فلسفہ غيبت

فلسفہ غيبت

انجينئر: اگر امام ظاہر ہوتے اور لوگ ضرورت كے وقت آپ كى خدمت ميں پہنچ كر اپنى مشكليں حل كرتے تو يہ ان كے دين اور دنيا كيلئے بہتر ہوتا _ پس غيبت كيوں اختيار كي؟

ہوشيار: اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ اگر مانع نہ ہوتا تو آپ كا ظہور زيادہ مفيد و بہتر تھا _ ليكن چونكہ ہم ديكھتے ہيں كہ خداوند عالم نے اس مقدس وجود كو آنكھوں سے پنہاں ركھا ہے اور خدا كے افعال نہايت ہى استحكام اور مصلحت و اقع كے مطابق ہوتے ہيں _ لہذا امام كى غيبت كى بھى يقينا كوئي وجہ ہوگى _ اگر چہ ہميں اس كى تفصيل معلوم نہيں ہے ، درج ذيل حديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ غيبت كى بنيادى سبب لوگوں كو نہيں بتايا گياہے ، صرف ائمہ اطہار عليہم السلام كو معلوم ہے _

عبداللہ بن فضل ہاشمى كہتے ہيں كہ امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا:

''صاحب الامر كيلئے ايسى غيبت ضرورى ہے كہ گمراہ لوگ شك ميں مبتلا ہوجائيں گے'' _ ميں نے عرض كى ، كيوں ؟ فرمايا: ''ہميں اس كى علّت بيان كرنے كى اجازت نہيں ہے'' _ اس كا فلسفہ كيا ہے؟ وہى فلسفہ جو گزشتہ حجت خدا كى غيبت ميں تھا _ ليكن اس كى حكمت ظہور كے بعد معلوم ہوگى _ بالكل ايسے ہى جيسے جناب خضر(ع) كى كشتى ميں سوراخ ، بچہ كے قتل اور ديوار كو تعمير كرنے كى جناب موسى كو جدا ہوتے وقت معلو م ہوئي تھى _ اے فضل كے بيٹے غيبت كا موضوع سرّ ى ہے _ يہ خدا كے اسرار اور الہى غيوب ميں سے ايك ہے _ چونكہ ہم خدا كو حكيم تسليم كرتے ہيں _ اس لئے اس بات كا بھى اعتراف كرنا چاہئے كہ اس كے امور حكمت كى روسے انجام پاتے ہيں _ اگر چہ اسكى تفصيل ہم نہيں جانتے ''_ (1)

مذكورہ حديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ غيبت كى اصلى علت و سبب اسلئے بيان نہيں ہوئي ہے كہ لوگوں كو بتانے ميں صلاح نہيں تھى يا وہ اس كے سمجھنے كى صلاحيت نہيں ركھتے تھے _

فائدہ اول: امتحان و آزمائشے _ تا كہ جن لوگوں كا ايمان قوى نہيں ہے انكى باطنى حالت ظاہر ہوجائے اور جن لوگوں كے دل كى گہرائيوں ميں ايمان كى جڑيں اتر چكى ہيں ، غيبت پر ايمان ، انتظار فرج اور مصيبتوں پر صبر كے ذريعہ ان كى قدر و قيمت معلوم ہوجائے اور ثواب كے مستحق قرار پائيں ، امام موسى كاظم فرماتے ہيں :

'' ساتويں امام كے جب پانچويں بيٹے غائب ہوجائيں ، اس وقت تم اپنے دين كى حفاظت كرنا _ ايسا نہ ہو كہ كوئي تمہيں دين سے خارج كردے _ اے ميرے چھوٹے بيٹے صاحب الامر كے لئے ايسى غيبت ضرورى ہے كہ جسميں مومنين كا ايك گروہ اپنے عقيدے سے منحرف ہوجائے گا _ خدا امام زمانہ كى غيبت كے ذريعہ اپنے بندوں كا امتحان لے گا _(2)

دوسرا فائدہ : غيبت كے ذريعہ ستمگروں كى بيعت سے محفوظ رہيں گے _ حسن بہ فضال كہتے ہيں كہ امام رضا (ع) نے فرمايا:

''گويا ميں اپنے تيسرے بيٹے (امام حسن عسكري(ع) ) كى وفات پر اپنے شيعوں كو ديكھ رہا ہوں كہ وہ اپنے امام كو ہر جگہ تلاش كررہے ہيں ليكن نہيں پارہے ہيں'' ميں نے عرض كى : فرزند رسول كيوں؟ فرمايا:'' ان كے امام غائب ہوجائيں گے'' عرض كى : كيوں غائب ہوں گے ؟ فرمايا: '' تا كہ جب تلوار كے ساتھ قيام كريں تو اس وقت آپ كى گردن پر كسى كى بيعت نہ ہو ''_ (3)

تيسرا فائدہ : غيبت كى وجہ سے قتل سے نجات پائي _

زرارہ كہتے ہيں كہ امام صادق (ع) نے فرمايا:

''قائم كے لئے غيبت ضرور ى ہے '' _ عرض كى كيوں ؟ فرمايا: قتل ہوجانے كا خوف ہے اور اپنے شكم مبارك كى طرف اشارہ كركے فرمايا''_ (4)

مذكورہ تينوں حكمتيں اہل بيت كى احاديث ميں منصوص ہيں _

 

1_ بحارالانوار ج 52 ص 91_
2_ بحار الانوار ج 52 ص 113_
3_ بحار الانوار ج 51 ص 152_
4_ اثبات الہداة ج 6 ص 427_