قيام كے خلاف احاديث كى تحقيق

قيام كے خلاف احاديث كى تحقيق

انجينئر: ہوشيار صاحب آپ كى گزشتہ باتوں '' انتظار فرج'' كى بحث سے ايسا معلوم ہوتا ہے كہ امام زمانہ (ع) كى غيبت ميں شيعوں كا فريضہ ہے كہ وہ اسلامى حكومت كى تاسيس اور اسلام كے سياسى و اجتماعى قوانين كے اجراء كيلئے كوشش كريں اور اس طرح امام زمانہ كے عالمى انقلاب اور ظہور كے اسباب فراہم كريں ميرے خيال ميں آپ كى باتيں بعض احاديث كے منافى ہيں _ جيسا كہ آپ كو بھى معلوم ہے كہ بعض ايسى احاديث بھى موجود ہيں جو كہ قيام و ظہور مہدى سے قبل كسى بھى تحريك و انقلاب كى ممانعت كرتى ہيں _ اگر آپ تجزيہ كريں تو مفيد ہوگا _

ہوشيار: آپ كى ياد ، دہاتى كا شكريہ _ ايسى احاديث ، دو طريقوں سے تجزيہ و تحقيق كى جا سكتى ہے _ پہلے تو سند كے اعتبار سے تحقيق ہونى چاہئے كہ وہ صحيح و معتبر ہيں يا نہيں _ دوسرے دلالت كے لحاظ سے ديكھنا چاہئے كہ كيا وہ كسى بھى انقلاب و تحريك ممانعت كيلئے دليل بن سكتى ہيں يا نہيں ليكن احاديث كى تحقيق و تحليل سے قبل مقدمہ كے طور پر ميں ايك اور بات عرض كردينا مناسب سمجھتا ہوں _ اس طرح ہم مذكورہ مسئلہ سے دو حصوں ميں بحث كريں گے _

1_ اسلام ميں حكومت

2_ احاديث كى تحقيق


اسلام ميں حكومت

اسلام كے احكام و قوانين كے مطالعہ يہ بات بخوبى سمجھ ميں آتى ہے كہ دين اسلام صرف ايك عقيدتى اور عبادى دين نہيں ہے بلكہ عقيدہ ، عبادت ، اخلاق ، سياست اور معاشرہ كا ايك مكمل نظام ہے _ كلى طور پر اسلام كے احكام و قوانين كو دو حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے :

1_ فردى احكام جيسے نماز ، روزہ ، طہارت ، نجاست ، حج ، كھانا ، پينا و غيرہ ان چيزوں پر عمل كرنے كے سلسلے ميں انسان كو حكومت اور اجتماعى تعاون كى ضرورت نہيں ہوتى ہے بلكہ وہ تن تنہا اپنا فريضہ پورا كرسكتا ہے _

2_ اجتماعى احكام ، جيسے جہاد، دفاع ، امر بالمعروف ، نہى عن المنكر ، فيصلے ، اختلافات كا حل ، قصاص ، حدود ، ديات ، تعزيرات ، شہرى حقوق ، مسلمانوں كے آپس اور كفار سے روابط اور خمس و زكوة ، يہ چيزيں انسان كى اجتماعى و سياسى زندگى سے مربوط ہيں _ انسان چونكہ اجتماعى زندگى گزارنے كيلئے مجبور ہے ، اور اجتماعى زندگى ميں تزاحمات پيش آئيں گے لہذا اسے اسے قوانين كى ضرورت ہے ، جو ظلم و تجاوز كا سد باب كريں اور افراد كے حقوق كا لحاظ ركھيں _ اسلام كے بانى نے اس اہم اور حيات بخش امر سے چشم پوش نہيں كى ہے بكلہ اس كيلئے حقوقى جزائي اور شہرى قوانين مرتب كئے ہيں اور اختلافات كے حل اور قوانين كے مكمل اجراء كيلئے عدالتى احكام پيش كئے ہيں _ ان قوانين كى تدوين اور وضع سے يہ بات بخوبى سمجھ ميں آجاتى ہے كہ عدليہ كا تعلق دين اسلام كے متن سے ہے اور شارع اسلام نے اس كى تشكيلات پر خاص توجہ دى ہے _ اسى طرح اسلام كے احكام و قوانين كا معتد بہ حصہ راہ خدا ميں جہاد اور اسلام و مسلمين سے دفاع سے متعلق ہے _ اس سلسلہ ميں دسيوں آيتيں اور سيكڑوں حديثيں وارد ہوئي ہيں _ مثلاً : خداوند عالم مومنوں كو مخاطب كركے فرماتا ہے :

جاہدوا فى سبيل اللہ حق جہاد (حج/ 78)

راہ خدا ميں جہاد كا حق ادا كرو _

و قاتلوہم حتى لا تكون فتنة و يكون الدين للہ (بقرہ /12)

ان سے جنگ كرتے رہو يہاں تك كہ فتنہ و فساد كا خاتمہ ہوجائے اور صرف دين خدا باقى رہے

فقاتلوا ائمة الكفر انہم لا ايمان لہم لعلہم ينتہون (توبہ/ 12)

پس تم كفر كے سرغنہ لوگوں سے جنگ كرتے رہو كہ ان كے عہد كا كوئي اعتبار نہيں ہے تا كہ يہ اپنى شرارتوں سے باز آجائيں _

ايسى آيتوں سے كہ جن كے بہت سے نمونے موجود ہيں ، يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ اسلام كى نشر و اشاعات ، كفر و استكبار اور ظلم و ستم سے جنگ مسلمانوں كا فريضہ ہے _ بلكہ بعض آيتوں ميں تو يہ حكم بھى ديا گيا ہے كہ مسلمان اپنى دفاعى طاقت كو مضبوط بنانے كى كوشش كريں اور دشمن كے مقابلہ كے لئے مسلح رہيں _ قرآن مجيد ميں ارشاد ہے :

واعدوا لہم ماستطعتم من قوة و من رباط الخيل ترہبون بہ عدو ّ اللہ و عدوكم و آخرين من دونہم لا تعلمونہم اللہ يعلمہم _ (انفال / 60)

اور جہاں تك ہوسكے جنگى توانائي اور بندھے ہوئے گھوڑے فراہم كرو اور اس سے

دشمنان خدا اور اپنے دشمنوں اور دوسرے لوگوں پر دھاك بٹھا ور تم انھيں نہيں جانتے نگر خدا انھيں جانتا ہے _

مذكورہ آيتوں سے يہ نتيجہ اخذ ہوتا ہے كہ اسلحہ كى فراہمى اور فوجى توانائي اسلام كا جز ہے _ مسلمانوں كا فريضہ ہے كہ وہ ہميشہ دفاعى طاقت كے استحكام اور دشمنوں كے حملوں كو روكنے كيلئے مختلف قسم كا اسلحہ بنائيں كہ جس سے دشمنان اسلام ہميشہ مرعوب ووحشت زدہ رہيں اور تعدى و تجاوز كى فكر ان كے ذہن ميں خطور نہ كرے _


امر بالمعروف اور نہى عن المنكر

امر بالمعروف اور نہى عن المنكر بھى اسلام كے اہم ترين احكام ميں سے ہے اور يہ سب پرواجب ہے _ مسلمانوں پر واجب ہے كہ وہ ظلم و فساد ، استكبار ، تعدى و تجاوز اور معصيت كارى سے مبارزہ كريں ، اسى طرح توحيد ، خداپرستى كى اشاعت اور لوگوں كو خير و صلاح كى طرف بلانے كى كوشش كرنا بھى واجب ہے اس اہم اور حساس فريضہ كى تاكيد كے سلسلہ ميں دسيوں آيتيں او رسيكڑوں احاديث وارد ہوتى ہيں _ مثلاً:

ولتكن منكم امة يدعون الى الخير يامرون بالمعروف و ينہون عن المنكر (آل عمران /104)

''تم ميں سے كچھ لوگوں كو ايسا ہونا چاہئے كہ جو لوگوں كو نيكيوں كى طرف دعوت ديں اور امر بالمعروف نہى عن المنكر كريں'' _

دوسرى جگہ ارشاد فرماتا ہے :

كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنكر و تومنون باللہ ( آل عمران/ 110)

تم بہترين امت ہو كر لوگوں كو نيكيوں كا حكم ديتے اور برائيوں سے روكتے ہو اور خدا پر ايمان ركھتے ہو _

مختصر يہ كہ اسلام كا سياسى و اجتماعى پروگرام اوراحكام و قوانين جيسے جہاد، دفاع قضاوت ، حقوقى ، شہرى و جزائي ، قوانين ، امر بالمعروف و نہى عن المنكر ، فساد و بيدادگرى سے مبارز ہ ، اجتماعى عدالت كا نفاذ ان سب كيلئے نظم و ضبط اور ادارى تشكيلات كى ضرورت ہے اور ايك اسلامى حكومت كى تاسيس كے بغير ان احكام كانفاذ ممكن نہيں ہے _

اس بحث سے يہ نتيجہ اخذ كيا جا سكتا ہے كہ اسلامى حكومت كى تاسيس ، جو كہ اسلام كے قوانين كے نفاذ اور اس كے سياسى ، اجتماعى ، اقتصادى فوجى اور انتظامى و حقوقى پروگرام كے اجراء كى ضامن ہے ، اسلام كا اصل نصب العين ہے _ اگر شارع نے ايسے قوانين و پروگرام وضع كئے ہيں تو ان كے نفاذ كيلئے حاكم اسلام كى ضرورت كو بھى ملحوظ ركھا ہے _ كيا جنگ و دفاع فوجى نظم و نسق كے بغير ممكن ہے؟ كيا ظلم و بيدادگرى ، دوسروں كے حقوق كو غصب كرنے ، اجتماعى عدالت كا نفاذ ، احقاق حق اور ہرج و مرج كا سد باب عدليہ اور انتظامى نظلم و نسق كے بغير ممكن ہے؟

چونكہ اسلام نے قوانين و پروگرام كئے ہيں اس لئے ان كے اجراء و نفاذ كا بھى منصوبہ بنايا ہے _ اور يہى اسلامى حكومت كے معنى ہيں كہ حاكم اسلام يعنى ايك شخص ايك وسيع ادارى امور كى زمام اپنے ہاتھوں ميں ليتا ہے اور قوانين الہى كو نافذ كركے لوگوں ميں امن وامام برقرار كرتا ہے _ اس بناپر حكومت متن اسلام ميں واقع ہوتى ہے اس سے جدا نہيں كياجا سكتا _

 

رسول (ص) خدا مسلمانوں كے زمامدار

رسول خدا (ص) اپنى حيات طيبہ ميں عملى طور پر حكومت اسلامى كے زمامدار تھے مسلمانوں كے امور كے نگراں تھے _ اور اس اہم ذمہ دارى كى انجام وہى كى خاطر خدا كى طرف سے آپ كو بہت سے اختيارات ديئےئے تھے _ قرآن فرماتا ہے :

النّبى اولى بالمومنين من انفسہم ( احزاب /60)

نبى كو مومنين كے امور ميں خود ان سے زيادہ تصرف كا حق حاصل ہے _ دوسرى جگہ ارشاد ہے :

فاحكم بينہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہوائہم ( مائدہ / 48)

جو احكام و قوانين ہم نے آپ (ص) پر نائل كئے ہيں ان كے ذريعہ مسلمانوں كے درميان حكومت كيجئے اور ان كى خواہش كا اتباع نہ كيجئے _

اس بنا پر رسول (ص) دو منصبوں كے حامل تھے ايك طرف وحى كے ذريعہ خدا سے رابط تھا اور ادھر سے شريعت كے احكام و قوانين ليتے تھے اور لوگوں تك پہنچاتے تھے اور دوسرى طرف امت اسلاميہ كے زمام دار و حكمران بھى تھے اور مسلمانوں كے سياسى و اجتماعى پروگرام كا اجراء آپ ہى فرماتے تھے _

رسول (ص) خدا كى سيرت كے مطالعہ سے يہ بات بخوبى روشن ہوجاتى ہے كہ آپ(ص) عملى طور پر مسلمانوں كے امور كى باگ ڈور اپنے دست مبارك ميں ركھتے اور ان پر حكومت كرتے تھے_ حاكم و فرمانروا مقرر كرتے ، قاضى معين كرتے ، جہاد و دفاع كا حكم صادر فرماتے مختصر يہ كہ آپ (ص) ان تمام كاموں كو انجام ديتے تھے جو ايك امت كيلئے لازم ہوتے تھے _ (1)

اس كام پر آپ خدا كى جانب سے مامور تھے _ آپ (ص) كو يہ ذمہ دارى سپردكى گئي تھى كہ اسلام كے سياسى اور اجتماعى قوانين كو نافذ كريں _ مسلمان جہاد پر مامور تھے ليكن رسول خدا كو يہ حكم تھا كہ وہ انھيں جہاد و دفاع كيلئے ، آمادہ كريں _ چنانچہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہے :

'' يا ايہا النبى حرّض المومنين على القتال'' ( انعام / 25)

اے نبى (ص) مومنين كو جہاد كى ترغيب دلاہيئے

دوسرى جگہ ارشاد ہے :

يا ايہا النبى جاہد الكفار و المنافقين و اغلظ عليہم (توبہ /73)

اے نبى (ص) كفار و منافقين سے جہاد كيجئے اور ان پر سختى كيجئے _

رسول (ص) لوگوں كے درميان حكومت و قضاوت كرنے پر مامور تھے ، قرآن كہتا ہے :

انا انزلنا اليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بمااراك اللہ و لا تكن للخائنين خصيما'' _ (نساء/ 105)

ہم نے آپ پر بر حق كتاب نازل كى ہے تا كہ اس كے مطابق لوگوں كے درميان حكم كريں جو خدا نے آپ كو دكھايا ہے اور خيانت كاروں كے حق ميں عداوت نہ كيجئے _

ان آيتوں سے يہ بات واضح ہوتى ہے كہ رسول خدا نبى ہونے ، وحى لينے اور اسے لوگوں تك پہنچانے كے علاوہ مسلمانوں كى حكومت اور زمامدارى پر بھى مامور تھى اور اس بات پر مقرر تھے كہ سياسى و اجتماعى احكام و پروگرام كو نافذ كركے مسلمانوں پر حكومت كريں چنانچہ اس سلسلہ ميں آنحضرت كو مخصوص اختيارات ديئے گئے تھے اور مسلمانوں پر آنحضرت كى حكومتى احكام كى اطاعت كرنا واجب تھا _

قرآن مجيد ميں ارشاد ہے :

اطيعوا للہ و اطعيواالرسوال و اولى الامر منكم (نساء/ 59)

اللہ كى اطاعت كرو اور سول (ص) كى اطاعت كرو اور اپنے صاحبان امر كى اطاعت كرو _ نيز ارشاد ہے :

و اطيعوا اللہ و رسولہ و لا تنازعو فتفشلوا '' ( انفال / 46)

اور خدا اور اس كے رسول كى اطاعت كرو نزاع و اختلاف سے پرہيز كرو كہ كمزور پڑجاؤ گے _

و ما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ (نساء/ 64)

اور ہم نے جس رسول كو بھى بھيجا خدا كے حكم سے اس كى اطاعت ہوتى _

ان آيتوں ميں رسول (ص) كى اطاعت خدا كى اطاعت كے ساتھ بيان ہوئي ہے اور مسلمانوں كو يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ خدا كى اطاعت كے ساتھ اس كے رسول (ص) كي بھى اطاعت خدا كى اطاعت اس طرح ہوگى كہ لوگ اس كے احكام كو قبول كريں جو كہ رسول كے ذريعہ بھيجے گئے ہيں _ اس كے علاوہ مسلمانوں پر يہ واجب كيا گيا تھا كہ وہ رسول كے مخصوص احكام كى بھى اطاعت كريں _ رسول (ص) خدا كے مخصوص فرمان عبارت ہيں : وہ حكم و دستورات جو آپ مسلمانوں كے حاكم ہونے كى حيثيت سے صادر فرماتے تھے_ اس لحاظ سے وہ بھى واجب ہيں _ مختصر يہ كہ حكم خدا سے رسول (ص) كى اطاعت واجب ہے _

اس بناپر ابتدائے اسلام ہى سے حكومت دين كا جزو تھى اور عملى طور پر پيغمبر اس كے عہدہ دار تھے _


اسلامى حكومت رسول (ص) كے بعد

رسول كى وفات كے بعد نبوت اور وحى كا سلسلہ ختم ہوگيا _ ليكن دين كے احكام و قوانين اسلام كے سياسى اور اجتماعى پروگرام مسلمانوں كے درميان باقى رہے _ يہاں يہ سوال اٹھتاہے كيا رسول اكرم كى رحلت كے بعد آپ(ص) كى حاكميت كا منصب بھى نبوت كى طرح ختم ہوگيا ؟ اور اپنے بعد رسول خدا نے كسى كو حاكم و زمام دار مقرر نہيں كيا ہے بلكہ اس ذمہ دارى كو مسلمانوں پر چھوڑديا ہے _ يا اس اہم و حساس موضوع سے آپ(ص) غافل نہيں تھے اور اس ذمہ دارى كو پورا كرنے كے لئے كسى شخص كو منتخب فرمايا تھا؟

شيعوں كا عقيدہ ہے كہ پيغمبر اسلام خود مسلمانوں كے حاكم اور اسلام كے قوانين و پروگرام كو نافذ كرنے والے تھے ، آپ اسلامى حكومت كے دوام كى ضرورت كو بخوبى محسوس كرتے تھے _ آنحضرت(ص) اچھى طرح جانتے تھے كہ بغير حكومت كے مسلمان زندہ نہيں رہ سكتے اور اسلامى حكومت اسى صورت ميں ہوسكتى ہے كہ جب اس كو چلانے كيذمہ دارى اسلام شناس ، عالم ، پرہيزگار ، امين اور عادل انسان كے دوش پر ڈالى جائے ، تا كہ وہ دين كے احكام و قوانين كو نافذ كركے اسلامى كومت كو دوام بخشے _ اسى لئے رسول اكرم نے ابتداء تبليغ رسالت ہى سے خداوند عالم كے حكم كے مطابق مناسب موقعوں پر حضرت على بن ابى طالب عليہ السلام كو مسلمانوں كے امام و خليفہ كے عنوان سے پہچنوايا ہے اس سلسلہ ميں احاديث شيعہ و اہل سنت كى كتابوں ميں موجود ہيں _منجملہ ان كے يہ ہے كہ حجة الوداع كے سفر ميں غدير خم كے مقام پر قافلہ روك كر ہزاروں صحابہ كے سامنے فرمايا:

الست اولى بالمومنين من انفسہم ؟ قالوا بلى يا رسول اللہ فقال من كنت مولاہ فعلى مولاہ ، ثم قال: اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ _ فلقيہ عمر بن الخطاب فقال : ہنيئاً لك يا بن ابى طالب _ اصبحت مولاى و مولا كل مومن و مومنہ _(2)

رسول (ص) نے لوگوں سے فرمايا: كيا ميں مومنين كے نفسوں پر ان سے زيادہ حق نہيں ركھتا ہوں؟ اصحاب نے عرض كى : بے شك ، اللہ كے رسول ، اس وقت آپ (ع) نے فرمايا: جس كا ميں مولا ہوں اس كے على مولا ہيں _ پھر فرمايا : با ر الہا على كے دوست كو دوست اور ان كے دشمن كو دشمن _ پس عمر بن خطاب نے حضرت على سے ملاقت كى اور كہا : فرزند ابوطالب مبارك ہو كہ آپ ميرے اور ہر مومن و مومنہ كے مولا بن گئے ''_

ايسى احاديث سے يہ بات عياں ہوتى ہے كہ رسول (ص) نے اپنى حاكميت كو دائمى بناكر اسے على بن ابى طالب كے سپرد كرديا ہے _ اس سے پہلے اس منصب كيلئے آپ كو آمادہ كيا اور ضرورى علوم و اطلاع آپ كے اختيار ميں ديں _ آنحضرت جانتے تھے كہ على ذاتى علم و عصمت كے حامل ہيں اور منصب امامت كے لائق ہيں _ اسى لئے آپ (ص) نے خدا كے حكم سے حضرت على كو اس منصب كيلئے منتخب كيا اور اس حيثيت سے پہچنوايا _ حضرت على اسلام كے احكام و قوانين كے حافظ بھى تھے اور حاكم اسلام و مجرى قوانين بھى تھے رسول نے غدير ميں حضرت على كے اختيار ميں اپنا اولى بالتصرف كا منصب ديا _ اور عمر بن خطاب كے ذہن ميں بھى ان ہى معنى نے خطور كيا اورانہوں نے على سے كہا : اے ابوطالب كے بيٹے مبارك ہو كہ آپ ميرے اور ہر مومن و مومنہ كے مولا بن گئے _

مسلمان بھى يہى سمجھتے چنانچہ انہوں نے اميرالمومنين كى بيعت كى وفادارى كااظہار كيا اگر ان معنى ميں على كو مولا نہ بنايا گيا ہوتا تو تو بيعت كى ضرورت نہ ہوتى _


على (ع) جانشين رسول (ص)

رسول خدا نے خدا كے حكم سے حضرت على (ع) كو مسلمانوں كا امام و زمام دار منصوب فرمايا اور اس طرح آپ نے مسلمانوں كى امامت كو دائمى بناديا _ ليكن آپ كى وفات كے بعد بعض صحابہ نے اختلاف كيا ، لوگوں كى كمزورى اور جاہليت سے غلط فائدہ اٹھايا اور حضرت على كے شرعى حق كو غصب كرليا اور اسلامى حكومت كو اس كے حقيقى وارث سے جدا كرديا _ حضرت على (ع) كے بيعت نہ كرنے ، خطبے دينے ، احتجاج كرنے اور شكوہ كرنے كى وجہ يہى تھى كہ مسلمانوں كى حاكميت و زمام دارى كو غصب كرليا گيا تھا _ خلفا نے دين كے احكام و معارف كو حضرت على (ع) سے نہيں ليا تھا _ اگر چہ آپ كے علمى تبحر و مرتبہ كے معترف تھے يہاں تك كہ مشكل مسائل ميں آپ(ع) سے رجوع كرتے تھے _

جس وقت خلافت حضرت على (ع) كے ہاتھ ميں آئي اور آپ(ع) نے خلافت كے تمام امور جيسے حاكم و فرمانروا كا تقرر ، قضات كا انتخاب ، زكوة و خمس كى وصوليابى كي ذمہ دارى كا سپرد كرنا ، جہاد ودفاع كاحكم صادر كرنا اور سپہ سالاروں كے تقرر كو اپنے اختيار ميں لے ليا تو طلحہ و زبير نے آپ (ع) كے مخالفت كى اور جنگ جمل برپاكردى وہ آپ كى حكومت كے مخالف تھے آپ (ع) كے علمى مرتبہ اور احكام و معارف كے بيان كے مخالف نہيں تھے _ احكام كے بيان ميں معاويہ كو بھى آپ سے كوئي اختلاف نہيں تھا بلكہ اس نے حكومت او رتخت خلافت كے سلسلہ ميں آپ (ع) سے جنگ كى تھى _

اس سے ہم يہ نتيجہ اخذ كرتے ہيں كہ رسول اكرم كى وفات سے اسلامى حكومت ختم نہيں ہوئي بكلہ حضرت على بن ابى طالب كے خليفہ منصوب ہونے سے اسلامى حكومت كے باقى ركھنے كى تصريح ہوگئي اور اس بات كى وضاحت ہوگئي كہ شارع اسلام نے سياسى و اجتماعى قوانين كے نافذ كرنے ميں كبھى دريغ نہيں كيا ہے _ يعنى اسلامى حكومت كو ہميشہ باقى رہنا چاہئے _

امير المومنين عليہ السلام نے اپنے بعد امام و خليفہ اور حاكم منتخب كيا اور امام حسن (ع) نے اپنے بعد اپنے بھائي امام حسين اور امام حسين (ع) نے اپنے بيٹے امام زين العابدين كو منصوب كيا اور اس طرح بارہويں امام حضرت حجة بن الحسن تك ہر امام نے اپنے بعد والے امام كا تعارف كرايا _ خداداد علم و عصمت اور طہارت اور اپنے ذاتى كمال و صلاحيت كے علاوہ مسلمانوں كے امام و حاكم بھى منصوب ہوئے _ اس بناپر مسلمانوں كى امامت اور معصوم حكمرانوں كو اسلام سے جدا نہيں كيا جا سكتا اگر چہ حضرت على بن ابى طالب كے علاوہ بظاہر كوئي امام بھى اپنا شرعى حق حاصل نہيں كرسكا اور اسلامى حكومت كو جارى نہ ركھ سكا _


زمانہ غيبت ميں اسلامى حكومت

اب يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اس زمانہ ميں اسلام كے سياسى اور اجتماعى پروگرام كى كيا كيفيت ہے؟ جس زمانہ ميں معصوم امام و حاكم تك رسائي نہيں ہے كيا اس ميں شارع اسلام نے احكام و منصوبوں سے ہاتھ كھينچ ليا ہے اور اس سلسلہ ميں ان كا كوئي فريضہ نہيں ہے ؟ كيا اسلام يہ سارے قوانين صرف رسول كى حيات ہى كے مختصر زمانہ كيلئے تھے؟ اور اس وقت سے ظہور امام مہدى تك ان كى كوئي ضرورت نہيں ہے؟ كيا يہ كہا جا سكتا ہے كہ اسلام نے اس طويل زمانہ ميں جہاد، دفاع ، حدود كے اجراء قصاص و تعزيرات ظلم و بيدادگرى سے جنگ، مستضعفين اور محروموں سے دفاع، فساد و سركشى اور معصيت كارى سے مبارزہ سے دست كشى كرلى ہے اور ان كے نفاذ كو حضرت مہدى كے ظہور پر موقوف كرديا ہے ؟ كيا يہ كہا جا سكتا ہے كہ اس زمانہ ميں آيات و احاديث صرف كتابوں ميں بحث كرنے كيلئے آئي ہيں ؟ ميرے خيال ميں كوئي با شعور مسلمان ايسى باتوں كو قبول نہيں كرے گا ؟ مسلمان خصوصاً مفكر ين يہى كہيں گے كہ يہ احكام بھى نفاذ ہى كے لئے آئے ہيں _ اگر حقيقت يہى ہے تو تمام زمانوں كو منجملہ اس زمانہ كو قوانين كے اجراء سے كيوں نظر انداز كرديا ہے؟ يہ نہيں كہا جا سكتا كہ اسلام نے سياسى و اجتماعى منصوبے بنائے ہيں ليكن انھيں عملى جامہ پہنانے كيلئے حاكم مقرر نہيں كئے ہيں _


زمانہ غيبت ميں مسلمانوں كا فريضہ

يہ بات صحيح ہے كہ پيغمبر اور معصوم امام كو خدا كى طرف سے مسلمانوں كا حاكم منصوب كيا گيا ہے اور ان كے امور كى زمام ان ہى كے ہاتھ ميں دى گئي ہے _ اور اس سلسلہ ميں انھيں كوشش كرنى چاہئے ليكن اصلى ذمہ دارى مسلمانوں پر عائد كى گئي ہے اور وہ يہ كہ وہ اسلامى حكومت كى تأسيس و استحكام اور پيغمبر و امام كو طاقت فراہم كرنے كے سلسلہ ميں مخلصانہ كوشش كريں اور ان كے تابع رہيں _ اسى طرح جب معصوم امام تك رسائي ممكن نہ ہو تو مسلمانوں كا فرض ہے كہ وہ اسلامى حكومت كى تاسيس اور اسلام كے سياسى و اجتماعى منصوبوں كے اجراء كيلئے كوشش كريں جو فكر اسلام نے كسى زمانہ ميں يہاں تك كہ اس زمانہ ميں بھى اپنے احكام كو نظر انداز نہيں كيا ہے اور مسلمانوں كو ان پر عمل كرنے كى دعوت دى ہے _ اكثر احكام و قوانين مسلمانوں كو مخاطب كركے بيان كئے گئے ہيں مثلاً قرآن مجيد فرماتا ہے :

و جاہدوا فى اللہ حق جہادہ ( حج/ 78)

راہ خدا ميں حق جہاد ادا كرو _

انفروا خفافا و ثقالا و جاہدوا باموالكم و انفسكم فى سبيل اللہ ( توبہ /41)

مسلمانو تم ہلكے ہو يا بھارى راہ خدا ميں اپنے اموال اور نفوس سے جہاد كرو _

تومنون باللہ و رسولہ و تجاہدون فى سبيل اللہ (صف/11)

تم خداو رسول پر ايمان ركھتے ہو راہ خدا ميں جہاد كرو _

و قاتلوا فى سبيل اللہ الذين يقاتلونكم و لا تعتدوا ( بقرہ/ 190)

راہ خدا ميں ان لوگوں سے جنگ كرو جو تم سے لڑتے ہيں ليكن زيادتى نہ كرو _

فقاتلوا اولياء الشيطان ان كيد الشيطان كان ضعيفا ( نساء /67)

شيطان كے طرف داروں سے جہاد كرو كہ شيطان كامكر كمزور ہے _

و قاتلوا حتى تكون فتنة و يكون الدين كلہ للہ ( انفال / 39)

ان سے جنگ كرتے رہو يہاں تك كہ فتنہ ختم ہوجائے اور دين خدا باقى رہے _

و مالكم لا تقاتلون فى سبيل اللہ (انفال /39)

راہ خدا ميں تم جہاد كيوں نہيں كرتے؟

فقاتلوا ائمة الكفر انہم لا ايمان لہم (توبہ/12)

كفار كے سر غناؤں سے جنگ كرو كہ ان كى قسم كا كوئي اعتبار نہيں ہے _

و قاتلوا المشركين كافة كما يقاتلونكم كافة ( توبہ / 36)

اور مشركين سے سب اسى طرح جنگ كرو جيسا كہ وہ سب تم سے جنگ كرتے ہيں _

واعدوا لہم مااستطعتم من قوة و من رباط الخيل ترہبون بہ عدو اللہ و عدوكم ( انفال / 60)

اور جہاں تك تم سے ہوسكے دشمنوں كے لئے جنگى توانائي اور گھوڑوں كى صف كا انتظام كرو كہ اس سے خدا كے دشمن اور تمہارے دشمنوں پر رعب طارى ہوگا _ والسارق و السارقة فاقطعوا ايدہما جزاء ً بما كسبا نكالا من اللہ و اللہ عزيز حكيم (مائدہ / 38)

اور چورمرد اور چور عورت دونوں كے ہاتھ كاٹ دو كہ يہ ان كے لئے ايك بدلہ اور خدا كى طرف سزا ہے اور خدا عزت و حكمت والا ہے _

الزّانيہ و الزّانى فاجلدو كل واحد منہما اماة جلدة ولا تاخذ بہما رافة فى دين اللہ _ ( نور/ 2)

زناكار عورت اور زناكار مرد دونوں كو سوسو كوڑے لگاؤ اور خبردار دين خدا كے سلسلہ ميں كسى مروت كا شكار نہ ہوجانا _

ولتكن منكم امة يدعون الى الخير و يامرون بالمعروف و ينہون عن المنكر ( آل عمران / 104)

اور تم ميں سے ايك گروہ كو ايسا ہونا چاہئے جو خير كى طرف دعوت دے نيكيوں كا حكم دے ، برائيوں سے منع كرے _

يا ايہا الذين امنوا كونوا قوامين بالقسط شہداء للہ (نساء/ 125)

ايمان لانے والو تم عدل قائم كرنے والے اور خدا كيلئے گواہ بن جاؤ_

ايسى ہى بے شمار آيتيں ہيں جن ميں ھام مسلمانوں كو مخاطب كيا گيا ہے اور ان سے ان اجتماعى فرائض كى انجام وہى كى خواہش كى گئي ہے جو اسلامى حكومت كى مصلحت كے مطابق ہوں _ مثلاً دشمنوں سے جنگ اور را ہ خدا ميں جہاد كرنے كا حكم ديا گيا ہے ، مستكبرين اور كفار كے سر غناؤں سے جنگ كرو، دنيا كے لوگوں كو خير و صلاح كى دعوت دو ، فساد ، معصيت اور ستمگرى سے مبارزہ كرو_ عدل و انصاف قائم كرو اور حدود خدا كو جارى كرو _

معمولى غور و فكر سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ يہ ايسے اجتماعى اہم امور كا اجراء حكومت كے بغير ممكن نہيں ہے اور چونكہ مسلمانوں سے اس امر كا مطالبہ كيا گيا ہے اس لئے اس كے مقدمات فراہم كرنا ، يعنى اسلامى حكومت كى تاسيس ميں كوشش كرنا مسلمانوں كا فريضہ ہے _ بعبارت ديگر ہر شعبہ ميں دين كے قوانين كا نفاذ اسلامى حكومت كے بغير ممكن نہيں ہے جبكہ دينى احكام كا نفاذ مسلمانوں كا فريضہ ہے قرآن مجيد ميں خداوند عالم كا ارشاد ہے _

خدا نے تمہارے لئے دين كے وہ احكام مقرر كئے ہيں جن كى نوح كو وصيت كى اور پيغمبر ان ہى كى تمہارى طرف بھى وحى كى اور جس چيز كى ہم نے ابراہيم و موسى اور عيسى كو وصيت كى تھى وہ يہى تھى كہ دين كو قائم كرو اور اس ميں تفرقہ پيدا كرنے سے اجتناب كرو '' (3)_

قرآن مجيد كے عام خطابات اور اسلام كے سياسى و اجتماعى احكام كے استمرار سے يہ نتيجہ اخذ ہوتا ہے كہ جس زمانہ ميں معصوم امام تك رسائي نہ ہو _ اس ميں اسلامى حكومت كى تاسيس خود مسلمانوں كا فريضہ ہے تا كہ اس كے ذريعہ ہر شعبہ ميں دينى احكام كو نافذ كريں اور اس كے تمام منصوبوں كو عملى جامہ پہنائيں _

اگر ہم اس عقلى بات كو تسليم كرتے ہيں كہ ہرج و مرج ميں حكومت كے بغير زندگى گزارنا ممكن نہيں ہے ، اگر ہمارا يہ عقيدہ ہے كہ شارع اسلام نے بھى ہرج و مرج كو پسند نہيں كيا ہے ، اور انسان كى دنيوى و اخروى سعادت و كاميابى كے لئے خاص حكومت كا نظريہ پيش كيا ہے اور اسى لئے سياسى و اجتماعى احكام و پروگرام مقرركئے ہيں ، اگر ہمارا يہ عقيدہ ہے كہ اسلامى حكومت كى تشكيل كا وجوب اور اسلام كے سياسى و اجتماعى قوانين اور منصوبوں كاا جراء و رسول (ص) خدا كى مختصر حيات ہى ميں محدود نہيں ہے _ بلكہ انھيں ہر زمانہ ميں جارى رہنا چاہئے ، اگر اس بات كے معتقد ہيں كہ ہر زمانہ اور ہر شعبہ ميں دين كو قائم كرنا مسلمانوں پر واجب كيا گيا ہے تو اس كا لازمہ يہ ہے كہ امام زمانہ كى غيبت كے زمانہ ميں مسلمانوں پر واجب ہے كہ وہ اسلامى حكومت كى تشكيل ميں كوشاں رہيںاورپيغمبر اسلام كى حكومت كو استمرار بخشيں تاكہ اسلام كے سياسى و اجتماعى منصوبے اور احكام كے پرتو ميں امن و امان اور سالميت كا ماحول پيدا ہوجائے اور خدائے متعال كى عبادت و اطاعت تزكيہ نفس اور سير الى اللہ كيلئے زمين ہموار ہوجائے _


نبوّت

حكومت كى تشكيل كى ضرورت اور اس كے استمرار ميں كوشاں رہنا ايك عقلى بات ہے اسے سارے عقلا تسليم كرتے ہيں _ اسلام نہ صرف اس عقلى بات كو رد نہيں كيا ہے بلكہ اس كى تائيد كى ہے چنانچہ جب جنگ احد ميں رسول خدا كے شہيد ہوجانے كى جھوٹى خبر گشت كرنے لگى تو اس جھوٹى خبر سے ان اسلامى جانبازوں كے حوصلہ ماند پڑگئے جو جنگ ميں مشغول تھے تو يہ آيت نازل ہوئي _

اور محمد (ص) بھى ايك رسول(ص) ہيں ان سے پہلے بھى بہت سے رسول گزر چكے ہيں _ اگر وہ مرجائيں يا قتل ہوجائيں تو كيا تم پچھلے پاؤن اپنى سابقہ حالت كى طرف پلٹ جاؤگے ؟ (4) يعنى ان كے مرجانے يا تقل ہوجانے سے تم اپنے اجتماعى نظم و ضبط سے ہاتھ دھو بيٹھوگے اور جہاد كو ترك كردوگے ؟ جيسا كہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہيں مذكورہ آيت اسلامى و اجتماعى نظام كے استمرار و تحفظ كو عقل سليم ركھنے والے مسلمانوں پر چھوڑاہے اور اس بات كى تاكيد كى ہے كہ مسلمان لمحہ بھر كيلئے بھى يہاں تك پيغمبر كے قتل ہوجانے يا مرجانے سے بھى جہاد اور اسلامى و اجتماعى نظام سے دست كش نہ ہوں _

سقيفہ بنى ساعد ہ ميں جو انجمن تشكيل پائي تھى اس كے سبھى اركان پيغمبر (ص) كي اسلامى حكومت كے استمرار و ضرورت پر اتفاق نظر ركھتے تھے ، كسى ايك نے بھى يہ نہيں كہا تھا كہ ہميں حاكم و خليفہ كى ضرورت نہيں ہے ، ہاں اس كے مصداق كى تعيين كے بارے ميں اختلاف تھا _ انصار كہتے تھے_ امير و خليفہ ہم ميں سے ہوگا _ مہاجرين كہتے تھے اس منصب كے مستحق ہم ہيں _ بعض كہتے تھے _ ہم امير ہوں گے اور تم ہمارے وزير ، ايك گروہ كہہ رہا تھا ايك شخص ہم مييں سے اور ايك تم ميں سے امير ہوگا _ ليكن يہ بات ايك آدمى نے بھى نہيں كہى كہ ہميں امير و خليفہ كى ضرورت نہيں ہے اور زمامدار كے بغير بھى ہم اجتماعى زندگى گزارسكتے ہيں _

يہاں تك حضرت على نے بھى كہ جنھيں رسول خدا نے خليفہ منصوب كيا تھا جو اپنے الہى حق كو برباد ہوتے ہوئے ديكھ رہے تھے اور سقيفہ بنى ساعدہ كى كاروائي كے مخالف تھے ، اس سلسلہ ميں بعض صحابہ بھى آپ كى حمايت كرتے تھے ، رسول (ص) كى اسلامى حكومت كے استمرار و ضرورت كى مخالفت نہيں كى اور كبھى نہ فرماياكہ : خليفہ كى تعيين كى ضرورت ہى كيا تھى كہ جس كيلئے انہوں نے عجلت سے كام ليا ہے ؟ بلكہ فرمايا: خلافت و امامت كا ميں زيادہ مستحق ہوں ، كيونكہ اس منصب كے لئے رسول خدا نے مجھ منتخب كيا ہے اور ذاتى علم و عصمت اور لياقت كا بھى حامل ہوں _ با وجوديكہ حضرت على اپنے ضائع شدہ حق اور اسلامى خلافت كو اصلى محور سے منحرف سمجھتے تھے ليكن چونكہ اصل حكومت كى ضرورت كو تسليم كرتے تھے اس لئے كبھى بھى خلفاء كو كمزور بنانے كى كوشش نہ كى بلكہ نظام اسلام كى بقاء كى خاطر ضرورى موقعوں پر ان كى مدد كى اور فكر تعاون سے بھى دريغ نہ كيا _ اگر آپ(ع) كے اعزاء يا اصحاب با وفا ميں سے خلفا كسى كو كسى كام پر مأمور كرتے اور وہ اسے قبول كرليتے تھے تو حضرت علي (ع) انھيں اس سے منع نہيں فرماتے تھے ، آپ كى روش سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ آپ (ص) حكومت كے وجود كو ہر حال ميں ضرورى سمجھتے تھے چنانچہ جب خوارج يہ كہہ رہے تھے لا حكم الا اللہ تو آپ (ص) نے فرمايا تھا: كلمة حق يراد بہا الباطل _ يعنى بات صحيح ہے مراد غلط ہے ہاں اصلى حاكم خدا ہى ہے ليكن خوارج يہ كہہ رہے ہيں كہ حكومت و امارت بھى خدا ہى سے مختص ہے _ جب كہ لوگوں كو حاكم و امير كى ضرورت ہے خواہ وہ نيك ہو يا بد تا كہ صالح افراد كى حكومت ميں مومن اعمال صالح انجام دے گا اور كافر آرام كى نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا اور اللہ اس نظام حكومت ميں ہر چيز كو اس كى آخرى حد تك پہنچا دے گا اسى حاكم كى وجہ سے مال جمع ہوتا ہے ، دشمن سے لڑاجاتا ہے ، راستے پر امن رہتے ہيں اور قوى سے كمزور كا حق دلايا جاتا ہے يہاں تك كہ حاكم حكومت سے الگ ہوجائے اور برے حاكم كے عليحدہ ہونے سے دوسروں كو آرام ملے _ اس بناپر اسلامى حكومت كى تشكيل اور ضرورت و استمرار ميں شك نہيں كرنا چاہئے _ اور يہ حساس و سنگين ذمہ دارى مسلمانوں پر عائد كى گئي ہے كہ جس زمانہ ميں ان كى دست رس پيغمبر يا معصوم امام تك نہ ہو اس ميں انھيں حكومت كى تشكيل و استحكام كيلئے كوشش كرنا چاہئے _ اور جس زمانہ ميں امام تك رسائي نہ ہو اس ميں انھيں علماء و فقہا ميں سے اس فقيہ كو قيادت و امامت كے لئے منتخب كرنا چاہئے جو كہ اسلامى مسائل خصوصاً سياسى و اجتماعى مسائل سے كما حقہ واقف ہو اور تقوي، انتظامى صلاحيت اور سياسى سوجھ بوجھ كامل ہو _ كيونكہ ايسے شخص كى رہبرى و امامت كو ائمہ معصومين عليہم السلام نے بھى قبول كيا ہے اور اس كى وصيت كى ہے _ ايسا ہى آدمى ملت اسلاميہ كى قيادت كرسكتا ہے اور اسلام كے اجتماعى وسياسى منصوبوں كو عملى صورت ميں پيش كر سكتا ہے _ اس بات كى وضات كردينا ضرورى ہے كہ حكومت اسلامى اور ولايت فقيہ كا مسئلہ اتنا نازك اور طويل ہے كہ اس كيلئے ايك مستقل كتاب كى ضرورت ہے _ اس مختصر كتاب ميں ہم اس كے وسيع اور متنوع پہلوؤں سے بحث نہيں كرسكتے _ لہذايہاں اشارہ ہى پر اكتفا كرتے ہيں اور اپنى بحث كو يہى ختم كرتے ہيں _ اس مقدمہ كو بيان كرنے كا مقصد جو كہ كچھ طولانى ہوگيا ، يہ ہے كہ جو احاديث امام مہدى كے انقلاب و تحريك سے قبل رونما ہونے والے انقلاب كى مخالف ہيں ، ان كى تحقيق كريں اور اس نكتہ پر توجہ ركھيں كہ جہاد ، دفاع ، حدود ، قصاص ، تعزيرات ، قضاوت ، شہادت ، امر بالمعروف ، نہى عن المنكر ، ظلم و ستم سے جنگ ، محروم و مستضعفين سے دفاع اور دوسرے اجتماعى و سياسى مسائل ہيں جو اسلام كے ضرورى اور اہم مسائل ہيں انكى ترديد نہيں كى جا سكتى ، بلكہ ان پر عمل كرنا اور كرانا ضرورى ہے اور اس كام كيلئے اسلامى حكومت كى ضرورت ہے اور اسلامى حكومت كى تشكيل اور دين كے احكام و قوانين كے اجراء كيلئے بھى جہاد و انقلاب كى ضرورت ہے _ اس بناپر انقلاب كى مخالف احاديث كى تجزيہ و تحقيق كرنا چاہئے كسى مناسب موقع پر اس موضوع پر تفصيلى بحث كريں گے تا كہ بہتر نتيجہ حاصل ہوسكے چونكہ جلسہ كا وقت ختم ہوچكا ہے لہذا اس زيادہ وضاحت ممكن نہيں ہے _

ڈاكٹر : احباب سے گزارش ہے كہ آئندہ ہفتہ جلسہ ہمارے گھر منعقد ہوگا

 

1_ الترتيب الاداريہ اور كتاب الاموال مولفہ حافظ ابو عبيد ملا حظہ فرمائيں _
2_ ينابيع المودة / 297_
3_ شوري/ 13
4_ آل عمران / 144_