امام غائب كا كيا فائدہ ؟

امام غائب كا كيا فائدہ ؟

انجينئر : اگرامام لوگوں كے پيشوا ہيں ، تو انھيں ظاہر ہونا چا ہئے _ غائب امام كے وجود سے كيا فائدہ ہے ؟ جو امام سيكڑوں سال غائب رہے _ دين كى ترويج نہ كرے ، معاشر ے كى مشكوں كو حل نہ كر ے ، مخالفوں كے جواب نہ دے _ امر بالمعروف اور نہى عن المنكر نہ كرے ، مظلوموں كى حمايت نہ كرے ، خدا كے احكام وحدود كو نا فذ نہ كرے ايسے امام كے وجود كا كيا فائدہ ہے ؟

ہوشيار :غيبت كے زمانہ ميں لوگ آپ كے بيان كردہ فوائد سے اپنے اعمال كى بنا پر محروم ہيں ليكن وجود امام كے فوائد ان ہى ميں منحصر نہيں ہيںبلكہ اور بہى فوائد ہين جو كہ غيبت كے زمانہ ميں مترتب ہو تے ہيں منجملہ ان كے ذيل كے دو فوائد تہى ہيں:

اول : گزشتہ بحث ، علما كى كتابوںميں نقل ہونے والى دليلوں اور موضوع امامت كے سلسلہ ميں وارد ہونے والى احاديث كے مطابق امام كا مقدس وجود نوع انسان كى غايت ، انسانيت كا فرد كامل اور عالم مادى وعالم ربويت كے در ميان رابطہ ہے_اگرروئے زمين پر امام كا وجود نہ ہو گا تو نوع انسان تباہ ہو جائے گى _ اگر امام نہ ہوں گے توصحيح معنوں ميں خدا كى معرفت وعبادت نہ ہوگى _ اگر امام نہ ہوں گے تو عالم مادى اور منبع تخليق كے در ميان رابطہ منقطع ہو جائے گا_ امام كے قلب مقدس كى مثال ايك ٹرانسفار مر كى سى ہے جو كار خانہ كے ہزاروں بلبوں كو بجلى فراہم كرتاہے_ عوالم غيبى كے اشراقات وافاضات پہلے امام كے پاكيزہ قلب پر اور ان كے وسيلہ سے تمام لوگوں كے دلوں پر نازل ہوتے ہيں _ امام عالم وجود كا قلب اور نوع انسانى كے رہبر و مربى ّہيں اور يہ واضح ہے كہ ان فوائد كے ترتيب ميں آپ كى غيبت وحضور ميں كوئي فرق نہيں ہے _ كيا اس كے با وجود يہ كہا جاسكتا ہے كہ امام كے وجود كا كيا فائدہ ہے ؟ ميں سمجھتاہوں كہ آپ نے يہ اعتراض اس كى زبان سے كيا ہے جس نے امامت و ولايت كے معنى كى تحقيق نہيں كى ہے اور امام كو صرف مسئلہ بيان كرنے والا تصور كرليا ہے نہ كہ حدود جارى كرنے والا جبكہ عہدہ امامت وولايت اس سے كہيںبلند وبالاہے_

امام زين العابدين (ع) فرماتے ہيں :

''ہم مسلمانوںكے امام ، دنيا پر حجت ،مؤمنين كے سردار، نيكوكاروں كے رہبر اور مسلمانوں كے مولاہيں ہم زمين والوں كے لئے امان ہيں جيسا كہ آسمان والوں كے لئے ستارے امان ہيں _ ہمارى وجہ سے آمان اپنى جگہ ٹھراہواہے جب خدا چاہتا ہے ہمارے واسطہ سے باران رحمت نازل كر تا اور زمين سے بركتيں ظاہر كرتاہے _اگر ہم روئے زمين پر نہ ہو تے تو اہل زمين دھنس گئے ہوتے''پھر فرمايا : '' جس دن سے خدا نے حضرت آدم كو پيدا كيا ہے_ اس دن سے آج تك زمين كبھى حجت خدا سے خالى نہيں رہى ہے ليكن حجت خدا كا وجود كبھى ظاہر وآشكار اور كبھى غائب و مخفى رہا ہے_ قيامت تك زمين حجت خدا سے خالى نہ ہوگي_ اگر امام نہ ہو گا تو خدا كى عبادت نہ ہوگي_ سليمان كہتے ہيں : ميں نے عرض كى امام غائب كے وجود سے لوگوں كو كيسے فائدہ پہنچتا ہے ؟ جيسے ابر ميں چھيے ہوئے سورج پہنچتا ہے (1)_

اس اور ديگر حديثوں ميں صاحب الامر كے مقدس وجود اور ان كے ذريعہ لوگوں كو پہنچنے والے فائدہ كو سورج سے تشبيہ دى گئي ہے جو كہ بادل ميں چھپ كربھى لوگوں كو فائدہ پہنچاتا ہے _ وجہ تشبيہ يہ ہے : طبيعى اور فلكيات كے علوم سے يہ بات ثابت ہوچكى ہے كہ سورج شمسى نظام كامر كز ہے _ اس كى قوت جاذبہ زمين كى محافظ اور اسے گرنے سے بچاتى ہے ، زمين كو اپنے چاروں طرف گردش ديتى ہے ، دن ، رات اور مختلف فصلوں كو وجود ميں لاتى ہے _ اس كى حرارت حيوانات ، نباتات اور انسانوں كى زندگى كا باعث ہے _ اس كا نور زمين كو روشنى بخشتاہے _ ان فوائد كے مترتب ہونے ميں سورج كے ظاہر يابادل ميں پوشيدہ ہونے سے كوئي فرق نہيں پڑتا ہے يعنى اس كى قوت جاذبہ حرارت اور نور دونوں صورتوں ميں رہتا ہے _ ہاں كم و بيش كا فرق ہوتا ہے _

جب سياہ گھٹاؤں ميں سورج چھپ جاتا ہے يارات ہوجاتى ہے تو جاہل يہ خيال كرتے ہيں كہ اب موجودات سورج كى حرارت اور نور ميسر نہ ہو تو برف بن كر ہلاك ہوجا ئيں ، سورج ہى كى بركت سے سياہ گھٹا ئيں چھٹتى ہيں اور اس كا حقيقى چہرہ ظاہر ہوتا ہے _

امام كا مقدس وجود بھى عالم انسانيت كا قلب اور سورج اور اس كا تكوينى مربي وہادى ہے ، اور ان فوائد كے ترتب ميں آپ كى غيبت و حضور ميں اثر انداز نہيں ہے _ حاضرين سے گزارش ہے _ كہ نبوت عامہ اور امامت كے بارے ميں ہونے والى بحث كو مد نظر ركھيں اور نہايت سنجيدگى سے ايك مرتبہ اسے دھراليں ، تا كہ ولايت كے حقيقى معنى تك پہنچ جائيں _ اور امام كے وجود كے، اہم فائدہ كو سمجھ جائيں اور اس بات كو سمجھ ليں كہ اب بھى نوع انسان كے پاس جو كچھ ہے وہ امام غائب كى بركت كا اثر ہے _

ليكن آپ نے جو دوسرے فوائد بيان كئے ہيں اگر چہ غيبت كے زمانہ ميں عام لوگ ان سے محروم ہيں ليكن خداوند عالم اور خود امام فيض ميں مانع نہيں ہيںبلكہ اس ميںخود لوگوں كى تقصير ہے _ اگر وہ ظہور ميں مانع چيزوں كو بر طرف كر ديتے اور توحيد و عدالت كى حكومت كے اسباب فراہم كر ليتے _ دنيا كے اذہان و افكار كو ہموار كر ليتے تو امام كا ظہور ہوجاتا اور آپ انسانى معاشرہ كو بے پناہ فوائد سے مالا مال كرد يتے_

ممكن ہے آپ يہ كہيں : جب عام حالات امام زمانہ كے ظہور كے لئے سازگار نہيں ہيں تو اس پر خطر كام كى كوشش كرنا بے فائدہ ہے ؟ ليكن واضح رہے مسلمانوں كى طاقت وہمت كو ذاتى منافع كے حصول ميں منحصر نہيں ہونا چاہئے ، تمام مسلمانوں بلكہ سارى دنيا كے اجتماعى امور كى اصلاح ميں كوشش كرنا ہر مسلمان كا فريضہ ہے ، رفاہ عام ميں تندہى اور ظلم و بيدادگرى سے مبارزہ بہت بڑى عبادت ہے _

ممكن ہے مزيد آپ كہيں : ايك يا چند افرادكى كوشش سے كچھ نہيں ہوتا _ اور پھر ميرا كيا گناہ ہے كہ امام كے ديدار سے محروم ہوں ؟ جواب : اگر ہم نے عام افكار كے رشد ، دنيا والوں كو اسلامى حقائق سے متعارف كرانے اور اسلام كے مقدس مقصد سے قريب لانے كى كوشش كى اوز اپنا فريضہ انجام ديد يا ، تو اس كا ہميں اجر ملے گا ، اگر چہ ہم نے معاشرہ بشريت كو مقصد سے ايك ہى قدم قريب كيا ہوگا اور اس كام كى اہميت علماء پر مخفى نہيں ہے اسى لئے بہت سى روايات ميں وارد ہوا ہے كہ انتظار فرج سب سے بڑى عبادت ہے _ (2) _

دوسرا فائدہ : مہدى ، انتظار فرج اور امام زمانہ كے ظہور پر ايمان ركھنے سے مسلمانوں كے دلوں كو سكون ملتا اور اميد نبدھتى ہے اور اميدوار رہنا مقصد كى كا ميابى كا سبب ہے _ جس گروہ نے اپنے خانہ دل كو ياس و نا اُميدى سے تاريك كرليا اور اس ميں اميد كى كرن كا گزرنہ ہوتووہ ہرگز كا مياب نہ ہوگا _

ہاں دنيا كے آشفتہ حالات ، ماديت كا تبا ہ كن سيلاب ، علوم و معارف كى سرد بازارى پسماندہ طبقہ كى روز افزوں محروميت ، استعمار كے فنون كى وسعت ، سردو گرم جنگيں ، اور مشرق و مغرب كا اسلحہ كى دوڑ ميں مقابلہ نے روشن فكر اور بشر كے خيرخواہوں كو مضطرب كرديا ہے ، يہاں تك كہ وہ كبھى بشركى اصلى طاقت ہى كى ترديد كرديتے ہيں _

بشركى اميد كا صرف ايك جھرو كا كھولا ہوا ہے اور اس دنيا ئے تاريك ميں جو اميد كى چمكنے والى كرن انتظار فرج اور حكومت توحيد كا درخشاں زمانہ اور قوانين الہى كا نفاذ ہے _ انتظار فرج ہى مايوس اور لرزتے دلوں كو آرام بخشتا اور پسماندہ طبقے كے زخمى دلوں پر مرہم ركھتا ہے _ حكومت توحيد كى مسرت بخش خوش خبريوں نے ہى مومنين كے عقائد كى حفاظت كى اور دين ميں اسے پائيدار كيا ہے _ حق كے غلبہ اور كا ميابى نے ہى بشر كے خير خواہون كو فعاليت و كوشش پر ابھاراہے _اسى غيبى طاقت سے استمداد انسانيت كو ياس و نا اميدى كے ہولنا ك غار ميں گرنے سے بچاتى ہے اور اميدو آرزوؤں كى شاہ راہوں كو منور كرتى ہے _ پيغمبر اكرم(ع) توحيد كى عالمى حكومت اور عالمى اصلاحات كے رہبر كے تعين و تعارف سے دنيا ئے اسلام سے ياس و نا اُميدى كے ديوكو نكال ديا ہے _ شكست و نا اُميدى كے راستوں كو مسدود كرديا ہے _ اس بات كى تو قع كى جاتى ہے كہ اسلام كے اس گراں بہا منصوبہ پر عمل پيرا ہوكر مسلمان دنيا كى پراگندہ قوموں كو اپنى طرف متوجہ كريں گے اور حكومت توحيد كى تشكيل كے لئے ان سے اتحاد كرليں گے _

امام زين العابدين(ع) فرماتے ہيں :

'' انتظار فرج خود عظيم فرج و گشائشے ہے '' (3)

مختصر يہ كہ محدى موعود پر ايمان نے شيعوَ كے مستقبل كو تا بناك بناديا ہے اور اس دن كى اميد ميں خوش رہتے ہيں _ شكست و ياس كو ان سے سلب كركے انھيں مقصد كى راہ ، تہذيب اخلاق اور معارف سے دلچپى لينے پر ابھارا ہے _ شيعہ ، ماديت ، شہوت رانى ، ظلم وستم ، كفرو بے دينى اور جنگ و استعمار كے تاريك دور ميں حكومت توحيد عقل انسانيت كى تكميل ، ظلم و ستم كى تباہى ، حقيقى صلح برقرارى اور علوم و معارف كى گرم بازارى كو اپنى آنكھوں سے ديكھ رہے ہيں _ اور اس كے اسباب و مقاصد فراہم كردہے ہيں _ اس لئے اہل بيت(ع) كى احاديث ميں انتظار فرج كو بہترين عبارت اور راہ حق ميں شہادت قرار دياگيا ہے _ (4) _

 

اسلام سے دفاع

نہج البلاغہ كے ايك خطبہ سے يہ بات واضح طور پر سمجھ ميں آتى ہے كہ ولى عصر (ع) زمانہ غيبت ميں بھى اسلام كى عظمت و ارتقاء اور مسلمانوں كے امور كے حل و فصل ميں ممكنہ حدتك كوشش فرماتے ہيں _

حضرت على (ع) ارشاد فرماتے ہيں :

وہ لوگ راہ حق سے منحرف ہوكر ، دائيں بائيں چلے گئے اور ضلالت كى راہ

پر گامزن ہوئے ، ہدابت كے راستہ

كوچھوڑديا ، پس جو ہونے والاہے

اس كيلئے جلد نہ كرو ، انتظار كرو اور جو چيز بہت جلد واقع ہونے والى ہے اسے ددرنہ سمجھو كتنے لوگوں نے كسى چيز كے بارے ميں جلد بازى سے كام ليا ليكن جب اسے پاليا تو كہا : اے كاش ميں نے اس كا ادراك نہ كيا ہوتا ، مستقبل كى بشار تيں كتنى قريب ہيں اب و عدوں كے پورا ہونے اور ان چيزوں كے ظاہر ہونے كا وقت ہے جنھيں تم پہچانتے آگاہ ہو جاؤ ہم اہل بيت ميں سے جو اس زمانہ كو درك كرے گا _ وہ امام زمانہ ہے _ وہ روشن چراغ كے ساتھ قدم اٹھائے گا اور صالحين كا طريقہ اختيار كرے گا _ يہاں تك كہ اس زمانہ كے لوگوں كى مشكلكشائي كرے گا اور اسيروں كو آزاد كرے كا باطل و نقصان دہ طاقتوں كو پراگندہ كرے گا _ مفيد لوگوں كو جمع كرے گا _ ان تمام كاموں كو خفيہ طور پرانجام دے گا كہ قيافہ شناس بھى غور وتامل كے بعد كچھ نہ سمجھ سكيں گے _ امام زمانہ كے وجود كى بركت سے _ دين سے دفاع كيلئے لوگوں كى ايك جماعت كو اس طرح تيز كيا جائے گا جيسے لوہا ر تلوار كى باڑ تيز كرتا ہے ، قرآن سے ان كے باطن كى آنكھوں ميں جلا پيدا كى جائيگى اس كے معانى و تفاسير ان كے گوش گزار جاتى رہيں گى اور علوم و حكمت كے چھلكتے ہوئے ساغر انھيں صبح و شام پلائے جائيں گے _(5)

اس خطبہ واضح ہوتا ہے كہ حضرت على بن ابى طالب كے زمانہ ميں بھى لوگ ان حوادث كے واقع ہونے كے منتظر تھے جن كى خبر انہوں نے رسول(ص) سے سنى تھى ، ممكن ہے وہ غيبت كے زمانہ ميں نہايت خفيہ طور پر زندگى بسر كريں گے ليكن كامل بصيرت سے مسلمانوں كے ضرورى مسائل كو حل اور اسلام كے مركز سے دفاع ميں كوشش كريں گے مسلمانوں كى مشكلكشائي كريں گے ، گرفتارى بندوں كو آزادى دلائيں گے _ اور جو لوگ اسلام كى مسخ كنى كے لئے جمع ہوگئے تھے ان كو متفرق كريں گے اور ہر نقصان وہ تشكيل كو درہم كريں گے ، ضرورى اور مفيد انجمنوں كى تشكيل كے مقدمات فراہم كريں گے _ امام زمانہ كى بركت سے لوگوں كا ايك گروہ دين سے دفاع كے لئے تيار ہوگا اور اپنے امور ميں قرآن كے علوم و معارف سے مددلے گا _

فہيمي: ميں چاہتا تھا كہ آپ يہ ثابت كريں كہ ہم اہل سنُت كى احاديث ميں وجود مہدى كو _ خصوصا آپ كے ديگر اسما جيسے قائم و صاحب الامر _ اس طرح كيوں بياں نہيں كيا گيا ہے _ ليكن وقت چونكہ ختم ہونے والا ہے ، اس لئے آئندہ جلسہ ميں اس موضوع پر بحث كى جائے تو بہتر ہے _

سب نے اس بات كى تائيد كى اور يہ طے پايا كے آئندہ جلسہ ڈاكٹر صاحب كے گھر منعقد ہوگا _

 

 

1_ ينابيع المودة ج 2 ص 217
2_ بحارالانوار ج 52 ص 122_150
3_ بحارالانوار ج 52 ص 122
4 _ بحارالانوار ج 52 ص 122 تا 150
5_ نہج البلاغہ ج 2 خطبہ 146_