ابتداء ہى ميں غيبت كبرى كيوں واقع نہ ہوئي ؟

ابتداء ہى ميں غيبت كبرى كيوں واقع نہ ہوئي ؟

تمام احباب كى موجود گى ميں ڈاكٹر صاحب كے گھر جلسہ منعقد ہوا _

ڈاكٹر : غيبت صغرى كا كيا فائدہ تھا؟ اگر يہى طے تھا كہ امام زمانہ غيبت اختيار كريں گے تو امام حسن عسگرى (ع) كى وفات كے بعد ہى كيوں غيبت كبرى كا آغاز اور مكمل انقطاع نہ ہو ا؟

ہوشيار: امام اور لوگوں كے رہبر كا غائب ہونا ، وہ بھى عرصہ دراز كيلئے عجيب و غير مانوس بات ہے اور لوگوں كے لئے اس كاتسليم كرنا مشكل ہے _ اس لئے رسول (ص) اور ائمہ نے يہ عزم كيا كہ : آہستہ آہستہ لوگوں كو اس امر سے مانوس كيا جائے اوراسے تسليم كرنے كے لئے آمادہ كيا جائے ، لہذا گاہ بگاہ وہ ان كى غيبت اور اس زمانہ ميں لوگوں كے مشكلوں ميں گھر نے كى خبر ديتے تھے اور ان كا انتظار كرنے والوں كے لئے ثواب بيان كرتے اور انكار كرنے والوں كى سرزنش كرتے تھے _ كبھى اپنے عمل سے غيبت كى شبيہ پيش كرتے تھے _

اثبات الوصيت ميں مسعودى لكھتے ہيں : امام على نقى (ع) لوگوں كے ساتھ كم معاشرت كرتے تھے اور اپنے مخصوص اصحاب كے علاوہ كسى سے ربط و ضبط نہيں ركھتے تھے _ جب امام حسن عسكرى (ع) ان كے جانشين ہوئے تو آپ بھى لوگوں سے اكثر پس پردہ سے گفتگو فرماتے تھے تا كہ ان كے شيعہ بارہويں امام كى غيبت سے مانوس ہوجائيں _(1)

اگر امام حسن عسكر ى كى رحلت كے بعد ہى مكمل غيت واقع ہوجاتى تو امام زمانہ كے مقدس وجود ہى سے لوگ غافل رہتے اور رفتہ رفتہ فراموش كرديتے _ اس لئے غيبت صغرى سے ابتداء ہوئي تا كہ شيعہ اس زمانہ ميں اپنے امام سے نائبوں كے ذريعہ رابطہ كريں اور ان كى علامتوں اور كرامات كو مشاہدہ كريں اور اپنے ايمان كى تكميل كريں جب خيالات مساعد اور كامل آمادگى ہوگئي تو غيبت كبرى كا آغاز ہوا _
كيا غيبت كبرى كى انتہا ہے؟

انجينئر: كيا غيبت كبرى كى كوئي حد معين ہے؟

ہوشيار : كوئي حد تو معين نہيں ہے _ ليكن احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ غيبت اتنى طويل ہوگى كہ ايك گروہ شك ميں پڑجائے گا _ مثال كے طور پر ملاحظہ فرمائيں :

امير المؤمنين نے حضرت قائم كے بارے ميں فرمايا:

'' ان كى غيبت اتنى طويل ہوگى كہ جاہل كہے گا : خد ا كو رسول (ص) كے اہل بيت كى احتياج نہيںہے ''_ (2)
 

امام زين العابدين (ع) فرماتے ہيں :

''قائم (ع) ميں جناب نوح (ع) كى ايك خصوصيت پائي جائيگى اور وہ ہے طول عمر ''(3)

 

1_ اثبات الوصيہ ص 206_
2_ اثبات الہداة ج 6 ص 393_
3_ بحارالانوار ج 51 ص 217_