تصوّر مہدى ...

تصوّر مہدى ...

احباب يكے بعد ديگرے فہيمى صاحب كے مكان پر جمع ہوئے جب سابق مختصرضيافت كے بعد 8 بجے جلسہ كى كاروائي شروع ہوئي _ انجينئر صاحب نے گفتگو كا آغاز كيا :

انجينئر: مجھے ياد آتا ہے كہ كسى نے لكھا تھا كہ اسلامى معاشرہ ميں مہدويت اور غيبى مصلح كا تصوّر يہود اور قديم ايرانيوں سے سرايت كرآيا ہے _ ايرانيوں كا خيال تھا كہ زردتشت كى نسل سے '' سالوشيانت'' نام كا ايك شخص ظاہر ہوگا جو اہريمن كو قتل كركے پورى دنيا كو برائيوں سے پاك كرے گا _ ليكن چونكہ يہوديوں كا ملك دوسروں كے قبضہ ميں چلا گيا تھا اور ان كى آزادى سلب ہوگئي تھى ، زنجيروں ميں جكڑگئے تھے ، لہذا ان كے علماء ميں سے ايك نے يہ خوش خبرى دى كہ مستقبل ميں دنيا ميں ايك بادشاہ ہوگا وہى زردشتيوں كو آزادى دلائے گا _

چونكہ مہدويت كى اصل يہود و زردشتيوں ميں ملتى ہے _ اس لئے ہم كہتے ہيں كہ يہ عقيدہ ان سے مسلمانوں ميں آيا ہے ورنہ اس كى ايك افسانہ سے زيادہ حقيقت نہيں ہے _

ہوشيار : يہ بات صحيح ہے كہ دوسرى اقوام و ملل ميں بھى يہ عقيدہ تھا اور ہے ليكن يہ اس بات كا ثبوت نہيں ہے كہ يہ عقيدہ خرافات ميں سے ہے كيا يہ ضرورى ہے كہ اسلام كے تمام احكام و عقائد اسى وقت صحيح ہوسكتے ہيں جب وہ گزشتہ احكام وعقائد كے خلاف ہوں ؟ جو شخص اسلام كے موضوعات ميں سے كسى موضوع كى تحقيق كرناچاہتا ہے تو اسے اس موضوع كے اصلى مدارك و ماخذ سے رجوع كرنا چاہئے تا كہ اس موضوع كا سقم و صحت واضح ہوجائے _ اصلى مدارك كى تحقيق اورگزشتہ لوگوں كے احكام و عقائدكى چھان بين كے بغير يہ شور بر پا نہيں كرنا چاہئے كہ ميں نے اس باطل عقيدہ كى اصلى كا سراغ لگاليا ہے _

كيا يہ كہا جا سكتا ہے چونكہ زمانہ قديم كے ايرانى يزدان كا عقيدہ ركھتے تھے اور حقيقت كو دوست ركھتے تھے _ لہذا خدا پرستى بھى ايك افسانہ ہے اور حقيقت و صداقت كبھى مستحسن نہيں ہے ؟

لہذا صرف يہ كہكر كہ دوسرے مذاہب و ملل بھى مصلح غيبى اور نجات دينے والے كے منتظر تھے _ مہدويت كے عقيدہ كو باطل قرار نہيں ديا جا سكتا اور نہ ہى اتنى بات سے اس كى صحت ثابت كى جا سكتى ہے _


رجحان مہدويت كى پيدائشے كے اسباب

فہيمى : ايك صاحب قلم نے عقيدہ مہدويت كے وجود ميں آنے كى بہترين توجيہ كى ہے ، اگر اجازت ہو تو ميں اس كا لب لباب بيان كروں؟

حاضرين : بسم اللہ :

فہيمى : عقيدہ مہدويت شيعوں نے دوسرے مذاہب سے ليا اور اس ميں كچھ چيزوں كااضافہ كرديا ہے چنانچہ آج مخصوص شكل ميں آپ كے سامنے ہے _ اس عقيدہ كى ترقي اور وسعت كے دو اسباب ہيں:

الف: غيبى نجات دينے والے كا ظہور اوراس كا پيدائشے كا عقيدہ يہوديوں ميں مشہور تھا اور ہے _ ان كا خيال تھا كہ جناب الياس آسمان پرچلے گئے ہيں اور آخرى زمانہ ميں بنى اسرائيل كو نجات دلانے كے لئے زمين پر لوٹ آئيں گے چنانچہ كہا جاتا ہے كہ ''ملك صيدق'' اور فنحاس بن العاذار'' آج تك زندہ ہے _

صدر اسلام ميں ''مادى فوائد كے حصول'' اور اسلام كى بنيادوں كو كھوكھلا بنانے كى غرض سے يہوديوں كى ايك جماعت نے اسلام كا لباس پہن لياتھا اور اپنے مخصوص حيلہ و فريب سے مسلمانوں كے درميان حيثيت پيدا كرلى تھى اور اس سے ان كا مقصد مسلمانوں كے درميان تفرقہ اندازى ، اپنے عقائد كى اشاعت اور استحصال كے علاوہ اور كچھ نہ تھا ، ان ہى ميں سے ايك عبداللہ ابن سبا ہے جس كو ان كى نمايان فرد تصور كرنا چاہئے _

ب: رسول(ص) كى وفات كے بعد آپ (ص) كے اہل بيت (ع) وقر ابتدار منجملہ على بن ابيطالب خود كو سب سے زيادہ خلافت كا حق دار سمجھتے تھے _ چند اصحاب بھى ان كے ہم خيال تھے _ ليكن ان كى توقع كے برخلاف حكومت خاندان رسالت سے چھن گئي ، جس سے انھيں بہت رنج وصدمہ پہنچا _ يہاں تك كہ جب حضرت على (ع) كے ہاتھوں ميں زمام خلافت آئي تو وہ مسرور ہوئے اوريہ سمجھنے لگے كہ اب خلافت اس خاندان سے باہر نہ جائے گى _ ليكن على (ع) داخلى جنگوں كى وجہ سے اسے كوئي ترقى نہ دے سكے نتيجہ ميں ابن ملجم نے شہيد كرديا پھر ان كے فرزند حسن (ع) بھى كامياب نہ ہوسكے ، آخر كار خلافت بنى اميہ كے سپردكردى _ رسول (ص) خدا كے دو فرزند حسن و حسين خانہ نشينى كى زندگى بسر كرتے تھے اور اسلام كى حكومت و اقتدا ر دوسروں كے ہاتھ ميں تھا رسول(ص) كے اہل بيت اور ان كے ہمنوا فقر و تنگ دستى كى زندگى گزار تے اور مال غنيمت ، مسلمانوں كا بيت المال بنى اميہ اور بنى عباس كى ہوس رانى پر خرچ ہوتا تھا _ ان تمام چيزوں كى وجہ سے روز بروز اہل بيت كے طرفداروں ميں اضافہ ہوتا گيا اور گوشہ و كنار سے اعتراضات اٹھائے جانے لگے دوسرى طرف عہد داروں نے دل جوئي اور مصالحت كى جگہ سختى سے كام ليا اور انھيں دار پر چڑھايا ، كسى كو جلا وطن كيا اور باقى قيد خانوں ميں ڈالديا _

مختصر يہ كہ رسول(ص) كى وفات كے بعد آپ كے اہل بيت اور ان كے طرفداروں كو بڑى مصيبتيں اٹھنا پريں ، فاطمہ زہرا كو باپ كى ميراث سے محروم كرديا گيا _ على (ع) كو خلافت سے دور ركھا گيا ، حسن بن على (ع) كو زہر كے ذريعہ شہيد كرديا گيا _ حسين بن على (ع) كو اولاد و اصحاب سميت كربلا ميں شہيد كرديا گيا اور ان كے ناموس كو قيدى بناليا گيا ، مسلم بن عقيل اور ہانى كو امان كے بعد قتل كرڈالا ، ابوذر كو ربذہ ميں جلا وطن كرديا گيا اور حجر بن عدى ، عمروبن حمق ، ميثم تمار، سعيد بن جبير ،كميل بن زياد اور ايسے ہى سيكڑوں افراد كو تہہ تيغ كرديا گيا _ يزيد كے حكم سے مدينہ كو تاراج كيا گيا ايسے ہى اور بہت سے ننگين واقعات كے وجود ميں آئے كہ جن سے تاريخ كے اوراق سياہ ہيں _ ايسے تلخ زمانہ كو بھى شيعيان اہل بيت نے استقامت كے ساتھ گزارا اور مہدى كے منتظر رہے _ كبھى غاصبوں سے حق لينے اور ان سے مبارزہ كيلئے علويوں ميں سے كسى نے قيام كيا _ ليكن كاميابى نہ مل سكى اور قتل كرديا گيا _ ان ناگوار حوادث سے اہل بيت كے قليل ہمنوا ہر طرف سے مايوس ہوگئے اور اپنى كاميابى كا انھيں كوئي راستہ نظر نہ آيا ، تو وہ ايك اميد دلانے والا منصوبہ بنانے كے لئے تيار ہوئے _ ظاہر ہے كہ مذكورہ حالات و حوادث نے ايك غيبى نجات دينے والے اور مہدويت كے عقيدہ كو قبول كرنے كيلئے مكمل طور پر زمين ہموار كردى تھى _

اس موقع سے نو مسلم يہوديوں اور ابن الوقت قسم كے لوگوں نے فائدہ اٹھايا اور اپنے عقيدہ كى ترويج كى يعنى غيبى نجات دينے والے كے معتقد ہوگئے _ ہرجگہ سے مايوس شيعوں نے اسے اپنے درددل كى تسكين اور ظاہرى شكست كى تلافى كے لئے مناسب سمجھا اور دل و جان سے قبول كرليا ليكن اس ميں كچھ رد وبدل كركے كہنے لگے : وہ عالمى مصلح يقينا اہل بيت سے ہوگا _ رفتہ رفتہ لوگ اس كى طرف مائل ہوئے اور اس عقيدہ نے موجودہ صورت اختيا ركرلى _ (1)


توجيہہ كى ضرورت نہيں ہے

ہوشيار: اہل بيت (ع) اور ان شيعوں سے متعلق آپ نے جو مشكليں اور مصيبتيں بيان كى ہيں وہ بالكل صحيح ہيں ليكن تحليل و توضيح كى ضرورت اس وقت پيش آتى جب ہميں مہدويت كے اصلى سرچشمہ كا علم نہ ہوتا _ ليكن جيسا كہ آپ كو يا دہے _ ہم يہ بات ثابت كرچكے ہيں كہ خود پيغمبر اكرم(ص) نے اس عقيدہ كو مسلمانوں ميں رواج ديا اور ايسے مصلح كى پيدائشے كى بشارت دى ہے چنانچہ اس سلسلے ميں آپ (ص) كى احاديث كو شيعوں ہى نے نہيں ، بلكہ اہل سنّت نے بھى اپنى صحاح ميںدرج كيا ہے _ اس مطلب كے اثبات كے لئے كسى توجيہہ كى ضرورت نہيں ہے _

اپنى تقرير كى ابتداء ميں آپ نے يہ فرمايا تھا كہ يہ عقيدہ يہوديوں كے درميان مشہور تھا _ يہ بھى صحيح ہے ليكن آ پ كى يہ بات صحيح نہيں ہے كہ اس عقيدہ كو ابن سبا جيسے يہوديوں نے مسلمانوں كے درميان فروغ ديا ہے كيونكہ ہم پہلے كہہ چكے ہيں كہ عالمى مصلح كى پيدائشے كى بشارت دينے والے خود نبى اكرم (ص) ہيں ، ہاں يہ ممكن ہے كہ مسلمان ہونے والے يہوديوں نے بھى اس كى تصديق كى ہو _


عبداللہ بن سبا

اس بات كى وضاحت كردينا بھى ضرورى سمجھتا ہوں كہ عبداللہ بن سبا تاريخ كے مسلّمات ميں سے نہيں ہے _ بعض علماء نے اس كے وجود كو شيعوں كے دشمنوں كى ايجاد قرارديا ہے اور اگر واقعى ايسا كوئي شخص تھا تو ان باتوں كا كوئي ثبوت نہيں ہے جن كو اسكى طرف منسوب كيا جاتا ہے كيونكہ كوئي عقلمند اس بات كو قبول نہيں كرسكتا كہ ايك نو مسلم يہودى نے ايسى غير معمولى صلاحيت و سياست پيدا كرلى تھى كہ وہ اس گھٹن كے زمانہ ميں بھى كہ جب كوئي فضائل اہل بيت كے سلسلے ميں ايك بات بھى كہنے كى جرات نہيں كرتا تھا اس وقت ابن سبا نے ايسے بنيادى اقدامات كئي اور مستقل تبليغات اور وسائل كى فراہمى سے لوگوں كو اہل بيت كى طرف دعوت دى اور خليفہ كے خلاف شورش كرنے اور ايسا ہنگامہ برپاكرنے پر آمادہ كيا كہ لوگ خليفہ كو قتل كرديں اور خليفہ كے كارندوں اور جاسوسوں كو اس كى كانوں كان خبر نہ ہو _ آپ كے كہنے كے مطابق ايك مسلم يہودى نے ان كے عقيدہ كى بنياديں اكھاڑديں اور كسى شخص ميں ہمت دم زدن نہيں ہوئي ايسے كارناموں كے حامل انسان كا وجود صرف تصورات كى دنيا ميں تو ممكن ہے _ (2)

 

1_ المہديہ فى الاسلام ص 48_68
2_ محققين '' نقش وعاظ در اسلام '' مولفہ ڈاكٹر على الوردى ترجمہ خليليان ص 111_137_ عبداللہ بن سبا مولفہ سيد مرتضى عسكرى اور '' على و فرزندانش '' مولفہ ڈاكٹر طہ حسين ترجمہ خليلى ص 139 _143 سے رجوع فرمائيں _