں گے ، خدا كى مدد سے ان كا قلع قمع كريں گے اور تہ تيغ كريں گے ، ہر جگہ خوف و ہراس طارى ہوگا اور سارى دنيا حكومت حق كے سامنے سراپا تسليم ہوجائے گى _

بہت سے كفار صدق و حقيقت كى علامتيں ديكھ كر اسلام كے حلقہ بگوش ہوجائيں گے اور جو اپنے كفر و ظلم پر اٹل رہيں گے انھيں امام زمانہ كے سپاہى قتل كريں گے ، پورى دنيا ميں اسلام كى مقتدر و طاقتور حكومت تشكيل پائے گى اور لوگ دل و جان سے اسكى حفاظت و نگہبانى كى كوشش كريں گے (3) اور ہر جگہ ، اسلام كا بول بالا ہوگا _ (4)

 

1_ بحار الانوار ج 52 ص 370_
2_ بحار الانوار ج 52 ص 327
3_ بحار الانوار ج 52 ص 379 تا ص 380
4_ بحار الانوار ج 51 ص 55 ،اثبات الہداة ج 7 ص 50