ظہور كے وقت كو كيسے سمجھيں گے؟

ظہور كے وقت كو كيسے سمجھيں گے؟

جلسہ كى كاروائي شروع ہوئي اور جناب جلالى صاحب نے يہ سوال اٹھايا :

امام زمانہ كو كيسے معلوم ہوگا كہ ظہور كا وقت آگيا ہے ؟ اگر يہ كہا جائے كہ اس وقت انھيں خدا كى طرف سے اطلاع دى جائے گى تو اس كا لازمہ يہ ہے كہ پيغمبروں كى طرح آپ(ص) پر وحى ہوگى اور نتيجہ ميں نبى و امام ميں كوئي فرق نہيں رہے گا _

ہوشيار: اول تو دليل اور ان روايات سے جو كہ امامت كے بارے ميں وارد ہوئي ہيں يہ بات سمجھ آتى ہے كہ امام كا بھى عالم غيب سے ارتباط رہتا ہے اور ضرورت كے وقت امام بھى حقائق سے آگاہ ہوتا ہے _ بعض روايات ميں آيا ہے كہ امام فرشتہ كى آواز سنتا ہے ليكن اسے مشاہدہ نہيں كرتا ہے _(1)

اس بنا پر ممكن ہے كہ خدا كے ذريعہ امام كو ظہور كے وقت كى اطلاع دے _

حضرت امام صادق آيہ فاذا نقر فى النّاقور كى تفسير كے ذيل ميں فرمايا: ''ہم ميں سے ايك امام كامياب ہوگا جو طويل مدت تك غيبت ميں رہے گا اور جب خدا اپنے امر كو ظاہر كرنا چاہئے گا اس وقت ان كے قلب ميں ايك نكتہ ايجاد كرے گا اور آپ(ع) ظاہر ہوجائيں گے اور خدا كے حكم سے،قيام كريں گے _(2)

ابو جارود كہتے ہيں : ميں نے امام محمد باقر عليہ السلام كى خدمت ميں عرض كى ہيں آپ كے قربان ، مجھے صاحب الامر كے حالات سے آگاہ كيجئے ، فرما يا :

شب ميں آپ نہايت ہى خوف زدہ ہوں گے ليكن صبح ہوتے ہى مطمئن و پر سكون ہو جائيں گے آپ كے پرو گرام شب وروز ميں وحى كے ذريعہ آپ كے پاس پہنچتے ہيں _ ميں نے دريافت كيا : كيا امام پر بھى و حى ہوتى ہے ؟

فرمايا : وحى ہوتى ہے ليكن نبوت والى وحى نہيں ہوتى بلكہ ايسى وحى ہوتى ہے جيسى وحى كى مريم بنت عمران اور مادر موسى كى طرف نسبت دى گوى ہے _ اے ابو جارود قائم آل محمد خدا كے نزديك مريم ، مادر موسى اور شہد كى مكھى سے كہيں زيادہ معزز ہيں''(3)

ايسى احاديث سے يہ بات واضح ہوتى ہے كہ امام كے اوپر بھى وحى و الہام ہوتا ہے جبكہ امام اور نبى ميں فرق بھى رہتا ہے _ كيونكہ نبى پر شريعت كے احكام و قوانين كى وحى ہوتى ہے اس كے برخلاف امام پر احكام و قوانين كى وحى نہيں ہوتى بلكہ وہ اسكى حفاظت كا ضامن ہوتا ہے _

ثانياً يہ بھى كہا جا سكتا ہے كہ ظہور كے وقت رسول (ص) اسلام نے ائمہ كے توسط سے امام مہدى كو خبردى ہو _ اگر چہ كسى خاص حاديث كے رونما ہونے ہى كو ظہور كي علامت قرارد يا ہو اور امام زمانہ اس علامت كے ظہور كے منتظر ہوں _

پيغمبر اسلام كا ارشاد ہے :

''جب مہدى كے ظہور كا وقت آجائے گا تو اس وقت خدا آپ كى تلوار اور پرچم كو گويائي عطا كرے گا اور وہ كہيں گے : اے محبوب خدا اٹھئے اور دشمنان خدا سے انتقام ليجئے '' _ (4)

مذكورہ احتمال كے شواہد ميں سے وہ روايات بھى ہيں كہ جن كى دلالت اس بات پر ہے كہ تمام ائمہ كا دستور العمل خدا كى جانب سے رسول اكرم پر نازل ہوا تھا اور آپ (ص) نے اسے حضرت على بن ابى طالب كى تحويل ميں ديديا تھا _ حضرت على (ع) نے اپنے زمانہ خلافت ميں اس صحيفہ كو كھولا اور اس كے مطابق عمل كيا اور اس كے بعد امام حسن (ع) كى تحويل ميں آپ كا صحيفہ ديديا _ اسى طرح ہر امام تك اس كا سر بمہر دستور العمل پہنچا اور انہوں نے اس كو كھولا اور اس كے مطابق عمل كيا _ آج بھى امام زمانہ كے پاس آپ(ص) كا دستور العمل موجود ہے _ (5)
قيام كے اسباب

اس كے علاوہ اہل بيت (ع) كى احاديث سے يہ بات بھى واضح ہوتى ہے كہ ظہور امام زمانہ كے وقت دنيا ميں كچھ حوادث رونما ہوں گے جو آپ كى كاميابي اور ترقى كے اسباب فراہم كريں گے چنانچہ ايك ہى رات ميں آپ(ع) كے انقلاب كے اسباب فراہم ہوجائيں گے ملاحظہ فرمائيں _

عبدالعظيم حسني نقل كرتے ہيں كہ حضرت جواد (ع) نے ايك حديث ميں فرمايا:

''قائم ہى مہدى ہے كہ جن كى غيبت كے زمانہ ميں ان كا منتظر اور ظہور كے وقت ان كا اطاعت گزاررہنا چاہئے وہ ميرے تيسرے بيٹے ہيں_ قسم اس خدا كى كہ جس نے محمد كومبعوث بہ رسالت كيا اور ہميں امامت سے سرفراز كيا اگر دنيا كى عمر كا ايك ہى دن باقى بچے گا تو بھى خدا اس د ن كو اتنا طولانى كردے گا كہ وہ ظاہر ہوكر زمين كو عدل و انصاف سے پر كريں گے جيسا كہ وہ ظلم و جور سے بھر چكى تھى _ خداوند عالم ايك رات ميں آپ كے اسباب فراہم كرے گا جيسا كہ اپنے كليم حضرت موسى كے امور كى بھى ايك ہى شب ميں اصلاح كى تھى _ موسى گئے تھے تا كہ اپنى زوجہ كے لئے آگ لائيں ليكن وہاں تاج نبوت و رسالت سے بھى سرفراز ہوئے '' (6)

پيغمبر اكرم نے فرمايا:

''مہدى موعود ہم سے ہے خدا ان كے امور كى ايك رات ميں اصلاح كرے گا '' (7)

 

حضرت امام صادق (ع) نے فرمايا:

'' صاحب الامر كى ولادت لوگوں سے مخفى ركھى جائے گى تاكہ ظہور كے وقت آپ(ع) كى گردن پر كسى كى بيعت نہ ہو _ خداوند عالم ايك رات ميں آپ كے امور كى اصلاح كرے گا '' _(8)

امام حسين (ع) نے فرمايا:

'' ميرے نويں بيٹے ميں كچھ جناب يوسف كى اور كچھ جناب موسى كى سرت و روش ہوگى _ وہى قائم آل محمد ہيں _ خداوند عالم ايك رات ميں ان كے امور كى اصلاح كرے گا_'' (9)

 

1_ كافى ج 1 ص 271_
2_ اثبات الہداة ج 6 ص 364_
3_ اثبات الہداة ج 7 ص 172 و بحار الانوار ج 52 ص 389_
4_ بحار الانوار ج 52 ص 311
5_ كافى ج 1 ص 279
6_ اثبات الہداة ج 6 ص 420_
7_ كتاب الحاوى الفتاوى ، جلال الدين سيوطى طبع سوم ج 2 ص 124_
8_ بحار الانوار ج 52 ص 96_
9_ بحار الانوار ج 51 ص 133_